‏آج کی نظم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏آج کی نظم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 9 فروری، 2022

اس ملت کی شان ہو تم (بہادر مسکان پر نظم)


اے بیٹی مسکان سنو

ملت کی پہچان سنو

آپ کی ہمت جرات نے

کلمۂ حق کی قرأت نے

پوری قوم کو طاقت دی

روتے دل کو فرحت دی

اور بڑھا ایمان ہے اب

جینا کچھ آسان ہے اب

فکروں سے آزاد ہوا

ہر مومن دلشاد ہوا

تم نے یہ بتلایا ہے

سب کو یہ جتلایا ہے

لڑکی ہو لڑ سکتی ہو

آگے تم بڑھ سکتی ہو

بیٹی میں دم باقی ہے

اب نا کچھ غم باقی ہے

چہروں کی مسکان ہو تم

اس ملت کی شان ہو تم

(شکیل حنیف)

منگل، 8 فروری، 2022

مجھ کو بھی تم پڑھنے دو (نظم)


سنئے میرے ٹیچر جی

میں بیٹی ہوں بھارت کی

مجھ کو بھی تم پڑھنے دو

پڑھ کر آگے بڑھنے دو

روکو نا تم پڑھنے سے

مجھ کو آگے بڑھنے سے

مجھ کو بھی حق حاصل ہے

جو نا سمجھے غافل ہے

یہ واویلا کیسا ہے

کپڑا تو سب جیسا ہے

میں بھی تو سب جیسی ہوں

یونیفارم میں رہتی ہوں

سب کا ایک سراپا ہے

بس سر کو ہی ڈھانپا ہے

جب کووڈ نے جکڑا تھا

سب چہروں پر کپڑا تھا

وہ بھی یونیفارم نہ تھا

تب تو غلط وہ کام نہ تھا

میں نے بھی بس ویسے ہی

اس کپڑے کے جیسے ہی

سر پر کپڑا ڈالا ہے

کیا یہ کام نرالا ہے

چھوڑو نا ان باتوں کو

آؤ تھامو ہاتھوں کو

مل کر سب کو پڑھنے دو

سب کو آگے بڑھنے دو

(شکیل حنیف)

منگل، 18 جنوری، 2022

مودی جی اسکولیں کھولو (نظم)



مودی جی اسکولیں کھولو

اس بارے میں کچھ تو بولو

بازاروں میں بھیڑ جمی ہے

شادی کی محفل بھی سجی ہے

دھوم الیکشن کی جاری ہے

خوف کسی پر کب طاری ہے

کھیل کھلاڑی کھیل رہے ہیں

بند کو بس ہم جھیل رہے ہیں

مانتے ہیں یہ وبا بری ہے

لیکن اب یہ ساتھ لگی ہے

اس کے سنگ اب جینا ہوگا

کڑوا گھونٹ بھی پینا ہوگا

اس کی تو بس ایک دوا ہے

مالیگاؤں میں جو روا ہے

اس کو زیادہ بڑھنے نادو

جیسے ہی ہو اس کی دوا لو

سب نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے

خبریں پڑھنا چھوڑ دیا ہے

اس سے لڑنا سیکھ لیا ہے

آگے بڑھنا سیکھ لیا ہے

ہم سب کی درخواست یہی ہے

آپ سے دل کی بات کہی ہے

کیوں بند ہیں اسکولیں بولو

مودی جی اسکولیں کھولو


(شکیل حنیف ۔ مالیگاؤں)


*मोदीजी स्कूलें खोलो*

मोदीजी स्कूलें खोलो
इस बारे में कुछ तो बोलो
बाज़ारों में भीड़ जमी है
शादी की महफिल भी सजी है
धूम इलेक्शन की जारी है
खौफ किसी पर कब तारी है
खेल खिलाडी खेल रहे हैँ
बंद को बस हम झेल रहे हैँ
मानते हैँ ये वबा बुरी है
लेकिन अब ये साथ लगी है
इस के संग अब जीना होगा
कडुवा घोंट भी पीना होगा
इस की तो बस एक दवा है
मेलगांव में जो रवा है
इस को ज़्यादा बढ़ने ना दो
जैसे हि हो इस की दवा लो
सब ने डरना छोड़ दिया है
ख़बरें पढ़ना छोड़ दिया है
इस से लड़ना सीख लिया है
आगे बढ़ना सीख लिया है
हम सब की दरख्वास्त यही है
आप से दिल की बात कही है
क्यों बंद हैँ स्कूलें बोलो
मोदीजी स्कूलें खोलो

(शकील हनीफ, मेलगांव)

ہفتہ، 16 جنوری، 2021

چلو اسکول چلتے ہیں


چلو اسکول چلتے ہیں

پڑھائی کھل کے کرتے ہیں

کہ پورا سال گھر بیٹھے 

بہت نقصان کر بیٹھے

کتابوں کی پڑھائی کا

بیاضوں کی لکھائی کا

یہ مانا پڑھ رہے تھے ہم

مگر اس میں نہیں تھا دم

گروپوں کو جوائن کر

پڑھے ہم آن لائن پر

مگر جی بھر نہیں پائے

پڑھائی کر نہیں پائے

کہ جو ہے بات اصلی میں 

کہاں وہ بات نقلی میں

مگر اب شکر ہے رب کا

مناسب حال ہے سب کا

کہ اب باہر نکلتے ہیں

چلو اسکول چلتے ہیں


(شکیل حنیف)

بدھ، 15 مئی، 2019

آمد رمضان : نظم : فرحان دل

مرحبا ائے ماہِ رمضاں مرحبا صد مرحبا
کہہ رہا ہے ہر مسلماں مرحبا صد مرحبا

تیری آمد نے منور کردیا ہے دہر کو
کم کیا ہے تیری برکت نے خدا کے قہر کو
دھل گئے دامانِ عصیاں مرحبا صد مرحبا

مرحبا ائے ماہِ رمضاں مرحبا صد مرحبا
کہہ رہا ہے ہر مسلماں مرحبا صد مرحبا

تیرے آنے سے بڑھی ہے رونقِ کون و مکاں

اتوار، 12 مئی، 2019

القدس ہمارا ہے : نظم : شکیل حنیف

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا

غیروں کا کسی حال میں ہونے نہیں دیں گے

دشمن کی ہر اک چال کو ناکام کریں گے

القدس تو کیا ایک بھی ذرہ نہیں دیں گے

کہتا ہے اگر کوئی کسی اور کا اس کو

کہنے دو کہ ان کی کوئی اوقات نہیں ہے

بس آج نہیں صدیوں سے یہ کھیل ہے جاری

دشمن کی اس القدس پہ ناپاک نظر ہے

سوبار لٹا ہے یہ سوبار چھنا ہے

سوبار اسے ہم نے بھی آزاد کیا ہے

اس بار بھی دشمن نے نئی چال چلی ہے

چلنے دو ہر اک چال کو ناکام کریں گے

وہ چال چلیں لاکھ مگر حکم خدا سے

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا 

✍🏻 شکیل حنیف, مالیگاؤں, انڈیا

اتوار، 31 مارچ، 2019

بہترین نظم : ماں : فرحان دل

ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی


کھانا ہمیشہ وقت سے پہلے پکائے گی
ہاتھوں سے اپنے سب کو نوالے کھلائے گی
بچوں سے یہ کہے گی "مجھے بھوک ہی نہیں"
بھوکی رہے گی پھر بھی بہانے بنائے گی
کھانا اگر بچے گا تو آخر میں کھائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی


تہوار ہو تو جائے گی لوگوں کے پاس یہ
لائے گی اپنے بچوں کی خاطر لباس یہ
ہونے نہ دے گی اوروں کو احساس کرب کا
ہر غم اکیلے سہہ کے رہے گی اداس یہ