‏تاریخ مالیگاؤں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تاریخ مالیگاؤں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 7 فروری، 2023

M. L. A. s of Malegaon مالیگاؤں کے ایم ایل ایز

 *مالیگاؤں کے ایم ایل ایز*


برائے یادداشت 9️⃣

*آج کی بات 1469*

✍🏻 *شکیل حنیف*

*ہمارا مالیگاؤں* Ⓜ️♓


آزادی وطن کے بعد پہلے پارلیمانی اور اسمبلی الیکشن 1951 کے اواخر اور 1952 کے اوائل میں ہوئے۔ آئیے مالیگاؤں تعلقہ کے دونوں حلقوں کے اب تک کے ایم ایل ایز پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 


♓ 1952 میں جب مالیگاؤں بامبے اسٹیٹ میں تھا۔ اس وقت شمالی مالیگاؤں اور جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں اس طرح دو حلقے تھے۔ 26 مارچ 1952 کو ہونے والے الیکشن میں شمالی مالیگاؤں سے کانگریس کے محمد صابر عبدالستار پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 12925 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے ہارون احمد انصاری کو 2231 ووٹوں سے شکست دی۔ ہارون احمد انصاری نے 10694 ووٹ حاصل کئے تھے۔ 

Ⓜ️ اسی طرح جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں سے بھاؤ صاحب ہیرے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 24077 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کوتک پوار کو 15628 ووٹوں سے شکست دی۔ کوتک آنند پوار کو 8449 ووٹ ملے۔ 


♓ 1957 کے بامبے اسمبلی الیکشن میں شمالی مالیگاؤں حلقہ صرف مالیگاؤں ہوگیا۔ 25 فروری 1957 کو الیکشن ہوا۔  اس بار پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ہارون احمد انصاری ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 22022 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سیٹنگ ایم ایل اے محمد صابر عبدالستار کو 2465 ووٹوں سے شکست دی۔ صابر ستار کو 19557 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1957 میں جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں حلقہ صرف ناندگاؤں ہوگیا۔ اس میں ناندگاؤں کے ساتھ مالیگاؤں کے دیہی علاقے شامل تھے۔  وہاں سے کانگریس کے بھاؤ صاحب ہیرے لگاتار دوسری بار ایم ایل اے بنے۔ انہوں نے 24256 ووٹ حاصل کرتے ہوئے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے شیورام دادا ہیرے کو 4642 ووٹوں سے شکست دی۔ شیورام ہیرے کو 19614 ووٹ ملے۔ 


♓ 1960 میں مہاراشٹر کے قیام کے بعد 1962 میں مہاراشٹر اسمبلی کے پہلے الیکشن ہوئے۔ 19 فروری 1962 کو ہونے والے اس الیکشن میں مالیگاؤں حلقے کیلئے پرجا سوشلسٹ پارٹی سے اس وقت کے صدربلدیہ ساتھی نہال احمد کو ٹکٹ ملا۔ سیٹنگ ایم ایل اے ہارون احمد انصاری نے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 24011 ووٹ حاصل کرتے ہوئے ساتھی نہال احمد کو 1049 ووٹوں سے شکست دیتے ہوئے دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔  ساتھی نہال احمد کو 22962 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1962 میں مالیگاؤں کے دیہاتوں اور ناتدگاؤں پر مشتمل ناندگاؤں حلقے سے بھاؤ صاحب ہیرے کے فرزند وینکٹ راؤ ہیرے کانگریس کے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 30651 ووٹ حاصل کرتے ہوئے شیورام ہیرے کو 16739 ووٹوں سے شکست دی۔ شیورام ہیرے کو 13912 ووٹ ملے۔


♓ 21 فروری 1967 کو آزادی کے بعد چوتھا اسمبلی الیکشن ہوا۔ مالیگاؤں حلقے سے ساتھی نہال احمد پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 21565 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے سیٹنگ ایم ایل اے ہارون احمد انصاری کو 7641 ووٹوں سے شکست دی۔ ہارون انصاری کو 13924 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1967 میں ناندگاؤں سے الگ کرکے مالیگاؤں کے دیہاتوں پر مشتمل دابھاڑی حلقہ وجود میں آیا۔ کانگریس کے وینکٹ راؤ بھاؤ صاحب ہیرے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 31382 ووٹ حاصل کئے اور سنگھٹا سوشلسٹ پارٹی کے ایس این پاٹل کو 19478 ووٹوں سے شکست دی۔ اس این پاٹل کو 11904 ووٹ ملے۔ 


♓ 5 مارچ 1972 کو ہونے والے اسمبلی الیکشن میں مالیگاؤں حلقے سے کانگریس کی عائشہ حکیم پہلی خاتون ایم ایل اے منتخب ہوئیں۔  انہوں نے 36848 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے سیٹنگ ایم ایل اے ساتھی نہال احمد کو 6119 ووٹوں سے شکست دی۔ ساتھی نہال احمد کو 30729 ووٹ حاصل ہوئے۔ 

Ⓜ️ 1972 میں دابھاڑی حلقے سے کانگریس کے بلی رام ہیرے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 28805 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے شیواجی پاٹل کو 10937 ووٹوں سے شکست دی۔ شیواجی پاٹل کو 17868 ووٹ ملے۔


♓ ایمرجنسی کے بعد 25 فروری 1978 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے ساتھی نہال احمد جنتاپارٹی سے امیدواری کرتے ہوئے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے 47237 ووٹ حاصل کرتے ہوئے مسلم لیگ کے غازی نسیم احمد خان کو 28045 ووٹوں سے شکست دی۔ غازی نسیم احمد نے 19192 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ اندرا کانگریس کی سیٹنگ ایم ایل اے عائشہ حکیم 6288 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہیں۔ 

Ⓜ️ 1978 میں دابھاڑی سے اندرا کانگریس کے بلی رام ہیرے دوبارہ ایم ایل اے بنے۔ انہوں نے 32918 ووٹ حاصل کی اور 25036 ووٹ حاصل کرنے والے جنتا پارٹی کے شیواجی پاٹل کو 7882 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 28 مئی 1980 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے جنتاپارٹی (جے پرکاش) کے ساتھی نہال احمد تیسری بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 42604 ووٹ حاصل کرتے ہوئے اندرا کانگریس کے حاجی شبیر احمد کو 1848 ووٹوں سے شکست دی۔ شبیر سیٹھ کو 40756 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1980 میں دابھاڑی حلقے سے اندرا کانگریس کے بلی رام ہیرے تیسری بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 38906 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس ( یو ) کے امیدوار وینکٹ راؤ ہیرے کو 8121 ووٹوں سے شکست دی۔ وینکٹ ہیرے کو 30785 ووٹ ملے۔  


♓ 3 فروری 1985 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے ساتھی نہال احمد چوتھی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے جنتاپارٹی سے امیداوری کرتے ہوئے 48254 ووٹ حاصل کی اور اندرا کانگریس کے حاجی شبیر احمد کو 3238 ووٹوں سے شکست دی۔ شبیر سیٹھ کو 45016 ووٹ ملے۔ 

Ⓜ️ 1985 میں دابھاڑی حلقے سے انڈین کانگریس (سوشلسث) کی امیدوار اور وینکٹ راؤ ہیرے کی اہلیہ پشپاتائی ہیرے ایم ایل اے بنیں۔ انہوں نے 39876 ووٹ حاصل کرتے ہوئے سیٹنگ ایم ایل اے بلی رام ہیرے کی اہلیہ اندرا کانگریس کی اندرابائی ہیرے کو 3228 ووٹوں سے شکست دی۔ اندرابائی ہیرے کو 36648 ووٹ ملے۔


♓ 27 فروری 1990 کو ہونے والے الیکشن میں جنتادل کے ساتھی نہال احمد مالیگاؤں سے پانچویں بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 67944 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 35668 ووٹ حاصل کرنے والے اندرا کانگریس کے حاجی شبیر احمد کو 32276 ووٹوں سے شکست دی۔ 

Ⓜ️ 1990 میں دابھاڑی سے پشپاتائی ہیرے اندرا کانگریس سے امیدواری کرتے ہوئے دوبارہ ایم ابل اے بنیں۔ آپ نے 43460 ووٹ حاصل کی اور 32577 ووٹ حاصل کرنے والے شیوسینا کے اشوک نکم کو 10883 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 12 فروری 1995 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے جنتادل کے ساتھی نہال احمد چھٹی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 65621 ووٹ حاصل کرتے ہوئے آزاد امیدوار شیخ رشید شیخ شفیع کو 31203 ووٹوں سے شکست دی۔ شیخ رشید کو 34418 ووٹ ملے۔ اس الیکشن میں بی جے پب کے پرلہاد شرما 23437 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے اور  کانگریس کے حاجی یونس عیسی 20948 ووٹ حاصل کرتے ہوئے چوتھے نمبر پر رہے۔ 

Ⓜ️ 1995 میں دابھاڑی سے کانگریس کی پشپا تائی ہیرے تیسری بار ایم ایل اے بنیں۔ انہوں نے 40126 ووٹ حاصل کرتے ہوئے آزاد امیدوار بلی رام ہیرے کو 2410 ووٹوں سے شکست دی۔ بلی رام ہیرے کو 37716 ووٹ ملے۔ 


♓ 11 ستمبر 1999 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سے کانگریس کے شیخ رشید شیخ شفیع ایم ابل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 74433 ووٹ حاصل کرتے ہوئے جنتادل سیکولر کے سیٹنگ ایم ایل اے ساتھی نہال احمد کو 26179 ووٹوں سے شکست دی۔ ساتھی نہال احمد کو 48254 ووٹ حاصل ہوئے۔ 

Ⓜ️ 1999 میں دابھاڑی سے پشپا تائی ہیرے کے فرزند پرشانت ہبرے راشٹروادی کانگریس سے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 41304 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 35275 ووٹ حاصل کرنے والے بی جے پی کے سریش نکم کو 6029 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 13 اکتوبر 2004 کو ہونے والے الیکشن میں کانگریس کے شیخ رشید شیخ شغیع دوبارہ مالیگاؤں کے ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 80579 ووٹ حاصل کرتے ہوئے جنتادل سیکولر کے ساتھی نہال احمد کو 19370 ووٹوں سے شکست دی۔ ساتھی نہال احمد کو 61209 ووٹ حاصل ہوئے۔ 

Ⓜ️ 2004 میں دابھاڑی حلقے سے آزاد امیدواری کرتے ہوئے دادا بھسے پہلی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 68079 ووٹ حاصل کرتے ہوئے راشٹروادی کے پرشانت ہیرے کو 9017 ووٹوں سے شکست دی۔ پرشانت ہیرے کو 59062 ووٹ ملے۔ 


♓ 2009 میں اسمبلی حلقوں کی نئی حدبندی ہوئی۔ معمولی ردوبدل کے ساتھ شہری علاقے پر مشتمل مالیگاؤں حلقہ مالیگاؤں سینٹرل اور تعلقہ کے دیہاتوں پر مشتمل دابھاڑی حلقہ مالیگاؤں آؤٹر کے نام سے وجود میں آیا۔  13 اکتوبر 2009 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سینٹرل سے مفتی محمد اسمعیل ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 71157 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے شیخ رشید کو 17919 ووٹوں سے شکست دی۔ شیخ رشید کو 53238 ووٹ حاصل ہوئے۔ جنتادل سیکولر کے ساتھی نہال احمد 23222 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہے۔ 

Ⓜ️ 2009 میں مالیگاؤں آؤٹر سے دادا بھسے نے شیوسینا سے امیدواری کی اور دوبارہ ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے 95137 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 65073 ووٹ حاصل کرنے والے راشٹروادی کے پرشانت ہیرے کو 30064 ووٹوں سے شکست دی۔ 


♓ 15 اکتوبر 2014 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سینٹرل سے کانگریس کے شیخ آصف شیخ رشید ایم ایل اے متتخب ہوئے۔ آپ نے 75326 ووٹ حاصل کرتے ہوئے راشٹروادی کانگریس کے امیدوار اور سیٹنگ ابم ایل اے مفتی محمد اسمعیل کو 16151 ووٹوں سے شکست دی۔ مفتی محمد اسمعیل کو 59175 ووٹ ملے۔ اس الیکشن میں ایم آئی ایم کے عبدالمالک یونس عیسی 21009 ووٹوں کے ساتھ تیسرے جبکہ جنتادل سیکولر کے ساتھی بلنداقبال 6704 ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔ 

Ⓜ️ 2014 میں آؤثر سے شیوسینا کے دادا بھسے تیسری بار ایم ایل اے بنے۔ 

آپ نے 82093 ووٹ حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کے پون ٹھاکرے کو 37421 ووٹوں سے شکست دی۔ پون ٹھاکرے کو 44672 ووٹ ملے۔ 


♓ 21 اکتوبر 2019 کو ہونے والے الیکشن میں مالیگاؤں سینٹرل سے مفتی محمد اسمعیل دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ آپ نے ایم آئی ایم سے امیدواری کرتے ہوئے 117242 ووٹ حاصل کی اور 78723 ووٹ حاصل کرنے والے کانگریس کے سیٹنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو 38519 ووٹوں سے شکست دی۔ 

Ⓜ️ مالیگاؤں آؤٹر میں 2019 میں شیوسینا کے دادا بھسے چوتھی بار ایم ایل اے بنے۔ آپ نے 121252 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے ڈاکٹر تشار شیواڑے کو 47684 ووٹوں سے شکست دی۔ تشار شیواڑے کو 75568 ووٹ حاصل ہوئے۔


♓ اس طرح آزادی کے بعد سے اب تک مالیگاؤں میں 15 اسمبلی الیکشن ہوئے جن میں 7 لیڈرس ایم ایل اے بن چکے ہیں۔ 

ساتھی نہال احمد چھ مرتبہ۔ 

ہارون احمد انصاری ۔ شیخ رشید اور مفتی محمد اسمعیل دو دو مرتبہ۔ 

محمد صابر عبدالستار ۔ عائشہ حکبم اور شیخ آصف ایک ایک بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ 

Ⓜ️ دابھاڑی یا مالیگاؤں آؤٹر میں بھی اب تک 15 الیکشن ہوئے ہیں۔ وہاں کے 6 لیڈرس ایم ایل اے بن چکے ہیں۔ 

دادا بھسے چار مرتبہ۔ 

بلی رام ہیرے اور پشپاتائی ہیرے تبن تین مرتبہ۔ 

بھاؤ صاحب ہیرے اور وینکٹ راؤ ہیرے دو دو مرتبہ اور پرشانت ہیرے ایک مرتبہ ایم ایل اے بن چکے ہیں۔

جمعہ، 4 فروری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

 1945 سے 1970 پچیس سالوں کی مالیگاؤں اور دنیا کی تاریخ سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی *اب تک کی تمام سات قسطیں ایک ساتھ*


*باب اول : دیباچہ*


کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو کہا گیا

سورج ہیں زندگی کی رمق چھوڑ جائیں گے

تادیر جگمگائیں گی ان کی نشانیاں

وہ ڈوب بھی گئے تو شفق چھوڑ جائیں گے۔


قارئین ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا حاجی محمد حنیف صابر۔ آپ کا 74 سالہ عرصہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ تعلیمی سماجی دینی سیاسی صنعتی

ہفتہ، 29 جنوری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں ۔ باب ہفتم

 1965 سے 1970 تک کے شہری قومی اور عالمی واقعات اور اس دور کے حالات کو پیش کرتی سوانح حاجی حنیف صابر کی ساتویں قسط ۔ باب ہفتم

حاجی حنیف صابر کے والد محترم محمد صابر پہلوان نہایت نرم دل اور شفیق طبیعت کے مالک تھے۔ آپ شروع سے ہی گھر کے معاملات میں حاجی صاحب کی آراء کو کافی اہمیت دیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شادی بیاہ ہو یا موت میت شروع سے ہی حاجی صاحب تمام کاموں میں قائدانہ کردار ادا کیا کرتے تھے۔ 1965 میں مالیگاؤں کی آبادی ایک لاکھ اڑتالیس ہزار ہوچکی تھی۔ اس وقت پاورلوم صرف

جمعہ، 21 جنوری، 2022

باب ششم ۔ سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

 1960 سے 1965 ان پانچ سالوں کی مختصر شہری ۔ ریاستی ۔ ملکی اور عالمی تاریخ سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی چھٹی قسط (باب ششم)

ساٹھ کی دہائی آتے آتے 1950 میں 54 ہزار کی آبادی رکھنے والا مالیگاؤں ایک لاکھ کا ہندسہ پار کرتے ہوئے 1960 میں ایک لاکھ پندرہ ہزار کی آبادی والا شہر بن چکا تھا۔ حاجی حنیف صابر لڑکپن سے نوجوانی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فائنل پاس کرنے کے بعد

21 جنوری 2022 مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ مالیگاؤں جنرل ہاسپٹل میں نئے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر لکشمن چوہان کی تقرری


2️⃣ 24 جنوری 2022 سے مہاراشٹر میں پہلی سے بارہویں اسکولیں شروع کرنے کا اعلان۔ 

شہریان مالیگاؤں نے خوشی کا اظہار کیا۔

جمعرات، 20 جنوری، 2022

20 جنوری 2022 مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ عیدگاہ جاگنگ ٹریک پر کارپوریشن میٹنگ میں بحث نہ کروانے پر اپوزیشن لیڈر شان ہند نے واک آؤٹ کیا۔


2️⃣ سلیم اپسرا نے مالیگاؤں شہر کانگریس کے کارگزار صدر کے طور پر عہدے کا جائزہ لیا۔


3️⃣ مالیگاؤں دھماکہ معاملے میں گواہوں کے انحراف کو لے کر کل جماعتی تنظیم نے اے ٹی ایس چیف سے ملاقات کی۔

بدھ، 19 جنوری، 2022

19 جنوری 2022 مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣  جنرل اسپتال کی 18 طالبات کورونا پوزیٹیو


2️⃣ ریت کی غیر قانونی نقل وحمل کو لے کر 10 اسکواڈ تشکیل

منگل، 18 جنوری، 2022

18 جنوری 2022 مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ مالیگاؤں کے دو اہم عہدے داران پرانت آفیسر اور اے ایس پی کورونا پوزیٹیو۔


2️⃣ 12 نومبر معاملے میں زیر حراست مستقیم ڈگنٹی طبیعت کی خرابی کی بنا پر  ناسک سول اسپتال میں ایڈمٹ


3️⃣ 12 نومبر معاملے میں عبدالرحمن شاہ کی درخواست ضمانت مسترد

پیر، 17 جنوری، 2022

17 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ لشکر والی عیدگاہ پر جاگنگ ٹریک کی تعمیر۔ جمیتہ العماء نے تعمیر روکنے کیلئے میورنڈم دیا۔


2️⃣ 12 نومبر معاملہ۔ عبدالرحمن شاہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کل۔

اتوار، 16 جنوری، 2022

16 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم وافعات

 1️⃣ مالیگاؤں میں کورونا نہ پھیلنے کی وجوہات جاننے کیلئے سروے جاری۔ 1368 لوگوں کا اینٹی باڈی ٹیسٹ ہوا۔

2️⃣ مالدہ زمین تنازعہ معاملے میں ایک پستول ضبط۔ فرار ملزمین کی تلاش جاری۔

3️⃣ ہوٹل شاہی گولڈن کے پیچھے فیئر کمپنی کے ملازم سے موبائل چھیننے کی کوشش۔ نہ دینے پر ملزمین نے فائر کردیا۔

ہفتہ، 15 جنوری، 2022

15 جنوری 2022 مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ تین دہائی پرانا بلی پترا قرض معاملہ حل۔ قرض لینے والے پانچ ہزار ادا کرکے نیل سرٹیفکٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ 


2️⃣ مالیگاؤں سینٹرل حلقے سے 20 ہزار ڈبل ناموں کو حذف کیا گیا۔

جمعہ، 14 جنوری، 2022

14 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ مالیگاؤں شہر میں کورونا کیوں نہیں۔ سروے جاری ۔ 


2️⃣ دواخانوں میں سردی زکام کے مریضوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ 


3️⃣ کارپوریشن نے بچوں کی شرح پیدائش کے ریکارڈ جاری کئے۔ 2021 میں لڑکوں کے مقابلے 1176 لڑکیوں کی پیدائش کم ہوئی۔ 


4️⃣  بجلی مسائل کی یکسوئی کےلیے صدر جنتادل شان ہند نہال احمد کا کارپوریشن کمشنر کے نام مکتوب۔

جمعرات، 13 جنوری، 2022

باب پنجم ۔ سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

 1955 سے 1960 تک کے شہر ملک اور دنیا کے حالات و واقعات اور حاجی حنیف صابر کے حالات زندگی پر مشتمل سوانح حاجی حنیف صابر کی پانچویں قسط

پچاس کی دہائی میں دنیا میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ دنیا کے بیشتر غلام ممالک یکے بعد دیگرے برطانیہ اور فرانس جیسی سامراجی طاقتوں سے آزادی حاصل کرتے گئے۔ وہ برطانیہ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اپنی مقامی سرحدوں تک سکڑ گیا تھا۔ 1955 میں مالیگاؤں کی آبادی 78 ہزار تھی۔ اس وقت صدر بلدیہ کی میعاد ایک سال ہوتی تھی۔  مئی 1955 میں ڈاکٹر شیخ سلیم صدربلدیہ بنے اور ایک سال بعد 1956 میں عباس علی قاضی اس عہدے پر براجمان ہوئے۔ 1956 میں ہی مرارجی دیسائی کی جگہ  یشونت راؤ چوہان بامبے اسٹیٹ کے وزیراعلی بنے۔ آپ کو بامبے کا آخری اور مہاراشٹر کا پہلا وزیراعلی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس دوران حاجی حنیف صابر پرائمری میں زیرتعلیم تھے۔ اسکول کے بعد آپ گھر کے کاموں میں بھی  والدین کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ گھر کا پاورلوم تھا اس لئے جب بھی موقع ملتا لوم چلانے کی مشق کیا کرتے تھے۔  1956 میں دوسری عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔  مشہور زمانہ نہر سوئز مصر کے زیر انصرام آئی۔  اوپیک ۔ ناسا ۔ جیسے کئی عالمی اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ 

1957 میں مالیگاؤں حلقہ پارلیمان وجود میں آیا۔ اس سال بھارت کے پارلیمانی حلقوں کی ازسر نو تشکیل ہوئی تھی اور ناسک حلقہ پارلیمان کے بیشتر حصوں پر مشتمل ایک نیا حلقہ پارلیمان مالیگاؤں کے نام سے بنا تھا۔ اس طرح ملک کے دوسرے پارلیمانی الیکشن میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے یادو نارائن جادھو مالیگاؤں کے پہلے ایم پی منتخب ہوئے۔ آپ نے کانگریس کے ملہار بیڑکر کو شکست دی۔ پنڈت نہرو ایک بار پھر وزیراعظم بنائے گئے۔ 1957 کے صدارتی انتخاب میں ایک بار پھر ڈاکٹر راجندر پرساد صدرجمہوریہ اور ڈاکٹر رادھا کرشنن نائب صدر منتخب ہوئے۔ اسی سال 25 فروری 1957 کو بامبے اسمبلی کے بھی الیکشن ہوئے جس میں شمالی مالیگاؤں حلقے سے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ہارون احمد انصاری ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے مالیگاؤں کے اولین اور کانگریس کے سیٹنگ ایم ایل اے صابر ستار کو شکست دی اور پچھلے الیکشن کی ہار کا بدلہ لیا۔ اس وقت آج کے مالیگاؤں آؤٹر کے بیشتر علاقے شمالی ناندگاؤں و جنوبی مالیگاؤں نامی حلقہ اسمبلی میں شامل تھے۔ وہاں سے بھاؤ صاحب ہیرے لگاتار دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ یشونت راؤ چوہان بامبے کے وزیراعلی بنے۔ مالیگاؤں کے ایم پی اور ایم ایل اے دونوں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے تھے۔ شہر میں کانگریس کے ساتھ ساتھ سوشلسٹ پارٹی کا زور تھا۔ مئی 1957 میں میونسپل کونسلر اور ایم ایل اے ہارون احمدانصاری مالیگاؤں کے صدربلدیہ بھی بنائے گئے۔ یہ وہ سال تھا جب روس نے اسپوتنک نامی زمین کے گرد گردش کرنے والا پہلا مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجا۔ حاجی حنیف صابر بچپن سے لڑکپن کی جانب رواں دواں تھے۔ اسکول کے ساتھ ساتھ مسجد خانقاہ اشرفیہ اور دارالعلوم اہلسنت اشرفیہ آپ کی دلچسپی اور سرگرمیوں کا مرکز تھے۔ جب بھی اسکول اور گھریلو مصروفیات سے فرصت ملتی مسجد و مدرسے کو وقت دیتے اور اکثر علماء کی محفلوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ 

1958 میں میونسپل الیکشن ہوئے۔ ساتھی نہال احمد لگاتار دوسری بار کونسلر منتخب ہوئے۔  وٹھل گنپت کاڑھے صدربلدیہ بنے۔ اسی چناؤ میں قلعہ سے عبدالحمید عظیم اللہ المعروف حمید ممبر پہلی بار کونسلر بنے۔ آگے چل کر آپ حاجی حنیف صابر کے خسر بنے۔ جس کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔ 1958 میں ہی مشہور مسلم رہنما مولانا آزاد کا انتقال ہوا۔ 

1959 میں حاجی حنیف صابر نے ساتویں جماعت کامیاب کی۔ اس زمانے میں ساتویں پاس کرنا فائنل پاس کرنا کہلاتا تھا اور اس کی کافی اہمیت تھی۔ آپ آگے پڑھنا چاہتے تھے۔ آپ کے اساتذہ اور ساتھیوں نے بھی کافی کوشش کی کہ آپ تھوڑا اور پڑھ کر ٹیچر بن جائیں مگر آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لئے آگے کی پڑھائی ترک کرکے پاورلوم کے آبائی پیشے سے منسلک ہوگئے اور گھر کی ذمہ داریوں میں والد کا ہاتھ بٹانے لگے۔ گو کہ آپ نے صرف ساتویں تک تعلیم حاصل کی تھی مگر آپ کا دماغ کمپیوٹر کی طرح چلتا تھا۔ اکثر جب کوئی حساب کتاب کا معاملہ ہوتا یا کوئی تحریر لکھنی ہوتی آپ اتنی تیزی سے حساب کرتے یا جملوں کی ڈرافٹنگ کرتے کہ مجھ جیسے کئی ڈگری یافتہ عش عش کرتے رہ جاتے۔ 1959 میں ڈاکٹر شیخ سلیم اور 1960 میں رگھونندن پاٹل شہر کے صدربلدیہ رہے۔ 1959 میں ہی روس کی جانب سے پہلا غیر انسانی راکٹ چاند پر پہنچا۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی دو بندروں کے ساتھ کسی جاندار پر مشتمل پہلا راکٹ خلاء میں روانہ کیا۔ 1960 آتے آتے مالیگاؤں کی آبادی ایک لاکھ پندرہ ہزار ہوچکی تھی۔  یکم مئی 1960 کو بامبے اسٹیٹ تقسیم کرکے گجرات اور مہاراشٹر دو نئی ریاستیں بنائی گئیں۔ اس کا تفصیلی ذکر اگلے باب میں آئے گا۔

13 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ مستقبل قریب میں جنتا بینک الیکشن کے پیش نطر ابتدائی فہرست رائے دہندگان جاری۔ بینک کے ووٹرس ہیڈ آفس میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ 


2️⃣ 2012 کے ایک معاملے میں مچھندر شرکے عدم ثبوتوں کی بنا پر بری


3️⃣ مالدہ زمین تنازعے میں عبدالمالک سمیت تین افراد کو عدالتی تحویل


4️⃣ مالیگاؤں میں اب تک 85 فیصد افراد نے پہلا ڈوز لے لیا۔

بدھ، 12 جنوری، 2022

12 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ شہر میں کورونا کے کم معاملات ہونے کی وجوہات جاننے کیلئے ڈاکٹرس پر مشتمل 19 ٹیموں کا سروے شروع


2️⃣ مالدہ زمین تنازعہ میں ایک اور ملزم گرفتار


3️⃣ کشمیر میں برف باری کے بعد شہر میں سرد ہواؤں کا زور۔ درجہ حرارت میں کمی۔

مالیگاؤں کے کورونا فری ہونے کی وجوہات ۔ ایک جائزہ


  ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کورونا کی تیسری لہر نے دہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ الحمدللہ سینٹرل مالیگاؤں میں کورونا کے سیریس مریض نہیں کے برابر ہیں اور شہری زندگی حکومتی احکامات کی پاسداری کے ساتھ حسب معمول رواں دواں ہے۔ بیرون شہر کے بہت سے احباب اس کی وجہ جاننا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں میرا ذاتی مشاہدہ پیش کررہا ہوں جو غلط بھی ہوسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہی وجہ ہو۔


1. خوف پر قابو


کورونا کے ابتدائی دنوں میں تو مالیگاؤں شہر پر بھی خوف طاری رہا لیکن کچھ دن بعد ہی شہریان نے کورونا کی دہشت دل سے نکال دی اور دوسری و تیسری لہر کے دوران اسے خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔  پہلے سال اکثر اموات خوف و دہشت اور دواخانوں کے بند ہونے کی وجہ سے ہی ہوئی تھیں۔


2. فوری علاج


شہر کے ہر محلے میں موجود ڈاکٹرس بے خوفی سے علاج کررہے ہیں اور لوگ بھی سردی زکام ہونے پر فورا دوا لے رہے ہیں۔ جس سے بیماری کا علاج پہلے ہی مرحلے میں ہوجاتا ہے اور مرض بڑھ نہیں پاتا۔ مرض چھپانا جان لیوا ہوتا ہے۔ مالیگاؤں میں بیرون شہر کے مریضوں کا بھی بڑے پیمانے پر علاج کیا جارہا ہے۔ پہلے سال دواخانوں کے بند ہونے کی وجہ سے بہت سی اموات ہوئی تھیں۔ 


3. کھلی اور تازہ ہوا


باوجود ترقی کے شہر کی اکثریت آج بھی اے سی والے بند کمروں میں نہیں رہتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اے سی سے کورونا ہوتا ہے مگر کھلی اور تازہ ہوا بند کمروں سے بہتر ہے۔


4. بلاضرورت دواؤں سے گریز


بہت سے افراد غیر تصدیق شدہ ہائی پاور ادویات کا بیجا استعمال کررہے ہیں۔ بلاضرورت ان کا استعمال نقصاندہ بھی ہوسکتا ہے۔ مالیگاؤں میں ایسی دواؤں کی اتنی چاہت نہیں ہے۔


5. کم ٹیسٹنگ


اخباری رپورٹ کے مطابق شہر میں سردی زکام کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔ دوسری طرف ٹیسٹنگ بہت کم ہورہی ہے۔ کچھ افراد اسے بھی کم مریض ہونے کی وجہ مان رہے ہیں۔


المختصر کسی بھی مرض کو چھپائے بنا اور اس سے ڈرے بنا اس کا فوری علاج کیا جائے تو بڑی حد تک اس پر قابو پایا جاسکتا ہے اور مالیگاؤں والے اسی اصول پر عمل پیرا ہیں۔ 

 

(یاد رہے یہ کوئی حتمی رپورٹ نہیں کلی طور پر میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ سب کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ )


✍🏻 شکیل حنیف ۔ مالیگاؤں ۔ انڈیا

منگل، 11 جنوری، 2022

11 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ پوری دنیا کورونا کی تیسری لہر  سے پریشان۔ ایسے میں مالیگاؤں شہر اب تک بڑی حد تک محفوظ۔ 

وجہ جاننے اور ریسرچ کے مقصد سے مہاراشٹر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کی وائس چانسلر اور ناسک کے ضلع کلکٹر کا مالیگاؤں دورہ۔


2️⃣ شہر کی بنکر تنظیموں کا مختلف مطالبات کو لے کر بجلی کمپنی آفس پر مظاہرہ۔


3️⃣ شہر میں اب تک 72 فیصد افراد نے کورونا ویکسین لی۔

پیر، 10 جنوری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

باب چہارم : 1950 سے 1955 تک کے شہری قومی اور عالمی واقعات و حالات سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی چوتھی قسط


 26 جنوری 1950 کو دستور کے نفاذ کے ساتھ ہی ہندوستان ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس وقت حاجی حنیف صابر چار سال کے تھے۔ 1950 میں مالیگاؤں کی آبادی 54000 تھی۔  سیاست میں خانصاحب اور مولوی عبدالرزاق کی جگہ صابر ستار ۔ ہارون انصاری ۔ آزاد انصاری ۔ ڈاکٹر شیخ سلیم ۔ عباس علی قاضی جیسے نئے لیڈرس لینے لگے تھے۔ حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد بھی سیاست میں داخل ہوچکے تھے۔ دسمبر 1950 تک مولوی عبدالرزاق صدربلدیہ رہے۔ 1950 میں میونسپل الیکشن ہوئے اور دسمبر 1950 سے 1952 تک منگل داس بھاؤسار شہر کے صدربلدیہ رہے۔ ملکی حالات پر نظر ڈالیں تو 1950 میں نئے دستور کے مطابق ملک میں نئی حکومت کیلئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ 1951 کے اواخر اور 1952 کے شروع میں آزاد ہندوستان میں لوک سبھا کے پہلے انتخابات ہوئے۔ مالیگاؤں اس وقت بامبے اسٹیٹ میں تھا۔ آگے چل کر یکم مئی 1960 میں بامبے اسٹیٹ کی تقسیم ہوئی اور گجرات اور مہاراشٹر دو نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ تب مالیگاؤں مہارشٹر کے حصے میں آیا۔ آزادی سے قبل بامبے اسٹیٹ بامبے پریسیڈینسی کہلاتی تھی جس کا ہیڈکوارٹر بامبے شہر تھا۔ بامبے شہر کی بھی دلچسپ تاریخ ہے۔ یہ پہلے پرتگیزوں کے قبضے میں تھا۔ 1662 میں شہزادہ چارلس دوم کی شادی پرتگیز شہزادی کیتھرائن سے ہوئی۔ اس وقت بامبے شہر بطور جہیز شہزادہ چارلس کو دے دیا گیا۔ بالاصاحب گنگادھر کھیر بامبے اسٹیٹ کے پہلے وزیراعلی تھے۔ آپ 1952 تک بامبے کے وزیراعلی رہے۔  آزادی کے بعد 1952 میں پہلے پارلیمانی الیکشن ہوئے۔ شہر مالیگاؤں ناسک حلقہ پارلیمان کا حصہ تھا۔ 27 مارچ 1952 کو الیکشن ہوا جس میں کانگریس کے دیشپانڈے گوند ہری نے کامیابی حاصل کی اور ناسک حلقے کے پہلے ایم پی بنے۔ پنڈت جواہر لال نہرو ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پارلیمانی الیکشن کے ساتھ 1952 میں ہی بامبے اسٹیٹ کی اسمبلی کے بھی انتخابات ہوئے۔ آج کی طرح اس وقت بھی شمالی مالیگاؤں اور جنوبی مالیگاؤں + شمالی ناندگاؤں اس طرح دو حلقہ اسمبلی تھے مگر حدبندی تھوڑا الگ تھی۔  شمالی مالیگاؤں سے محمد صابر عبدالستار المعروف صابر ستار نے ہارون انصاری کو شکست دی اور ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس طرح آپ نے آزادی کے بعد شہر کے پہلے ایم ایل اے ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اسی طرح جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں نامی حلقہ اسمبلی سے بھاؤ صاحب ہیرے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس الیکشن کے بعد مرار جی دیسائی بامبے کے وزیراعلی منتخب ہوئے۔ نیا دستور بننے کے بعد 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد بھارت کے پہلے صدر جمہوریہ منتخب ہوئے تھے لیکن 1952 میں پہلی بار صدارتی انتخاب ہوا جس میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے کے ٹی شاہ کو شکست دی اور دوسری بار صدر جمہوریہ منتخب ہوئے۔ اسی طرح ڈاکٹر رادھا کرشنن بلامقابلہ نائب صدر منتخب کئے گئے۔ عالمی منظر نامے پر شمالی و جنوبی کوریا ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے۔ روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔

اسی دوران 1952 میں چھ سال کی عمر میں حاجی حنیف صابر کا داخلہ چونا بھٹی پر اسکول نمبر 4 میں  کروایا گیا۔ جماعت اول سے ہی آپ کو مشہور مورخ ٰ ادیب اور شاعر ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب جیسے دوستوں کا ساتھ ملا۔ 

ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب بتاتے ہیں کہ پرائمری اسکول میں ان کے ایک ٹیچر ناصر جناب نے بچوں میں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا کرنے کی غرض سے کلاس کے تمام طلبہ کا ایک تخلص رکھا تھا۔ اس طرح الیاس صدیقی صاحب کو ناصح اور حنیف صابر صاحب کو ہلچل تخلص ملا تھا۔ صدیقی صاحب نے مذاقا کہا کہ یہ تخلص کا ہی اثر تھا کہ میں زندگی بھر نصیحت کرتا رہا اور حنیف نے ہلچل مچائے رکھی۔ دینی تعلیم آپ نے خانقاہ اشرفیہ سے حاصل کی اور ناظرہ قرآن پاک ختم کیا۔ آپ حفظ تو نہ کرسکے لیکن قرآن کی اکثر سورتیں زبانی یاد تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں تلاوت کے وقت کسی سے غلطی ہوجائے تو فورا اصلاح کیا کرتے تھے۔  

حاجی صاحب شروع سے ہی کافی ذہین تھے۔ میری پھوپھی بتاتی ہیں کہ آپ کو دین سے اتنا لگاؤ تھا کہ بچپن میں زیادہ تر وقت مسجد میں علماء کی صحبت میں ہی گزرتا تھا۔ 

1952 میں شہر مندی کی شدید لپیٹ میں آگیا۔ لوگ کام کی تلاش میں کھیتوں میں جانے لگے۔ کوئی پھلی توڑتا تو کوئی گنا توڑ کر کچھ پیسے کما لیتا۔ حکومت کی جانب سے بطور امداد لوگوں سے کھڈا کھودوانے کا کام  شروع کیا گیا۔ اسی دوران شہر میں پہلی بار سفید کپڑوں کی تیاری شروع ہوئی اور بہت سارے لوگ اس نئے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ 1952 میں آزاد انصاری صدربلدیہ بنے۔ 1953 میں ڈاکٹر شیخ سلیم کو یہ عہدہ ملا لیکن اسی سال پھر سے آزاد انصاری صدربلدیہ بن گئے۔ 1954 میں شہر کی پہلی اردو ہائی اسکول اینگلو اردو ہائی اسکول انجمن ترقی تعلیم کے زیر انصرام آئی اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول بنی۔  1954 میں میونسپل انتخابات ہوئے۔ اس باڈی میں ہارون احمد انصاری صدربلدیہ منتخب ہوئے۔ اسی باڈی میں حاجی حنیف صابر کے سیاسی استاد ۔ خیرخواہ ۔ ساتھی اور رہنما ساتھی نہال احمد بھی پہلی بار کونسلر منتخب ہوئے۔ آپ کا اور حاجی حنیف صابر کا ساتھ مرتے دم تک قائم رہا۔ حاجی حنیف صابر نے سیاست میں کب اور کس طرح قدم رکھا اس کا تفصیلی ذکر آگے کے ابواب میں آئے گا۔

10 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ آل انڈیا لائیر کونسل کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے 12 نومبر تشدد معاملے میں مالیگاؤں کا دورہ کیا۔ کئی افراد سے ملاقات۔


2️⃣ شہر کی بیشتر اسکولوں میں پہلی سے نویں جماعتیں اگلے اعلان تک بند۔ آن لائن پڑھائی کا آغاز۔


3️⃣ ایک طرف اسکولیں بند وہیں دوسری طرف سڑکوں اور بازاروں میں پہلے کی ہی طرح ہجوم۔ کوئی تبدیلی نہیں۔

اتوار، 9 جنوری، 2022

9 جنوری 2022 ۔ مالیگاؤں کے اہم واقعات

 1️⃣ مالدہ شیوار زمبن تنازعہ میں عبدالمالک اور شیخ احسان سمیت چار گرفتار 


2️⃣ شہر میں موسم تغیر پذیر۔ 

بارش کے بعد سرد ہواؤں میں اضافہ۔

 

3️⃣ کورونا تیسری لہر کی وجہ سے شہر کی کئی اسکولوں کی جانب سے پہلی سے نویں  جماعتوں کے طلبہ کو دوسرے اعلان تک اسکول نہ آنے کے پیغامات موصول ہوئے۔