یہ ان دنوں کی بات ہے جب ناچیز کی کتاب اچھی عادتیں بری عادتیں چھپنے سے قبل کے مراحل میں تھی۔ کور پیج تیار ہوگیا تھا لیکن پورا مواد کچا لکھا ہوا تھا۔
اسی درمیان ٹرامبے چیتا کیمپ، کے ایک معروف ادارے
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ناچیز کی کتاب اچھی عادتیں بری عادتیں چھپنے سے قبل کے مراحل میں تھی۔ کور پیج تیار ہوگیا تھا لیکن پورا مواد کچا لکھا ہوا تھا۔
اسی درمیان ٹرامبے چیتا کیمپ، کے ایک معروف ادارے
میں ایک بک ایکزیبیشن میں گیا تھا۔ ایک انگریزی کتاب خریدی تو اس کے اندر ایک بک مارک رکھا ہوا ملا۔ اس پر کسی مفکر کا ایک پیارا جملہ لکھا ہوا تھا۔
جب مجھے پیسہ ملتا ہے تو میں
یہ 1983 کی بات ہے۔ مالیگاوں سے بی کام مکمل ہونے کے بعد والد صاحب (محمد رمضان فیمس) کے مشورے سے ممبئی آنے کا فیصلہ ہوا۔
اس موقع پر والد صاحب نے ایک اہم نصیحت کی تھی جس پر
یہ واقعہ لکھنے کے بعد جب میں نے پڑھا تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
بہت ہی عزت اور احترام کے ساتھ میں یہ واقعہ قلم بند
واقعہ نمبر 146(خاندان کی سب سے چہیتی بہو) پڑھنے کے بعد ایک مشہور شخصیت کا میسیج آیا کہ وہ بھی اسی طرح کے معاملے سے گزرے ہیں۔ اور اب خوشیاں ان کے گھر آنگن میں رقص کرتی ہیں۔
ان کا پیغام پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ رحم دلی، صبر و درگزر کرنا، معافی مانگنا اور
امسال ایم بی بی ایس میں داخلہ پانے والے خوش نصیبوں میں مہاراشٹر کالج کی دو ایسی جڑواں بہنیں بھی ہیں شامل ہیں جن میں ایک کا
میرے ایک شناسا کی بھانجی کی شادی کے چند برسوں میں ہی آپسی چپقلش اور رسہ کشی شروع ہوگئی۔
میں اپنی فیمیلی کے ساتھ جلدی جلدی ممبرا اسٹیشن کی سیڑھیاں اتر رہا تھا کیوں کہ لوکل ٹرین اسٹیشن میں داخل ہو چکی تھی اور چند سیکنڈ میں
میں ایک چشمے کی دکان پر گیا۔ وہاں پانچ یا چھ سال کی ایک بچی اپنے والد کے ساتھ آئی۔
اس بچی کے چشمے کا نمبر ساڑھے پانچ تھا اور اس کی ایک آنکھ
واقعہ نمبر 140 پڑھنے کے بعد ایک محترم قاری نے یہ اہم سوال کیا کہ فرصت کے ان چارگھنٹوں میں میں نے کیا کیا؟ ( میں ان کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کے سوال کی وجہ سے تفصیلات لکھنے کا موقع ملا۔)
میرا جواب یہ تھا۔
پچاس پچاس منٹوں کے
(پروفیسر عبدالماجد انصاری)
ریسرچ کے دوران میں ڈاکٹر رایریکر صاحب (سابق پرنسپل، لالہ لاجپت رائے کالج، حاجی علی، ممبئی ) کی آفس جایا کرتا تھا۔
سر کو جب بھی مجھے تحریریں ہدایات دینی ہوتی تھی تو وہ موصول شدہ لفافے کو پھاڑ کر اس کے اندرونی حصے کا استعمال کیا کرتے تھے۔
سر کہتے تھے کہ کثیر تعداد میں
(پروفیسر عبدالماجد انصاری)
میں میری بیٹی کے پہلے پرچے کے دن اسے امتحان گاہ لے کر گیا۔ وہاں کثیر تعداد میں والدین آئے ہوئے تھے۔
نو بجے تمام طلبہ ہال میں داخل ہوگئے۔ پرچہ دس بجے سے ایک بجے تک تھا.
اس کا مطلب ہمیں کم سے کم
(پروفیسر عبدالماجدانصاری )
میں ممبئی کے جعفر سلیمان ہاسٹل میں رہتا تھا۔ ایک ساتھی سے کسی بات پر بحث ہوگئی اور عام قائدے کے مطابق بات چیت بند ہوگئی۔
یہ 1986 کی بات ہے جب مجھے ہاسٹل چھوڑنا تھا۔ ایک دن میں اس روٹھے اور
(پروفیسر عبدالماجد انصاری)
مہاراشٹر کالج کے مرحوم پروفیسر عبدالقیوم شیخ صاحب، (اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے، آمین)، جو ایم کام، ایل ایل ایم تھے اور قانون پڑھاتے تھے، اپنے مضمون کی عملی تشہیر کرنے میں زبردست ماہر تھے۔
وہ بچوں میں قانون کی تعلیم کے متعلق دلچسپی تو پیدا کرتے ہی تھے ساتھ میں سارے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو