جمعہ، 28 مارچ، 2025
قسط نمبر 11 ۔ سن 1956 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
منگل، 18 مارچ، 2025
قسط نمبر 9 ۔ سن 1954 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
جمعہ، 14 مارچ، 2025
*قسط نمبر 8 ۔ سن 1953 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
*قسط نمبر 7 ۔ سن 1952 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
اتوار، 9 مارچ، 2025
قسط نمبر 6 ۔ سن 1951 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ
قسط نمبر 5 ۔ سن 1950 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی قومی اور عالمی تاریخ
بدھ، 5 مارچ، 2025
قسط نمبر 4 ۔ سن 1949 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
منگل، 4 مارچ، 2025
قسط نمبر 3 ۔ سن 1948۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
پیر، 3 مارچ، 2025
قسط نمبر 2 . سن 1947 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
ہفتہ، 1 مارچ، 2025
قسط نمبر ایک ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ
سوانح اور سال بہ سال تاریخ منفرد انداز میں
جمعہ، 4 فروری، 2022
سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں
1945 سے 1970 پچیس سالوں کی مالیگاؤں اور دنیا کی تاریخ سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی *اب تک کی تمام سات قسطیں ایک ساتھ*
*باب اول : دیباچہ*
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو کہا گیا
سورج ہیں زندگی کی رمق چھوڑ جائیں گے
تادیر جگمگائیں گی ان کی نشانیاں
وہ ڈوب بھی گئے تو شفق چھوڑ جائیں گے۔
قارئین ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا حاجی محمد حنیف صابر۔ آپ کا 74 سالہ عرصہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ تعلیمی سماجی دینی سیاسی صنعتی
ہفتہ، 29 جنوری، 2022
سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں ۔ باب ہفتم
1965 سے 1970 تک کے شہری قومی اور عالمی واقعات اور اس دور کے حالات کو پیش کرتی سوانح حاجی حنیف صابر کی ساتویں قسط ۔ باب ہفتم
حاجی حنیف صابر کے والد محترم محمد صابر پہلوان نہایت نرم دل اور شفیق طبیعت کے مالک تھے۔ آپ شروع سے ہی گھر کے معاملات میں حاجی صاحب کی آراء کو کافی اہمیت دیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شادی بیاہ ہو یا موت میت شروع سے ہی حاجی صاحب تمام کاموں میں قائدانہ کردار ادا کیا کرتے تھے۔ 1965 میں مالیگاؤں کی آبادی ایک لاکھ اڑتالیس ہزار ہوچکی تھی۔ اس وقت پاورلوم صرف
جمعہ، 21 جنوری، 2022
باب ششم ۔ سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں
1960 سے 1965 ان پانچ سالوں کی مختصر شہری ۔ ریاستی ۔ ملکی اور عالمی تاریخ سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی چھٹی قسط (باب ششم)
ساٹھ کی دہائی آتے آتے 1950 میں 54 ہزار کی آبادی رکھنے والا مالیگاؤں ایک لاکھ کا ہندسہ پار کرتے ہوئے 1960 میں ایک لاکھ پندرہ ہزار کی آبادی والا شہر بن چکا تھا۔ حاجی حنیف صابر لڑکپن سے نوجوانی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فائنل پاس کرنے کے بعد
جمعرات، 13 جنوری، 2022
باب پنجم ۔ سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں
1955 سے 1960 تک کے شہر ملک اور دنیا کے حالات و واقعات اور حاجی حنیف صابر کے حالات زندگی پر مشتمل سوانح حاجی حنیف صابر کی پانچویں قسط
پچاس کی دہائی میں دنیا میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ دنیا کے بیشتر غلام ممالک یکے بعد دیگرے برطانیہ اور فرانس جیسی سامراجی طاقتوں سے آزادی حاصل کرتے گئے۔ وہ برطانیہ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اپنی مقامی سرحدوں تک سکڑ گیا تھا۔ 1955 میں مالیگاؤں کی آبادی 78 ہزار تھی۔ اس وقت صدر بلدیہ کی میعاد ایک سال ہوتی تھی۔ مئی 1955 میں ڈاکٹر شیخ سلیم صدربلدیہ بنے اور ایک سال بعد 1956 میں عباس علی قاضی اس عہدے پر براجمان ہوئے۔ 1956 میں ہی مرارجی دیسائی کی جگہ یشونت راؤ چوہان بامبے اسٹیٹ کے وزیراعلی بنے۔ آپ کو بامبے کا آخری اور مہاراشٹر کا پہلا وزیراعلی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس دوران حاجی حنیف صابر پرائمری میں زیرتعلیم تھے۔ اسکول کے بعد آپ گھر کے کاموں میں بھی والدین کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ گھر کا پاورلوم تھا اس لئے جب بھی موقع ملتا لوم چلانے کی مشق کیا کرتے تھے۔ 1956 میں دوسری عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔ مشہور زمانہ نہر سوئز مصر کے زیر انصرام آئی۔ اوپیک ۔ ناسا ۔ جیسے کئی عالمی اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔
1957 میں مالیگاؤں حلقہ پارلیمان وجود میں آیا۔ اس سال بھارت کے پارلیمانی حلقوں کی ازسر نو تشکیل ہوئی تھی اور ناسک حلقہ پارلیمان کے بیشتر حصوں پر مشتمل ایک نیا حلقہ پارلیمان مالیگاؤں کے نام سے بنا تھا۔ اس طرح ملک کے دوسرے پارلیمانی الیکشن میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے یادو نارائن جادھو مالیگاؤں کے پہلے ایم پی منتخب ہوئے۔ آپ نے کانگریس کے ملہار بیڑکر کو شکست دی۔ پنڈت نہرو ایک بار پھر وزیراعظم بنائے گئے۔ 1957 کے صدارتی انتخاب میں ایک بار پھر ڈاکٹر راجندر پرساد صدرجمہوریہ اور ڈاکٹر رادھا کرشنن نائب صدر منتخب ہوئے۔ اسی سال 25 فروری 1957 کو بامبے اسمبلی کے بھی الیکشن ہوئے جس میں شمالی مالیگاؤں حلقے سے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ہارون احمد انصاری ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے مالیگاؤں کے اولین اور کانگریس کے سیٹنگ ایم ایل اے صابر ستار کو شکست دی اور پچھلے الیکشن کی ہار کا بدلہ لیا۔ اس وقت آج کے مالیگاؤں آؤٹر کے بیشتر علاقے شمالی ناندگاؤں و جنوبی مالیگاؤں نامی حلقہ اسمبلی میں شامل تھے۔ وہاں سے بھاؤ صاحب ہیرے لگاتار دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ یشونت راؤ چوہان بامبے کے وزیراعلی بنے۔ مالیگاؤں کے ایم پی اور ایم ایل اے دونوں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے تھے۔ شہر میں کانگریس کے ساتھ ساتھ سوشلسٹ پارٹی کا زور تھا۔ مئی 1957 میں میونسپل کونسلر اور ایم ایل اے ہارون احمدانصاری مالیگاؤں کے صدربلدیہ بھی بنائے گئے۔ یہ وہ سال تھا جب روس نے اسپوتنک نامی زمین کے گرد گردش کرنے والا پہلا مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجا۔ حاجی حنیف صابر بچپن سے لڑکپن کی جانب رواں دواں تھے۔ اسکول کے ساتھ ساتھ مسجد خانقاہ اشرفیہ اور دارالعلوم اہلسنت اشرفیہ آپ کی دلچسپی اور سرگرمیوں کا مرکز تھے۔ جب بھی اسکول اور گھریلو مصروفیات سے فرصت ملتی مسجد و مدرسے کو وقت دیتے اور اکثر علماء کی محفلوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔
1958 میں میونسپل الیکشن ہوئے۔ ساتھی نہال احمد لگاتار دوسری بار کونسلر منتخب ہوئے۔ وٹھل گنپت کاڑھے صدربلدیہ بنے۔ اسی چناؤ میں قلعہ سے عبدالحمید عظیم اللہ المعروف حمید ممبر پہلی بار کونسلر بنے۔ آگے چل کر آپ حاجی حنیف صابر کے خسر بنے۔ جس کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔ 1958 میں ہی مشہور مسلم رہنما مولانا آزاد کا انتقال ہوا۔
1959 میں حاجی حنیف صابر نے ساتویں جماعت کامیاب کی۔ اس زمانے میں ساتویں پاس کرنا فائنل پاس کرنا کہلاتا تھا اور اس کی کافی اہمیت تھی۔ آپ آگے پڑھنا چاہتے تھے۔ آپ کے اساتذہ اور ساتھیوں نے بھی کافی کوشش کی کہ آپ تھوڑا اور پڑھ کر ٹیچر بن جائیں مگر آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لئے آگے کی پڑھائی ترک کرکے پاورلوم کے آبائی پیشے سے منسلک ہوگئے اور گھر کی ذمہ داریوں میں والد کا ہاتھ بٹانے لگے۔ گو کہ آپ نے صرف ساتویں تک تعلیم حاصل کی تھی مگر آپ کا دماغ کمپیوٹر کی طرح چلتا تھا۔ اکثر جب کوئی حساب کتاب کا معاملہ ہوتا یا کوئی تحریر لکھنی ہوتی آپ اتنی تیزی سے حساب کرتے یا جملوں کی ڈرافٹنگ کرتے کہ مجھ جیسے کئی ڈگری یافتہ عش عش کرتے رہ جاتے۔ 1959 میں ڈاکٹر شیخ سلیم اور 1960 میں رگھونندن پاٹل شہر کے صدربلدیہ رہے۔ 1959 میں ہی روس کی جانب سے پہلا غیر انسانی راکٹ چاند پر پہنچا۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی دو بندروں کے ساتھ کسی جاندار پر مشتمل پہلا راکٹ خلاء میں روانہ کیا۔ 1960 آتے آتے مالیگاؤں کی آبادی ایک لاکھ پندرہ ہزار ہوچکی تھی۔ یکم مئی 1960 کو بامبے اسٹیٹ تقسیم کرکے گجرات اور مہاراشٹر دو نئی ریاستیں بنائی گئیں۔ اس کا تفصیلی ذکر اگلے باب میں آئے گا۔
پیر، 10 جنوری، 2022
سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں
26 جنوری 1950 کو دستور کے نفاذ کے ساتھ ہی ہندوستان ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس وقت حاجی حنیف صابر چار سال کے تھے۔ 1950 میں مالیگاؤں کی آبادی 54000 تھی۔ سیاست میں خانصاحب اور مولوی عبدالرزاق کی جگہ صابر ستار ۔ ہارون انصاری ۔ آزاد انصاری ۔ ڈاکٹر شیخ سلیم ۔ عباس علی قاضی جیسے نئے لیڈرس لینے لگے تھے۔ حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد بھی سیاست میں داخل ہوچکے تھے۔ دسمبر 1950 تک مولوی عبدالرزاق صدربلدیہ رہے۔ 1950 میں میونسپل الیکشن ہوئے اور دسمبر 1950 سے 1952 تک منگل داس بھاؤسار شہر کے صدربلدیہ رہے۔ ملکی حالات پر نظر ڈالیں تو 1950 میں نئے دستور کے مطابق ملک میں نئی حکومت کیلئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ 1951 کے اواخر اور 1952 کے شروع میں آزاد ہندوستان میں لوک سبھا کے پہلے انتخابات ہوئے۔ مالیگاؤں اس وقت بامبے اسٹیٹ میں تھا۔ آگے چل کر یکم مئی 1960 میں بامبے اسٹیٹ کی تقسیم ہوئی اور گجرات اور مہاراشٹر دو نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ تب مالیگاؤں مہارشٹر کے حصے میں آیا۔ آزادی سے قبل بامبے اسٹیٹ بامبے پریسیڈینسی کہلاتی تھی جس کا ہیڈکوارٹر بامبے شہر تھا۔ بامبے شہر کی بھی دلچسپ تاریخ ہے۔ یہ پہلے پرتگیزوں کے قبضے میں تھا۔ 1662 میں شہزادہ چارلس دوم کی شادی پرتگیز شہزادی کیتھرائن سے ہوئی۔ اس وقت بامبے شہر بطور جہیز شہزادہ چارلس کو دے دیا گیا۔ بالاصاحب گنگادھر کھیر بامبے اسٹیٹ کے پہلے وزیراعلی تھے۔ آپ 1952 تک بامبے کے وزیراعلی رہے۔ آزادی کے بعد 1952 میں پہلے پارلیمانی الیکشن ہوئے۔ شہر مالیگاؤں ناسک حلقہ پارلیمان کا حصہ تھا۔ 27 مارچ 1952 کو الیکشن ہوا جس میں کانگریس کے دیشپانڈے گوند ہری نے کامیابی حاصل کی اور ناسک حلقے کے پہلے ایم پی بنے۔ پنڈت جواہر لال نہرو ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پارلیمانی الیکشن کے ساتھ 1952 میں ہی بامبے اسٹیٹ کی اسمبلی کے بھی انتخابات ہوئے۔ آج کی طرح اس وقت بھی شمالی مالیگاؤں اور جنوبی مالیگاؤں + شمالی ناندگاؤں اس طرح دو حلقہ اسمبلی تھے مگر حدبندی تھوڑا الگ تھی۔ شمالی مالیگاؤں سے محمد صابر عبدالستار المعروف صابر ستار نے ہارون انصاری کو شکست دی اور ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس طرح آپ نے آزادی کے بعد شہر کے پہلے ایم ایل اے ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اسی طرح جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں نامی حلقہ اسمبلی سے بھاؤ صاحب ہیرے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس الیکشن کے بعد مرار جی دیسائی بامبے کے وزیراعلی منتخب ہوئے۔ نیا دستور بننے کے بعد 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد بھارت کے پہلے صدر جمہوریہ منتخب ہوئے تھے لیکن 1952 میں پہلی بار صدارتی انتخاب ہوا جس میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے کے ٹی شاہ کو شکست دی اور دوسری بار صدر جمہوریہ منتخب ہوئے۔ اسی طرح ڈاکٹر رادھا کرشنن بلامقابلہ نائب صدر منتخب کئے گئے۔ عالمی منظر نامے پر شمالی و جنوبی کوریا ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے۔ روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔
اسی دوران 1952 میں چھ سال کی عمر میں حاجی حنیف صابر کا داخلہ چونا بھٹی پر اسکول نمبر 4 میں کروایا گیا۔ جماعت اول سے ہی آپ کو مشہور مورخ ٰ ادیب اور شاعر ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب جیسے دوستوں کا ساتھ ملا۔
ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب بتاتے ہیں کہ پرائمری اسکول میں ان کے ایک ٹیچر ناصر جناب نے بچوں میں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا کرنے کی غرض سے کلاس کے تمام طلبہ کا ایک تخلص رکھا تھا۔ اس طرح الیاس صدیقی صاحب کو ناصح اور حنیف صابر صاحب کو ہلچل تخلص ملا تھا۔ صدیقی صاحب نے مذاقا کہا کہ یہ تخلص کا ہی اثر تھا کہ میں زندگی بھر نصیحت کرتا رہا اور حنیف نے ہلچل مچائے رکھی۔ دینی تعلیم آپ نے خانقاہ اشرفیہ سے حاصل کی اور ناظرہ قرآن پاک ختم کیا۔ آپ حفظ تو نہ کرسکے لیکن قرآن کی اکثر سورتیں زبانی یاد تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں تلاوت کے وقت کسی سے غلطی ہوجائے تو فورا اصلاح کیا کرتے تھے۔
حاجی صاحب شروع سے ہی کافی ذہین تھے۔ میری پھوپھی بتاتی ہیں کہ آپ کو دین سے اتنا لگاؤ تھا کہ بچپن میں زیادہ تر وقت مسجد میں علماء کی صحبت میں ہی گزرتا تھا۔
1952 میں شہر مندی کی شدید لپیٹ میں آگیا۔ لوگ کام کی تلاش میں کھیتوں میں جانے لگے۔ کوئی پھلی توڑتا تو کوئی گنا توڑ کر کچھ پیسے کما لیتا۔ حکومت کی جانب سے بطور امداد لوگوں سے کھڈا کھودوانے کا کام شروع کیا گیا۔ اسی دوران شہر میں پہلی بار سفید کپڑوں کی تیاری شروع ہوئی اور بہت سارے لوگ اس نئے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ 1952 میں آزاد انصاری صدربلدیہ بنے۔ 1953 میں ڈاکٹر شیخ سلیم کو یہ عہدہ ملا لیکن اسی سال پھر سے آزاد انصاری صدربلدیہ بن گئے۔ 1954 میں شہر کی پہلی اردو ہائی اسکول اینگلو اردو ہائی اسکول انجمن ترقی تعلیم کے زیر انصرام آئی اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول بنی۔ 1954 میں میونسپل انتخابات ہوئے۔ اس باڈی میں ہارون احمد انصاری صدربلدیہ منتخب ہوئے۔ اسی باڈی میں حاجی حنیف صابر کے سیاسی استاد ۔ خیرخواہ ۔ ساتھی اور رہنما ساتھی نہال احمد بھی پہلی بار کونسلر منتخب ہوئے۔ آپ کا اور حاجی حنیف صابر کا ساتھ مرتے دم تک قائم رہا۔ حاجی حنیف صابر نے سیاست میں کب اور کس طرح قدم رکھا اس کا تفصیلی ذکر آگے کے ابواب میں آئے گا۔
بدھ، 5 جنوری، 2022
تاریخ مالیگاؤں سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر
باب سوم ۔ 1946 سے 1950 تک کے حالات (قسط نمبر 3)
حاجی حنیف صابر ابھی ایک برس کے ہی تھے کہ وطن عزیز کو آزادی کا پروانہ مل گیا۔ جیسے ہی گھڑی کی سوئیوں نے رات بارہ بجنے کا اعلان کیا اور 15 اگست 1947 کی تاریخ شروع ہوئی پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا۔ دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ترنگا پرچم لہرایا اور اس طرح ہمارا ملک ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس خوشی کے موقع پر بھی جاتے جاتے انگریزوں نے ہمیں دکھ دینے کا کام کیا۔ آزادی کے ساتھ ہی وطن عزیز کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ شمالی ٰ مرکزی اور جنوبی ہند جہاں ہندو اکثریت تھی اسے ہندوستان کا نام دیا گیا اور مشرقی و مغربی ہند کے وہ علاقے جہاں مسلم اکثریت تھی انہیں پاکستان کا نام دیا گیا۔ ان کے علاوہ دونوں طرف مختلف راجے مہاراجے اور نوابوں کی بہت ساری چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر دونوں طرف کی تمام ریاستیں نئے وجود میں آئے ممالک میں ضم ہوگئیں۔ کچھ عرصہ بعد بقیہ ریاستیں بھی ضم ہوگئیں۔ اس کی ایک الگ تاریخ ہے۔ تقسیم ہند کے ساتھ ہی ایک کربناک دور شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلم پاکستان کی طرف تو پاکستان کے ہندو ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اس مشکل دور میں بھی بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنی مٹی کو چھوڑ کر جانا گوارا نہ کیا۔ شہر مالیگاؤں میں بھی ایسے لوگوں کی اکثریت تھی۔
یہ مٹی کی محبت ہی تھی کہ اس شہر کے لوگوں نے یہیں پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ حاجی حنیف صابر کے رفیق سحر حاجی محمد ابن احمد قربان بتاتے ہیں کہ جس دن آزادی ملی ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ حاجی محمد صاحب پرائمری میں زیر تعلیم تھے۔ اسکولوں میں بچوں کو شیرینی اور ایک ایک بلہ تقسیم کیا گیا تھا۔ چوک چوراہوں پر لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ الغرض ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔
حاجی حنیف صابر صاحب کے دادا رحمت اللہ ۔ والد صابر پہلوان اور چچا محمد عمر نے بھی وطن کی مٹی کو تھامے رکھا۔ خوش آمدپورہ کی کشادہ گلیوں میں حاجی حنیف صابر پروان چڑھے۔ آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لئے دادا دادی اور خاندان میں سب کے لاڈلے تھے۔ آپ کے بچپن میں (1946 سے 1950) آزادی وطن کے علاوہ شہر , ملک اور دنیا میں اور بھی بہت سارے اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ 1945 سے 1950 کی میونسپل باڈی میں مولوی عبدالرزاق ہی بدستور صدربلدیہ رہے۔ آپ 1942 میں صدربلدیہ بنے تھے۔ اس باڈی میں ہارون انصاری اور عباس علی قاضی جیسے لیڈرس بھی کونسلر تھے۔ اسی طرح اس عرصے میں خانصاحب عبدالرحبم شہر کے ایم ایل اے رہے۔ آپ 1937 میں پہلی بار ایم ایل اے بنے تھے جبکہ دوسری بار 1946 سے 1952 یعنی آزاد ہندوستان کے پہلے الیکشن تک آپ شہر کے ایم ایل اے رہے۔ چالیس کی دہائی کے آخر میں ہی مستقبل کے عظیم لیڈر اور حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد نے سیاست میں قدم رکھا۔ 1950 میں آپ نے پہلا میونسپل الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے باوجود آپ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت و لگن سے وہ کامیابی حاصل کی کہ تقریبا نصف صدی تک نہ صرف اس شہر پر آپ چھائے رہے بلکہ ملگ گیر شہرت حاصل کی۔
آزادی وطن کے علاوہ اہم شہری واقعات پر نظر ڈالیں تو 1948 میں قربانی کے سوال پر مالیگاؤں کے حالات خراب ہوگئے تھے۔ میری دادی بتاتی تھیں کہ اس وقت فوج کی سکھ بٹالین شہر میں وارد ہوئی تھی۔ ہمارے بزرگ اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔
1947 میں آزادی اور تقسیم ہند کے بعد جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے۔ اس وقت بھارت کا دستور نہیں بنا تھا اور صدرجمہوریہ کا عہدہ تخلیق نہیں ہوا تھا۔ اس لئے دستور بننے تک صدر مملکت کی ذمہ داریاں گورنر جنرل کے پاس تھیں۔ ماؤنٹ بیٹن آخری انگریز گورنر جنرل تھے۔ انہوں نے ہی آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 1948 میں راج گوپال اچاریہ گورنر جنرل بنے اور 1950 میں پہلے صدر جمہوریہ کے انتخاب تک آپ نے ذمہ داریاں نبھائیں۔ اسی طرح 1947 میں کشمیر کو لے کر ہند و پاک کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔ 1948 میں حیدرآباد پولیس ایکشن ہوا۔ جس کے بعد حیدرآباد بھارت میں شامل ہوگیا۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو میں ہی امریکہ کی ایماء پر 1948 میں اقوام متحدہ کی ایک قراداد کے ذریعے فلسطین کی زمین پر اسرائیل نامی ملک کا قیام عمل میں آیا اور عربوں کو ایک طویل جنگ میں جھونک دیا گیا۔ اس دوران 26 جنوری 1950 کو بھارت کا دستور نافذ ہوا۔ جس کی رو سے ہمارا ملک ایک سیکولر جمہوری ملک قرار دیا گیا۔ ایسا طرز حکومت اختیار کیا گیا جس میں صدر اور وزیراعظم دونوں کا اپنا ایک مقام ہو۔ جمہوری ملک بننے کے بعد گورنر جنرل کی جگہ پریسیڈنٹ آف انڈیا یعنی صدر جمہوریہ نے لے لی۔ اس طرح 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد ملک کے پہلے صدرجمہوریہ منتخب ہوئے۔
پیر، 3 جنوری، 2022
سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخِ دورِ حیات (تاریخِ مالیگاؤں و عالم)
قسط نمبر 2 : پیدائش کے وفت کے شہری و ملکی حالات
ابھی ہندوستان آزاد نہیں ہوا تھا۔ 1946 کی پہلی سہ ماہی تھی۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوچکی تھی۔ امریکہ نام کا نیا سپر پاور وجود میں آچکا تھا۔ برطانیہ جنگ میں فتح کے باوجود معاشی طور پر قلاش ہوچکا تھا۔ یکے بعد دیگرے ممالک اس کے تسلط سے آزاد ہوئے جارہے تھے۔ شہر مالیگاؤں میں کانگریس کے مولوی عبدالرزاق عبدالمجید میونسپلٹی کے صدربلدیہ تھے تو مسلم لیگ کے خان صاحب عبدالرحیم بطور ایم ایل اے شہر کی نمائندگی کررہے تھے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں پارٹی سے زیادہ مولوی عبدالرزاق گروپ اور خان صاحب گروپ مشہور تھے۔
ہفتہ، 1 جنوری، 2022
سوانح حاجی حنیف صابر اور تاریخ مالیگاؤں کا ایک صفحہ
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو کہا گیا
سورج ہیں زندگی کی رمق چھوڑ جائیں گے
تادیر جگمگائیں گی ان کی نشانیاں
وہ ڈوب بھی گئے تو شفق چھوڑ جائیں گے
قارئین ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا حاجی محمد حنیف صابر۔ آپ کا 74 سالہ عرصہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ تعلیمی سماجی دینی سیاسی صنعتی تقریبا ہر شعبے میں آپ نے اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ حاجی صاحب کی زندگی کے اہم واقعات اور نکات ویب سائٹ پر مرحلہ وار پیش کئے جائیں گے۔ آپ اپنے موبائل پر دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی اسے پڑھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ اسے پی ڈی ایف اور تصویری شکل میں بھی پیش کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کرسکیں۔ یہ صرف سوانح حیات نہ ہو بلکہ اس پورے عرصے کی ایک تاریخی دستاویز بنے۔ اس کیلئے حاجی صاحب کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 1946 سے اب تک کے شہر ملک اور دنیا کے اہم واقعات بھی سلسلہ وار اس میں شامل کرنے کی کوشش کروں گا۔ ساتھ ہی ان کے دوست احباب اور متعلقین ٰ اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے ابواب بھی شامل ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔
(شکیل حنیف صابر)