کہہ رہے ہیں اس جہاں میں جاوداں کوئی نہیں
یہ ساتھ رہ کے گلا کاٹنے میں ماہر ہے
سورج تو ڈھل رہا ہے پرندہ فضا میں ہے
تم ساری جائیداد کے بدلے نہ پاؤگے
(شکیل حنیف)
مگر یہ یاد رکھئے آپ کا نمبر بھی آئے گا
اگر مجبور نہ ہوتے تو دھوکہ ہم نہیں دیتے
ابھی زندہ ہیں تو توقیر ہماری کرلو
احباب آس پاس تھے سر کاٹ لے گئے
اب کہاں وہ شوخیاں سرمستیاں آزادیاں
دل کا تحفہ قبول مت کرنا
ایسا ہوا کہ اپنے بھی اپنے نہیں رہے
سنا ہے اب وہ مرے مقابل مرے رفیقوں کو لا رہے ہیں
کیا ضرورت تھی دل لگانے کی
اگر غدار نہ ہوتے تو ٹیپو ہار نہ پاتے
بڑا آساں ہیں کہہ دینا مجھے تم سے محبت ہے
اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے