شکیل کی تمام شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شکیل کی تمام شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 20 فروری، 2022

کسی بھی کام کی خاطر تلف آرام کردینا


کسی بھی کام کی خاطر تلف آرام کردینا

ہمیں آتا ہے جب کرنا تو پورا کام کردینا


ہماری قوم کے ہر شخص کی بچپن سے عادت ہے

لہو کے قطرے قطرے کو وطن کے نام کردینا


میں ووٹر ہوں نئے یگ کا بخوبی جانتا ہوں سب

کسے کرسی پہ رکھنا ہے کسے گمنام کردینا


ہمارے شہر کے لوگوں میں یہ خوبی نمایاں ہے

لگا کر خود کی سب محنت کسی کا نام کردینا


ذرا محنت کی عظمت کو پرندوں سے کوئی سیکھے

تلاشِ رزق کی خاطر سحر سے شام کردینا


یہ انسانی جبلت ہے کسی کو دوش کیا دینا

جسے اونچائی پر دیکھو اسے بدنام کردینا


شکیل احمد پہ ایسے بھی خدا کا فضل ہوتا ہے

غزل ہو یا کہ نظمیں ہوں قبولِ عام کردینا


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

جمعہ، 28 جنوری، 2022

اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے ۔ غزل نمبر 10 ۔ عکس دل


اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے

تمہاری بزم سے اٹھتے تو ہم جانے کہاں جاتے


تمہارے ساتھ دل خوش ہے تمہارے پاس بہلا ہے

اگر تم ساتھ نا ہوتے تو بہلانے کہاں جاتے


ستائش کی تمنا حسن کو مخمور رکھتی ہے

اگر ایسا نہیں ہوتا تو دیوانے کہاں جاتے


لۓ جو سیلفی سب فیس بک پر ڈال دیتے ہیں

اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے 


بہت اچھا ہے کہ شمع سرِ محفل ہی جلتی ہے

وگر نہ دید کی خاطر یہ پروانے کہاں جاتے


شکیل اپنی جو شہرت ہے وہ اردو کی بدولت ہے

وگر نہ ہم زمانے بھر میں پہچانے کہاں جاتے


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم 

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

جمعہ، 21 جنوری، 2022

ہمیں آتیں نہیں ہمدم لب و رخسار کی باتیں ۔ عکس دل ۔ غزل نمبر 9



ہمیں آتیں نہیں ہمدم لب و رخسار کی باتیں  
صنم کی یار کی باتیں دل و دلدار کی باتیں


یہ بیماری کا عالم اور یہ مندی کی تکلیفیں

کریں کیوں ریشمی پازیب کی جھنکار کی باتیں


ہمیں اپنوں سے الفت ہے انہی میں مست رہتے ہیں

بھلا کیونکر کریں ہم اجنبی اغیار کی باتیں


ہمارے حوصلے کو اور بھی دوچند کرتی ہیں

بڑا ہی فائدہ دیتی ہیں یہ اشرار کی باتیں


یقینا وہ حسیں بھی آج کی محفل میں آیا ہے

سبھی جو کر رہے ہیں حسن کے دیدار کی باتیں


غزل کا حسن بھی ہے ساتھ ہی لوگوں کی چاہت بھی

کہاں ورنہ شکیل احمد کہاں یہ پیار کی باتیں


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم

( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن )

منگل، 18 جنوری، 2022

مودی جی اسکولیں کھولو (نظم)



مودی جی اسکولیں کھولو

اس بارے میں کچھ تو بولو

بازاروں میں بھیڑ جمی ہے

شادی کی محفل بھی سجی ہے

دھوم الیکشن کی جاری ہے

خوف کسی پر کب طاری ہے

کھیل کھلاڑی کھیل رہے ہیں

بند کو بس ہم جھیل رہے ہیں

مانتے ہیں یہ وبا بری ہے

لیکن اب یہ ساتھ لگی ہے

اس کے سنگ اب جینا ہوگا

کڑوا گھونٹ بھی پینا ہوگا

اس کی تو بس ایک دوا ہے

مالیگاؤں میں جو روا ہے

اس کو زیادہ بڑھنے نادو

جیسے ہی ہو اس کی دوا لو

سب نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے

خبریں پڑھنا چھوڑ دیا ہے

اس سے لڑنا سیکھ لیا ہے

آگے بڑھنا سیکھ لیا ہے

ہم سب کی درخواست یہی ہے

آپ سے دل کی بات کہی ہے

کیوں بند ہیں اسکولیں بولو

مودی جی اسکولیں کھولو


(شکیل حنیف ۔ مالیگاؤں)


*मोदीजी स्कूलें खोलो*

मोदीजी स्कूलें खोलो
इस बारे में कुछ तो बोलो
बाज़ारों में भीड़ जमी है
शादी की महफिल भी सजी है
धूम इलेक्शन की जारी है
खौफ किसी पर कब तारी है
खेल खिलाडी खेल रहे हैँ
बंद को बस हम झेल रहे हैँ
मानते हैँ ये वबा बुरी है
लेकिन अब ये साथ लगी है
इस के संग अब जीना होगा
कडुवा घोंट भी पीना होगा
इस की तो बस एक दवा है
मेलगांव में जो रवा है
इस को ज़्यादा बढ़ने ना दो
जैसे हि हो इस की दवा लो
सब ने डरना छोड़ दिया है
ख़बरें पढ़ना छोड़ दिया है
इस से लड़ना सीख लिया है
आगे बढ़ना सीख लिया है
हम सब की दरख्वास्त यही है
आप से दिल की बात कही है
क्यों बंद हैँ स्कूलें बोलो
मोदीजी स्कूलें खोलो

(शकील हनीफ, मेलगांव)

جمعرات، 13 جنوری، 2022

معلم ۔ مجموعہ کلام عکس دل سے پہلی غزم


معلم نام ہے جس کا

مقدس شخص ہوتا ہے

معلم علم دیتا ہے

معلم طرز دیتا ہے

معلم ہی تو ہے جو

بے ادب کو پارسا کر دے

معلم بے زبانوں کو 

سخن کا ناخدا کردے

معلم کچی مٹی کو

اک عالیشان گھر کر دے

معلم مالی ہوتا ہے

جو پودوں کو ہرا کر دے 

معلم ننھے بچوں کو 

زمیں سے آسماں کر دے

معلم جو بھی کرتا ہے 

یہ اس کا فرض ہوتا ہے


معلم وہ نہیں جو بس نصابوں کو کرے پورا

معلم وہ ہے جوبچوں کو جینے کا ہنر دے دے


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مربع سالم

(مفاعیلن مفاعیلن) و

بحر ہزج مثمن سالم

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

بدھ، 12 جنوری، 2022

اگر اپنا نہ ہو تو ہر خزینہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ غزل نمبر 8


(عکس دل سے آٹھویں غزل)


اگر اپنا نہ ہو تو ہر خزینہ چھوڑ دیتے ہیں

زمیں ہو زر ہو یا کوئی حسینہ چھوڑ دیتے ہیں


ہم اک درویش ہیں صاحب ہمیں دولت سے کیا مطلب

ملے کتنی بھی قیمت کا دفینہ چھوڑ دیتے ہیں


کسی کی اصل صورت تو نظر آتی ہے غصے میں

کہ اس میں اچھے اچھے بھی قرینہ چھوڑ دیتے ہیں


برے حالات میں اچھے برے کا علم ہوتا ہے

لگے جب ڈوبنے چوہے سفینہ چھوڑ دیتے ہیں


یہ سچّائی کی طاقت ہے کہ جھوٹے سورما سارے

ہمارا نام سنتے ہی پسینہ چھوڑ دیتے ہیں


پہن کر خاص اک چشمہ شکیل اکثر ادب والے

اٹھا کر کانچ کے ٹکڑے نگینہ چھوڑ دیتے ہیں


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

جمعرات، 6 جنوری، 2022

ہمیں معلوم ہے ہمدم کہ الفت کس کو کہتے ہیں ۔ غزل نمبر 6


 ہمیں معلوم ہے ہمدم کہ الفت کس کو کہتے ہیں

وفا کی پیار کی انمول دولت کس کو کہتے ہیں


نہ چھوڑا آخری سانسوں تلک محبوب کا دامن

کوئی دیکھے ذرا آکر محبت کس کو کہتے ہیں


ذرا دو پل ہمارے ساتھ بھی تم بیٹھ کر دیکھو

پتہ چل جائے گا سچی رفاقت کس کو کہتے ہیں


کسی کے ساتھ نکلو اور کچھ آگے نکل جاؤ

پتہ چل جائے گا تم کو عداوت کس کو کہتے ہیں


کسی نادار کے گھر بھی کبھی مہمان بن جاؤ

پتہ چل جائے گا تم کو سخاوت کس کو کہتے ہیں


نئے انداز کی نظمیں نئے انداز کی غزلیں

شکیل احمد سے تم پوچھو کہ ندرت کس کو کہتے ہیں


(شکیل حنیف)

بحر ہزج مثمن سالم

( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن )

پیر، 25 جنوری، 2021

چھبیس جنوری Republic Day Poem


(شکیل حنیف)


چھبیس جنوری ہے یہ یوم جمہور ہے

چھایا ہوا وطن پہ عجب سا سرور ہے


دن کون سا ہے کس لئے یہ دھوم دھام ہے

یوم جمہوریہ کا کیوں اعلی مقام ہے


آؤ کہ اس کے بارے میں کچھ

ہفتہ، 16 جنوری، 2021

چلو اسکول چلتے ہیں


چلو اسکول چلتے ہیں

پڑھائی کھل کے کرتے ہیں

کہ پورا سال گھر بیٹھے 

بہت نقصان کر بیٹھے

کتابوں کی پڑھائی کا

بیاضوں کی لکھائی کا

یہ مانا پڑھ رہے تھے ہم

مگر اس میں نہیں تھا دم

گروپوں کو جوائن کر

پڑھے ہم آن لائن پر

مگر جی بھر نہیں پائے

پڑھائی کر نہیں پائے

کہ جو ہے بات اصلی میں 

کہاں وہ بات نقلی میں

مگر اب شکر ہے رب کا

مناسب حال ہے سب کا

کہ اب باہر نکلتے ہیں

چلو اسکول چلتے ہیں


(شکیل حنیف)

پیر، 28 دسمبر، 2020

سال غم : نظم : شکیل حنیف


اے سال غم '  اے سال غم 

تو ڈھا گیا کتنے ستم

کتنے گھروں کے راج کو

کتنے سروں کے تاج کو

تو ساتھ اپنے لے گیا

غمگین یادیں دے گیا

اے سال غم اے سال غم

تو بس مجھے اتنا بتا

ہم کو جو تونے غم دیا

اس سے تجھے کیا مل گیا

تو بھی کہاں باقی رہا

تو بھی تو اب ہے جارہا

یہ سوچ دل میں آئی جب

دل سے صدا یہ آئی تب

جو کچھ ہوا جو کچھ سہا

سب تھا خدا کا فیصلہ

اللہ پر ایمان ہے

اللہ پر ایقان ہے

اب جو نیا سال آئے گا

خوشیوں کا موسم لائے گا

(شکیل حنیف)

پیر، 12 اکتوبر، 2020

غزل

*محبتوں کے لطیف رشتے کچھ اس طرح ہم نبھا رہے ہیں*

*تمہاری محفل کے دل شکستہ ہماری محفل میں آرہے ہیں*


لہو کی قسطیں چکا چکا کر غریب ماں باپ نے سنوارا

پڑھے لکھے وہ گنوار بچے انہیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں


*ہزار کوشش کے بعد بھی جب مرے برابر نہ آسکے تو*

*سنا ہے میں نے مرے مقابل مرے رفیقوں کو لا رہے ہیں*


مرا وطن تھا سنہری چڑیا سبھی نے مل جل کر اس کو لوٹا

سمجھ کے خوش ذائقہ نوالہ مزے مزے سے چبا رہے ہیں


*بہت سی غزلیں سنی ہیں تم نے جو میر و غالب کے دور کی ہیں*

*نئے زمانے کی تازہ غزلیں شکیل تم کو سنا رہے ہیں*


( *شکیل حنیف*)

منگل، 13 اگست، 2019

مجھے پہچانتے ہو نا

Ⓜ♓ وہاٹس ایپ ٹرینڈ سے متاثر ہوکر ایک تازہ نظم
✍ *شکیل حنیف*
مجھے پہچانتے ہو نا
بتاؤ جانتے ہو نا
شہر کی شاہراہ ہوں میں
سبھی سڑکوں کی ماں ہوں میں
کئی صدیوں پرانی ہوں
بڑی ہی ناگہانی ہوں
کروڑوں گاڑیاں دیکھیں
ہزاروں حادثے جھیلے
سبھی مجھ سے گزرتے ہیں
مگر مجھ سے ہی جلتے ہیں
سیاستدان ہیں جتنے
سبھی کی جیب بھرتی ہوں
کہ ٹھیکیدار ہیں جتنے
سبھی کا پیٹ بھرتی ہوں
سبھی نے مل کے نوچا ہے
سبھی نے مل کے لوٹا ہے
سبھی نے حسن کو میرے
کچل ڈالا مسل ڈالا
مسلسل رو رہی ہوں میں
صبر اب کھو رہی ہوں میں
مری فریاد سن لو تم
مری اک بات سن لو تم
مرے اوپر سے گاڑی پر
یا پیدل بھی گزرتے ہو
گزرنا ہے گزر جاؤ
*مگر اب تم سدھر جاؤ*
مجھے اک روڈ کہتے ہیں
پرانی روڈ کہتے ہیں
✍ *شکیل حنیف ٰ ہمارا مالیگاؤں*
نوٹ : نام ہٹا کر ادبی خیانت نہ کریں۔ 

اتوار، 12 مئی، 2019

القدس ہمارا ہے : نظم : شکیل حنیف

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا

غیروں کا کسی حال میں ہونے نہیں دیں گے

دشمن کی ہر اک چال کو ناکام کریں گے

القدس تو کیا ایک بھی ذرہ نہیں دیں گے

کہتا ہے اگر کوئی کسی اور کا اس کو

کہنے دو کہ ان کی کوئی اوقات نہیں ہے

بس آج نہیں صدیوں سے یہ کھیل ہے جاری

دشمن کی اس القدس پہ ناپاک نظر ہے

سوبار لٹا ہے یہ سوبار چھنا ہے

سوبار اسے ہم نے بھی آزاد کیا ہے

اس بار بھی دشمن نے نئی چال چلی ہے

چلنے دو ہر اک چال کو ناکام کریں گے

وہ چال چلیں لاکھ مگر حکم خدا سے

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا 

✍🏻 شکیل حنیف, مالیگاؤں, انڈیا

ہفتہ، 2 مارچ، 2019

AAJ KA SHER آج کا شعر

چھٹ جائے گا اندھیرا نئی روشنی کے بعد

مشعل بدست شخص بلند ہو رہا ہے آج

(شکیل حنیف)

بدھ، 13 فروری، 2019

کشمیر : نظم


جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

حسیں پھولوں کی وادی ہے
حسیں کرنوں کی وادی ہے
وہ برفیلی چٹانوں کے
حسیں جھرنوں کی وادی ہے
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

وہاں کی ہر گلی ہر گاؤں
کے منظر نرالے ہیں
وہاں کے لوگ بھی یارو
سراپا حسن والے ہیں
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

پہاڑوں پر جمی ہے برف
کیا منظر سہانا ہے
پھسل کر برف پر مستی
کی خاطر دل دیوانہ ہے
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

شکارے جھیل پر مستی میں
ہر دم گشت کرتے ہیں
سبھی دلکش نظارے
آدمی کو مست کرتے ہیں
جسے کشمیر کہتے ہیں
بہت ہی خوبصورت ہے

(شکیل حنیف)

اتوار، 5 نومبر، 2017

غزل

مزہ تو تب ہے تری داستاں سنانے میں 

کہ پہلے سے ہی ہو مشہور تو زمانے میں 


ذرا سی بھول ہوئی اور نام ڈوب گیا

تمام عمر لگی تھی جسے کمانے میں


نہر میں کود کہ جس کو بچا لیا میں نے

اسی کے ہاتھ ہیں شامل مجھے ڈوبانے میں


میں اپنے خون کے قطرے نثار کرتا گیا

بدھ، 11 اکتوبر، 2017

غزل

احباب کی فرمائش پر ایک تازہ غزل

*اب کے بادل کتنے کالے کالے ہیں*
*لگتا ہے کہ خوب برسنے والے ہیں*
*بوڑھی امّاں جانے کیا کیا سوچ رہی*
*گھر سے باہر دور پہ گھر کے جیالے ہیں*
*فکر کے مارے ان آنکھوں میں نیند کہاں*
*جن کے مکاں بس کچّی مٹّی والے ہیں*
*دھرتی کی بھی پیاس بجھے گی عرصے کی*
*تر ہونے کو بس ہونٹوں کے پیالے ہیں*
*چلو شکیل اب پارٹی چھوڑو گھر کی طرف*
*بادل اب کی خوب برسنے والے ہیں*
( *شکیل حنیف*)Ⓜ♓

پیر، 9 اکتوبر، 2017

Sher

وہ شیشہ بدن , آئینہ جب دیکھتا ہوگا
مجھ کانچ کے ٹکڑے کو فقط سوچتا ہوگا

*(شکیل حنیف)*

اتوار، 24 ستمبر، 2017

اردو U



Ⓜ *اردو*  ♓
یارو میری زبان ہے اردو
سب زبانوں کی جان ہے اردو
ہند کی آن بان ہے اردو
پاک و بنگلہ کی شان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
اردو غالب کا اک تخیل ہے
اردو اقبال کا ترانہ ہے
اردو ابن صفی کا ناول ہے
پریم چند کی اڑان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
نیوز چینل پہ اردو ہوتی ہے
ٹی وی سیرئیل میں اردو ہوتی ہے
ہوں ڈرامے تو اردو ہوتی ہے
ساری فلموں کی جان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
جس کی اردو زبان ہوتی ہے
اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے
علمیت کا نشان ہوتی ہے
میری نظموں کی شان ہے اردو
*یارو میری زبان ہے اردو*
( *شکیل حنیف, مالیگاؤں*)

جمعرات، 21 ستمبر، 2017

Baat

ایک تازہ *خیالی* نظم
      *بات*
بہت برسات ہوتی ہے
تو اس سے بات ہوتی ہے
کہ جب بھی بات ہوتی ہے
تو گھنٹوں بات ہوتی ہے
*یوں گھنٹوں بات ہوتی ہے مگر کیسے ذرا سوچو*
*مجھے انگلش نہیں آتی, اسے اردو نہیں آتی*
*(شکیل حنیف)*