آج کا افسانہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آج کا افسانہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 28 ستمبر، 2021

چار منی افسانے

 *چار منی افسانے*


(شکیل حنیف ۔ مالیگاؤں)


*زرخرید*


اینکر صاحب زور وشور سے شہری مسائل پر بول رہے تھے۔  سڑکوں کے گڑھے ٰ  گندگی ٰ اتی کرمن ہر موضوع پر تیز و طرار طنز کے تیر برس رہے تھے۔ شہر کی بدحالی پر موصوف کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔ گرما گرم موضوع پر ویڈیو شوٹ ہورہا تھا۔ اچانک ایس ایم ایس ٹون بجا۔ اینکر صاحب نے شوٹ مکمل کیا اور ایس ایم ایس پڑھنے لگے۔ بینک کا میسج تھا کہ آپ کے اکاؤنٹ میں اتنا اتنا روپیہ جمع کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی وہاٹس ایپ پر نیتاجی کا مسکراتی اسمائلی کے ساتھ سلام بھی تھا۔  میسیج پڑھتے ہی اینکر صاحب نے نیتا جی کو ڈھیر ساری پھولوں

منگل، 12 مارچ، 2019

افسانہ : فیصلہ : نعیم سلیم

فیصلہ : نعیم سلیم

شہر میں اپنی نوعیت کے سب سے معیاری نئے تعلیمی ادارے آئڈیل کیمپس میں ٹیچرس پروفیسرس اسامیوں کے لئےانٹرویو جاری تھا.توقع کے مطابق درجنوں امیدوار قطار میں تھے.چئرمن شیخ صاحب بھی صبح سےسلیکشن کمیٹی و ماہرین کے ساتھ تشریف فرما تھے.آخری امیدوار
اجازت لے کر

ہفتہ، 9 اپریل، 2016

Chor : Afsana

Ek afsana :
Tamam kirdar farzi hain.
Ⓜ ﭼﻮﺭ ♓
ﭼﻮﺭ ﭼﻮﺭ ﭼﻮﺭ ً ﺍﺭﺷﺪ ﺳﯿﭩﮫ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﯽ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﮐﭽﯿﻠﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺩﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺑﻠﮯ ﭘﺘﻠﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺩﮬﺮ ﺩﺑﻮﭼﺎ۔ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺭﭨﻮﻥ ﮐﯽ ﺩﻓﺘﯽ ﻟﮱ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺷﻮﺭ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﻭﺭ ﻟﻮﻡ ﮐﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮨﻮ ﮔﺊ۔ ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﻃﻤﺎﻧﭽﮯ ﺟﮍ ﺩﮰ۔
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ
ً ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﮯ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ۔ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯿﺎ ﺳﮑﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ٬
ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺷﻌﻠﮧ ﺑﺮﺳﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ً ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﺠﮯ ﻧﮧ ﺳﯿﭩﮫ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﯽ ﺩﻓﺘﯽ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﮯً
ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ً ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺩﻓﺘﯽ۔ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﻮﺭﯼ ﺁﺧﺮ ﭼﻮﺭﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ً
ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﮐﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮔﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﻤﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ
ﭼﻮﺭﯼ ﺁﺧﺮ ﭼﻮﺭﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﭼﻮﺭﯼ ﺁﺧﺮ ﭼﻮﺭﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﻭﮦ ﮐﺎﺭﺧﺎﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻭﺭ ﻣﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﺳﮯ ﺑﺠﻠﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﮱ ﻟﮕﺎﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﻭﺍﯾﺮ ﻧﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔
✍ﺍﺯ ﻗﻠﻢ : ﺷﮑﯿﻞ ﺣﻨﯿﻒ۔
ﮬﻤﺎﺭﺍ ﻣﺎﻟﯿﮕﺎﻭﮞ
8087003917
shakeelhaneef@gmail.com

ہفتہ، 9 مئی، 2015

AFSANA : MAJBOOR HASRAT :by TARIQUE ASLAM

*مجبور حسرت*                                            چودھویں کی شب تھی چاند کی سبز مدھم  روشنی نے رات کو انتہائی رومانی بنا دیا تھا مگر یہ ماحول اور یہ روشنی اس بڑھیا کے کسی کام کی نہیں تھی سوائے اس کے کہ وہ گلی میں قطار بنائے مکانوں کے بند دروازے گن سکے.. اس کے اپنے مکان کا دروازہ بند تھا ۔ اس بند دروازے کے پیچھے واقع اکلوتے کمرے میں اس کی بیٹی اپنے شوہر کا دل خوش کرنے میں مصروف تھی ۔
،، تم جلدی کر لو ناں ،،آج سردی بہت ہے اور بوڑھی ماں باہر گلی میں بیٹھی ہے ،، بڑھیا نے تصور میں اپنی بیٹی کی سرگوشی سنی اور مسکرائے بغیر نہ رہ سکی ۔
یقینا وہ یہی کہہ رہی ہو گی ،، اس نے خود سے کہا ،، دنیا میں میرا خیال

جمعہ، 8 مئی، 2015

Saahil E Ishq : by Shahroz Khaawar

👥ساحلِ عشق👤
جیسے جیسے موجوں کی اچھال سے سورج مات کھا رہا تھا اسی تناسب سے راہل کے حوصلے بلند ہوتے  جارہے تھے. انگلی سے گالوں پر کھیلتی زلفوں کو ہٹانا، بازو پر طے شدہ نیت کے ساتھ انگلی کو اوپر سے نیچے کھینچتے ہوئے خط بنانا، یہی عمل پشت پر کرنا ......یہاں تک تو ٹھیک تھا. انجلی نے یہ تمام حرکتیں ایسے در گزر کردیں جیسے اسے کچھ کچھ سمجھ میں آرہا ہو لیکن وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہو. وہ پہلی بار اپنے پاپا کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ ساحل پر آئی تھی. ڈر لگ رہ  تھا لیکن جوانی کے احساس نے جہاں محبت پر اکسایا تھا وہیں کچھ ہمت بھی عطا کردی تھی. ابھی وہ مچلتی لہروں میں الجھی ہوئی تھی کہ راہل نے اس کی گردن کو پیچھے سے پکڑ کر