شکیل کے خیالات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شکیل کے خیالات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 10 مارچ، 2022

موبائل سے باہر نکلیں۔ دنیا بہت خوبصورت ہے

موبائل کے سحر نے ہم سب کو انجانے طور پر اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا ہے۔ کوئی لاکھ انکار کرے لیکن ہم میں سے بیشتر افراد موبائل کے غلام بن چکے ہیں۔ محفل ہو یا تنہائی ہر ایک دو منٹ پر موبائل چیک کرنا معمول بن چکا ہے۔ دوستوں میں بیٹھے ہیں اور موبائل میں مگن ہیں۔ بیوی کروٹیں بدل رہی ہے اور ہم رات ختم ہونے سے قبل ویب سیریز مکمل کرنے کے فراق میں ہیں۔ ہم خاتون ہیں تو شوہر کی دلجوئی سے زیادہ ہمیں پاکستانی ڈراموں سے پیار ہے۔  سوشل میڈیا اور وہاٹس ایپ نے ہمیں اپنوں سے دور کردیا ہے۔ پاس بیٹھے بیوی بچے شوہر ساس سسر بہن بھائی ماں باپ ہماری ایک نظر کرم کے متلاشی ہوتے ہیں اور ہم ہزاروں میل دور انجان دوستوں کو منانے میں لگے ہوتے ہیں۔ وہاٹس ایپ کے ہر گروپ کا ہر میسیج پڑھنا لازمی سمجھا جارہا ہے۔ کوئی سوشل میڈیا پر نہیں تو یوٹیوب چلانے ۔ گیم کھیلنے یا فلمیں دیکھنے میں مگن ہے۔ اگر غور کریں تو یہ موبائل ہمارا روزانہ کا بیشنر وقت اپنے نام کرچکا ہے۔ 

ایسا نہیں کہ ہم اس سے دور نہیں ہونا چاہتے مگر ایک لت سی لگ جاتی ہے۔ لت حد سے بڑھ جائے اس سے پہلے وقفہ لیں۔ سوچیں نہیں کرگزریں۔ ہفتے یا مہینے میں ایک دن دو دن یا جتنا ہوسکے موبائل کا استعمال ترک کردیا کریں تاکہ اس کی لت نہ لگے۔ بہت ہوا تو کچھ ضروری پیغامات نہیں مل پائیں گے مگر موبائل ہمارے کنٹرول میں رہے گا۔ کوشش کریں کہ مثبت کاموں کیلئے اس کا استعمال ہو۔ ضرورت بھر استعمال فائدہ مند ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔ کچھ پڑھنا ہو یا لکھنا ہو تو ٹھیک ہے۔ کچھ ضروری ایپس کا استعمال کرنے کیلئے فون ضرورت بن گیا ہے۔ اتنا سمجھا جاسکتا ہے لیکن موبائل کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ موبائل کی دنیا سے باہر نکل کر دیکھیں۔ خاندان ۔ رشتے دار ۔ دوست و احباب سے ملیں۔ باتیں کریں۔ گھومیں پھریں۔ یہ دنیا بہت خوبصورت ہے۔ ویسے یہ پوسٹ بھی موبائل میں لکھ رہا ہوں۔ لکھ کر اور فارورڈ کرکے بس موبائل رکھنا ہی ہے۔ آپ اسے لائک کریں نا کریں۔ فارورڈ یا شیئر کریں نا کریں لیکن آئیں اب موبائل رکھ کر تھوڑا باہر کی دنیا دیکھیں۔ ہمارے رشتے ۔ ہمارے ساتھی اور یہ دنیا سب ہی بہت خوبصورت ہیں۔

✍🏻 شکیل حنیف۔ ہمارا مالیگاؤں

آج کی بات ۔ پوسٹ نمبر 1545

اتوار، 16 جنوری، 2022

بھکت بنیں اندھ بھکت نہیں

آج کی بات (پوسٹ نمبر 1543)

شہر سے لے کر ملک تک اور ملک سے لے کر عالمی پیمانے تک اندھی عقیدت کا زور ہے۔ ہر پارٹی ہر طبقے اور ہر شعبے میں اندھ بھکت پائے جاتے ہیں۔ اس لئے اس مضمون کو کوئی اپنے اوپر یا کسی مخصوص پارٹی یا سماج کے اوپر محمول نہ کرے۔ مضمون کا مقصد بس یہ ہے کہ ہر بات میں اعتدال کا رویہ اپنایا جائے اور حمایت و مخالفت کا بھی ایک معیار ہو جو ایک باوقار اور صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔ 

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاست ہو یا کاروبار یا کوئی اور شعبہ اگر آپ نے کسی بھی فیلڈ میں اپنی محنت سے یا بائی چانس ایک مقام حاصل کرلیا ہے تو آپ کے چند اندھ بھکت ہونے ضروری ہیں۔ بھکتوں کے بڑے فائدے ہیں۔ یہ ہماری ایسی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ جن کا ہم کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔  بعض مرتبہ یہ اندھ بھکت اپنے آئیڈیل کے فضلے کو بھی اس انداز میں بہترین حلوہ بتا کر پیش کرتے ہیں کہ اگر آئیڈیل سن لے تو بیساختہ اس کو بھی خود کھانے کا من ہونے لگے۔ یہ اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ مخالفین کی بریانی کو بھی باسی کھچڑی ثابت کروا کر پھینکوا دیں۔ آج ہر طرف اندھ بھکتوں کا دور دورہ ہے۔ ایسے عالم میں میرا بس اتنا ہی کہنا ہے کہ ذرا سا دماغ سے کام لیں۔ کسی کو چاہنا برا نہیں۔ کسی کی تعریف کرنا یا اس کا ساتھ دینا اور کسی کی خراب باتوں کی مخالفت کرنا بھی برا نہیں۔ جتنا دل کرے اپنے والے کی تعریف کریں یا سامنے والے کی مخالفت کریں مگر ایسی کہ  وہ سچائی کے قریب ہو۔ بیجا حمایت یا بیجا مخالفت آپ کو کسی کا ہمدرد یا ساتھی نہیں بلکہ موقع پرست اور چند روپیوں کے لئے پھدکنے والا ثابت کرتی ہے۔ اس لئے بھکتی کریں مگر ایسی کہ بعد میں آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ 

(شکیل حنیف)

بدھ، 12 جنوری، 2022

صوفی صاحب

 صوفی غلام رسول قادری صاحب پر لکھی جانے والی کتاب کیلئے ایک مضمون


کچھ لوگوں کی دوستی و تعلقات اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ زندگی تو زندگی موت کے وقت بھی ایسی تاریخ رقم کرجاتے ہیں جو لوگوں کو عرصے تک یاد رہتی ہے۔ ایسی ہی دوستی اور مضبوط رشتے والد محترم حاجی حنیف صابر اور ان کے بہترین ساتھی صوفی غلام رسول قادری صاحب کے درمیان تھے۔ صوفی صاحب سے والد صاحب کے رشتے کو بیان کرنے کیلئے اتنا کافی ہے کہ ان کے موبائل کی مخصوص بٹنوں (اسپیڈ ڈائل) میں میرے اہل خانہ اور نہال صاحب کے اہل خانہ کے نمبرات کے علاوہ جو چند نمبر انہوں نے رکھوائے تھے ان میں ایک صوفی صاحب کا بھی تھا۔ دونوں کا انتقال بھی چند دن کے وقفے سے ہوا۔ جمعرات تک والد صاحب بالکل ہشاش بشاش تھے۔ جمعہ کی صبح جب میں اپنے روم سے باہر آیا تو دیکھا والد صاحب اب تک لیٹے ہوئے ہیں۔ ان سے حال پوچھا تو کہنے لگے صوفی صاحب کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ 
پہلے عبدالباری صاحب اور پھر صوفی صاحب کی جدائی کا ان پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہ پھر سنبھل نہ سکے۔ اس کے بعد ان کی طبیعت خراب رہنے لگی اور چند روز میں ہی انتقال کرگئے۔ 
میرے والد صاحب اور صوفی صاحب نہ صرف ہم خیال تھے بلکہ دونوں میں کئی خوبیاں مشترک تھیں۔ دین وسنیت کا معاملہ ہو یا کوئی اور سماجی و سیاسی مسئلہ دونوں ہر معاملے کے حل و تدارک کیلئے پیش پیش رہا کرتے تھے۔ ایک ایسے دور میں جب اکثر لوگ دوسرے مسلک کے علماء سے رابطہ رکھنا تو دور بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے یہ دونوں افراد اپنے مسلک پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کیلئے ہمیشہ کوشش کرتے رہے۔ اس کی ایک جیتی جاگتی مثال کل جماعتی تنظیم ہے۔ مالیگاؤں دھماکوں کے بعد جب ملت میں انتشار کی کوششیں ہورہی تھیں اور شہر میں عجیب سی اضطراری کیفیت تھی۔ ایسے عالم میں صوفی صاحب ۔ حاجی حنیف صابر صاحب ۔ مولانا عبدالحمید ازہری صاحب ۔ مولانا عبدالباری صاحب ۔ شکیل فیضی صاحب وغیرہ مخلصین نے مختلف الخیال افراد پر مشتمل شہر کے تمام مسالک کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کل جماعتی تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ اس تنظیم کے قیام نے انتشار ملت کی تمام سازشوں کو پارہ پارہ کردیا اور یہ ایک ایسی تنظیم بن کر ابھری جو صرف شہر ہی نہیں بلکہ ملک کیلئے ایک مثال بن گئی۔ اس تنظیم کے بانیان خلوص و بے نیازی کے پیکر تھے۔ ریاکاری اور موقع پرستی ان احباب کو چھوکر بھی نہیں گئی تھی۔ یہی اس تنظیم کی کامیابی کا راز تھا۔ والد صاحب کی حیات و خدمات کا تفصیلی ذکر والد صاحب کی سوانح حیات میں کررہا ہوں۔ اس مضمون میں صوفی صاحب کے بارے میں چند باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ 
صوفی صاحب ایک بیباک مقرر تھے۔ ان کو سننے کا موقع تو کم ملا لیکن جن جلسوں میں بھی صوفی صاحب کو سنا۔ سب سے بہترین تقریر ان کی ہی لگی۔ ان کی تقریر کا ہر لفظ میرے دل کی آواز محسوس ہوتی تھی۔ جوش اور ہوش کا ایسا حسین امتزاج بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ صوفی صاحب کے تعلقات اعلی آفیسران سے بھی تھے لیکن انہوں نے کبھی اس کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ شہریان کو ہی اس کا فیض پہنچایا۔ آپ ہر ایک کے مسائل کیلئے حل کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ 
معصوم شاہ کٹی کی تعمیر و توسیع میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ معصوم شاہ کٹی پر آپ کی زیرقیادت کئی اہم پروگرام منعقد ہوتے رہے ہیں۔ گرنا اور موسم ندیوں کے سنگم پر عیدگاہ کیلئے بھی آپ نے کافی کوششیں کیں۔ اولیائے کرام سے آپ کو قلبی لگاؤ تھا۔ ہر سال آپ کی سرپریتی میں عرس بھی منعقد ہوتا تھا۔ صوفی صاحب بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے جن کا ذکر اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں۔ ایک جملے میں کہوں تو صوفی صاحب جیسی شخصیات برسوں میں پیدا ہوتی ہیں۔

✍🏻 شکیل حنیف صابر
8087003917

مالیگاؤں کے کورونا فری ہونے کی وجوہات ۔ ایک جائزہ


  ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کورونا کی تیسری لہر نے دہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ الحمدللہ سینٹرل مالیگاؤں میں کورونا کے سیریس مریض نہیں کے برابر ہیں اور شہری زندگی حکومتی احکامات کی پاسداری کے ساتھ حسب معمول رواں دواں ہے۔ بیرون شہر کے بہت سے احباب اس کی وجہ جاننا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں میرا ذاتی مشاہدہ پیش کررہا ہوں جو غلط بھی ہوسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہی وجہ ہو۔


1. خوف پر قابو


کورونا کے ابتدائی دنوں میں تو مالیگاؤں شہر پر بھی خوف طاری رہا لیکن کچھ دن بعد ہی شہریان نے کورونا کی دہشت دل سے نکال دی اور دوسری و تیسری لہر کے دوران اسے خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔  پہلے سال اکثر اموات خوف و دہشت اور دواخانوں کے بند ہونے کی وجہ سے ہی ہوئی تھیں۔


2. فوری علاج


شہر کے ہر محلے میں موجود ڈاکٹرس بے خوفی سے علاج کررہے ہیں اور لوگ بھی سردی زکام ہونے پر فورا دوا لے رہے ہیں۔ جس سے بیماری کا علاج پہلے ہی مرحلے میں ہوجاتا ہے اور مرض بڑھ نہیں پاتا۔ مرض چھپانا جان لیوا ہوتا ہے۔ مالیگاؤں میں بیرون شہر کے مریضوں کا بھی بڑے پیمانے پر علاج کیا جارہا ہے۔ پہلے سال دواخانوں کے بند ہونے کی وجہ سے بہت سی اموات ہوئی تھیں۔ 


3. کھلی اور تازہ ہوا


باوجود ترقی کے شہر کی اکثریت آج بھی اے سی والے بند کمروں میں نہیں رہتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اے سی سے کورونا ہوتا ہے مگر کھلی اور تازہ ہوا بند کمروں سے بہتر ہے۔


4. بلاضرورت دواؤں سے گریز


بہت سے افراد غیر تصدیق شدہ ہائی پاور ادویات کا بیجا استعمال کررہے ہیں۔ بلاضرورت ان کا استعمال نقصاندہ بھی ہوسکتا ہے۔ مالیگاؤں میں ایسی دواؤں کی اتنی چاہت نہیں ہے۔


5. کم ٹیسٹنگ


اخباری رپورٹ کے مطابق شہر میں سردی زکام کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔ دوسری طرف ٹیسٹنگ بہت کم ہورہی ہے۔ کچھ افراد اسے بھی کم مریض ہونے کی وجہ مان رہے ہیں۔


المختصر کسی بھی مرض کو چھپائے بنا اور اس سے ڈرے بنا اس کا فوری علاج کیا جائے تو بڑی حد تک اس پر قابو پایا جاسکتا ہے اور مالیگاؤں والے اسی اصول پر عمل پیرا ہیں۔ 

 

(یاد رہے یہ کوئی حتمی رپورٹ نہیں کلی طور پر میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ سب کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ )


✍🏻 شکیل حنیف ۔ مالیگاؤں ۔ انڈیا

جمعرات، 6 جنوری، 2022

عجیب کاروبار


میرے دوست نے ایک ایسے کاروبار کے بارے میں بتایا جس میں تیار مال کا دام بیچنے والا نہیں بلکہ خریدنے والا طے کرتا ہے۔ جی نہیں مول بھاؤ کرنے جیسا طے نہیں بلکہ دام ہی خریدنے والا کھولتا ہے۔ یہ سن کر ابھی میں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہی تھا کہ  انہوں نے یہ بتاتے ہوئے مزید دھماکہ کیا کہ جب یہی بیچنے والا کچا مال خریدنے جاتا ہے تو صورت حال بالکل برعکس ہوجاتی ہے۔ اب دام بیچنے والا طے کرتا ہے اور مول بھاؤ کا تو سوچنا بھی مت۔ 
ویسے مجھے نہیں لگتا کہ دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہوگا۔ میرے دوست کی بات سراسر غلط لگ رہی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟

اتوار، 2 جنوری، 2022

ساتھی نہال احمد کی کامیابی اور ہردلعزیزی کا راز

✍🏻 شکیل حنیف صابر

نہال صاحب نے طویل عرصے تک نہ صرف اس شہر بلکہ شہریان کے دلوں پر بھی راج کیا ہے۔ ان کی ہردلعزیزی کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی صاحب کے خلاف کچھ بول دے تو ان کے چاہنے والے مرنے مارنے پر

ہفتہ، 1 جنوری، 2022

نیک اولاد . آج کی بات سے انتخاب


جن کے والدین حیات ہیں ایسے لوگ کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ 

کچھ ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں۔ خرچہ پانی دیتے ہیں۔ یہ انتہائی خوش نصیب اور بہترین لوگ ہیں۔

کچھ لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے والدین سے الگ رہتے ہیں مگر خرچہ پانی برابر دیتے ہیں۔  گھڑی گھنٹہ آکر ملتے بھی ہیں۔ خیال رکھتے یہ اچھے لوگ ہیں۔ 

کچھ لوگ الگ رہتے ہیں اور خرچہ پانی نہیں دیتے لیکن ملتے جلتے رہتے ہیں۔ خیال رکھتے ہیں۔ یہ برے لوگ ہیں۔

کچھ لوگ ماں باپ سے الگ رہتے ہیں۔ نہ خرچہ دیتے ہیں نہ کبھی جھانکنے جاتے ہیں۔ یہ انتہائی گھٹیا قسم کے بدترین لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے بچے ان سے بدلہ لیتے ہیں۔

ہم کس قسم کے ہیں ؟ کوشش کریں کہ پہلی نہیں تو دوسری قسم میں ہمارا شمار ہو۔

Ⓜ♓ *آج کی بات*

پوسٹ نمبر 1503

✍🏻 *شکیل حنیف*

جمعہ، 1 اکتوبر، 2021

اوور کانفیڈنس کارپوریٹرس

 *اوور کانفیڈنس*


*آج کی بات : شکیل حنیف*

*پوسٹ نمبر 1536*


01-10-2021


کارپوریشن الیکشن کو ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے مگر شہر میں اب بھی کچھ خاص کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ حالانکہ اب تک یہ روایت تھی کہ چار سال تک کوئی کارپوریٹر کچھ کام کرے یا نہ کرے مگر آخری سال میں دکھانے کیلئے ہی سہی مگر وارڈوں میں تھوڑا بہت کام ہونے لگتا تھا۔ کم ازکم چند سڑکوں اور گٹروں کے حالات ہی سدھر جاتے تھے۔ مگر امسال شہر اس ایک سالہ نظر التفات سے بھی محروم دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے کچھ علاقوں میں اب کاموں کی شروعات ہو۔ اس بارے میں کئی دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کارپوریٹرس اوور کانفیڈنس کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ہم کام کریں یا نہ کریں ہمارا پیسہ اور بول بچن ہی ہمارے لئے کافی ہے۔ ویسے میرا ماننا ہے کہ

اتوار، 18 اپریل، 2021

حاجی حنیف صابر ۔ ایک شخص ایک جہاں


دنیا ایک سرائے فانی ہے۔ ہر ایک کو یہاں سے جانا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے کارہائے نمایاں انجام دے جاتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد اپنے پرائے سب مدتوں انہیں یاد کرتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام حاجی حنیف صابر ہے۔ حاجی صاحب نے 30 اپریل 2020 ماہ رمضان کی چھ تاریخ کو داعئی اجل کو لبیک کہا۔ حاجی صاحب اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ سیاسی ۔ دینی ۔ ملی ۔ تعلیمی ۔ سماجی ۔ فلاحی ۔ صنعتی وغیرہ ہر شعبے میں آپ نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ آپ جس فیلڈ میں جاتے ایسا محسوس ہوتا کہ گویا آپ اسی کیلئے بنے ہیں۔ ساتھی نہال احمد کے دیرینہ ساتھیوں میں شامل تھے۔ شروع سے آخر تک ایک ہی سیاسی نظریے پر قائم رہے اور ہر طرح کے حالات میں صاحب کے ساتھ رہے۔ حق گوئی اور بیباکی آپ کا شیوہ تھا۔ سیاسی و ملی تحریکوں میں پیش پیش رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ حنیف لیڈر کے نام سے بھی مشہور تھے۔ 

سیاست کے ساتھ ساتھ دین سے بھی آپ کافی قریب تھے۔ مسجد خانقاہ اشرفیہ اور دارالعلوم اہلسنت اشرفیہ کے ٹرسٹی تھے۔ آل انڈیا سنی جیعتہ العلماء سے بھی منسلک تھے۔ اولیائے کرام سے خاص لگاؤ تھا۔ ممبئی میں ہونے والے سنی دعوت اسلامی کے پہلے اجتماع سے لے کر اب تک کے تمام اجتماعات میں نہ صرف خود شریک ہوتے بلکہ گاڑی بھر کر بھی لے جاتے تھے۔ مختلف مواقع پر جب آپ اجتماعی دعا کرتے تو حاضرین میں سے ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتا کہ خاص ان کے لئے ہی دعا کررہے ہیں۔ آپ اتحاد بین المسلمین کے زبردست حامی تھے۔ اہلسنت کے ساتھ ساتھ دوسرے مسالک کے علمائے کرام اور شہر کی قدآور شخصیات کے ساتھ آپ کے بہترین تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بم دھماکوں کے بعد شہر کے تمام مسالک کے علماء پر مشتمل کل جماعتی تنظیم کے قیام کا مرحلہ آیا تو عبدالحمید اظہری صاحب ۔ صوفی غلام رسول صاحب اور دیگر قائدین کے ساتھ مل کر مختلف مسالک کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں آپ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ 

آپ فائنل پاس تھے مگر بچپن سے ہی روزی روٹی سے لگ گئے اس لئے آگے تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ لیکن آپ نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوائی۔ آپ جمہور ہائی اسکول اور ٹی ایم ہائی اسکول کی انتظامیہ کا اہم حصہ تھے۔ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ تعلیمی معاملات کو لے کر اکثر فکرمند رہا کرتے تھے۔ اسٹاف کے ساتھ بھی آپ کا رویہ انتہائی مشفقانہ ہوتا تھا۔ 

حاجی صاحب سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہا کرتے تھے۔ اہلکار سوسائٹی المعروف اگوا کمیٹی اور شہری اصلاحی کمیٹی سے جڑے ہوئے تھے۔ شادی بیاہ کی کئی بیجا رسوم پر قدغن لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لوگوں کے گھریلو تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کیا کرتے تھے۔ کسی کے گھر شادی بیاہ ہو یا موت میت آپ کی موجودگی اہل خانہ کیلئے اطمینان کا باعث ہوتی تھی۔ شروع سے آخر تمام معاملات اس طرح نپٹاتے کہ دوسروں کو ذرا بھی ٹینشن نہیں رہتا۔ آپ کے سماجی تعلقات کافی وسیع تھے۔ دوستوں کے بھی کئی گروپس تھے۔ 

شہر کی پاورلوم صنعت سے بھی آپ کا قریبی رشتہ تھا۔ آپ رنگین ساڑی چلواتے تھے۔ 80 کی دہائی میں سینکڑوں جگہوں پر آپ کی رنگین بھیم چلتی تھی۔ 

اتنی ساری سماجی مصروفیات کے بعد بھی آپ رشتہ دار و اقارب کیلئے بھی وقت دیتے تھے۔ ہر ایک کا خیال رکھنا۔ سب کو جوڑ کر رکھنا۔ دکھ درد میں شریک ہونا آپ کی نمایاں خوبی تھی۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی خوبیاں یادیں بن کر ہمیں ان جیسا بننے کی تلقین کرتی ہیں۔  اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے۔ سیات کو حسنات سے مبدل فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ آمین۔


*حاجی حنیف صابر کے متعلق منظوم جذبات پیش خدمت ہیں۔*


مرے ابو مرے بابا

تمہاری یاد آتی ہے

بہت ہی یاد آتی ہے

تمہاری ہر ادا ابو

انوکھی تھی نرالی تھی 

سیاسی معاملہ ہو یا 

کوئی ملی فریضہ ہو

وطن کا معاملہ ہو یا 

سماجی کوئی مسئلہ ہو

ہر اک تحریک میں تم نے

قدم آگے بڑھایا ہے

تمہاری معاملہ فہمی 

بہت ہی یاد آتی ہے

نہ جانے کتنے گھر تم نے

بکھرنے سے بچائے ہیں

تمہاری حق پسندی کو 

نفاست کو سخاؤت کو 

دلوں کو جوڑنے والی 

تمہاری نیک عادت کو 

سبھی تو یاد کرتے ہیں 

تمہارے واسطے ہم سب

دعا دن رات کرتے ہیں

تمہاری ہر ادا ابو 

بہت ہی یاد آتی ہے

مرے دل سے مرے ابو

یہی آواز آتی ہے

ذرا سا اور رک جاتے 

تمہاری یاد آتی ہے

ذرا سا اور رک جاتے

ذرا سا اور رک جاتے

(شکیل حنیف)

جمعرات، 10 دسمبر، 2020

سردی اور سورج گہن والی پوسٹ کی حقیقت

 


کئی احباب نے اس پوسٹ کی جانب توجہ مبذول کروائی۔

پہلی نظر میں تو یہ پڑوسی ملک کے محکمہ موسمیات کی تازہ پیشن گوئی لگتی ہے۔ 

لیکن غور کریں تو پتہ چلے گا کہ

اتوار، 15 نومبر، 2020

پھٹ پھٹی (پھٹ پھٹیا)

1885 میں ڈیملر نے پہلی موٹر سائیکل بنائی۔ مگر اس میں مسئلہ یہ تھا کہ موٹر آواز بہت کرتی تھی۔ وقت گزرتا گیا۔ سائنسداں محنت کرتے گئے۔ سائلنسر کی ایجاد ہوئی۔ آواز کم ہوئی۔

نئی طرز کی کم آواز اور زیادہ ایوریج والی بائک عمدہ مانی جاتی اور جس کے پاس پرانی پھٹ پھٹ کرنے والی بائک ہوتی اسے پھٹ پھٹی کہا جاتا۔ اس وقت لوگ غریب تھے مگر عقل سے

جمعرات، 12 نومبر، 2020

ووٹ پھوڑنے کا الزام : کتنا سچ کتنا جھوٹ

(پوسٹ نمبر 1500)

بہار الیکشن میں مہا گٹھ بندھن کو چند سیٹوں کے فرق سے  ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی بعض حلقوں کی جانب سے ایم آئی ایم کو ہار کا ذمہ دار قرار دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ وہیں اویسی حامی مختلف مثالوں اور حوالوں سے اس الزام کو غلط ثابت کر رہے ہیں۔ 

آئیے غیرجانبدارانہ طور پر اس معاملے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 

1️⃣ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جہاں جہاں سیکولر امیدواروں کو ہار کا سامنا ہوا کیا ہر جگہ ایم آئی ایم کے امیدوار

پیر، 9 نومبر، 2020

سیمنٹ روڈ

یہ تو سب کو پتہ ہے کہ ہاٹ مکس یا ڈامر روڈ کی بہ نسبت سیمنٹ روڈ مضبوط اور دیرپا ثابت ہوتی ہے لیکن مہنگی ہونے کی وجہ سے ہاٹ مکس کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ ہاٹ مکس میں بنی سڑکیں بھی کافی عمدہ ہوتی ہیں۔ ہائی ویز اس کی بہترین مثال ہیں لیکن مالیگاؤں میں اس طرح کا

منگل، 13 اکتوبر، 2020

آگرہ روڈ

ہر شہر کی ایک بڑی اور مشہور روڈ ہوتی ہے جو اس کی ناک کی حیثیت رکھتی ہے۔ دوسرے شہر کے بیشتر لوگ صرف اس روڈ سے گزرتے ہیں اور ان کے ذہن میں اس شہر کی ترقی یا تنزلی کا خاکہ اس کے مدنظر تشکیل پاتا ہے۔ مثال کے طور پر

ہفتہ، 20 جون، 2020

وہاٹس ایپ کا مسئلہ حل

معروف میسیجنگ ایپ وہاٹس ایپ میں آج شام سے اچانک لاسٹ سین اور آن لائن وغیرہ دکھنا بند ہوگیا تھا۔ اس مسئلے کو اب حل کرلیا گیا ہے۔ اس معاملے کو لے کر یوزرس میں اپنی پرائیویسی کے تعلق سے تشویش پائی جارہی تھی۔  کئی لوگ اس بات سے فکرمند تھے کہ کہیں وہاٹس ایپ ہیک تو نہیں کرلیا گیا۔ وہاٹس ایپ کی جانب سے تاحال کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ بہر حال وہاٹس ایپ اب حسب سابق کام کررہا ہے۔ اس بات سے یوزرس میں تھوڑا اطمینان ہے۔
کچھ وقت کیلئے یوزرس پریشان ہوگئے تھے۔ ان کی اس حالت کو لے کر ٹوئٹر اور دیگر سائٹس پر مزیدار چٹکلے بھی بنائے گئے۔ 
ویسے یہ بات بھی سچ ہے کہ وہاٹس ایپ پرکوئی آن لائن دکھے یا نا دکھے۔ کسی کا لاسٹ سین دکھے یا نا دکھے۔ ہم کو اس سے کیا لینا دینا ؟
فکر وہ کریں جو نیٹ پر بابو سونا - جادو ٹونا کیلئے آتے ہیں۔ 🙂

جمعرات، 26 دسمبر، 2019

سورج گہن

Ⓜ♓ *آج کی بات*
*پوسٹ نمبر* 0⃣0⃣4⃣1⃣

🌝 *گہن* 🌚

♓سورج اور چاند گہن کو لے کر بے شمار واہمے اور مفروضے عام ہیں۔ جب کہ یہ ایک معمول کی بات ہے۔

Ⓜچاند گہن کے وقت سورج اور چاند کے بیچ میں زمین آ جاتی ہے جس سے کچھ وقت تک چاند کو سور

پیر، 16 دسمبر، 2019

No CAB No NRC

Ⓜ♓ *آج کی بات*
پوسٹ نمبر 8⃣8⃣3⃣1⃣

✍🏻 *شکیل حنیف*

*میں مایوس نہیں ہوں*

حکومت وقت کے ذریعے یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے کئے جارہے ہیں جو نہ صرف مسلمانوں کے لئے دل آزار ہیں بلکہ ملک کو بھی پستی کی جانب لے جانے والے ہیں۔ ترقی کی رفتار بالکل تھم سی گئی ہے۔ حکومت ہر معاملے میں من مانی پر آمادہ ہے۔ اسے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ کچھ بھی کرلے کچھ نہیں ہونے والا۔ ایک طبقہ تھوڑا بہت شور مچائے گا اور پھر سب خاموش ہوجائیں گے اور ہم ایک نیا معاملہ اچھال دیں گے۔ ان حالات کو دیکھ کر میں کافی مایوس تھا مگر اب نہیں ہوں۔ مجھے اطمینان ہے دیش میں جمہوری قدریں ابھی زندہ ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ دیش کا نوجوان دیش کی ترقی چاہتا ہے۔ وہ بانٹنے والا نہیں جوڑنے والا ہے۔  اس بار جس طرح سے بلا تفریق مذہب و ملت ملک کے ہر طبقے اور ہر حصے سے آوازیں بلند ہورہی ہیں وہ اس بات کی غماز ہیں کہ ملک کی اکثریت حق و انصاف کی حامی ہے۔ ملک بھر میں جاری احتجاج حکومت کی آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہے کہ اس کی من مانی نہیں چلے گی۔ *میں حکومت سے یہی مطالبہ کرتا ہوں کہ تفریق پر مبنی شہریت قانون واپس لے اور ہمارے پیارے ملک کے بنیادی مسائل روزگار ٰ  غریبی وغیرہ کے حل کی طرف دھیان دے۔* آؤ مل جل کر دیش کی ترقی کیلئے کوشش کریں۔ 
#No CAB
#No NRC

*کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن*

*ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے*

✍🏻 *شکیل حنیف ۔ ہمارا مالیگاؤں*

ہفتہ، 14 دسمبر، 2019

این آر سی کے ممکنہ کاغذات NRC Documents

Ⓜ♓ *آج کی بات*
پوسٹ نمبر 7⃣8⃣3⃣1⃣

*این آر سی : ممکنہ ضروری کاغذات*
*(ان میں سے ایک بھی کاغذ ہے تو فکر کی ضرورت نہیں)*

✍🏻 *شکیل حنیف*

♓ این آر سی کے لئے درکار کاغذات کی کئی پوسٹ چل رہی ہیں جن کو پڑھ کر بھولی بھالی عوام فکرمندی کا شکار ہے۔ کئی افراد تو پوری لسٹ کے کاغذات جمع کرنے میں لگ گئے ہیں۔ 
Ⓜ آئیے متوقع این آرسی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد آخر میں *آسام این آر سی میں طلب کئے گئے کاغذات* کی لسٹ پڑھنا نہ بھولیں۔ یاد رہے آسام کا معاملہ الگ تھا اور وہاں شرائط سخت تھیں۔  پورے ملک میں اس سے بھی آسان طریقے سے این آرسی ہونے کا امکان ہے۔ 👇🏻
♓ دوستو۔ سب سے پہلی بات یہ کہ اتنے بڑے دیش میں این آر سی کا عمل حکومت کیلئے کوئی آسان کام نہیں۔ ابھی تک قومی این آر سی کے لئے قابل قبول کاغذات کی لسٹ طے نہیں کی گئی ہے نہ ہے کوئی تاریخ فکس ہے کہ اس تاریخ سے قبل کے کاغذات قبول ہوں گے۔ آسام میں ہوئی این آرسی میں 1971 تک کے کاغذات طلب ہوئے تھے۔ قومی سطح پر اور بھی آسان شرائط کا امکان ہے۔ پھر بھی ہم اگر آسام جیسی سخت شرائط کے مطابق بھی تیاری کریں تو ہر ایک کے پاس دو سے تین کاغذات ضرور ہوں گے جبکہ این آر سی کیلئے صرف ایک کاغذ بھی کافی ہوگا۔ 
Ⓜ *آسام این آر سی* میں شہریت کے ثبوت کے طور پر درج ذیل 14 کاغذات میں سے *24 مارچ 1971* سے قبل کا *صرف کوئی ایک* کاغذ ہونا ضروری تھا۔
*لسٹ A* 👇🏻
1⃣ *جنم داخلہ*
2⃣ *بینک اکاؤنٹ یا پوسٹ آفس اکاؤنٹ*
3⃣ *بورڈ یا یونیورسٹی کا سرٹیفکٹ (مثلا ایس ایس سی بورڈ)*
4⃣ *پاسپورٹ*
5⃣ *ایل آئی سی دستاویز*
6⃣ *گھر و زمین کی ملکیت کا یا کرائے کا ریکارڈ*
7⃣ *سرکار کا جاری کردہ کوئی بھی لائسنس*
8⃣ *سرکاری نوکری کا سرٹیفکٹ*
9⃣ *کورٹ کا ریکارڈ ( کیس ۔ اپیل وغیرہ)*
🔟 *مستقل رہائشی سرٹیفکٹ*
1⃣1⃣ *24/03/1971 سے پہلے کی ووٹر لسٹ*
2⃣1⃣ *شہریت سرٹیفکٹ*
3⃣1⃣ *پناہ گزیں سرٹیفکٹ*
4⃣1⃣ *1951 کا این آرسی سرٹیفکٹ*

آسام این آر سی کے مطابق جس کے پاس درج بالا 👆🏻 14 میں سے 1971 سے قبل کا ایک کاغذ بھی ہے وہ ہندوستانی شہری ہے۔ کوئی بھی ایک کاغذ پیش کرنے پر این آر سی میں نام درج ہوجائے گا۔
♓ اب جو لوگ 1971 کے بعد پیدا ہوئے یا جو پہلے پیدا ہوئے مگر ان کے پاس مذکورہ کوئی کاغذ نہیں ہے۔ ان کو صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنے اجداد (باپ دادا) میں سے کسی کا اوپر کی *لسٹ اے کے 14 ثبوت* میں سے کوئی ایک ثبوت پیش کریں اور اس کے ساتھ *لسٹ B* کے درج ذیل 👇🏻 *8* میں سے کوئی بھی ایک کاغذ پیش کردیں۔ آپ کا این آرسی کا ٹینشن ختم۔ بس اتنا دھیان رہے کہ دونوں لسٹ میں نام یکساں رہے کیونکہ رشتہ دکھانا ہوگا۔ مثلا لسٹ A سے اگر والد کے جنم داخلے کا ثبوت دے رہے ہیں تو آپ کے ثبوت میں والد کا نام وہی رہے۔  (تقریبا سب کا ہوتا ہی ہے۔)
*لسٹ B* 👇🏻
1⃣ *جنم داخلہ*
2⃣ *راشن کارڈ*
3⃣ *بورڈ یا یونیورسٹی کا سرٹیفکٹ (دسویں۔ بارہویں۔ بی اے وغیرہ)*
4⃣ *ووٹر لسٹ*
5⃣ *بینک یا پوسٹ اکاؤنٹ یا ایل آئی سی ریکارڈ*
6⃣ *پراپرٹی ریکارڈ*
7⃣ *سرکل آفیسر یا گرام پنچایت سکریٹری کا سرٹیفکٹ (برائے شادی شدہ خواتین)*
8⃣ *قانونی طور پر قابل قبول کوئی اور کاغذ*

یاد رہے ان 8 👆🏻 میں سے کوئی ایک کاغذ کے ساتھ آپ کے والد یا دادا کا لسٹ اے میں شامل کوئی ایک ثبوت دینا ہوگا۔ 
Ⓜ آسام میں آدھار کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ قومی این آر سی میں شامل ہوگا یا نہیں یہ واضح نہیں ہے۔ بورڈ اور یونیورسٹی سرٹیفکٹ کے ضمرے میں اسکول داخلہ یعنی ایل سی کو شامل کئے جانے کا امکان ہے۔  
♓ پاسپورٹ کسی ملک کا سب سے حساس دستاویز ہوتا ہے۔ اسی طرح کاسٹ سرٹیفکٹ بھی مشکل سے بنتا ہے۔ یہ دونوں دستاویز اکثر لوگوں کے پاس ہیں۔ اس کے مقابلے میں این آر سی کچھ بھی نہیں۔ المختصر ممکنہ این آرسی میں لگنے والے کاغذات میں سے بیشتر لوگوں کے پاس دو سے زائد کاغذات ہوں گے جبکہ ضرورت صرف ایک کی ہے۔ اس لئے فکر قطعی نہ کریں۔ 
ہاں *کاغذات میں نام درست رکھیں۔* 
Ⓜ اس پوسٹ میں شامل کاغذات کی لسٹ آسام این آرسی کی درج ذیل سائٹ سی لی گئی ہے۔ 
http://www.nrcassam.nic.in/admin-documents.html

✍🏻 *شکیل حنیف ۔ ہمارا مالیگاؤں*