جنرل نالج لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جنرل نالج لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 7 فروری، 2023

M. L. A. s of Malegaon مالیگاؤں کے ایم ایل ایز

 *مالیگاؤں کے ایم ایل ایز*


برائے یادداشت 9️⃣

*آج کی بات 1469*

✍🏻 *شکیل حنیف*

*ہمارا مالیگاؤں* Ⓜ️♓


آزادی وطن کے بعد پہلے پارلیمانی اور اسمبلی الیکشن 1951 کے اواخر اور 1952 کے اوائل میں ہوئے۔ آئیے مالیگاؤں تعلقہ کے دونوں حلقوں کے اب تک کے ایم ایل ایز پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 


♓ 1952 میں جب مالیگاؤں بامبے اسٹیٹ میں تھا۔ اس وقت شمالی مالیگاؤں اور جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں اس طرح دو حلقے تھے۔ 26 مارچ 1952 کو ہونے والے الیکشن میں شمالی مالیگاؤں سے کانگریس کے محمد صابر عبدالستار پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 12925 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے ہارون احمد انصاری کو 2231 ووٹوں سے شکست دی۔ ہارون احمد انصاری نے 10694 ووٹ حاصل کئے تھے۔ 

Ⓜ️ اسی طرح جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں سے بھاؤ صاحب ہیرے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 24077 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کوتک پوار کو 15628 ووٹوں سے شکست دی۔ کوتک آنند پوار کو 8449 ووٹ ملے۔ 


♓ 1957 کے بامبے اسمبلی الیکشن میں شمالی مالیگاؤں حلقہ صرف مالیگاؤں ہوگیا۔ 25 فروری 1957 کو الیکشن ہوا۔  اس بار پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ہارون احمد انصاری ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 22022 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سیٹنگ ایم ایل اے محمد صابر عبدالستار کو 2465 ووٹوں سے شکست دی۔ صابر ستار کو 19557 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1957 میں جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں حلقہ صرف ناندگاؤں ہوگیا۔ اس میں ناندگاؤں کے ساتھ مالیگاؤں کے دیہی علاقے شامل تھے۔  وہاں سے کانگریس کے بھاؤ صاحب ہیرے لگاتار دوسری بار ایم ایل اے بنے۔ انہوں نے 24256 ووٹ حاصل کرتے ہوئے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے شیورام دادا ہیرے کو 4642 ووٹوں سے شکست دی۔ شیورام ہیرے کو 19614 ووٹ ملے۔ 


♓ 1960 میں مہاراشٹر کے قیام کے بعد 1962 میں مہاراشٹر اسمبلی کے پہلے الیکشن ہوئے۔ 19 فروری 1962 کو ہونے والے اس الیکشن میں مالیگاؤں حلقے کیلئے پرجا سوشلسٹ پارٹی سے اس وقت کے صدربلدیہ ساتھی نہال احمد کو ٹکٹ ملا۔ سیٹنگ ایم ایل اے ہارون احمد انصاری نے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 24011 ووٹ حاصل کرتے ہوئے ساتھی نہال احمد کو 1049 ووٹوں سے شکست دیتے ہوئے دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔  ساتھی نہال احمد کو 22962 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1962 میں مالیگاؤں کے دیہاتوں اور ناتدگاؤں پر مشتمل ناندگاؤں حلقے سے بھاؤ صاحب ہیرے کے فرزند وینکٹ راؤ ہیرے کانگریس کے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 30651 ووٹ حاصل کرتے ہوئے شیورام ہیرے کو 16739 ووٹوں سے شکست دی۔ شیورام ہیرے کو 13912 ووٹ ملے۔


♓ 21 فروری 1967 کو آزادی کے بعد چوتھا اسمبلی الیکشن ہوا۔ مالیگاؤں حلقے سے ساتھی نہال احمد پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 21565 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے سیٹنگ ایم ایل اے ہارون احمد انصاری کو 7641 ووٹوں سے شکست دی۔ ہارون انصاری کو 13924 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1967 میں ناندگاؤں سے الگ کرکے مالیگاؤں کے دیہاتوں پر مشتمل دابھاڑی حلقہ وجود میں آیا۔ کانگریس کے وینکٹ راؤ بھاؤ صاحب ہیرے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 31382 ووٹ حاصل کئے اور سنگھٹا سوشلسٹ پارٹی کے ایس این پاٹل کو 19478 ووٹوں سے شکست دی۔ اس این پاٹل کو 11904 ووٹ ملے۔ 


♓ 5 مارچ 1972 کو ہونے والے اسمبلی الیکشن میں مالیگاؤں حلقے سے کانگریس کی عائشہ حکیم پہلی خاتون ایم ایل اے منتخب ہوئیں۔  انہوں نے 36848 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے سیٹنگ ایم ایل اے ساتھی نہال احمد کو 6119 ووٹوں سے شکست دی۔ ساتھی نہال احمد کو 30729 ووٹ حاصل ہوئے۔ 

Ⓜ️ 1972 میں دابھاڑی حلقے سے کانگریس کے بلی رام ہیرے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 28805 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے شیواجی پاٹل کو 10937 ووٹوں سے شکست دی۔ شیواجی پاٹل کو 17868 ووٹ ملے۔


♓ ایمرجنسی کے بعد 25 فروری 1978 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے ساتھی نہال احمد جنتاپارٹی سے امیدواری کرتے ہوئے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 47237 ووٹ حاصل کرتے ہوئے مسلم لیگ کے غازی نسیم احمد خان کو 28045 ووٹوں سے شکست دی۔ غازی نسیم احمد نے 19192 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ اندرا کانگریس کی سیٹنگ ایم ایل اے عائشہ حکیم 6288 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہیں۔ 

Ⓜ️ 1978 میں دابھاڑی سے اندرا کانگریس کے بلی رام ہیرے دوبارہ ایم ایل اے بنے۔ انہوں نے 32918 ووٹ حاصل کی اور 25036 ووٹ حاصل کرنے والے جنتا پارٹی کے شیواجی پاٹل کو 7882 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 28 مئی 1980 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے جنتاپارٹی (جے پرکاش) کے ساتھی نہال احمد تیسری بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 42604 ووٹ حاصل کرتے ہوئے اندرا کانگریس کے حاجی شبیر احمد کو 1848 ووٹوں سے شکست دی۔ شبیر سیٹھ کو 40756 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1980 میں دابھاڑی حلقے سے اندرا کانگریس کے بلی رام ہیرے تیسری بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 38906 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس ( یو ) کے امیدوار وینکٹ راؤ ہیرے کو 8121 ووٹوں سے شکست دی۔ وینکٹ ہیرے کو 30785 ووٹ ملے۔  


♓ 3 فروری 1985 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے ساتھی نہال احمد چوتھی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے جنتاپارٹی سے امیداوری کرتے ہوئے 48254 ووٹ حاصل کی اور اندرا کانگریس کے حاجی شبیر احمد کو 3238 ووٹوں سے شکست دی۔ شبیر سیٹھ کو 45016 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1985 میں دابھاڑی حلقے سے انڈین کانگریس (سوشلسث) کی امیدوار اور وینکٹ راؤ ہیرے کی اہلیہ پشپاتائی ہیرے ایم ایل اے بنیں۔ انہوں نے 39876 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سیٹنگ ایم ایل اے بلی رام ہیرے کی اہلیہ اندرا کانگریس کی اندرابائی ہیرے کو 3228 ووٹوں سے شکست دی۔ اندرابائی ہیرے کو 36648 ووٹ ملے۔


♓ 27 فروری 1990 کو ہونے والے الیکشن میں جنتادل کے ساتھی نہال احمد مالیگاؤں سے پانچویں بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 67944 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 35668 ووٹ حاصل کرنے والے اندرا کانگریس کے حاجی شبیر احمد کو 32276 ووٹوں سے شکست دی۔ 

Ⓜ️ 1990 میں دابھاڑی سے پشپاتائی ہیرے اندرا کانگریس سے امیدواری کرتے ہوئے دوبارہ ایم ابل اے بنیں۔ آپ نے 43460 ووٹ حاصل کی اور 32577 ووٹ حاصل کرنے والے شیوسینا کے اشوک نکم کو 10883 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 12 فروری 1995 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے جنتادل کے ساتھی نہال احمد چھٹی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 65621 ووٹ حاصل کرتے ہوئے آزاد امیدوار شیخ رشید شیخ شفیع کو 31203 ووٹوں سے شکست دی۔ شیخ رشید کو 34418 ووٹ ملے۔ اس الیکشن میں بی جے پب کے پرلہاد شرما 23437 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے اور  کانگریس کے حاجی یونس عیسی 20948 ووٹ حاصل کرتے ہوئے چوتھے نمبر پر رہے۔ 

Ⓜ️ 1995 میں دابھاڑی سے کانگریس کی پشپا تائی ہیرے تیسری بار ایم ایل اے بنیں۔ انہوں نے 40126 ووٹ حاصل کرتے ہوئے آزاد امیدوار بلی رام ہیرے کو 2410 ووٹوں سے شکست دی۔ بلی رام ہیرے کو 37716 ووٹ ملے۔ 


♓ 11 ستمبر 1999 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے کانگریس کے شیخ رشید شیخ شفیع ایم ابل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 74433 ووٹ حاصل کرتے ہوئے جنتادل سیکولر کے سیٹنگ ایم ایل اے ساتھی نہال احمد کو 26179 ووٹوں سے شکست دی۔ ساتھی نہال احمد کو 48254 ووٹ حاصل ہوئے۔ 

Ⓜ️ 1999 میں دابھاڑی سے پشپا تائی ہیرے کے فرزند پرشانت ہبرے راشٹروادی کانگریس سے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 41304 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 35275 ووٹ حاصل کرنے والے بی جے پی کے سریش نکم کو 6029 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 13 اکتوبر 2004 کو ہونے والے الیکشن میں کانگریس کے شیخ رشید شیخ شغیع دوبارہ مالیگاؤں کے ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 80579 ووٹ حاصل کرتے ہوئے جنتادل سیکولر کے ساتھی نہال احمد کو 19370 ووٹوں سے شکست دی۔ ساتھی نہال احمد کو 61209 ووٹ حاصل ہوئے۔ 

Ⓜ️ 2004 میں دابھاڑی حلقے سے آزاد امیدواری کرتے ہوئے دادا بھسے پہلی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 68079 ووٹ حاصل کرتے ہوئے راشٹروادی کے پرشانت ہیرے کو 9017 ووٹوں سے شکست دی۔ پرشانت ہیرے کو 59062 ووٹ ملے۔ 


♓ 2009 میں اسمبلی حلقوں کی نئی حدبندی ہوئی۔ معمولی ردوبدل کے ساتھ شہری علاقے پر مشتمل مالیگاؤں حلقہ مالیگاؤں سینٹرل اور تعلقہ کے دیہاتوں پر مشتمل دابھاڑی حلقہ مالیگاؤں آؤٹر کے نام سے وجود میں آیا۔  13 اکتوبر 2009 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سینٹرل سے مفتی محمد اسمعیل ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 71157 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے شیخ رشید کو 17919 ووٹوں سے شکست دی۔ شیخ رشید کو 53238 ووٹ حاصل ہوئے۔ جنتادل سیکولر کے ساتھی نہال احمد 23222 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہے۔ 

Ⓜ️ 2009 میں مالیگاؤں آؤٹر سے دادا بھسے نے شیوسینا سے امیدواری کی اور دوبارہ ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 95137 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 65073 ووٹ حاصل کرنے والے راشٹروادی کے پرشانت ہیرے کو 30064 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 15 اکتوبر 2014 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سینٹرل سے کانگریس کے شیخ آصف شیخ رشید ایم ایل اے متتخب ہوئے۔ آپ نے 75326 ووٹ حاصل کرتے ہوئے راشٹروادی کانگریس کے امیدوار اور سیٹنگ ابم ایل اے مفتی محمد اسمعیل کو 16151 ووٹوں سے شکست دی۔ مفتی محمد اسمعیل کو 59175 ووٹ ملے۔ اس الیکشن میں ایم آئی ایم کے عبدالمالک یونس عیسی 21009 ووٹوں کے ساتھ تیسرے جبکہ جنتادل سیکولر کے ساتھی بلنداقبال 6704 ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔ 

Ⓜ️ 2014 میں آؤثر سے شیوسینا کے دادا بھسے تیسری بار ایم ایل اے بنے۔ 

آپ نے 82093 ووٹ حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کے پون ٹھاکرے کو 37421 ووٹوں سے شکست دی۔ پون ٹھاکرے کو 44672 ووٹ ملے۔ 


♓ 21 اکتوبر 2019 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سینٹرل سے مفتی محمد اسمعیل دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے ایم آئی ایم سے امیدواری کرتے ہوئے 117242 ووٹ حاصل کی اور 78723 ووٹ حاصل کرنے والے کانگریس کے سیٹنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو 38519 ووٹوں سے شکست دی۔ 

Ⓜ️ مالیگاؤں آؤٹر میں 2019 میں شیوسینا کے دادا بھسے چوتھی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 121252 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے ڈاکٹر تشار شیواڑے کو 47684 ووٹوں سے شکست دی۔ تشار شیواڑے کو 75568 ووٹ حاصل ہوئے۔


♓ اس طرح آزادی کے بعد سے اب تک مالیگاؤں میں 15 اسمبلی الیکشن ہوئے جن میں 7 لیڈرس ایم ایل اے بن چکے ہیں۔ 

ساتھی نہال احمد چھ مرتبہ۔ 

ہارون احمد انصاری ۔ شیخ رشید اور مفتی محمد اسمعیل دو دو مرتبہ۔ 

محمد صابر عبدالستار ۔ عائشہ حکبم اور شیخ آصف ایک ایک بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ 

Ⓜ️ دابھاڑی یا مالیگاؤں آؤٹر میں بھی اب تک 15 الیکشن ہوئے ہیں۔ وہاں کے 6 لیڈرس ایم ایل اے بن چکے ہیں۔ 

دادا بھسے چار مرتبہ۔ 

بلی رام ہیرے اور پشپاتائی ہیرے تبن تین مرتبہ۔ 

بھاؤ صاحب ہیرے اور وینکٹ راؤ ہیرے دو دو مرتبہ اور پرشانت ہیرے ایک مرتبہ ایم ایل اے بن چکے ہیں۔

اتوار، 29 جنوری، 2023

مہاراشٹر لیجسلیٹیو کاؤنسل کے ممبران ۔ ایم ایل سی

*برائے یادداشت 8️⃣*

*آج کی بات 1468*

*شکیل حنیف Ⓜ️♓*

*ایڈمن ہمارا مالیگاؤں*


دوستو ان دنوں ایم ایل سی چناؤ کی دھوم ہے۔ آئیے مہاراشٹر کے دونوں ایوانوں اور ان کے ممبران پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 


♓ بھارت کی تمام ریاستوں میں ایوان زیریں یعنی ودھان سبھا یا لیجسلیٹیو اسمبلی موجود ہے۔ 


Ⓜ️ اسمبلی کے ممبران ایم ایل اے کہلاتے ہیں۔ 


♓ مہاراشٹر اسمبلی میں کل 288 ممبران ہیں جن کا چناؤ عوامی ووٹوں سے ہوتا ہے۔ 


Ⓜ️ مالیگاؤں میں شہری اور مرکزی علاقوں پر مشتمل سینٹرل اور مضافاتی اور تعلقہ کے دیہی علاقوں پر مشتمل آؤٹر اس طرح دو اسمبلی حلقے ہیں۔ 


♓ مفتی محمد اسمعیل سینٹرل جبکہ دادا بھسے آؤٹر کے ایم ایل اے ہیں۔ 


Ⓜ️ ملک کی بڑی ریاستوں میں ودھان سبھا کے ساتھ ساتھ ایوان بالا یعنی ودھان پریشد یا لیجسلیٹیو کاؤنسل بھی موجود ہے۔ 


♓ کسی بھی ریاست میں دوسرے ایوان ودھان پریشد کیلئے کم ازکم 40 ممبران اور زیادہ سے زیادہ اسمبلی کے ایک تہائی ممبران سے کم تعداد کی شرط ہے۔ اس لئے ہر ریاست خصوصا چھوٹی ریاستوں میں ودھان پریشد نہیں ہے۔


Ⓜ️ مہاراشٹر ودھان پریشد کے ممبران کی تعداد 78 ہے۔ اس کے ممبران ممبر آف لیجسلیٹیو کاؤنسل یعنی ایم ایل سی کہلاتے ہیں۔


♓ ایک ایم ایل سی کی مدت 6 سال ہوتی ہے۔ ہر دوسال پر ایک تہائی ممبران باہر ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ اسی فیلڈ کے نئے ممبران آجاتے ہیں۔ اس طرح ودھان پریشد کبھی تحلیل نہیں ہوتی۔ 


Ⓜ️ 78 میں سے 30 ایم ایل سیز کا انتخاب مہاراشٹر کے 288 ایم ایل ایز کرتے ہیں۔ 


♓ مہاراشٹر کے 6 ڈویژنس (ناسک ۔ پونہ ۔ ناگپور ۔ اورنگ آباد ۔ امراؤتی ۔ کوکن ) اور ایک ممبئی اس طرح 7 گریجویٹ حلقے بنائے گئے ہیں۔ ان سات حلقوں کے گریجویٹ حضرات (بی اے ۔  بی ایس سی ۔ بی کام یا ان جیسی ڈگری یافتہ) 7 گریجویٹ ایم ایل سیز کا انتخاب کرتے ہیں۔ 


Ⓜ️ بالکل اسی طرح مہاراشٹر کے 6 ڈویژنس (ناسک ۔ پونہ ۔ ناگپور ۔ اورنگ آباد ۔ امراؤتی ۔ کوکن ) اور ایک ممبئی اس طرح 7 ٹیچرس حلقے بنائے گئے ہیں۔ ان سات حلقوں کے ٹیچر حضرات 7 ٹیچر ایم ایل سیز کا انتخاب کرتے ہیں۔ 


♓ مہارشٹر میں 36 اضلاع ہیں۔ ان کو 6 ڈویژنس میں بانٹا گیا ہے لیکن لوکل باڈیز (کارپوریشن ۔ میونسپلٹی وغیرہ ) کے ممبران کے ذریعے چنے گئے ایم ایل سیز کیلئے 21 حلقے (ڈویژن ) بنائے گئے ہیں۔  کسی حلقے میں صرف ایک بڑا ضلع تو کسی میں دو سے تین چھوٹے اضلاع ہیں۔ 


Ⓜ️ ان 21 حلقوں سے ہر ایک سے ایک ایک اور ممبئی سے 2 اس طرح 22 حلقوں سے ایسے ایم ایل سیز چنے جاتے ہیں جن کا انتخاب اس حلقے کی کارپوریشن ۔ میونسپلٹی اور گرام پنچایتوں کے ممبران کرتے ہیں۔ 


♓ لوکل باڈیز کے ممبران کے ذریعے چنے جانے والے ناسک حلقے میں اکیلا ناسک ضلع ہی ہے۔ اس طرح اس حلقے کیلئے ضلع بھر کے تمام کارپوریٹرس ۔ کونسلرس وغیرہ ہر 6 سال میں اپنا ایک ایم ایل سی چنتے ہیں۔ 


Ⓜ️ آزادی کے بعد مالیگاؤں شہر کے حاجی شبیر سیٹھ ایم ایل سی رہ چکے ہیں۔ 


♓ ادب ۔ سائنس اور دیگر شعبوں میں اعلی خدمات انجام دینے والے 12 افراد کو ریاستی گورنر ایم ایل سی نامزد کرتے ہیں۔ 


Ⓜ️ اس طرح 30+7+7+22+12 = 78 

ٹوٹل 78 ایم ایل سیز 6 سال تک خدمات انجام دیتے ہیں۔ 


♓ ابھی ہونے والے الیکشن میں پورے ناسک ڈویژن کے گریجویٹ حضرات ایک ایم ایل سی کا چناؤ کریں گے۔ لوکل باڈیز ایم ابل سی چناؤ میں صرف ناسک ضلع کے کارپوریٹرس و کونسلر ووٹ دے کر اپنا ایم ایل سی چنتے ہیں۔ اس کے برخلاف گریجویٹ ایم ایل سی چناؤ میں پورے ناسک ڈویژن سے ایک ایم ایل سی چنا جاتا ہے۔ 


Ⓜ️ ناسک ڈویژن میں ناسک ۔ دھولیہ ۔ نندور بار ۔ جلگاؤں اور احمد نگر 5 اضلاع شامل ہیں۔  اس پورے ڈویژن سے ایک گریجویٹ ایم ایل سی اور دیگر پانچ ڈویژنس سے 5 اور ایک ممبئی سے اس طرح ٹوٹل 7 گریجویٹ ایم ایل سی اور اسی طرح 7 ٹیچر ایم ایل سی تعلیم و تعلم سے جڑے افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ہفتہ، 30 جولائی، 2022

مالیگاؤں ضلع ۔ Malegaon District



آج کی بات 1457

✍🏻 *شکیل حنیف*


♓ آج 30 جولائی 2022 کی پوزیشن میں ریاست مہاراشٹر میں ٹوٹل 36 اضلاع ہیں۔ پال گھر سب سے نیا ضلع ہے جو 2014 میں بنا۔ 

Ⓜ️ ناسک ضلع میں ٹوٹل 15 تعلقے ہیں۔ ناسک تعلقہ کے بعد مالیگاؤں تعلقہ دوسرا بڑا تعلقہ ہے۔ 

♓ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ناسک ضلع کی کل آبادی 61 لاکھ 7 ہزار 1 سو 87 تھی۔ 

(آسانی سے پڑھا جاسکے اس لئے ایسے لکھ رہا ہوں)

Ⓜ️ ضلع کے سب سے بڑے ناسک تعلقہ کی آبادی 17 لاکھ 55 ہزار 4 سو 91 تھی۔ جبکہ دوسرے نمبر پر *ہمارے مالیگاؤں تعلقہ* کی کل آبادی 9 لاکھ 55 ہزار 5 سو 94 تھی۔  

♓ مالیگاؤں تعلقہ میں مالیگاؤں شہر سمیت آس پاس کے ٹوٹل 145 چھوٹے گاؤں / دیہات شامل ہیں۔ 

Ⓜ️ متوقع مالیگاؤں ضلع میں ناسک ضلع کے چھ تعلقے شامل کرنے کا امکان ہے۔ جن میں مالیگاؤں ۔ سٹانہ۔ کلون ۔ دیولہ ۔ ناند گاؤں اور چاندوڑ شامل ہیں۔ 

♓ 2011 کی مردم شماری کے مطابق آبادی دیکھی جائے تو متوقع مالیگاؤں ضلع کے

سٹانہ تعلقہ کی 3 لاکھ 74 ہزار۔ 

کلون تعلقہ کی 2 لاکھ 8 ہزار۔

دیولہ تعلقہ کی ایک لاکھ 44 ہزار۔

ناندگاؤں تعلقہ کی 2 لاکھ 88 ہزار۔

چاندوڑ تعلقہ کی 2 لاکھ 35 ہزار۔ 

مالیگاؤں تعلقہ کی 9 لاکھ 55 ہزار آبادی تھی۔ 

Ⓜ️ اس طرح 2011 میں  متوقع مالیگاؤں ضلع کی آبادی لگ بھگ 22 لاکھ تھی۔ دس سالوں میں اس میں کافی اضافہ ہوچکا ہے۔ 

♓ کئی تعلقے مالیگاؤں ضلع میں شامل ہونے سے انکار کررہے ہیں۔ جبکہ اگر مالیگاؤں ضلع بنتا ہے تو یہاں کی مسلم اور بدھ اقلیتی آبادی کی بنیاد پر ذرا سی کوشش سے مالیگاؤں کو مرکزی حکومت کی اقلیتی اضلاع کی اسکیم میں شامل کروایا جاسکتا ہے۔ وزارت برائے اقلیتی امور کی جانب سے اقلیتی اضلاع کی ترقی کیلئے کیلئے بہت ساری اسکمیں متعارف کی گئی ہیں۔ ان کا فائدہ صرف افلیتوں کو نہیں ضلع کے ہر شہری کو ملے گا۔ مخالفت کرنے والوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے۔ ممکن ہے مخالفت حمایت میں بدل جائے۔ اس کیلئے مراٹھی اخبارات کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ 

Ⓜ️ اقلیتی ضلع کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ وہاں کی تمام اقلیتوں (مسلم ۔ بدھ ۔ سکھ ۔ عیسائی وغیرہ) کی مجموعی آبادی 25 فیصد سے زائد ہو۔ 

♓ اس کے بعد دوسری شرط یہ کہ وہ ضلع تعلیمی اور معاشی اور کچھ معاملات میں قومی تناسب سے پچھڑا ہوا ہو۔ اس ضلع میں جس سہولت کا تناسب قومی تناسب سے کم ہوگا وہ وہاں فراہم کی جائے گی۔ مثلا یہاں اگر بڑے کالج اور ہاسپٹل نہ ہوں۔ یہاں پانی کا انتظام نہ ہوں یا یہاں کی مجموعی آبادی جس معاملے میں بھی پچھڑی ہوگی اس کے مطابق سہولت فراہم کی جائے گی۔ متوقع مالیگاؤں ضلع میں اقلیتی آبادی 25 فیصد سے کافی زیادہ رہنے کی امید ہے۔

Ⓜ️ مذکورہ شرائط پر پورا اترنے والے ملک کے تقریبا 94 اضلاع اقلیتی اضلاع مانے گئے ہیں۔ ان میں مہاراشٹر کے واشم اور بلڈانہ جیسے اضلاع شامل ہیں۔  

♓ ہماری لیڈرشپ چاہے تو ضلع مالیگاؤں کو اقلیتی ضلع منظور کروا کر اور اس اسکیم کا فائدہ اٹھا کر ضلع کیلئے اچھے ہاسپٹل اور کالج حاصل کرسکتی ہے۔ ریاستی حکومت سے فنڈ لانے کے ساتھ ساتھ اس اسکیم سے ضلع کی ترقی کیلئے مرکز سے بھی اچھا خاصا فنڈ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان سب سے پہلے ضلع بنوایا جائے۔ 🙂 

Ⓜ️ ہمارے بہت سارے احباب کا خیال ہے کہ مالیگاؤں ضلع بننے والا نہیں اس لئے اس کی بات ہی نا کی جائے۔ ارے بھائی ضلع بنے یا نا بنے ہمیں اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔  مطالبہ کرنا چاہیے۔ اگر ہم نے مطالبہ چھوڑ دیا تو ممکن ہے کسی اور تعلقہ کو ضلع بنا دیا جائے۔ ویسے بھی دو لاکھ کی آبادی والا کلون تعلقہ ادیواسی ضلع کے نام پر خود کو ضلع بنانے کا مطالبہ کررہا ہے۔ ہم کسی کی ترقی کے مخالف نہیں ہیں لیکن مالیگاؤں کی تعلفہ کی آبادی لگ بھگ دس لاکھ ہے اور ہمارا برسوں کا مطالبہ ہے۔ اس لئے پہلا حق ہمارا ہے۔ ہاں اگر مالیگاؤں کے ساتھ کلون بھی ضلع بنتا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں لیکن مالیگاؤں کے بجائے کسی اور تعلقہ کو ضلع بنایا جائے یہ ہمیں منظور نہیں۔ 

♓ چند احباب کا یہ بھی کہنا ہے کہ فنڈ آئے گا تو لیڈرس کھا جائیں گے اس لئے یہ سب کوشش نا ہو وغیرہ وغیرہ۔ 

تو دوستو کون کھا رہا کیا کررہا یہ اس کے اعمال ہیں۔ اس کو اس کی سزا دنیا میں نہیں تو آخرت میں ملے گی ہی۔ لیکن ان کے کھانے کے ڈر سے شہر کی ترقی کی بات ہی نا کی جائے یہ تو مناسب نہیں ہے نا۔ ایک کہانی تو سنی ہوگی کہ پری ایک شخص سے کہتی ہے کہ جتنا آپ کو ملے گا اس کا دگنا آپ کے پڑوسی کو ملے گا۔ اور پھر وہ خود کا فائدہ بھول کر اس کو نقصان پہنچانے کی ترکیب کرنے لگتا ہے۔ 😊 

Ⓜ️ المختصر ۔ مجموعی طور پر مالیگاؤں ضلع اس میں شامل ہونے والے ہر تعلقے اور ہر شہری کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ 

اس کیلئے کوشش جاری رہے۔ آبادی پر نظر رکھنے والی ایک ویب سائٹ  کے مطابق 2022 میں مالیگاؤں تعلقہ کی آبادی 12 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ جبکہ مہاراشٹر کے ضلع سندھودرگ کی آبادی نو لاکھ کے آس پاس ہے۔ صرف مالیگاؤں تعلقہ کی آبادی پورے سندھودرگ ضلع سے زیادہ ہے۔

2011 میں مالیگاؤں تعلقہ کی آبادی ساڑھے نو لاکھ تھی جبکہ پورے سندھودرگ ضلع کی آبادی صرف ساڑھے آٹھ لاکھ تھی۔ ایسے میں اگر مخالفت کرنے والے تعلقے کسی حال ماننے کو تیار نا ہوں تو ان کو چھوڑ دیا جائے اور ناندگاؤں جیسے قریب کے ایک دو تعلقے ملاکر یا پھر صرف مالیگاؤں تعلقہ ہی میں کچھ نئے تعلقے بنا کر بھی مالیگاؤں کو ضلع بنایا جاسکتا ہے۔ اس پوسٹ کو پڑھنے والے سیاسی افراد سے گزارش ہے کہ سینٹرل اور آؤٹر کے لیڈرس تک اس بات کو ضرور پہنچائیں۔


پچھلی تمام تحریروں کیلئے لاگ آن کریں 👇🏻

بدھ، 27 جولائی، 2022

مالیگاؤں سے مکہ اور مدینہ کا فاصلہ


*برائے یادداشت* 3️⃣


*آج کی بات 1455*

✍🏻 *شکیل حنیف*


حج کے بعد حاجیوں کے قافلے واپس آنا شروع ہوچکے ہیں۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ مالیگاؤں سے مکہ اور مدینہ کا زمینی ۔ فضائی اور ہوائی جہاز سے فاصلہ کتنا ہے۔ 


♓ اگر ہمارے پر ہوں اور ہم مالیگاؤں سے اڑ کر سیدھا مکہ پہنچنا چاہیں تو یہ ڈائریکٹ فضائی فاصلہ 3596 کلومیٹر ہوگا۔ 

Ⓜ️ اگر کوئی زمینی راستے (روڈ)  سے جانا چاہے تو مالیگاؤں سے مکہ کا فاصلہ 6439 کلومیٹر ہوگا۔ مالیگاؤں سے جے پور ۔ اٹاری (پنجاب) ہوتے ہوئے واگھہ بارڈر سے پاکستان اور پھر افغانستان ۔ ایران ۔ عراق ۔ کویت ہوتے ہوئے سعودی عرب میں داخل ہوں گے۔ تمام ممالک سے لازمی اجازت ویزا وغیرہ عملی طور پر مشکل مرحلہ ہے۔ بہرحال معلومات  کیلئے روٹ یاد رکھا جاسکتا ہے۔

♓ مالیگاؤں اور مکہ میں ایئر پورٹ نہیں ہیں۔ اس لئے اگر ہوائی جہاز سے جانا ہو تو ممبئی سے جدہ جانا ہوگا۔ 

ہوائی جہاز سے فاصلہ 3668 کلومیٹر ہوتا ہے۔ سفر کا یہ طریقہ آج سب سے زیادہ مستعمل ہے۔ 

Ⓜ️ کاش اگر پر ہوتے اور ہم اڑ کر مالیگاؤں سے سیدھا مدینہ پہنچ پاتے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ہمیں 3602 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہوتا۔ 

♓ مالیگاؤں سے مدینہ کا زمینی راستہ وہی ہے جو اوپر مکہ کیلئے بتایا گیا ہے۔ بس سعودی عرب میں راستہ مختلف ہوجائے گا۔ مالیگاؤں سے مدینہ کا بائے روڈ فاصلہ 6142 کلومیٹر ہے۔

Ⓜ️ ہوائی جہاز سے ڈائریکٹ مدینہ جانا ہو تو ممبئی سے مدینہ ایئر پورٹ جانا ہوگا۔ ہوائی جہاز سے یہ فاصلہ 3599 کلومیٹر ہوگا۔

پیر، 25 جولائی، 2022

مالیگاؤں کے ایم ایل ایز

 Ⓜ️♓ *برائے یادداشت* 2️⃣


*آج کی بات 1453*

✍🏻 *شکیل حنیف*


♓ 1937 میں برطانوی راج میں بامبے اسٹیٹ کیلئے پہلی بار الیکشن ہوئے اور مالیگاؤں اسمبلی حلقے سے خان صاحب عبدالرحبم ایم ایل اے بنے۔ 1946 میں خان صاحب دوبارہ ایم ایل اے بنے اور آزادی کے بعد کے پہلے الیکشن (1952) تک ایم ایل اے رہے۔ 


Ⓜ️ آزادی کے بعد 1952 میں پہلے اسمبلی الیکشن میں بامبے اسٹیٹ کے شمالی مالیگاؤں حلقے سے محمد صابر عبدالستار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ 

 

♓ یکم مئی 1960 کو مہاراشٹر کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت ہارون احمد انصاری شہر کے ایم ایل اے تھے۔ 


Ⓜ️ آزادی کے بعد پہلے الیکشن سے شہر سے شخصیت کے لحاظ سے 7 اور اسمبلی ٹرم کے لحاظ سے درج ذیل 15 ایم ایل ایز منتخب ہوئے۔ (مہاراشٹر 1960 میں بنا۔ اس لئے دوسرے الیکشن کی باڈی کو مہاراشٹر اسمبلی کی پہلی ٹرم اور موجودہ باڈی کو 14 ویں ٹرم کہا جاتا ہے۔ ) 

1 ۔ صابر ستار (1952)

2 ۔ ہارون احمد انصاری (1957 + 1962)

3 - ساتھی نہال احمد (1967 + 1978 + 1980 + 1985 + 1990 + 1995)

4 - عائشہ حکیم (1972)

5 - شیخ رشید (1999 + 2004)

6 - مفتی محمد اسمعیل (2009 + 2019)

7 - شیخ آصف (2014)


(مالیگاؤں آؤٹر حلفہ ۔ مالیگاؤں پارلیمانی حلقہ اور اس قسم کی دیگر بہت ساری معلومات آپ *سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ دور حیات* میں پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ برائے یادداشت کی تمام قسطیں کسی بھی وقت میرے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ )

موسم اور گرنا ندی کی معلومات

 *برائے یاد داشت* 1️⃣


*آج کی بات 1452*

✍🏻 *شکیل حنیف*


محترم احباب۔  بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ اور ہم میں سے بیشتر احباب تو بخوبی جانتے ہیں لیکن ہمارے بچوں اور طلبہ کیلئے نئی ہوتی ہیں۔ ان کی معلومات کیلئے *برائے یاد داشت* کے عنوان سے ایک سلسلہ شروع کررہا ہوں۔ امید کہ اس سے استفادہ کیا جائے گا۔ 


♓ آج 24 جولائی 2022 کو دنیا کی کل آبادی تقریبا 7 ارب 96 کروڑ 27 لاکھ ہے۔ ان شاء اللہ 2023 تک آبادی 8 ارب تک پہنچ جائے گی۔ 


Ⓜ️ آج بھارت کی آبادی تقریبا ایک ارب 40 کروڑ (140 کروڑ) ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین کی آبادی 145 کروڑ ہے۔ چار سے پانچ سال میں بھارت چین سے آگے نکل سکتا ہے۔ 


♓ رقبے کے لحاظ سے قزاخستان سب سے بڑا اسلامی / مسلم ملک ہے جبکہ انڈونیشیا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہے۔ 


Ⓜ️ مالیگاؤں سے گزرنے والی موسم ندی سالہیر ملہیر کی پہاڑیوں سے نکلتی ہے۔ اس پر ہرن باری ڈیم بنا ہے جس کے چھلکنے کے بعد موسم ندی میں پانی آتا ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ سالہیر کا پرانا نام صالحہ آباد اور ملہیر کا ملیح آباد تھا۔ 


♓ ساپوتارہ کی پہاڑیوں کا پانی وہاں کی جھیل میں جمع ہوتا ہے۔ جھیل کا پانی آگے بہتا ہے اور سرپ گنگا ندی بنتی ہے۔ اس ندی پر چنکاپور ڈیم ہے۔ اس ڈیم میں اور بھی چھوٹی ندی نالے ملتے ہیں۔ ڈیم کے بعد یہ ندی گرنا ندی کہلاتی ہے جس میں کئی ندیاں شامل ہوتے ہوئے یہ ندی مالیگاؤں آتی ہے جس میں موسم ندی شامل ہوتی ہے۔ آگے اس پر گرنا ڈیم ہے۔ گرنا ندی دریائے تاپتی میں ملتی ہے اور دریائے تاپتی بحر عرب میں شامل ہوتا ہے۔

جمعہ، 28 مئی، 2021

غزم کیا ہے ؟ What is Ghazam

 غزم اردو شاعری کی ایک صنف سخن ہے جو بھارت کے شہر مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے شاعر و ادیب شکیل حنیف مالیگاؤنوی کی ایجاد و اختراع ہے۔ غزم میں ایک آزاد نظم ہوتی ہے اور آخر میں اس نظم کا خلاصہ پیش کرتا ہوا ایک مکمل شعر ہوتا ہے۔ 

غزم کی دو اہم شرطیں ہیں۔ 

اول یہ کہ نظم کے آخر میں ایک مکمل شعر ہو۔ 

دوئم یہ کہ وہ شعر اس نظم کا خلاصہ کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو پوری نظم آخر کے شعر کی تشریح ہو۔ 

شکیل حنیف نے 2016 میں یاد کے عنوان سے پہلی غزم لکھی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد غزمیں لکھیں جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ معلم اور چلو قربان کرڈالیں ان کی مشہور غزمیں ہیں۔ 


☄☄ *معلّم* ☄☄


معلم نام ہے جس کا

مقدس شخص ہوتا ہے

معلم علم دیتا ہے

معلم طرز دیتا ہے

معلم ہی تو ہے جو

بے ادب کو پارسا کر دے

معلم بے زبانوں کو 

سخن کا ناخدا کردے

معلم کچی مٹی کو

اک عالیشان گھر کر دے

معلم مالی ہوتا ہے

جو پودوں کو ہرا کر دے 

معلم ننھے بچوں کو 

زمیں سے آسماں کر دے

معلم جو بھی کرتا ہے 

یہ اس کا فرض ہوتا ہے


*معلم وہ نہیں جو بس نصابوں کو کرے پورا*


*معلم وہ ہے جوبچوں کو جینے کا ہنر دے دے*

(شکیل حنیف)


جمعہ، 8 نومبر، 2019

صدر راج کب اور کیسے

صدر راج اور عبوری حکومت کے تعلق سے اہم معلومات (بشکریہ چندرکانت شندے)

حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اگر سرکار نہیں بنتی ہے تو گورنر کو یہ اختیار ہے کہ وہ نئی حکومت بننے تک عبوری حکومت تشکیل کی تشکیل کر سکتا ہے

اگر کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے کا دعویٰ نہیں کرتی ہے تو گورنر