‏آج کی تاریخ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏آج کی تاریخ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 28 مارچ، 2023

حاجی حنیف صابر ۔ ایک ہمہ جہت شخصیت*



آج ان کو ہم سے جدا ہوئے تین سال ہوگئے۔ 

(شکیل حنیف)

آج چھ رمضان کو حاجی حنیف صابر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے پورے تین سال ہوگئے لیکن آج بھی ان کے کارہائے نمایاں ہمارے دل و دماغ میں روشن ہیں۔ حاجی صاحب اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ سیاسی ۔ دینی ۔ ملی ۔ تعلیمی ۔ سماجی ۔ فلاحی ۔ صنعتی وغیرہ ہر شعبے میں آپ نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ آپ جس فیلڈ میں جاتے ایسا محسوس ہوتا کہ گویا آپ اسی کیلئے بنے ہیں۔ ساتھی نہال احمد کے دیرینہ ساتھیوں میں شامل تھے۔ شروع سے آخر تک ایک ہی سیاسی نظریے پر قائم رہے اور ہر طرح کے حالات میں صاحب کے ساتھ رہے۔ حق گوئی اور بیباکی آپ کا شیوہ تھا۔ سیاسی و ملی تحریکوں میں پیش پیش رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ حنیف لیڈر کے نام سے بھی مشہور تھے۔ 


سیاست کے ساتھ ساتھ دین سے بھی آپ کافی قریب تھے۔ مسجد خانقاہ اشرفیہ اور دارالعلوم اہلسنت اشرفیہ کے ٹرسٹی تھے۔ آل انڈیا سنی جیعتہ العلماء سے بھی منسلک تھے۔ اولیائے کرام سے خاص لگاؤ تھا۔ آپ کی حیات میں ممبئی میں ہونے والے سنی دعوت اسلامی کے پہلے اجتماع سے لے کر 2019 تک تمام اجتماعات میں شریک ہوتے رہے۔ مختلف مواقع پر جب آپ اجتماعی دعا کرتے تو حاضرین میں سے ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتا کہ خاص ان کے لئے ہی دعا کررہے ہیں۔ آپ اتحاد بین المسلمین کے زبردست حامی تھے۔ مسلک اہلسنت پر سختی سے کاربند ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے مسالک کے علمائے کرام اور شہر کی قدآور شخصیات کے ساتھ بھی آپ کے بہترین تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بم دھماکوں کے بعد شہر کے تمام مسالک کے علماء پر مشتمل کل جماعتی تنظیم کے قیام کا مرحلہ آیا تو عبدالحمید اظہری صاحب ۔ صوفی غلام رسول صاحب اور دیگر قائدین کے ساتھ مل کر مختلف مسالک کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ آپ اور آپ کے معزز ساتھیوں نے ایک ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کی تقلید ملک کے دیگر حصوں میں بھی کی گئی۔ 


آپ فائنل پاس تھے مگر بچپن سے ہی روزی روٹی سے لگ گئے اس لئے آگے تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ لیکن آپ نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوائی۔ آپ جمہور ہائی اسکول اور ٹی ایم ہائی اسکول کی انتظامیہ کا اہم حصہ تھے۔ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ تعلیمی معاملات کو لے کر اکثر فکرمند رہا کرتے تھے۔ اسٹاف کے ساتھ بھی آپ کا رویہ انتہائی مشفقانہ ہوتا تھا۔ 


حاجی صاحب سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہا کرتے تھے۔ اہلکار سوسائٹی المعروف اگوا کمیٹی اور شہری اصلاحی کمیٹی سے جڑے ہوئے تھے۔ شادی بیاہ کی کئی بیجا رسوم پر قدغن لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لوگوں کے گھریلو تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کیا کرتے تھے۔ کسی کے گھر شادی بیاہ ہو یا موت میت آپ کی موجودگی اہل خانہ کیلئے اطمینان کا باعث ہوتی تھی۔ شروع سے آخر تمام معاملات اس طرح نپٹاتے کہ دوسروں کو ذرا بھی ٹینشن نہیں رہتا۔ آپ کے سماجی تعلقات کافی وسیع تھے۔ دوستوں کے بھی کئی گروپس تھے۔ 


شہر کی پاورلوم صنعت سے بھی آپ کا قریبی رشتہ تھا۔ آپ رنگین ساڑی چلواتے تھے۔ 80 کی دہائی میں سینکڑوں جگہوں پر آپ کی رنگین بھیم چلتی تھی۔ 


اتنی ساری سماجی مصروفیات کے بعد بھی آپ رشتہ دار و اقارب کیلئے بھی وقت دیتے تھے۔ ہر ایک کا خیال رکھنا۔ سب کو جوڑ کر رکھنا۔ دکھ درد میں شریک ہونا آپ کی نمایاں خوبی تھی۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی خوبیاں یادیں بن کر ہمیں ان جیسا بننے کی تلقین کرتی ہیں۔  اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے۔ سیات کو حسنات سے مبدل فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ آمین۔

جمعرات، 13 جنوری، 2022

13 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ مستقبل قریب میں جنتا بینک الیکشن کے پیش نطر ابتدائی فہرست رائے دہندگان جاری۔ بینک کے ووٹرس ہیڈ آفس میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ 


2️⃣ 2012 کے ایک معاملے میں مچھندر شرکے عدم ثبوتوں کی بنا پر بری


3️⃣ مالدہ زمین تنازعے میں عبدالمالک سمیت تین افراد کو عدالتی تحویل


4️⃣ مالیگاؤں میں اب تک 85 فیصد افراد نے پہلا ڈوز لے لیا۔

پیر، 10 جنوری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

باب چہارم : 1950 سے 1955 تک کے شہری قومی اور عالمی واقعات و حالات سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی چوتھی قسط


 26 جنوری 1950 کو دستور کے نفاذ کے ساتھ ہی ہندوستان ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس وقت حاجی حنیف صابر چار سال کے تھے۔ 1950 میں مالیگاؤں کی آبادی 54000 تھی۔  سیاست میں خانصاحب اور مولوی عبدالرزاق کی جگہ صابر ستار ۔ ہارون انصاری ۔ آزاد انصاری ۔ ڈاکٹر شیخ سلیم ۔ عباس علی قاضی جیسے نئے لیڈرس لینے لگے تھے۔ حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد بھی سیاست میں داخل ہوچکے تھے۔ دسمبر 1950 تک مولوی عبدالرزاق صدربلدیہ رہے۔ 1950 میں میونسپل الیکشن ہوئے اور دسمبر 1950 سے 1952 تک منگل داس بھاؤسار شہر کے صدربلدیہ رہے۔ ملکی حالات پر نظر ڈالیں تو 1950 میں نئے دستور کے مطابق ملک میں نئی حکومت کیلئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ 1951 کے اواخر اور 1952 کے شروع میں آزاد ہندوستان میں لوک سبھا کے پہلے انتخابات ہوئے۔ مالیگاؤں اس وقت بامبے اسٹیٹ میں تھا۔ آگے چل کر یکم مئی 1960 میں بامبے اسٹیٹ کی تقسیم ہوئی اور گجرات اور مہاراشٹر دو نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ تب مالیگاؤں مہارشٹر کے حصے میں آیا۔ آزادی سے قبل بامبے اسٹیٹ بامبے پریسیڈینسی کہلاتی تھی جس کا ہیڈکوارٹر بامبے شہر تھا۔ بامبے شہر کی بھی دلچسپ تاریخ ہے۔ یہ پہلے پرتگیزوں کے قبضے میں تھا۔ 1662 میں شہزادہ چارلس دوم کی شادی پرتگیز شہزادی کیتھرائن سے ہوئی۔ اس وقت بامبے شہر بطور جہیز شہزادہ چارلس کو دے دیا گیا۔ بالاصاحب گنگادھر کھیر بامبے اسٹیٹ کے پہلے وزیراعلی تھے۔ آپ 1952 تک بامبے کے وزیراعلی رہے۔  آزادی کے بعد 1952 میں پہلے پارلیمانی الیکشن ہوئے۔ شہر مالیگاؤں ناسک حلقہ پارلیمان کا حصہ تھا۔ 27 مارچ 1952 کو الیکشن ہوا جس میں کانگریس کے دیشپانڈے گوند ہری نے کامیابی حاصل کی اور ناسک حلقے کے پہلے ایم پی بنے۔ پنڈت جواہر لال نہرو ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پارلیمانی الیکشن کے ساتھ 1952 میں ہی بامبے اسٹیٹ کی اسمبلی کے بھی انتخابات ہوئے۔ آج کی طرح اس وقت بھی شمالی مالیگاؤں اور جنوبی مالیگاؤں + شمالی ناندگاؤں اس طرح دو حلقہ اسمبلی تھے مگر حدبندی تھوڑا الگ تھی۔  شمالی مالیگاؤں سے محمد صابر عبدالستار المعروف صابر ستار نے ہارون انصاری کو شکست دی اور ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس طرح آپ نے آزادی کے بعد شہر کے پہلے ایم ایل اے ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اسی طرح جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں نامی حلقہ اسمبلی سے بھاؤ صاحب ہیرے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس الیکشن کے بعد مرار جی دیسائی بامبے کے وزیراعلی منتخب ہوئے۔ نیا دستور بننے کے بعد 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد بھارت کے پہلے صدر جمہوریہ منتخب ہوئے تھے لیکن 1952 میں پہلی بار صدارتی انتخاب ہوا جس میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے کے ٹی شاہ کو شکست دی اور دوسری بار صدر جمہوریہ منتخب ہوئے۔ اسی طرح ڈاکٹر رادھا کرشنن بلامقابلہ نائب صدر منتخب کئے گئے۔ عالمی منظر نامے پر شمالی و جنوبی کوریا ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے۔ روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔

اسی دوران 1952 میں چھ سال کی عمر میں حاجی حنیف صابر کا داخلہ چونا بھٹی پر اسکول نمبر 4 میں  کروایا گیا۔ جماعت اول سے ہی آپ کو مشہور مورخ ٰ ادیب اور شاعر ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب جیسے دوستوں کا ساتھ ملا۔ 

ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب بتاتے ہیں کہ پرائمری اسکول میں ان کے ایک ٹیچر ناصر جناب نے بچوں میں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا کرنے کی غرض سے کلاس کے تمام طلبہ کا ایک تخلص رکھا تھا۔ اس طرح الیاس صدیقی صاحب کو ناصح اور حنیف صابر صاحب کو ہلچل تخلص ملا تھا۔ صدیقی صاحب نے مذاقا کہا کہ یہ تخلص کا ہی اثر تھا کہ میں زندگی بھر نصیحت کرتا رہا اور حنیف نے ہلچل مچائے رکھی۔ دینی تعلیم آپ نے خانقاہ اشرفیہ سے حاصل کی اور ناظرہ قرآن پاک ختم کیا۔ آپ حفظ تو نہ کرسکے لیکن قرآن کی اکثر سورتیں زبانی یاد تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں تلاوت کے وقت کسی سے غلطی ہوجائے تو فورا اصلاح کیا کرتے تھے۔  

حاجی صاحب شروع سے ہی کافی ذہین تھے۔ میری پھوپھی بتاتی ہیں کہ آپ کو دین سے اتنا لگاؤ تھا کہ بچپن میں زیادہ تر وقت مسجد میں علماء کی صحبت میں ہی گزرتا تھا۔ 

1952 میں شہر مندی کی شدید لپیٹ میں آگیا۔ لوگ کام کی تلاش میں کھیتوں میں جانے لگے۔ کوئی پھلی توڑتا تو کوئی گنا توڑ کر کچھ پیسے کما لیتا۔ حکومت کی جانب سے بطور امداد لوگوں سے کھڈا کھودوانے کا کام  شروع کیا گیا۔ اسی دوران شہر میں پہلی بار سفید کپڑوں کی تیاری شروع ہوئی اور بہت سارے لوگ اس نئے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ 1952 میں آزاد انصاری صدربلدیہ بنے۔ 1953 میں ڈاکٹر شیخ سلیم کو یہ عہدہ ملا لیکن اسی سال پھر سے آزاد انصاری صدربلدیہ بن گئے۔ 1954 میں شہر کی پہلی اردو ہائی اسکول اینگلو اردو ہائی اسکول انجمن ترقی تعلیم کے زیر انصرام آئی اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول بنی۔  1954 میں میونسپل انتخابات ہوئے۔ اس باڈی میں ہارون احمد انصاری صدربلدیہ منتخب ہوئے۔ اسی باڈی میں حاجی حنیف صابر کے سیاسی استاد ۔ خیرخواہ ۔ ساتھی اور رہنما ساتھی نہال احمد بھی پہلی بار کونسلر منتخب ہوئے۔ آپ کا اور حاجی حنیف صابر کا ساتھ مرتے دم تک قائم رہا۔ حاجی حنیف صابر نے سیاست میں کب اور کس طرح قدم رکھا اس کا تفصیلی ذکر آگے کے ابواب میں آئے گا۔

بدھ، 5 جنوری، 2022

تاریخ مالیگاؤں سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر

 باب سوم ۔ 1946 سے 1950 تک کے حالات (قسط نمبر 3)

حاجی حنیف صابر ابھی ایک برس کے ہی تھے کہ وطن عزیز کو آزادی کا پروانہ مل گیا۔  جیسے ہی گھڑی کی سوئیوں نے رات بارہ بجنے کا اعلان کیا اور 15 اگست 1947 کی تاریخ شروع ہوئی پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا۔ دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ترنگا پرچم لہرایا اور اس طرح ہمارا ملک ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس خوشی کے موقع پر بھی جاتے جاتے انگریزوں نے ہمیں دکھ دینے کا کام کیا۔ آزادی کے ساتھ ہی وطن عزیز کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ شمالی ٰ  مرکزی اور جنوبی ہند جہاں ہندو اکثریت تھی اسے ہندوستان کا نام دیا گیا اور مشرقی و مغربی ہند کے وہ علاقے جہاں مسلم اکثریت تھی انہیں پاکستان کا نام دیا گیا۔ ان کے علاوہ دونوں طرف مختلف راجے مہاراجے اور نوابوں کی  بہت ساری چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر دونوں طرف کی تمام ریاستیں نئے وجود میں آئے ممالک میں ضم ہوگئیں۔  کچھ عرصہ بعد بقیہ ریاستیں بھی ضم ہوگئیں۔ اس کی ایک الگ تاریخ ہے۔ تقسیم ہند کے ساتھ ہی ایک کربناک دور شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلم پاکستان کی طرف تو پاکستان کے ہندو ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اس مشکل دور میں بھی بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنی مٹی کو چھوڑ کر جانا گوارا نہ کیا۔ شہر مالیگاؤں میں بھی ایسے لوگوں کی اکثریت تھی۔ 

یہ مٹی کی محبت ہی تھی کہ اس شہر کے لوگوں نے یہیں پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ حاجی حنیف صابر کے رفیق سحر حاجی محمد ابن احمد قربان بتاتے ہیں کہ جس دن آزادی ملی ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ حاجی محمد صاحب پرائمری میں زیر تعلیم تھے۔ اسکولوں میں بچوں کو شیرینی اور ایک ایک بلہ تقسیم کیا گیا تھا۔ چوک چوراہوں پر لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ الغرض ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ 

حاجی حنیف صابر صاحب کے دادا رحمت اللہ ۔ والد صابر پہلوان اور چچا محمد عمر نے بھی وطن کی مٹی کو تھامے رکھا۔ خوش آمدپورہ کی کشادہ گلیوں میں حاجی حنیف صابر پروان چڑھے۔ آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لئے دادا دادی اور خاندان میں سب کے لاڈلے تھے۔ آپ کے بچپن میں (1946 سے 1950) آزادی وطن کے علاوہ شہر  , ملک اور دنیا میں اور بھی بہت سارے اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ 1945 سے 1950 کی میونسپل باڈی میں مولوی عبدالرزاق ہی بدستور صدربلدیہ رہے۔ آپ 1942 میں صدربلدیہ بنے تھے۔ اس باڈی میں ہارون انصاری اور عباس علی قاضی جیسے لیڈرس بھی کونسلر تھے۔ اسی طرح اس عرصے میں خانصاحب عبدالرحبم شہر کے ایم ایل اے رہے۔ آپ 1937 میں پہلی بار ایم ایل اے بنے تھے جبکہ دوسری بار 1946 سے 1952 یعنی آزاد ہندوستان کے پہلے الیکشن تک آپ شہر کے ایم ایل اے رہے۔ چالیس کی دہائی کے آخر میں ہی مستقبل کے عظیم لیڈر اور حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد نے سیاست میں قدم رکھا۔ 1950 میں آپ نے پہلا میونسپل الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے باوجود آپ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت و لگن سے وہ کامیابی حاصل کی کہ تقریبا نصف صدی تک نہ صرف اس شہر پر آپ چھائے رہے بلکہ ملگ گیر شہرت حاصل کی۔ 

آزادی وطن کے علاوہ اہم شہری واقعات پر نظر ڈالیں تو 1948 میں قربانی کے سوال پر مالیگاؤں کے حالات خراب ہوگئے تھے۔ میری دادی بتاتی تھیں کہ اس وقت فوج کی سکھ بٹالین شہر میں وارد ہوئی تھی۔ ہمارے بزرگ اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔

1947 میں آزادی اور تقسیم ہند کے بعد جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے۔ اس وقت بھارت کا دستور نہیں بنا تھا اور صدرجمہوریہ کا عہدہ تخلیق نہیں ہوا تھا۔ اس لئے دستور بننے تک صدر مملکت کی ذمہ داریاں گورنر جنرل کے پاس تھیں۔ ماؤنٹ بیٹن آخری انگریز گورنر جنرل تھے۔ انہوں نے ہی آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 1948 میں راج گوپال اچاریہ گورنر جنرل بنے اور 1950 میں پہلے صدر جمہوریہ کے انتخاب تک آپ نے ذمہ داریاں نبھائیں۔ اسی طرح 1947 میں کشمیر کو لے کر ہند و پاک کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔  1948 میں حیدرآباد پولیس ایکشن ہوا۔ جس کے بعد حیدرآباد بھارت میں شامل ہوگیا۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو  میں ہی امریکہ کی ایماء پر 1948 میں اقوام متحدہ کی ایک قراداد کے ذریعے فلسطین کی زمین پر اسرائیل نامی ملک کا قیام عمل میں آیا اور عربوں کو ایک طویل جنگ میں جھونک دیا گیا۔ اس دوران 26 جنوری 1950 کو بھارت کا دستور نافذ ہوا۔ جس کی رو سے ہمارا ملک ایک سیکولر جمہوری ملک قرار دیا گیا۔ ایسا طرز حکومت اختیار کیا گیا جس میں صدر اور وزیراعظم دونوں کا اپنا ایک مقام ہو۔ جمہوری ملک بننے کے بعد گورنر جنرل کی جگہ  پریسیڈنٹ آف انڈیا یعنی صدر جمہوریہ نے لے لی۔ اس طرح 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد ملک کے پہلے صدرجمہوریہ منتخب ہوئے۔

پیر، 3 جنوری، 2022

3 جنوری 2022 ۔ شہر مالیگاؤں کے اہم واقعات

1️⃣ آج سے 15 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو ویکسین لگانے کا آغاز۔


2️⃣ 12 نومبر مالیگاؤں بند معاملے میں جنتادل سکریٹری محمد مستقیم ڈگنیٹی اور شاہ برادری کے عبدالرحمن شاہ کی درخواست ضمانت رد۔ 


3️⃣ مالیگاؤں ہیلتھ آفیسر نے کورونا سے بچاؤ کیلئے شہریان سے ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی کرنے کی گزارش کی ہے۔

اتوار، 2 جنوری، 2022

2 جنوری 2022 کے اہم واقعات ۔ مالیگاؤں ڈائری

1️⃣ اکتوبر 2021 میں کورونا ویکسین سرٹیفکٹ اجرائی معاملے میں معطل کئے گئے مالیگاؤں میونسپل پرائمری کے دس اساتذہ بحال۔ تحقیقات جاری۔


2️⃣ ریاست مہاراشٹر سمیت ملک میں کورونا کی تیسری لہر قدم جمارہی ہے۔ الحمدللہ اب تک مالیگاؤں بڑی حد تک محفوظ۔


3️⃣ جعفر نگر کی 20 سالہ آسیہ بانو نے زہریلی دوا پی کر خودکشی کرلی۔


4️⃣ مالیگاؤں میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں خوشگوار اضافہ۔ گذشتہ چند دنوں میں ہزاروں افراد نے لگوائی ویکسین۔

ہفتہ، 1 جنوری، 2022

یکم جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات۔ مالیگاؤں ڈائری

 1️⃣ حکومت ہند نے کپڑے پر 12 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کا فیصلہ ملتوی کیا۔ شہر کے پاورلوم مالکان میں اطمینان کی لہر۔

2️⃣ وہیں دوسری طرف ریاستی حکومت نے 27 ہارس پاور سے زائد کنکشن رکھنے والے بنکروں کی بجلی سبسڈی ختم کردی بہرحال شہر میں ایسے بنکروں کی تعداد کم ہے۔ 

3️⃣ ریاست میں اومیکرون کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے نئے سال سے پابندیوں میں اضافہ کیا گیا۔ مالیگاؤں میں بھی کئی اہم تقاریب ملتوی۔