بیرونی شعراء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بیرونی شعراء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 12 جنوری، 2022

12 فروری ۔ احمد فراز صاحب کا یوم ولادت

احمد فراز ۱۲ جنوری ۱۹۳۱ کو کوہاٹ کے ایک معزز سادات خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا ۔ احمد فراز نے جب شاعری شروع کی تو اس وقت ان کا نام احمد شاہ کوہاٹی ہوتا تھا جو بعد میں فیض احمد فیض کے مشورے سے احمد فراز ہوگیا ۔ احمد فراز کی مادری زبان پشتو تھی لیکن ابتدا ہی سے فراز کو اردو لکھنے اور پڑھنے کا شوق تھا اور وقت کے ساتھ اردو زبان اور ادب میں ان کی یہ دلچسپی بڑھنے لگی ۔ ان کے والد انہیں ریاضی اور سائنس کی تعلیم میں آگے بڑھانا چاہتے تھے لیکن احمد فراز کا فطری میلان ادب وشاعری کی طرف تھا ۔ اس لئے انہوں نے پشاور کے ایڈورڈ کالج سے فارسی اور اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور باضابطہ ادب وشاعری کا مطالعہ کیا ۔ احمد فراز نے اپنا کرئیر ریڈیو پاکستان پشاور میں اسکرپٹ رائٹر کے طور پر شروع کیا مگر بعد میں وہ پشاور یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوگئے ۔ ۱۹۷۶ میں جب حکومت پاکستان نے اکیڈمی آف لیٹرس کے نام سے ملک کا اعلی ترین ادبی ادارہ قائم کیا تو احمد فراز اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل بنائے گئے ۔  

فراز اپنے عہد کے سچے فنکار تھے حق گوئی اور بے باکی ان کی تخلیقی فطرت کا بنیادی عنصر تھی انہوں نے حکومت وقت اور اسٹیبلشمینٹ کی بدعنوانیوں کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی ۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے کی پاداش میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا ۔ وہ چھ سال تک کناڈا اور یورپ میں جلاوطنی کا عذاب سہتے رہے ۔

فراز کی شاعری جن دو بنیادی جذبوں ، رویوں اور تیوروں سے مل کرتیار ہوتی ہے وہ احتجاج ، مزاحمت اور رومان ہیں ۔ ان کی شاعری سے ایک رومانی ، ایک نوکلاسیکی ، ایک جدید اور ایک باغی شاعر کی تصویر بنتی ہے ۔ انہوں نے عشق ، محبت اور محبوب سے جڑے ہوئے ایسے باریک احساسات اور جذبوں کو شاعری کی زبان دی ہے جو ان سے پہلے تک ان چھوے تھے ۔

فرازکی شخصیت سے جڑی ہوئی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عہد کے سب سے مقبول ترین شاعروں میں سے تھے ۔ ہندوپاک کے مشاعروں میں جتنی محبتوں اور دلچسپی کے ساتھ فراز کو سنا گیا ہے اتنا شاید ہی کسی اور شاعر کو سنا گیا ہو ۔ فراز کی پزیرائی ہر سطح پر ہوئی انہیں بہت سے اعزازات وانعامات سے بھی نوازا گیا ۔ ان کو ملنے والے چند اعزازات کے نام یہ ہیں ۔ آدم جی ایوارڈ، اباسین ایوارڈ، فراق گورکھپوری ایوارڈ (انڈیا)، اکیڈمی آف اردو لیٹریچر ایوارڈ (کینیڈا)،  ٹاٹا ایوارڈجمشید نگر (انڈیا)، اکادمی ادبیات پاکستان کا ’کمال فن‘ ایوارڈ، ادب میں نمایاں کارکردگی پر ہلال امتیاز ۔

شعری مجموعے

جاناں جاناں ، خواب گل پریشاں ہے، غزل بہانہ کرو ، درد آشوب ،تنہا تنہا ، نایافت ،نابینا شہر میں آئینہ ، بے آواز گلی کوچوں میں ، پس انداز موسم ، شب خون ، بودلک ، یہ سب میری آوازیں ہیں ، میرے خواب ریزہ ریزہ ،اے عشق جفاپیشہ ۔ 

فراز صاحب کے منتخب اشعار احباب کی خدمت میں.....


*انتخاب و پیشکش....طارق اسلم*


*بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب*

*کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے*


*اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم*

*یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم*


چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح

پلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقش پا کی طرح


*ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود*

*آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا*


ہجوم ایسا کہ راہیں نظر نہیں آتیں

نصیب ایسا کہ اب تک تو قافلہ نہ ہوا


*اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب*

*اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم*

 

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

 

*کس کو بکنا تھا مگر خوش ہیں کہ اس حیلے سے*

*ہوگئیں اپنے خریدار سے باتیں کیا کیا*


کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

 

*کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسے*

*تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا*

 

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے

وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا


*میں بھی پلکوں پہ سجا لوں گا لہو کی بوندیں*

*تم بھی پا بستہ زنجیر حنا ہو جانا*


میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے

ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا


*میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا*

*کہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا*


میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ

تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا


*تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ*

*لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ*

 

*تیرے قامت سے بھی لپٹی ہے امر بیل کوئی*

*میری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست*


تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست

تو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوست

 

*وہ اپنے زعم میں تھا بے خبر رہا مجھ سے*

*اسے خبر ہی نہیں میں نہیں رہا اس کا*


آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا

ہفتہ، 28 نومبر، 2020

نور جہاں ثروت

 بیباک صحافی۔ لیکچرر و منفرد و حساس لب ولہجے کی شاعرہ نور جہاں ثروتؔ کی پیدائش...28 نومبر

(طارق اسلم)

28 نومبر 1949 کو دہلی میں پیدا ہونے والی *نور جہاں ثروت* نے اپنے کیریئر کا آغاز بحیثیت لیکچرار جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے شروع کیا. بعد میں ڈاکٹر ذاکر حسین

اتوار، 5 مئی، 2019

ظفر گورکھپوری Zafar Gorakhpuri

آج 5 مئی....منفرد لب و لہجہ کے شاعر ظفر گورکھپوری صاحب کے یوم ولادت پر ان کے منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں.


انتخاب و پیشکش...طارق اسلم


آنکھیں یوں ہی بھیگ گئیں کیا دیکھ رہے ہو آنکھوں میں
بیٹھو صاحب کہو سنو کچھ ملے ہو کتنے سال کے بعد

*آسماں ایسا بھی کیا خطرہ

اختر شیرانی Akhtar Sherani

اختر شیرانی کے یومِ ولادت پر خراج عقیدت 
(انتخاب : شفیق جے ایچ )
کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے 
کیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے 

*وہ دیکھنا کسی

پیر، 8 اپریل، 2019

ایک غزل : افتخار راغب

پیکرِ ﻣﮩﺮ ﻭ ﻭﻓﺎ ﺭﻭﺡِ ﻏﺰﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺗُﻮ
ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﮐﻮ ﺍِﮎ ﺣُﺴﻦ ﻣﺤﻞ ﯾﻌﻨﯽ ﺗُﻮ

ﺷﮩﺮِ ﺧﻮﺑﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮩﻞ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ
ﻣﻀﻄﺮﺏ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﻼ ﺻﺒﺮ ﮐﺎ ﭘﮭﻞ ﯾﻌﻨﯽ ﺗُﻮ

ﻏﻢِ ﺩﻝ ﮨﻮ ﻏﻢِ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﻏﻢِ ﺩﻭﺭﺍﮞ ﮨﻮ

ہفتہ، 6 اپریل، 2019

Jigar Muradabadi جگر مرادآبادی

آج 6 اپریل...شہنشاہ تغزل جگرمرادآبادی صاحب کا یوم ولادت

(طارق اسلم)  نام علی سکندر تخلص جگر۔ ولادت ۶؍اپریل ۱۸۹۰ء مرادآباد ۔ قرآن پاک ، فارسی اور اردو کی تعلیم اس زمانے کے دستور کے مطابق گھر پر ہوئی۔ ان کے والد علی نظر شاعر تھے۔ جگر کے خاندان کے دوسرے افراد بھی شاعر تھے،اس طرح جگر کو شاعری ورثے میں ملی۔چناں چہ جگر کی شعر گوئی کا آغاز اس وقت

ہفتہ، 23 مارچ، 2019

Nazeer Banarsi نذیر بنارسی

آج 23 مارچ...غزلوں اور نظموں کے لئے مشہور نذیربنارسی صاحب کا یوم وفات

(طارق اسلم) نذیر بنارسی کا شمار نظم اور غزل کے معروف ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ 25  نومبر 1909 کو بنارس میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد بنارس کے مشہور  طبیب تھے ۔ نذیر بھی طبابت کے اس آبائی پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ شاعری میں

جمعہ، 22 مارچ، 2019

ایک غزل : افتخار عارف

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا 
اسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا 

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی 
اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا 

متاع جاں کا بدل ایک پل کی سرشاری 
سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا

جمعرات، 21 مارچ، 2019

Iftekhar Aarif افتخار عارف

21 مارچ...زندگی کی تمام تر حقیقتوں کو شعری قالب میں ڈھالنے والے شاعر افتخار عارف کا یوم ولادت

انتخاب و پیشکش....طارق اسلم ٰٰ مالیگاؤں

نام افتخار حسین عارف اور تخلص عارف ہے۔ 21 مارچ ۱۹۴۲ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔(بعض جگہوں پر 23 مارچ بھی مندرج ہے) بی اے ، ایم اے لکھنؤ یونیورسٹی سے کیا۔جرنلزم کا

منگل، 19 مارچ، 2019

Shameem Karhani شمیم کرہانی

شمیم کرہانی کے یومِ وفات پر خراج عقیدت 

ڈیزائن شفیق جے ایچ (مالیگاؤں)


اتوار، 17 مارچ، 2019

ایک غزل : داغ دہلوی

بلبلِ ہند، فصیح الملک، عظیم المرتبت *حضرت داغ دہلوی* کے یومِ وفات پر خراج عقیدت....
ڈیزائن : شفیق جمیل حسن ٰٰ مالیگاؤں۔


بدھ، 13 مارچ، 2019

Habeeb Jalib حبیب جالب

آج 13 مارچ ۔ مترنم و مقبول انقلابی  شاعر حبیب جالب کا یوم وفات

(انتخاب : طارق اسلم ٰٰ مالیگاؤں) نام حبیب احمد اور تخلص جالب تھا۔ 24 مارچ  ۱۹۲۸ء کو گاؤں افغاناں ، ضلع ہوشیار پور میں پید اہوئے۔۱۴؍اگست۱۹۴۷ء کو کراچی آگئے۔ انھوں نے راغب مرادآبادی

اتوار، 3 مارچ، 2019

Firaq Gorakhpuri فراق گورکھپوری

(طارق اسلم) آج 3 مارچ ...اردو کے مایہ ناز شاعر فراق گورکھپوری صاحب کا یوم وفات

 
اردو کے عظیم شاعرفراق گورکھپوری 28 اگست 1896ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ ان کے والد منشی گورکھ پرشاد عبرت اردو اور فارسی کے عالم، ماہر

Nasir Qazmi ناصر کاظمی

(طارق اسلم) آج 2 مارچ ..مشہور و معروف شاعر ناصر کاظمی صاحب کا یوم وفات


ناصر رضاکاظمی نام اور ناصر تخلص تھا۔٨ دسمبر ۱۹۲۳ء کو انبالہ(ہندستان) میں پیدا ہوئے۔اسلامیہ کالج لاہور سے ایف اے پاس کرنے کے بعد بی اے میں پڑھ رہے تھے کہ چند وجوہ کی بنا پر امتحان دیے بغیر وطن انبالہ واپس چلے گئے۔۱۹۴۷ء میں

جمعہ، 1 مارچ، 2019

Asghar Govndvi اصغر گونڈوی

(انتخاب : شفیق جے ایچ)یکم مارچ..... اصغر گونڈوی کے یومِ ولادت پر....

صحنِ حرم نہیں ہے ، یہ کوئے بتاں نہیں
اب کچھ نہ پوچھئے کہ، کہاں ہوں کہاں نہیں

مجھ میں نوائے عیش کی رنگینیاں نہیں
سوزِ خموشِ عِشق ہوں، سازِ بیاں نہیں

*مدّت ہوئی کہ چشمِ تحیّر کو ہے سکوت*
*اب جنبِشِ نظر میں کوئی داستاں نہیں*

وہ بہترینِ دَورِ محبّت گزر گیا !
اب مبتلائے کشمکشِ اِمتحاں نہیں