آج کا شعر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آج کا شعر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 2 جنوری، 2022

شکیل حنیف کے مشہور اشعار ۔ سلسلہ نمبر 2


 تم ہم سے دوستوں کی دوستی کا حال مت پوچھو

شکیل ہم تو کڑے دشمن سے بھی ہنس کر ہی ملتے ہیں

بدھ، 6 نومبر، 2019

اردو کے مشہور ضرب المثال اشعار

(وہاٹس ایپ سے نقل شدہ)

فانوس بن کے جس کی حفاظت  ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
*شہیر مچھلی شہری*

مدعی لاکھہ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
*ثاقب لکھنوی*

 بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
*ثاقب لکھنوی*

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

بدھ، 3 اپریل، 2019

ایک شعر : شکیل حنیف

کرو اگنور لیکن ایسے تڑپانا نہیں اچھا

بھلا اس دور میں سچی محبت کون کرتا ہے

( شکیل حنیف )

اتوار، 3 مارچ، 2019

Firaq Gorakhpuri فراق گورکھپوری

(طارق اسلم) آج 3 مارچ ...اردو کے مایہ ناز شاعر فراق گورکھپوری صاحب کا یوم وفات

 
اردو کے عظیم شاعرفراق گورکھپوری 28 اگست 1896ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ ان کے والد منشی گورکھ پرشاد عبرت اردو اور فارسی کے عالم، ماہر

Nasir Qazmi ناصر کاظمی

(طارق اسلم) آج 2 مارچ ..مشہور و معروف شاعر ناصر کاظمی صاحب کا یوم وفات


ناصر رضاکاظمی نام اور ناصر تخلص تھا۔٨ دسمبر ۱۹۲۳ء کو انبالہ(ہندستان) میں پیدا ہوئے۔اسلامیہ کالج لاہور سے ایف اے پاس کرنے کے بعد بی اے میں پڑھ رہے تھے کہ چند وجوہ کی بنا پر امتحان دیے بغیر وطن انبالہ واپس چلے گئے۔۱۹۴۷ء میں

ہفتہ، 2 مارچ، 2019

AAJ KA SHER آج کا شعر

چھٹ جائے گا اندھیرا نئی روشنی کے بعد

مشعل بدست شخص بلند ہو رہا ہے آج

(شکیل حنیف)

جمعہ، 1 مارچ، 2019

Asghar Govndvi اصغر گونڈوی

(انتخاب : شفیق جے ایچ)یکم مارچ..... اصغر گونڈوی کے یومِ ولادت پر....

صحنِ حرم نہیں ہے ، یہ کوئے بتاں نہیں
اب کچھ نہ پوچھئے کہ، کہاں ہوں کہاں نہیں

مجھ میں نوائے عیش کی رنگینیاں نہیں
سوزِ خموشِ عِشق ہوں، سازِ بیاں نہیں

*مدّت ہوئی کہ چشمِ تحیّر کو ہے سکوت*
*اب جنبِشِ نظر میں کوئی داستاں نہیں*

وہ بہترینِ دَورِ محبّت گزر گیا !
اب مبتلائے کشمکشِ اِمتحاں نہیں

پیر، 9 اکتوبر، 2017

Sher

وہ شیشہ بدن , آئینہ جب دیکھتا ہوگا
مجھ کانچ کے ٹکڑے کو فقط سوچتا ہوگا

*(شکیل حنیف)*

بدھ، 9 اگست، 2017

یوم آزادی پر نظم

 *مجھے آزاد کردو نا*
مری خوش قسمتی ہے کہ
وطن آزاد ہے میرا
یہ سچ ہے سانس لیتا ہوں
میں اک آزاد بھارت میں
مگر میں قید میں کیوں ہوں
علاقائی تعصب کی,
اجڈ فرقہ پرستوں کی,
کرپشن جیسی لعنت کی,
رلانے والی غربت کی,
دھرم کے نام دنگوں کی,
سیاسی ووٹ منگوں کی
بتاؤ قید میں کیوں ہوں
مجھے آزاد کر دو نا
وطن آزاد ہے میرا
مجھے آزاد کر دو نا
تعصب سے, کرپشن سے,
دھرم کے ٹھیکے داروں سے,
جو لڑتے ہیں لڑاتے ہیں
سبھی ایسے گنواروں سے
مجھے آزاد کر دو نا
وطن آزاد ہے میرا
مجھے آزاد کر دو نا
مجھے آزاد کر دو نا
(شکیل حنیف)

منگل، 8 اگست، 2017

My Poetey


MY CITY IS LIKE A GOLDEN SPARROW
ALWAYS PEACEFUL ALWAYS FIT
GO TO LONDON OR GO TO CAIRO
YOU WONT FIND A CITY LIKE IT

منگل، 9 اگست، 2016

Haalat : Ek Ghazam

*غزم 2⃣*

✍🏻 *شکیل حنیف*, ہمارا مالیگاؤں

    ☄ *حالات* ☄

نیتا بنا کوئ
کوئ سردار بن گیا
کوئ ڈاکٹر بنا
کوئ انجینئر بنا
بنکر ہے کوئ تو
کوئ مزدور ہے یہاں
کچھ ہیں دکاندار
تو کچھ نوکری پہ ہیں
بیکار ہے کوئ
تو کوئ جستجو میں ہے
لیکن مجھے پسند ہے جو
میں وہی بنا
شاعر بنا ادیب بنا
ایڈمن بنا😜
تدریس ہے پسند
مدرس بھی بن گیا
دنیا ہے اک اسٹیج
تو فنکار بن گیا

*ہر سمت اے شکیل تشدد کا زور ہے*

*حالات دیکھ کر میں قلمکار بن گیا*

☄☄☄☄☄☄☄

﴿ *غزم* : میری ایک نئ اختراع جس میں کم از کم ایک مکمل شعر ہوتا ہے اور باقی آزاد نظم جو اس شعر کی مزید وضاحت کرتی ہے۔۔۔
پسند آۓ تو آپ بھی ٹراۓ کریں۔۔۔ ورنہ میں تو لکھتا ہی رہوں گا۔۔۔۔۔۔ غزم﴾

www.hamaramalegaon.blogspot.com

ہفتہ، 6 اگست، 2016

زنجیر

مجروح صاحب سے متاثر مگر میرا تازہ شعر👇

رقص کرنا ہی ہو اگر مقصود

لوگ *زنجیر*دیکھتے کب ہیں

(شکیل حنیف, ہمارا مالیگاؤں)

منگل، 5 جولائی، 2016

Eid Mubarak

♓EID KE ASH'AARⓂ

♓Eid ka din hai gale aaj to mil le zalim.
ⓂRasm e dunya bhi hai mauqa bhi hai dastur bhi hai.

♓Eid ke chaand gareebon ko pareshan na kar.
ⓂTujh ko maloom nahi zeest geran hai kitni.

♓Eid ka din aur itna mukhtasar.
ⓂDin gina karte the is din k liye.

♓Ikkees ko hi rukh ki tere deed ho gai.
ⓂDekha jo main ne tum ko meri Eid ho ho gai.

♓Eid ke chaand ka kya hai dikha dikha, na dikha
ⓂTumhi naqab utha do ke meri Eid ho jaye.

♓ Gile shikwe mitta kar muskurao, Eid ka din hai,
ⓂPurani ranjishon ko bhool jao, Eid ka din hai.

♓ Kitne tarse huye hain khushiyon ko,
ⓂWoh jo Eido’n ki baat karte hain.

♓Dastoor hai duniya ka magar yeh to batao.
ⓂHum kis se kahen, kis se sunen Eid Mubarak?

♓Udhar se chaand tum dekho, idhar se chaand hum dekhen
ⓂNigahen jun hi takrayen, hamari Eid ho jaye.

Intekhab:
♓Shakeel Haneef
ⓂHamara Malegaon
8087003917

منگل، 12 اپریل، 2016

Fan

میری ایک تازہ نظم

��اپنا پرایا ��

ھمارے دور کا یارو
نیا انداز ھے دیکھو
تمہارے پاس پیسہ ھے
تمہارے پاس طاقت ھے
تو دنیا سر جھکاۓ گی
اگر تم ان کے اپنے ھو
تو پلکوں پر بٹھاۓ گی
تمہاری جو بھی مرضی ھو
کۓ جاؤ ,  نہ گھبراؤ
زنا کر لو , غبن کر لو
کسی کو مار ڈالو تم
نہ تم پر آنچ آۓ گی
تمہارے سارے عیبوں کو
چھپائیں گے , دبائیں گے
ھر اک مشکل سے تم کو
سارے مل جل کر بچائیں گے
مگر یارو ذرا سوچو
یہی حرکت , یہی سب کچھ
کسی دوجے سے ھو جاۓ
ھمیں پھر جوش آتا ھے
چھپانا بھول جاتے ھیں
ذرا معمولی باتیں بھی
دبانا بھول جاتے ھیں
جلانا یاد رھتا ھے
بچانا بھول جاتے ھیں

✍ شکیل حنیف , ھمارا مالیگاؤں
♓8087003917
Ⓜwww.hamaramalegaon.blogspot.com

منگل، 5 اپریل، 2016

Sher

غلطیاں حضرت, انساں سے ھی وابستہ ھیں۔۔۔
جس سی غلطی نہ ھو ایسا کوئ دیکھا ھی نہیں۔۔۔
﴿ شکیل حنیف ﴾

اتوار، 3 اپریل، 2016

Chalo hum aisa karte hain

میری ایک آزاد نظم
نوجوانوں کے دلوں کی عکاس

چلو ھم ایسا کرتے ھیں

چلو ھم ایسا کرتے ھیں
محبت چھوڑ دیتے ھیں
جسے دیکھا ھے ھم تم نے
وہ سپنا توڑ دیتے ھیں
مجھے تم یاد مت کرنا
تمہیں میں بھول جاتا ھوں
نہ تم کو کچھ لکھوں گا میں
نہ تو تم مجھ کو کچھ لکھنا
مجھے بھی نیند آۓ گی
تمہیں بھی چین آۓ گا
مگر سن اے مرے ھمدم
تمہیں میں بھول بھی جاؤں
مگر دل جس کو کہتے ھیں
اسے کیسے مناؤں گا
بھلانا لاکھ چاھوں میں
بھلا ہرگز نہ پاؤں گا
مجھے تم یاد آؤگی
تمہیں میں یاد آؤں گا
بڑا آساں ھے کہہ دینا
چلو ھم ایسا کرتے ھیں
چلو ھم ویسا کرتے ھیں

✍ شکیل حنیف , ھمارا مالیگاؤں۔
www.hamaramalegaon.blogspot.com