شعراء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شعراء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 27 فروری، 2022

ساتھی نہال احمد کی یاد میں ان کی اہلیہ ساجدہ واحدی صاحبہ کے دل کی گہرائیوں سے لکھے گئے پردرد قطعات




خواب و خیال فکرونظر میں سمائے ہو

لگتا ہے زندگی میں مری لوٹ آئے ہو

شاید اسی کو کہتی ہے دنیا طلسم عشق

پیوند خاک ہوکے بھی پاگل بنائے ہو


صد آفرین وہ مرا غیور مہرباں

ٹھکرا دیا ہے جس نے ہر اک تخت وتاج کو

دیوار و در میں جس کی مہک ہے بسی ہوئی

دل ڈھونڈتا ہے پھر اسی خوشبو مزاج کو


جب سے ہمارے گھر میں وہ چہرہ نہیں رہا

لگتا ہے زندگی میں سویرا نہیں رہا

جب سے وہ ہم سفر مرے گھر سے چلا گیا

آنکھوں سے نیند کا کوئی رشتہ نہیں رہا


مدت ہوئی گھر میں تمہیں دیکھا بھی نہیں ہے

اور ساتھ نہیں ہو مرے ایسا بھی نہیں ہے

ہر خواب میں ہمدم ہو ہراک درد میں ہم درد

ایسی تو محبت کوئی کرتا بھی نہیں ہے


مرے محسن مرے رازداں چل دیے

یہ خراماں خراماں کہاں چل دیے

غنچہ وگل شجر سب پریشان ہیں

باغ کو چھوڑ کر باغباں چل دیے


رہتی ہوں رات دن میں پریشاں ترے بغیر

قسطوں میں مر رہی ہوں مری جاں ترے بغیر

چاہت کے پھول کرب کی شدت سے جل گئے

ویراں ہے میرے دل کا گلستاں ترے بغیر


نشہ حیات کا اک دم اتر گیا جیسے

تمہارے بن مرا سب کچھ بکھر گیا جیسے

نہ خواہشیں نہ امنگیں نہ آرزو باقی

حقیقتا مرا احساس مر گیا جیسے


کیوں جارہے ہو گھر کو رگ جان چھوڑ کر

رکھ دی ہے آسمان نے آنکھیں نچوڑ کر

تم نے تو زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیا

خاموش کیوں آج مرے دل کو توڑ کر


بیٹھے تھے پاس جتنے سب غم گسار روئے

ہم تم کو یاد کرکے جب بار بار روئے

ہر زخم پھر سے مہکا ہر درد پھر سے چہکا

اتنا اے زندگی ہم زاروقطار روئے


بھیگے ہوئے ہیں درد میں دالان و گھر مرے

کب سے سسک رہے ہیں دیوار و در مرے

مجھ سے بچھڑ کے خواب سے بہلا رہے ہو اب

ترکیب کیا نکال لی اے ہم سفر مرے

جمعرات، 13 جنوری، 2022

فرحان دل Farhan Dil


فرحان دل شہر عزیز کے نامور شاعر ہیں۔ آپ کی مقبولیت سرحدوں کو عبور کر چکی ہے۔ پورا نام فرحان پرویز عبداللطیف ہے ۔ تخلص دِل اور قلمی نام فرحان دِل ہے۔ 
آبائی شہر مالیگاؤں ہے۔ آپ نے  بی ـ کام تک تعلیم حاصل کی ہے۔ شاعری کی ابتداء انیس سو تریانوے میں کی۔ اب تک تقریباً سترہ سو غزلیں مکمل ہوچکی ہیں۔  پہلے مجموعہ کلام دل دھڑکتا رہا کا اجراء عنقریب ہونے والا ہے۔

منگل، 4 جنوری، 2022

خیال انصاری Khayal Ansari

 


انصاری نورالہدی ابن محمد شعبان المعروف خیال انصاری شہر عزیز سے تعلق رکھنے والے ملگ گیر شہرت یافتہ صحافی ٰ شاعر اور ادیب ہیں۔ 

آپ کی ادارت میں بچوں کا ہفتہ روزہ اخبار

ہفتہ، 4 دسمبر، 2021

طاہر انجم صدیقی Tahir Anjum Siddiqui

طاہر انجم صدیقی ایک معروف افسانہ نگار اور شاعر ہیں۔ آپ مالیگاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے 1977 میں آنکھیں کھولیں۔  بارہویں کے بعد اے ٹی ڈی اور سی ٹی سی کیا پھر ڈی ٹی پی کا کورس بھی مکمل کیا اور اب صنعتِ پارچہ بافی سے منسلک ہیں۔ 30 برس کی عمر میں شائع شدہ ان کے اولین افسانوی مجموعہ "بلیک اینڈ وہائٹ" کو مہاراشٹر اردو اکیڈمی اور اترپردیش اردو اکیڈمی کی جانب سے انعام مل چکا ہے. نیز اسی پر حال ہی میں ممبئی یونیورسٹی کی عالمی کانفرنس میں مقالہ بھی پڑھا جا چکا ہے۔ "تاثیر" نام سے آپ کا شعری مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔

اتوار، 5 ستمبر، 2021

شکیل حنیف کا یوم ولادت

 

*آج - 05؍ستمبر 1979*


*شہر مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے معلم اور معروف شاعر” شکیلؔ حنیف صاحب “ کا یومِ ولادت...*


(ازقلم ۔ اعجاز زیڈ ایچ)


نام *شکیل احمد* تخلص *شکیلؔ* ہے۔ والد کا نام *محمّد حنیف صابر* ۔ وہ *٥؍ستمبر ١٩٧٩ء* کو *شہر مالیگاؤں، مہاراشٹر ( بھارت)* میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں سے حاصل کی۔ اسی طرح پونے یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کی ڈگری حاصل کی۔ ڈی ایڈ کرنے کے بعد اے۔ٹی۔ٹی ہائی اسکول ( مالیگاؤں) میں تقریباً بیس برس سے درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

شعری مجموعہ *عکسِ دل* اور *حاجی حنیف صابر* کے نام سے سوانح حیات زیر ترتیب ہے۔

*معلم  ۔ چلو قربان کر ڈالیں اور چلو اسکول چلتے ہیں* جیسی نظمیں عالمی پیمانے پر مشہور ہوئیں ۔

*"ہمارا مالیگاؤں"* نام سے یو ۔ ٹیوب چینل اور بلاگ جاری ہے۔ آپ کو شہر کا اولین فیس بک اور وہاٹس ایپ گروپ بنام *"ہمارا مالیگاؤں"* کے بانی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

شہری مسائل پر 1500 سے زائد مضامین اور کئی افسانے بھی لکھے ہیں۔


       🌹✨ *پیشکش : اعجاز زیڈ ایچ*


*፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤፤*


🌹🎊 *معروف شاعر شکیلؔ حنیف صاحب کے یوم پیدائش پر منتخب اشعار بطور خراجِ تحسین...* 🎊🌹


*جس کی اردو زبان ہوتی ہے*

*اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے*

---

نبھانا جس کو کہتے ہیں کچھ ہی لوگوں کو آتا ہے

بڑا آساں ہے کہہ دینا مجھے تم سے محبت ہے

---

لفظ بننے کی بھی اوقات نہیں ہے جن کی 

خود کو مضمون کا عنوان سمجھ بیٹھے ہیں

---

گرداں رہا زمین کے چکر میں روز و شب 

آخر ملی تو مجھ کو بھی دوگز زمیں ملی

---

سر پہ سایہ تھا تو کتنی شان سے جیتے تھے ہم

اب کہاں وہ شوخیاں سرمستیاں آزادیاں

---

بھول کر بھی یہ بھول مت کرنا

دل کا تحفہ قبول مت کرنا

---

فلک کے اس پار کوئی ادبی نشست شاید جمی ہوئی ہے

زمیں سے کتنے ادیب وشاعر بنا بتائے ہی جارہے ہیں

---

تمہاری یاد آنے کی نہیں مخصوص رت کوئی

کوئی موسم ہو ہر موسم میں تم تو یاد آتے ہو

---

نہ چھوڑا آخری سانسوں تلک محبوب کا دامن

کوئی دیکھے ذرا آکر محبت کس کو کہتے ہیں

---

اگر اللہ پر ایمان کامل ہو توکل ہو

مصیبت آئے پھر کیسی بھی گھبرانا نہیں آتا

---

کسی سے باتیں کسی سے ملنا کسی سے چاہت کسی پہ مرنا

نئے زمانے کی الفتوں میں سبھی ہے لیکن وفا نہیں ہے

---

بروز حشر ہم سب سے فرشتے بس یہ پوچھیں گے

تمنا گر ہو جنت کی بتا اچھے عمل پیارے

---

کون سی بستی ہے وہ کیسا ہے وہ ملک عدم

جس جگہ سے لوٹ کر واپس کوئی آتا نہیں

---

وصال کے ہیں ہزار رستے کہ دل بھی راضی دماغ راضی

جو پھر بھی ملنے نہ آسکو تو یقین مانو عجیب ہو تم

---

محبت کا ترانہ چند ہی احباب گاتے ہیں

بھلا تو سب کو لگتا ہے مگر سب گا نہیں سکتے

---

موت بھی کتنی بے مروت ہے

سب کے پیاروں کو چھین لیتی ہے

---

میں ہردم محومحنت ہوں کہ میرے پھول سے بچے

مرے سائے تلے پڑھ لکھ کے اک انسان بن جائیں

---

بیٹے کی تعلیم کی خاطر جس نے زیور بیچے تھے

ایسی ماں جب کال کرے تو بہو کا طعنہ سنتی ہے

---

ہم اگر انسان ہیں غلطی کا بھی امکان ہے

بے خطا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں

---

کسی کے ساتھ نکلو اور کچھ آگے نکل جاؤ

پتہ چل جائے گا تم کو عداوت کس کو کہتے ہیں

---

کسی کو تنہا پاکر مار دینا بزدلی ہی ہے

نہتوں کو نہ مارے جو اسی کو مرد کہتے ہیں

---

سنا ہے جب کوئی اردو میں بات کرتا ہے 

تو لفظ لفظ سے اک چاشنی ٹپکتی ہے

---

بعد وصال دل سے یہ اٹھتی رہی صدا

کتنا سکون ہجر کی تنہائیوں میں تھا

---

جب پتہ تھا کہ ٹوٹ جائے گا

کیا ضرورت تھی دل لگانے کی

---

بہت تکلیف دیتی ہے یہ میری سادگی مجھ کو

اسے بھی سہنا پڑتا ہے جسے کوئی نہیں سہتا

---

کل تک سلام کرنے میں بھی عار تھا جنہیں

دولت ملی تو آکے قدم چومنے لگے

---

کس لئے دولت کی کی چاہت میں ہے گرداں روز و شب

ایک دن آئے گا بوں ہی سب پڑا رہ جائے گا

---

طوفان میں بھی حوصلہ اتنا بلند ہو

جانے دو اس کو خود یہ بھنور بولنے لگے

---

دنیا میں کافی لوگ کماتے ہیں نام و زر

مقبولیت بھی جس پہ فدا ہو وہ آپ ہیں

---

زندگی میں جس نے مجھ کو دکھ دیے تھے بارہا

آکے تربت پر مری وہ دیر تک روتا رہا

---

کٹھن ہیں راستے یا راہ میں کتنی رکاؤٹ ہے

جنہیں منزل کی چاہت ہو وہ کچھ دیکھا نہیں کرتے

---

جدید دور کے انساں سے بچ کے رہیے گا

یہ ساتھ رہ کے گلا کاٹنے میں ماہر ہے

---

چہرے پہ جو سکون ہے غربت کے باوجود 

تم ساری جائیداد کے بدلے نہ پاؤگے

---

کیا غضب ہے چاہیے سب کو ہی سہرا جیت کا

ہاں اگر جو ہار ہو بس ہم ہی ذمہ دار ہیں

---

جس کو میں ڈھونڈتا رہا ہر پل ادھر ادھر

وہ تو مرے وجود کی گہرائیوں میں تھا

---

یہ بیماری کا عالم اور یہ مندی کی تکلیفیں

کریں کیوں ریشمی پازیب کی جھنکار کی باتیں

---

ذرا سی زندگانی ہے تکبر کس لئے صاحب

سوا اللہ ہم سب کو یقیناً موت آنی ہے

---

ارادے گر مصمم ہوں قدم پر استقامت ہوں

تو منزل ہم کو لینے کیلئے خود پاس آتی ہے

---

جنگل سے ایک شیر کے جانے کی دیر تھی

کتوں نے سارے دشت کو ہلکان کردیا

---

گھر سے باہر ہوں جب تلک بچے

ماں کو بس بے قرار دیکھا ہے

---

نہ اونچا اٹھائیں نہ نیچا دکھائیں

مقام اپنا سب سے جدا چاہتے ہیں

---

نبی کے صدقے میں جنت کا ہے یقیں ورنہ

ہمارے کام تو سارے عذاب والے ہیں

---

بعد مرنے کے سر آنکھوں پہ بٹھانے والو

ابھی زندہ ہیں تو توقیر ہماری کرلو

---

دشمن تو ڈرکے دور سے ہی گھورتے رہے

احباب آس پاس تھے سرکاٹ لے گئے

---

بچانا وہ اگر چاہے سمندر بھی اگل دے گا

وگرنہ ایک نالے میں بھی انساں ڈوب جاتے ہیں

---

ہم سے روٹھا نہیں جاتا ہے کسی اپنے سے

روٹھ جاتا ہے وہ گر اس کو منا لیتے ہیں

---

جو ہونا ہے ہوکر رہے گا سراسر

تو کتنا بھی خود کو بچاتا رہے گا

---

دلوں کو جوڑ کر رکھنا ملا ہے ہم کو ورثے میں

کبھی تقسیم کرنے کی سیاست ہم نہیں کرتے

---

برے حالات میں اچھے برے کا علم ہوتا ہے

لگے جب ڈوبنے چوہے سفینہ چھوڑ دیتے ہیں

---

فقط مخصوص لوگوں کو ہی قابل مان کر چلنا

نئے ہوں تو بھلا دینا مناسب بات تھوڑی ہے

---

سر سے سایہ اٹھنے کی بس دیری تھی

لوگوں کو فی الفور بدلتے دیکھا ہے

---

کسی اور کی شراکت بھلا کیوں کروں گوارا

یہ جو دل کی سلطنت ہے وہی ایک حکمراں ہے

---

تم ہم سے دوستوں کی دوستی کا حال مت پوچھو

شکیل ہم تو کڑے دشمن سے بھی ہنس کر ہی ملتے ہیں

---

ہزار تحفے لٹا چکے ہو حسین چہروں کی اک ادا پر

کہ ماں کو بھی کچھ دلا سکو تو تبھی تو اصلی کمال ہوگا

---

جاہلوں کو ملے ملتی رہے مسند لیکن

علم والوں کو ہی ہر حال بڑے رہنا ہے

---

معاف اس کے ستم کو کرکے سکون سے میں تو سو رہا تھا

مگر تھی اس کی عجیب حالت تمام شب ہی وہ رو رہا تھا

---

کچھ اس طرح سے اس نے محبت سے بات کی

انکار کرتے کرتے پگھلنا پڑا مجھے

---

یہ دنیا ہے یہاں جو بھی غریبوں کو ستاتا ہے 

تو اس کی اگلی نسلوں کو خدا کشکول دیتا ہے

---

دل جس نے دکھایا تھا کبھی باپ کا ماں کا

اک روز اسے ایڑی رگڑتے ہوئے دیکھا 

---

ہزارکوشش کے بعد بھی جب مرے برابر نہ آسکے تو

سنا ہے اب وہ مرے مقابل مرے رفیقوں کو لارہے ہیں

---

لئے جو سیلفی سب فیس بک پر ڈال دیتے ہیں

اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے


شکیل اپنی جوشہرت ہے وہ اردو کی بدولت ہے

وگرنہ ہم زمانے بھر میں پہچانے کہاں جاتے

---

یہ انسانی جبلت ہے کسی کو دوش کیا دینا

جسے اونچائی پر دیکھو اسے بدنام کردینا

---

برے اعمال سے فرصت ملے تو یہ ذرا سوچو

گھٹا رحمت کی ہم سے ہربرس کیوں روٹھ جاتی ہے

---

اگرجوان تری شاعری پہ مرتے ہیں

ہمارے فین بھی اکثر حجاب والے ہیں


حصول علم کی خاطر مشقت جو اٹھاتے ہیں

وہی بچے بڑے ہوکر مقام خاص پاتے ہیں


●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●


                          🍁 *شکیلؔ حنیف*🍁


                           *انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ*

اتوار، 12 نومبر، 2017

Sharar Malegaonvi شرر مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 18 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*شرؔر مالیگانوی*
  میں 1906ء بمقام مالیگاؤں میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحر العلوم محلّہ قلعہ میں قبلہ حضرت مولوی عبد المجید صاحب وحیؔد سے حاصل کی۔

Aabid Malegaon عابد انصاری مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 17 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*عابؔد انصاری*
پیدائش 4 ستمبر 1919ء ۔
تعلیم معمولی اردو ۔ وی ایف
1937ء میں شادی ہوئی۔ نو سال کے بعد شریکِ زندگی نے مجھے تنہا چھوڑ دیا۔

Ahsan Malegaonvi احسن مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 16 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*احسؔن مالیگانوی*
نام محمّد حسن تخلّص احسؔن مالیگانوی ۔ والدِ بزرگوار کا نام شیر محمّد سردار ۔ سنِ ولادت 25 مارچ 1897ء جائے پیدائش مالیگاؤں ۔ آبائی وطن خانجہان پور ضلع الہ آباد
    

Nazar Malegaonvi نظر مایگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 15 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*نظؔر مالیگانوی*
نام محمّد بشیر تخلّص نظؔر والد کا نام حافظ شمش الدّین تھا۔ نسبًا انصاری ہوں۔ 1900ء میں

Aqueel Rahmani Malegaonvi عقیل رحمانی مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 14 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*عقیؔل رحمانی مالیگانوی*
میں 1322ھ میں مالیگاؤں کے محلہ موتی پورہ میں پیدا ہوا۔ بفضل خدا ابتک یہیں ایّامِ زندگی گزار رہا ہوں۔

Habeeb Malegaonvi حبیب مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 13 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*حبیؔب مالیگانوی*
مالیگاؤں جہاں کی ادبی فضا میں بہت سے درخشدہ ستارے جگمگا رہے ہیں وہاں میری حقیقت ایک ذرّۂ بے نور کے سوا کچھ بھی نہیں لیکن بعض دوستوں کے اصرار پر مجھے بھی اپنا نام پانچوں سواروں میں لکھنا پڑا۔
     

Auj Malegaonvi اوج مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 12 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*اوؔج مالیگانوی*
*منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی*
*اپنا بیانِ حسنِ طبیعت نہیں مجھے*
محمّد نظیر نام تخلّص اوؔج ہے۔ مالیگاؤں میں پیدا ہوا اور یہیں پروان چڑھا غریبی میں پَلا اور ہمیشہ خوش و خرم رہا۔

Wahshi Akbrabadi Malegaonvi وحشی اکبرآبادی مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 11 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*وحشؔی اکبر آبادی مقیم مالیـگاؤں*
نام عبدالمجید خان تخلص وحشؔی ۔ وطن اکبر آباد سنِ ولادت 1904ء آباء و اجداد افغانستان سے نادر شاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے۔

Qamar Malegaonvi قمر مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 10 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*قمؔر مالیـگانوی*
نام قمر الدین عرف چاند تخلّص قمؔر ۔ ولادت 1898ء مقام مالیگاؤں ابتدائی تعلیم مراٹھی اردو میں ہوئی۔ 1914ء میں ورنا کیولر کا امتحان پاس کیا۔ اور مدرسی کا پیشہ اختیار کیا۔

Aazad Ansari Malegaonvi آزاد انصاری مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 9 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*آزاؔد انصاری مالیـگانوی*
4 جنوری 1931ء کو رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہؔر ساری ملتِ اسلامیہ کو ہمیشہ کے لیئے داغِ مفارقت دے گئے۔ ایک انگریز شاعر کے قول کے مطابق

Muslim Malegaonvi مسلم مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 8 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*مســـلؔم مالیـــــــــگانوی*
نام محمّد صدّیق تخلّص مســـلؔم والد کا نام منشی الٰہی بخش 1901ء مالیگاؤں میں پیدا ہوا۔ اجداد کا وطن یوپی ضلع اعظم گڑھ ہے۔

Akhtar Malegaonvi اختر مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 7 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*اخؔـــــــتر مالیـــــــــگانوی*
محمّد بشیر تخلّص اخؔـــــــتر میری پیدائش 1912ء مالیگاؤں میں ہوئی۔ دو سال کی عمر میں والدین کا سایۂ عاطفت سر سے اُٹھ گیا۔

Shauque Malegaonvi شوق مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 6 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*شؔـــــــوق مالیـــــــــگانوی*
نام محمّد صدّیق ۔ تخلّص شؔـــــــوق خلفِ اصغر میاں جی جان محمّد تاریخِ ولادت 12 مئی 1898 ء ہے۔

Sohail Malegaonvi سہیل مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 5 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*سہیؔــــــــل مالیـــــــــگانوی*
     نام عبدالغفور تخلّص سہیؔل اور والد کا نام دین محمّد ہے۔ مقامِ پیدائش محمود آباد "ریاست" اور وطن مالیگاؤں ہے۔ ایک گمنام اور غریب ماں باپ کی ناکام تمناؤں کی یادگار ہوں۔ 5

Adeeb Malegaonvi ادیب مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 4 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*ادیؔب مالیـــــــــگانوی*
1909ء میری پیدائش کا سال ہے۔ اَن پڑھ والدین انکے اپنے بچوں کی ذہنی و فطری صلاحیتوں کو کس درجہ اجاگر کرسکتے