جمعہ، 28 مارچ، 2025
قسط نمبر 11 ۔ سن 1956 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
منگل، 18 مارچ، 2025
قسط نمبر 9 ۔ سن 1954 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
جمعہ، 14 مارچ، 2025
*قسط نمبر 8 ۔ سن 1953 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
*قسط نمبر 7 ۔ سن 1952 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
اتوار، 9 مارچ، 2025
قسط نمبر 6 ۔ سن 1951 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
قسط نمبر 5 ۔ سن 1950 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی قومی اور عالمی تاریخ
بدھ، 5 مارچ، 2025
قسط نمبر 4 ۔ سن 1949 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
منگل، 4 مارچ، 2025
قسط نمبر 3 ۔ سن 1948۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
پیر، 3 مارچ، 2025
قسط نمبر 2 . سن 1947 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
ہفتہ، 1 مارچ، 2025
قسط نمبر ایک ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
سوانح اور سال بہ سال تاریخ منفرد انداز میں
جمعہ، 21 فروری، 2025
دسویں کے طلبہ کیلئے نیک خواہشات
بدھ، 19 فروری، 2025
اے ٹی ٹی ہائی اسکول سینٹر نمبر 1300 کے طلبہ کیلئے اہم اطلاع
سرسید ہائی اسکول سینٹر نمبر 1306 کے طلبہ کیلئے اہم اطلاع
جمعرات، 13 فروری، 2025
صلاة التسبیح کا طریقہ
پیر، 10 فروری، 2025
کل سے بارہویں کے امتحانات کا آغاز
ہفتہ، 8 فروری، 2025
رشک بہاراں اور مالیگاؤں فیسٹول بیت بازی میں اے ٹی ٹی اول
دہلی میں بی جے پی کی 27 سال بعد واپسی
موتی ہائی اسکول تقریری مقابلے میں اے ٹی ٹی کو سوم انعام
جمعہ، 7 فروری، 2025
لاڈلی بہن یوجنا ۔ پانچ لاکھ خواتین نا اہل قرار ۔ ادیتی تٹکڑے نے تفصیلات فراہم کیں۔
بدھ، 5 فروری، 2025
زائم خان Zaim Khan
زائم خان، جو مالیگاؤں کے بسم اللہ باغ میں مقیم ہیں، 19 سال کی عمر میں ایک ہمہ جہت تخلیق کار کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ وہ پچھلے 9 سالوں سے ڈیجیٹل دنیا میں سرگرم ہیں اور گزشتہ 2 سالوں سے خاص طور پر اپنے شہر مالیگاؤں کے لیے معیاری اور بامقصد مواد تخلیق کر رہے ہیں۔
منگل، 4 فروری، 2025
پپو صدیقی Pappu Siddiqui
صدّیقی عمرفاروق محمّد آمین شہر مالیگاؤں کے معروف فوٹوگرافر اور صنعتکار ہیں۔ آپ پپو صدیقی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان دنوں فوٹوگرافر کے ساتھ ساتھ آپ شہر کی ان شخصیات میں شامل ہیں جو سوشل میڈیا پر اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ انسٹاگرام پر آپ کے سوا لاکھ سے زائد فالورس ہیں۔ اسی طرح فیس بک پر بھی آپ نصف لاکھ فالورس رکھتے ہیں۔ آپ کا تعلق شہر کے مشہور خنو پہلوان خانوادے سے ہے۔ شہر کے معروف شعراء امین صدیقی صاحب کے فرزند اور اثر صدیقی صاحب کے بھتیجے ہیں۔ سائزنگ اور کوکنگ آپ کا پیشہ ہے۔ آپ کے ہاتھوں تیار مرغ مسلم کافی مشہور ہے۔ نرم دل ٰ صاف گو اور حساس طبیعت کے مالک ہیں۔ شوقیہ طور سے نیچر اور مالیگاؤں کے اطراف کے دلکش مناظر کی فوٹو گرافی کرتے ہیں۔ آپ کی بیشتر تصاویر کافی پسند کی جاتی ہیں۔ شہر کے اطراف کی خوبصورتی اور چرند پرند کو اپنے کیمرے میں قید کرکے مستقبل کیلئے محفوظ کرنا آپ کا مقصد ہے۔
کل 5 فروری کو دہلی اسمبلی الیکشن ۔ 8 فروری کو نتائج کا اعلان
70 حلقوں میں 699 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، ان انتخابات کو اگلے پانچ سالوں میں AAP کی حکمرانی اور دہلی میں بی جے پی اور کانگریس کے مستقبل پر ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دہلی کی 70 رکنی اسمبلی کی مدت 23 فروری کو ختم ہو رہی ہے، اور اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی مسلسل تیسری مدت کے لیے ہدف رکھتی ہے۔ تاہم بی جے پی دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہے۔
کانگریس بھی بی جے پی اور آپ دونوں کو نشانہ بناتے ہوئے آزادانہ طور پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ کانگریس نے آپ کے ساتھ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران اتحاد کیا تھا۔
ہفتہ، 1 فروری، 2025
12 لاکھ سے کم آمدنی والوں کو کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔
محبت کیلئے اپنا سبھی کچھ دان دے پائے
جمعہ، 31 جنوری، 2025
کاش اگر ایسا ہوتا
جمعرات، 30 جنوری، 2025
اندور دھولیہ مالیگاؤں منماڑ ریلوے لائن
اندور-منماڑ ریلوے لائن ایک نئی 309 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن ہے جو اندور اور منماڑ شہروں کو جوڑتی ہے۔ اس منصوبے کی منظوری کابینی کمیٹی برائے اقتصادی امور (CCEA) نے ستمبر 2024 میں دی تھی۔ یہ منصوبہ 2028-29 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔
منگل، 28 جنوری، 2025
ٹی ایم ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں جشن یومِ جمہوریہ اورکتاب کا اجراء
ٹی ایم ہائی سکول اینڈ جونیئر کالج میں *جشن یوم جمہوریہ* روایتی شان و شوکت سے منایا گیا رسم پرچم کشائی اسکول ہذا کے سینئر معلم *انصاری شفیق سر* کے ہاتھوں سے عمل میں ائی جشن یوم جمہوریہ کے ضمن میں ایک پروگرام کا انعقاد انصاری شفیق سر کی
بدھ، 15 جنوری، 2025
امسال بھی اے ٹی ٹی کی شوٹنگ والی بال ٹیم اسٹیٹ چمپئن
منگل، 14 جنوری، 2025
اے ٹی ٹی کے عمارعقیل اعظم کیمپس آل مہاراشٹر تقریری مقابلہ میں دوم انعام سے سرفراز
اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں سالانہ کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد
اے ٹی ٹی میں بین الجماعتی مقابلہ بیت بازی کا کامیاب انعقاد
اے ٹی ٹی میں بین الجماعتی لطیفہ وہزل گوئی پروگرام کامیاب
اے ٹی ٹی میں بین الجماعتی مقابلہ حمد ونعت کا انعقاد
امیٹاانگلش تقریری مقابلے میں اے ٹی ٹی کو اول انعام
کیسا بھی ہو دور بدلتے دیکھا ہے (غزل ۔ شکیل حنیف)
مجھے بھی عاشق بناسکو گر تبھی تو اصلی کمال ہوگا (غزل ۔ شکیل حنیف)
مشکلوں کے درمیاں رہ کر بھی ہم دلشاد ہیں ( غزل ۔ شکیل حنیف)
ایک خود کو ہی وہ ذیشان سمجھ بیٹھے ہیں ( غزل ۔ شکیل حنیف )
انجان راستوں پہ بھی چلنا پڑا مجھے (غزل ۔ شکیل حنیف)
پیر، 13 جنوری، 2025
ایس سی ای ار ٹی،MSCERT پونہ ڈائریکٹر راہل ریکھا وار صاحب سے,اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی ملاقات
پیر، 8 مئی، 2023
ہر بیٹی مشکوک نہیں ہے
شکیل حنیف)
دوستو میں جو لکھنے جارہا ہوں اس پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا۔ نا تو مجھے فتنہ ارتداد سے انکار ہے نا ہی کچھ بچیوں کے غیروں کے ساتھ معاشقے اور شادی کو جھٹلا رہا ہوں۔ لیکن اس معاملے کو جس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے اس نے اسلام کی پاکدامن شہزادیوں کی عصمت تار تار کردی ہے۔ نا سمجھی اور ذہنی دیوالیہ پن میں ہم اپنے ہاتھوں ہماری بچیوں کی عزت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور حجروں میں بیٹھ کر ہم کتنی آسانی سے بیانات داغ دیتے ہیں لیکن اس کے کتنے بھیانک اثرات ہورہے ہیں اس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں۔ *مسلم بچیاں بھاگ رہی ہیں۔ غیروں سے عشق کررہی ہیں۔* اس طرح کے بیانات غیروں تک بھی پہنچتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کالج یونیورسٹی اور عام مقامات پر ہماری بچیوں کا جینا دوبھر ہورہا ہے۔ کل تک لوگ برقع پوش بچیوں کو دیکھ کر عزت کرتے تھے اور چھیڑنا تو دور ان کے بارے میں سوچتے تک نہ تھے آج وہ ہماری بچیوں کو پکا ہوا آم سمجھنے لگے ہیں کہ بس یہ ہماری جھولی میں گرنے کیلئے ہی بنی ہیں۔ مسلم بچیوں کو دیکھ کر اغیار کی ہمت اب بالکل کھل چکی ہے۔ بات کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہوتی۔ برقع کا احترام اور سارا ڈر جاتا رہا۔ منصوبہ بند طریقے پر بھی یہ کام ہونے لگا ہے۔ اب اگر دس بچیوں سے اظہار عشق ہوگا تو ایک نہ ایک تو جال میں جانے ہی والی ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ یقینی طور پر چند بچیوں کی غلطی کو بنیاد بناکر امت کی ہر بیٹی کو بدنام کرنے والے ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔
دوستو اتنا پڑھنے کے بعد اب یہ کہا جائے گا کہ تم کو کیا پتہ اتنے اتنے لاکھ لڑکیاں مرتد ہوگئی ہیں وغیرہ وغیرہ تو بھائی اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے اعداد و شمار تو نا بڑھائیں۔ میں دس لاکھ کی آبادی والے مالیگاؤں شہر میں رہتا ہوں۔ گزشتہ دس سال میں کوئی دس ایسی لڑکیاں بتادیں جو کسی غیر کیلئے دین حق کو چھوڑ کر مرتد ہوئی ہوں ۔ اب آپ کہیں گے کہ ممبئی جیسے بڑے شہروں کے حالات خراب ہیں تو بھائی وہاں بھی ہر بیٹی ایسی نہیں۔ کچھ بچیاں ہیں جو اس طرح کی حرکتیں کررہی ہیں۔ ان کی وجہ سے ممبئی کی ہر بیٹی کو آپ بدنام کریں گے۔ غیروں کیلئے تر نوالہ بنادیں گے۔ ایسا کرنے والی یہ جو چند ہزار بچیاں ہیں یہ ہر مذہب میں پائی جاتی ہیں۔ غیر مسلموں میں جو لو جہاد کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے تو ان کے یہاں بھی ایسی کچھ بچیاں ہی ہوتی ہیں۔ مسلم ہو یا ہندو یا کوئی اور مذہب کی لڑکی یا لڑکا کچھ بچے بچیاں ایسے ہوتے ہیں جن پر جب عشق کا بھوت سوار ہوتا ہے تو پھر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی وجہ سے ہر بچی کو بدنام کرنا کہاں کا انصاف ہے۔
اب سوال یہ ہوگا کہ پھر کیا کیا جائے ؟ کیا ایسے ہی چھوڑ دیا جائے۔
جی نہیں۔ چھوڑنا نہیں ہے۔ ہماری بچیوں پر ٹرسٹ کریں۔ منفی پروپیگنڈے کی بجائے ان کو بھروسہ دلایا جائے کہ بیٹی آج بھی آپ جیسی چند سو یا ہزار نہیں کروڑوں اسلام کی پادامن شہزادیاں ہیں جو دین حق کو جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں۔ بیٹی ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آپ اپنی عصمت کی حفاظت خوب جانتی ہیں۔ ایسے ہی رہیں۔ کسی کے بہکاوے میں نا آئیں۔ اور ہاں بیٹی صرف غیروں سے نہیں اپنوں سے یعنی مسلم لڑکوں سے بھی عشق اور روابط غلط ہی ہیں۔ جب ہم غیروں سے عشق کے بیانات اور ویڈیو وائرل کرتے ہیں تو اس بات پر کافی زور ہوتا ہے کہ مسلم لڑکوں کو ترجیح دیں۔ ایک صاجب نے تو پوسٹ لکھ ماری مسلم لڑکوں کے فوائد۔ واہ کیا بات ہے۔ ارے جناب ہمارے ان واہیات بیانات سے دو نقصان ہورہا ہے۔ پہلا یہ کہ غیروں نے ہماری ہر بیٹی کو انتہائی آسان شکار تر نوالہ سمجھ لیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہماری بچیوں کی یہ سمجھ بن رہی ہے کہ ہمیں عشق کرنے کی گھومتے پھرنے کی پوری آزادی ہے بس لڑکا مسلم ہو۔
المختصر منفی اور بے سر پیر کے پروپیگنڈے سے گریز کریں۔ بچیوں پر بھروسہ کریں۔ ان کو اچھے برے کا فرق سمجھائیں اور چند لڑکیوں کی غلطی کی بنیاد پر امت کی ہر لڑکی کو مرتد نہ قرار دیں۔ ورنہ میں نے تو شادی کیلئے ایک مسلم لڑکے کے مرتد ہونے کا ویڈیو بھی دیکھا ہے تو کیا اب تمام مسلم لڑکوں کو ایسا ہی قراردے دیا جائے ؟
✍🏻 *شکیل حنیف*
*ہمارا مالیگاؤں* Ⓜ️♓
*آج کی بات 1474*
منگل، 28 مارچ، 2023
حاجی حنیف صابر ۔ ایک ہمہ جہت شخصیت*
آج ان کو ہم سے جدا ہوئے تین سال ہوگئے۔
(شکیل حنیف)
آج چھ رمضان کو حاجی حنیف صابر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے پورے تین سال ہوگئے لیکن آج بھی ان کے کارہائے نمایاں ہمارے دل و دماغ میں روشن ہیں۔ حاجی صاحب اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ سیاسی ۔ دینی ۔ ملی ۔ تعلیمی ۔ سماجی ۔ فلاحی ۔ صنعتی وغیرہ ہر شعبے میں آپ نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ آپ جس فیلڈ میں جاتے ایسا محسوس ہوتا کہ گویا آپ اسی کیلئے بنے ہیں۔ ساتھی نہال احمد کے دیرینہ ساتھیوں میں شامل تھے۔ شروع سے آخر تک ایک ہی سیاسی نظریے پر قائم رہے اور ہر طرح کے حالات میں صاحب کے ساتھ رہے۔ حق گوئی اور بیباکی آپ کا شیوہ تھا۔ سیاسی و ملی تحریکوں میں پیش پیش رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ حنیف لیڈر کے نام سے بھی مشہور تھے۔
سیاست کے ساتھ ساتھ دین سے بھی آپ کافی قریب تھے۔ مسجد خانقاہ اشرفیہ اور دارالعلوم اہلسنت اشرفیہ کے ٹرسٹی تھے۔ آل انڈیا سنی جیعتہ العلماء سے بھی منسلک تھے۔ اولیائے کرام سے خاص لگاؤ تھا۔ آپ کی حیات میں ممبئی میں ہونے والے سنی دعوت اسلامی کے پہلے اجتماع سے لے کر 2019 تک تمام اجتماعات میں شریک ہوتے رہے۔ مختلف مواقع پر جب آپ اجتماعی دعا کرتے تو حاضرین میں سے ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتا کہ خاص ان کے لئے ہی دعا کررہے ہیں۔ آپ اتحاد بین المسلمین کے زبردست حامی تھے۔ مسلک اہلسنت پر سختی سے کاربند ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے مسالک کے علمائے کرام اور شہر کی قدآور شخصیات کے ساتھ بھی آپ کے بہترین تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بم دھماکوں کے بعد شہر کے تمام مسالک کے علماء پر مشتمل کل جماعتی تنظیم کے قیام کا مرحلہ آیا تو عبدالحمید اظہری صاحب ۔ صوفی غلام رسول صاحب اور دیگر قائدین کے ساتھ مل کر مختلف مسالک کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ آپ اور آپ کے معزز ساتھیوں نے ایک ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کی تقلید ملک کے دیگر حصوں میں بھی کی گئی۔
آپ فائنل پاس تھے مگر بچپن سے ہی روزی روٹی سے لگ گئے اس لئے آگے تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ لیکن آپ نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوائی۔ آپ جمہور ہائی اسکول اور ٹی ایم ہائی اسکول کی انتظامیہ کا اہم حصہ تھے۔ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ تعلیمی معاملات کو لے کر اکثر فکرمند رہا کرتے تھے۔ اسٹاف کے ساتھ بھی آپ کا رویہ انتہائی مشفقانہ ہوتا تھا۔
حاجی صاحب سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہا کرتے تھے۔ اہلکار سوسائٹی المعروف اگوا کمیٹی اور شہری اصلاحی کمیٹی سے جڑے ہوئے تھے۔ شادی بیاہ کی کئی بیجا رسوم پر قدغن لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لوگوں کے گھریلو تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کیا کرتے تھے۔ کسی کے گھر شادی بیاہ ہو یا موت میت آپ کی موجودگی اہل خانہ کیلئے اطمینان کا باعث ہوتی تھی۔ شروع سے آخر تمام معاملات اس طرح نپٹاتے کہ دوسروں کو ذرا بھی ٹینشن نہیں رہتا۔ آپ کے سماجی تعلقات کافی وسیع تھے۔ دوستوں کے بھی کئی گروپس تھے۔
شہر کی پاورلوم صنعت سے بھی آپ کا قریبی رشتہ تھا۔ آپ رنگین ساڑی چلواتے تھے۔ 80 کی دہائی میں سینکڑوں جگہوں پر آپ کی رنگین بھیم چلتی تھی۔
اتنی ساری سماجی مصروفیات کے بعد بھی آپ رشتہ دار و اقارب کیلئے بھی وقت دیتے تھے۔ ہر ایک کا خیال رکھنا۔ سب کو جوڑ کر رکھنا۔ دکھ درد میں شریک ہونا آپ کی نمایاں خوبی تھی۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی خوبیاں یادیں بن کر ہمیں ان جیسا بننے کی تلقین کرتی ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے۔ سیات کو حسنات سے مبدل فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ آمین۔
منگل، 14 فروری، 2023
اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں دسویں بارہویں طلبہ کی الوداعی تقریب کا انعقاد
الحمدللہ 11 فروری بروز سنیچر صبح دس بجے اے ٹی ٹی ہائی اسکول مالیگاؤں میں دسویں بارہویں جماعتوں کے طلبا و طالبات کی الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔انریری سیکریٹری انجمن ترقی تعلیم محترم پروفیسر عبدالمجید صدیقی کی صدارت میں منعقدہ تقریب کی شروعات قاری أصف سر کی تلاوت سے ہوئی۔مبشر سر نے تحریک وتائید پیش کی۔اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر جونیئر کالج محمد امین سر نے مہمانان کی خدمت میں استقبالیہ کلمات