شکیل کی ادبی تخلیقات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شکیل کی ادبی تخلیقات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 28 جنوری، 2022

اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے ۔ غزل نمبر 10 ۔ عکس دل


اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے

تمہاری بزم سے اٹھتے تو ہم جانے کہاں جاتے


تمہارے ساتھ دل خوش ہے تمہارے پاس بہلا ہے

اگر تم ساتھ نا ہوتے تو بہلانے کہاں جاتے


ستائش کی تمنا حسن کو مخمور رکھتی ہے

اگر ایسا نہیں ہوتا تو دیوانے کہاں جاتے


لۓ جو سیلفی سب فیس بک پر ڈال دیتے ہیں

اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے 


بہت اچھا ہے کہ شمع سرِ محفل ہی جلتی ہے

وگر نہ دید کی خاطر یہ پروانے کہاں جاتے


شکیل اپنی جو شہرت ہے وہ اردو کی بدولت ہے

وگر نہ ہم زمانے بھر میں پہچانے کہاں جاتے


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم 

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

جمعہ، 21 جنوری، 2022

ہمیں آتیں نہیں ہمدم لب و رخسار کی باتیں ۔ عکس دل ۔ غزل نمبر 9



ہمیں آتیں نہیں ہمدم لب و رخسار کی باتیں  
صنم کی یار کی باتیں دل و دلدار کی باتیں


یہ بیماری کا عالم اور یہ مندی کی تکلیفیں

کریں کیوں ریشمی پازیب کی جھنکار کی باتیں


ہمیں اپنوں سے الفت ہے انہی میں مست رہتے ہیں

بھلا کیونکر کریں ہم اجنبی اغیار کی باتیں


ہمارے حوصلے کو اور بھی دوچند کرتی ہیں

بڑا ہی فائدہ دیتی ہیں یہ اشرار کی باتیں


یقینا وہ حسیں بھی آج کی محفل میں آیا ہے

سبھی جو کر رہے ہیں حسن کے دیدار کی باتیں


غزل کا حسن بھی ہے ساتھ ہی لوگوں کی چاہت بھی

کہاں ورنہ شکیل احمد کہاں یہ پیار کی باتیں


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم

( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن )

منگل، 18 جنوری، 2022

مودی جی اسکولیں کھولو (نظم)



مودی جی اسکولیں کھولو

اس بارے میں کچھ تو بولو

بازاروں میں بھیڑ جمی ہے

شادی کی محفل بھی سجی ہے

دھوم الیکشن کی جاری ہے

خوف کسی پر کب طاری ہے

کھیل کھلاڑی کھیل رہے ہیں

بند کو بس ہم جھیل رہے ہیں

مانتے ہیں یہ وبا بری ہے

لیکن اب یہ ساتھ لگی ہے

اس کے سنگ اب جینا ہوگا

کڑوا گھونٹ بھی پینا ہوگا

اس کی تو بس ایک دوا ہے

مالیگاؤں میں جو روا ہے

اس کو زیادہ بڑھنے نادو

جیسے ہی ہو اس کی دوا لو

سب نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے

خبریں پڑھنا چھوڑ دیا ہے

اس سے لڑنا سیکھ لیا ہے

آگے بڑھنا سیکھ لیا ہے

ہم سب کی درخواست یہی ہے

آپ سے دل کی بات کہی ہے

کیوں بند ہیں اسکولیں بولو

مودی جی اسکولیں کھولو


(شکیل حنیف ۔ مالیگاؤں)


*मोदीजी स्कूलें खोलो*

मोदीजी स्कूलें खोलो
इस बारे में कुछ तो बोलो
बाज़ारों में भीड़ जमी है
शादी की महफिल भी सजी है
धूम इलेक्शन की जारी है
खौफ किसी पर कब तारी है
खेल खिलाडी खेल रहे हैँ
बंद को बस हम झेल रहे हैँ
मानते हैँ ये वबा बुरी है
लेकिन अब ये साथ लगी है
इस के संग अब जीना होगा
कडुवा घोंट भी पीना होगा
इस की तो बस एक दवा है
मेलगांव में जो रवा है
इस को ज़्यादा बढ़ने ना दो
जैसे हि हो इस की दवा लो
सब ने डरना छोड़ दिया है
ख़बरें पढ़ना छोड़ दिया है
इस से लड़ना सीख लिया है
आगे बढ़ना सीख लिया है
हम सब की दरख्वास्त यही है
आप से दिल की बात कही है
क्यों बंद हैँ स्कूलें बोलो
मोदीजी स्कूलें खोलो

(शकील हनीफ, मेलगांव)

پیر، 28 دسمبر، 2020

سال غم : نظم : شکیل حنیف


اے سال غم '  اے سال غم 

تو ڈھا گیا کتنے ستم

کتنے گھروں کے راج کو

کتنے سروں کے تاج کو

تو ساتھ اپنے لے گیا

غمگین یادیں دے گیا

اے سال غم اے سال غم

تو بس مجھے اتنا بتا

ہم کو جو تونے غم دیا

اس سے تجھے کیا مل گیا

تو بھی کہاں باقی رہا

تو بھی تو اب ہے جارہا

یہ سوچ دل میں آئی جب

دل سے صدا یہ آئی تب

جو کچھ ہوا جو کچھ سہا

سب تھا خدا کا فیصلہ

اللہ پر ایمان ہے

اللہ پر ایقان ہے

اب جو نیا سال آئے گا

خوشیوں کا موسم لائے گا

(شکیل حنیف)

پیر، 12 اکتوبر، 2020

غزل

*محبتوں کے لطیف رشتے کچھ اس طرح ہم نبھا رہے ہیں*

*تمہاری محفل کے دل شکستہ ہماری محفل میں آرہے ہیں*


لہو کی قسطیں چکا چکا کر غریب ماں باپ نے سنوارا

پڑھے لکھے وہ گنوار بچے انہیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں


*ہزار کوشش کے بعد بھی جب مرے برابر نہ آسکے تو*

*سنا ہے میں نے مرے مقابل مرے رفیقوں کو لا رہے ہیں*


مرا وطن تھا سنہری چڑیا سبھی نے مل جل کر اس کو لوٹا

سمجھ کے خوش ذائقہ نوالہ مزے مزے سے چبا رہے ہیں


*بہت سی غزلیں سنی ہیں تم نے جو میر و غالب کے دور کی ہیں*

*نئے زمانے کی تازہ غزلیں شکیل تم کو سنا رہے ہیں*


( *شکیل حنیف*)

منگل، 13 اگست، 2019

مجھے پہچانتے ہو نا

Ⓜ♓ وہاٹس ایپ ٹرینڈ سے متاثر ہوکر ایک تازہ نظم
✍ *شکیل حنیف*
مجھے پہچانتے ہو نا
بتاؤ جانتے ہو نا
شہر کی شاہراہ ہوں میں
سبھی سڑکوں کی ماں ہوں میں
کئی صدیوں پرانی ہوں
بڑی ہی ناگہانی ہوں
کروڑوں گاڑیاں دیکھیں
ہزاروں حادثے جھیلے
سبھی مجھ سے گزرتے ہیں
مگر مجھ سے ہی جلتے ہیں
سیاستدان ہیں جتنے
سبھی کی جیب بھرتی ہوں
کہ ٹھیکیدار ہیں جتنے
سبھی کا پیٹ بھرتی ہوں
سبھی نے مل کے نوچا ہے
سبھی نے مل کے لوٹا ہے
سبھی نے حسن کو میرے
کچل ڈالا مسل ڈالا
مسلسل رو رہی ہوں میں
صبر اب کھو رہی ہوں میں
مری فریاد سن لو تم
مری اک بات سن لو تم
مرے اوپر سے گاڑی پر
یا پیدل بھی گزرتے ہو
گزرنا ہے گزر جاؤ
*مگر اب تم سدھر جاؤ*
مجھے اک روڈ کہتے ہیں
پرانی روڈ کہتے ہیں
✍ *شکیل حنیف ٰ ہمارا مالیگاؤں*
نوٹ : نام ہٹا کر ادبی خیانت نہ کریں۔ 

ہفتہ، 2 مارچ، 2019

AAJ KA SHER آج کا شعر

چھٹ جائے گا اندھیرا نئی روشنی کے بعد

مشعل بدست شخص بلند ہو رہا ہے آج

(شکیل حنیف)

بدھ، 13 فروری، 2019

کشمیر : نظم


جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

حسیں پھولوں کی وادی ہے
حسیں کرنوں کی وادی ہے
وہ برفیلی چٹانوں کے
حسیں جھرنوں کی وادی ہے
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

وہاں کی ہر گلی ہر گاؤں
کے منظر نرالے ہیں
وہاں کے لوگ بھی یارو
سراپا حسن والے ہیں
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

پہاڑوں پر جمی ہے برف
کیا منظر سہانا ہے
پھسل کر برف پر مستی
کی خاطر دل دیوانہ ہے
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

شکارے جھیل پر مستی میں
ہر دم گشت کرتے ہیں
سبھی دلکش نظارے
آدمی کو مست کرتے ہیں
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

(شکیل حنیف)

بدھ، 11 اکتوبر، 2017

غزل

احباب کی فرمائش پر ایک تازہ غزل

*اب کے بادل کتنے کالے کالے ہیں*
*لگتا ہے کہ خوب برسنے والے ہیں*
*بوڑھی امّاں جانے کیا کیا سوچ رہی*
*گھر سے باہر دور پہ گھر کے جیالے ہیں*
*فکر کے مارے ان آنکھوں میں نیند کہاں*
*جن کے مکاں بس کچّی مٹّی والے ہیں*
*دھرتی کی بھی پیاس بجھے گی عرصے کی*
*تر ہونے کو بس ہونٹوں کے پیالے ہیں*
*چلو شکیل اب پارٹی چھوڑو گھر کی طرف*
*بادل اب کی خوب برسنے والے ہیں*
( *شکیل حنیف*)Ⓜ♓

پیر، 9 اکتوبر، 2017

Sher

وہ شیشہ بدن , آئینہ جب دیکھتا ہوگا
مجھ کانچ کے ٹکڑے کو فقط سوچتا ہوگا

*(شکیل حنیف)*

اتوار، 24 ستمبر، 2017

اردو U



Ⓜ *اردو*  ♓
یارو میری زبان ہے اردو
سب زبانوں کی جان ہے اردو
ہند کی آن بان ہے اردو
پاک و بنگلہ کی شان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
اردو غالب کا اک تخیل ہے
اردو اقبال کا ترانہ ہے
اردو ابن صفی کا ناول ہے
پریم چند کی اڑان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
نیوز چینل پہ اردو ہوتی ہے
ٹی وی سیرئیل میں اردو ہوتی ہے
ہوں ڈرامے تو اردو ہوتی ہے
ساری فلموں کی جان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
جس کی اردو زبان ہوتی ہے
اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے
علمیت کا نشان ہوتی ہے
میری نظموں کی شان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
( *شکیل حنیف, مالیگاؤں*)

جمعرات، 21 ستمبر، 2017

Baat

ایک تازہ *خیالی* نظم
      *بات*
بہت برسات ہوتی ہے
تو اس سے بات ہوتی ہے
کہ جب بھی بات ہوتی ہے
تو گھنٹوں بات ہوتی ہے
*یوں گھنٹوں بات ہوتی ہے مگر کیسے ذرا سوچو*
*مجھے انگلش نہیں آتی, اسے اردو نہیں آتی*
*(شکیل حنیف)*

بدھ، 9 اگست، 2017

یوم آزادی پر نظم

 *مجھے آزاد کردو نا*
مری خوش قسمتی ہے کہ
وطن آزاد ہے میرا
یہ سچ ہے سانس لیتا ہوں
میں اک آزاد بھارت میں
مگر میں قید میں کیوں ہوں
علاقائی تعصب کی,
اجڈ فرقہ پرستوں کی,
کرپشن جیسی لعنت کی,
رلانے والی غربت کی,
دھرم کے نام دنگوں کی,
سیاسی ووٹ منگوں کی
بتاؤ قید میں کیوں ہوں
مجھے آزاد کر دو نا
وطن آزاد ہے میرا
مجھے آزاد کر دو نا
تعصب سے, کرپشن سے,
دھرم کے ٹھیکے داروں سے,
جو لڑتے ہیں لڑاتے ہیں
سبھی ایسے گنواروں سے
مجھے آزاد کر دو نا
وطن آزاد ہے میرا
مجھے آزاد کر دو نا
مجھے آزاد کر دو نا
(شکیل حنیف)

منگل، 8 اگست، 2017

My Poetey


MY CITY IS LIKE A GOLDEN SPARROW
ALWAYS PEACEFUL ALWAYS FIT
GO TO LONDON OR GO TO CAIRO
YOU WONT FIND A CITY LIKE IT

جمعہ، 14 جولائی، 2017

Taza Ghazal

Ⓜ *ایک تازہ غزل* ♓

✍🏻 *شکیل حنیف*

*اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے*
*تمہاری بزم سے اٹھتے تو ہم جانے کہاں جاتے*

*تمہارے ساتھ دل خوش ہے تمہارے پاس بہلا ہے*
*تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو بہلانے کہاں جاتے*

*ستائش کی خواہش حسن کو مخمور رکھتی ہے*
*اگر ایسا نہیں ہوتا تو دیوانے کہاں جاتے*

*لۓ جو سیلفی سب فیس بک پر ڈال دیتے ہیں*
*اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے*

*بہت اچھا ہے کہ شمع سر محفل ہی جلتی ہے*
*وگر نہ دید کی خاطر یہ پروانے کہاں جاتے*

*شکیل اپنی جو شہرت ہے وہ اردو کی بدولت ہے*
*وگر نہ ہم زمانے بھر میں پہچانے کہاں جاتے*

✍🏻 *شکیل حنیف*

جمعہ، 7 جولائی، 2017

Khoon kiska hai?

Ⓜ *یہ خون کس کا ہے* ♓

بہانا ہے تو اسے بھی بہا دو سڑکوں پر
ہمارے جسم میں اب تک جو خون باقی ہے
مگر بتاؤ تو آخر یہ خون کس کا ہے
جو چھینتے ہو وہ آخر سکون کس کا ہے
بہادیا جسے سڑکوں پہ خون کس کا ہے
یہ خون ہے اسی دھرتی کے ایک بیٹے کا
کہ جس کو دیکھ کے دھرتی بھی رو رہی ہوگی
اے میرے بھائیو اتنا تو بتا دو مجھ کو
اگر سپوت ہو تم میری پیاری دھرتی کے
اسی زمین کے ہم بھی تو ایک فرزند ہیں
تمہارے جسم میں جس گلستاں کی مٹی ہے
اسی کی خاک سے ہم نے بھی جنم پایا ہے
پھر اس کے بعد بھی یہ بھید بھاؤ کیسا ہے
لگا جو جسم پہ میرے وہ گھاؤ کیسا ہے
یہاں پہ صدیوں سے ہم ساتھ ساتھ رہتے ہیں
خوشی ہو یا کہ ہو غم ساتھ ساتھ سہتے ہیں
پھر آج سر پہ یہ تیرے جنون کیسا ہے
بہا ہے خون جو میرا وہ خون کیسا ہے
اے میرے دوست , مرے بھائی اے مرے ہمدم
جنون چھوڑ چلو مل کے ساتھ چلتے ہیں
بہت اداس ہوں لیکن خدا کی قسم
میں تیرے ساتھ قدم سے قدم ملا لوں گا
ہمارے دیس کی دمدار انّتی کے لۓ
میں سب بھلا کے تجھے پھر گلے لگا لوں گا
✍🏻 *شکیل حنیف, مالیگاؤں*