‏شکیل کے اشعار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏شکیل کے اشعار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 20 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 20


 ڈوبتے سورج کا منظر اور اک سوکھا شجر

کہہ رہے ہیں اس جہاں میں جاوداں کوئی نہیں

بدھ، 19 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 19


 جدید دور کے انساں سے بچ کے رہیے گا

یہ ساتھ رہ کے گلا کاٹنے میں ماہر ہے

منگل، 18 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 18


 ادنی کو بھی عروج ہے اعلی کو بھی زوال

سورج تو ڈھل رہا ہے پرندہ فضا میں ہے   

پیر، 17 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 17


 چہرے پہ جو سکون ہے غربت کے باوجود

تم ساری جائیداد کے بدلے نہ پاؤگے

(شکیل حنیف)

اتوار، 16 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 16


لہو کی قسطیں چکا چکا کر غریب ماں باپ نے سنوارا
پڑھے لکھے وہ گنوار بچے انہیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں
(شکیل حنیف)

ہفتہ، 15 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف سلسلہ نمبر 15


 ابھی ہم پر مصیبت ہے ہنسیں جی بھر کے خوش ہولیں

مگر یہ یاد رکھئے آپ کا نمبر بھی آئے گا

(شکیل حنیف)

جمعہ، 14 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 14


 ہماری بے وفائی کا سبب تم جان تو لیتے

اگر مجبور نہ ہوتے تو دھوکہ ہم نہیں دیتے

(شکیل حنیف)

جمعرات، 13 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 13


 بعد مرنے کے سر آنکھوں پہ بٹھانے والو

ابھی زندہ ہیں تو توقیر ہماری کرلو

بدھ، 12 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمیر 12


 دشمن تو ڈر کے دور سے ہی گھورتے رہے

احباب آس پاس تھے سر کاٹ لے گئے

(شکیل حنیف)

منگل، 11 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 11


 سر پہ سایہ تھا تو کتنی شان سے جیتے تھے ہم

اب کہاں وہ شوخیاں سرمستیاں آزادیاں

(شکیل حنیف)

پیر، 10 جنوری، 2022

اتوار، 9 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 9


 ہم چاہتے تھے غیر کو اپنا بناسکیں

ایسا ہوا کہ اپنے بھی اپنے نہیں رہے

ہفتہ، 8 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 8


 ہزار کوشش کے بعد بھی جب مرے برابر نہ آسکے تو

سنا ہے اب وہ مرے مقابل مرے رفیقوں کو لا رہے ہیں

جمعہ، 7 جنوری، 2022

جمعرات، 6 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 6


 ہماری قوم کو نقصان بس اپنوں سے پہنچا ہے

اگر غدار نہ ہوتے تو ٹیپو ہار نہ پاتے

بدھ، 5 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 5


 نبھانا جس کو کہتے ہیں کچھ ہی لوگوں کو آتا ہے

بڑا آساں ہیں کہہ دینا مجھے تم سے محبت ہے

منگل، 4 جنوری، 2022

اشعار شکیل حنیف ۔ سلسلہ نمبر 4


 لئے جو سیلفی سب فیس بک پر ڈال دیتے ہیں

اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے

پیر، 3 جنوری، 2022