‏سوانح حاجی حنیف صابر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سوانح حاجی حنیف صابر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 28 مارچ، 2025

قسط نمبر 11 ۔ سن 1956 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ

1956 بہت سارے اہم واقعات کا سال تھا۔  1956 میں حاجی صاحب پرائمری اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ جب تک بچپن کے زمانے کی اقساط جاری ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ ہم حاجی صاحب کی ایسی مختلف خوبیوں کا تذکرہ کریں جو ان شاء اللہ ہمارے قارئین کیلئے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔ ان صفات کو اختیار کرکے ہم بھی زندگی کی راہوں میں کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرسکتے ہیں۔ اس قسط میں ہم حاجی صاحب کی قناعت پسندی کے ساتھ ساتھ 1956 کے اہم واقعات پر طائرانہ نظر ڈالیں گے۔ قناعت پسندی یعنی جو بھی حاصل ہو اور جتنا بھی میسر ہو اس پر راضی اور خوش رہنا۔ جس میں بھی یہ صفت پیدا ہوجائے وہ کبھی دکھی نہیں رہتا۔ حاجی صاحب اس خوبی سے مالامال تھے۔ آپ نے اچھا برا ہر دور دیکھا مگر ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ ہم نے کسی بھی وقت آپ کی زبان پر شکوہ شکایت نہیں دیکھی۔ بچپن سے یہ خوبی آپ کے اندر موجود تھی۔ اس صفت کا آپ کو یہ فائدہ ملا کہ آپ ہر طرح کے حالات میں پرسکون اور اطمینان سے رہا کرتے تھے۔ خراب حالات میں جہاں آپ نے شکوہ نہیں کیا وہیں زندگی کے بہترین دنوں میں آپ نے کبھی بھی گھمنڈ و تکبر بھی نہیں کیا۔

*1956 کا مالیگاؤں*
1956 میں مالیگاؤں کی آبادی 82 ہزار ہوچکی تھی۔ یہ پہلے ایم ایل اے صابرستار کی میعاد کا آخری سال تھا۔ اس سال عباس علی قاضی مالیگاؤں کے صدربلدیہ بنے۔ اسی سال انجمن معین الطلباء کے زیر انصرام مالیگاؤں ہائی اسکول شروع ہوئی جو اے ٹی ٹی کے بعد شہر کی دوسری ہائی اسکول ہے۔ 

*ریاستی حالات*
1956 میں لسانی (زبان)  بنیادوں پر ریاستوں کی تقسیم کا قانون پاس ہوا۔ تیلگو بولنے والوں کیلئے آندھرا پردیش بن چکا تھا۔ اسی طرح  ریاست بمبئی کو مزید وسیع کرتے ہوئے اس میں ریاست حیدرآباد سے مراٹھواڑہ ۔ مدھیہ پردیش سے ودربھ جیسے مراٹھی اکثریتی علاقے اور سوراشٹر و کچھ جیسے گجراتی اکثریتی علاقے شامل کئے گئے۔ بامبے اسٹیٹ گجراتی اور مراٹھی دو زبانوں والی ریاست بنائی گئی لیکن گجرات اور مہاراشٹر دو الگ الگ ریاستوں کی مانگ شروع ہوگئی۔ وزیراعلی مرارجی دیسائی نے دو ریاستوں کے ساتھ بمبئی شہر کو مرکزی علاقہ بنانے کی رائے دی جس کے بعد بمبئی شہر کے ساتھ مہاراشٹر کیلئے سیونکت مہاراشٹر تحریک شریک ہوئی۔ اس میں اپوزیشن بطور خاص پرجا سوشلسٹ پارٹی کے اراکین پیش پیش تھے۔ مالیگاؤں میں اس وقت ہارون احمد انصاری اور ساتھی نہال احمد اسی پارٹی سے منسلک تھے۔ شہر میں بھی تحریک کا زور تھا۔ اس بیچ مرار جی دیسائی کو وزارت اعلی سے ہٹا کر مرکزی وزیر بنادیاگیا اور یشونت راؤ چوہان  ریاست بمبئی کے وزیراعلی بنے۔ 

*قومی حالات*
ملک میں زبان کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل شروع ہوئی۔ اس سال بھی جواہر لال نہرو وزیراعظم جبکہ ڈاکٹر راجندر پرساد صدرجمہوریہ رہے۔ ایک بڑا واقعہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے اپنے تین لاکھ پچاسی ہزار ساتھیوں کے ساتھ ہندو مذہب چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کرلیا۔ اسی سال آل انڈیا ریڈیو کو آکاش وانی نام دیا گیا۔

*عالمی حالات* 
مصر نے مشہور نہر سوئز کو قومیانے کا اعلان کردیا۔ جس کے بعد 1956 میں دوسری عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی۔ اس جنگ میں برطانیہ اور فرانس اسرائیل کے اتحادی رہے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کو مصر کے مقبوضہ علاقے خالی کرنا پڑے۔ جمال عبدالناصر عالم اسلام کے ایک مضبوط لیڈر بن کر ابھرے۔ اس دور میں پیدا ہونے والے کئی لوگوں کے نام جمال ناصر ملیں گے۔ اس جنگ کے بعد ہی برطانیہ اور فرانس کی صدیوں پرانی چودھراہٹ کا خاتمہ ہوگیا اورعملی طور پر امریکہ و روس سوپر پاور بن گئے۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط ۔ سن 1957)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
ہمارا مالیگاؤں

منگل، 18 مارچ، 2025

قسط نمبر 9 ۔ سن 1954 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ

1954 وہ سال تھا جس میں مالیگاؤں کی تاریخ کے سب سے مشہور و قدآور سیاسی لیڈر کے کیرئیر کا آغاز ہوا۔ جی ہاں میں بات کررہا ہوں حاجی حنیف صابر کے سیاسی استاد رہنما اور دیرینہ رفیق ساتھی نہال احمد کے پہلی بار کونسلر منتخب ہونے کی۔ اس وقت حاجی صاحب پرائمری میں زیرتعلیم تھے۔ آگے چل کر نوجوانی سے ہی آپ ساتھی نہال احمد کے سیاسی قافلے میں شامل ہوگئے۔ اس موقع پر حاجی صاحب کی ایک نمایاں خوبی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ وہ خوبی ہے وفاشعاری یعنی کسی کے ساتھ رہنا تو پھر کیسا بھی وقت ہو کبھی ساتھ نہیں چھوڑنا۔ نہال صاحب کے سیاسی سفر میں بہت سارے لوگ ان کے ہم رکاب ہوئے مگر جو افراد آخری وقت تک ان کے ساتھ رہے ان میں حاجی صاحب کا نام سرفہرست نظر آئے گا۔ آپ اچھے برے ہردور میں نہال صاحب کے ساتھ رہے۔ 1962 کے اسمبلی الیکشن سے شروع ہونے والا یہ ساتھ صاحب کے انتقال تک جاری رہا۔ اس کا تفصیلی ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔ 

*1954 کا مالیگاؤں*
مالیگاؤں کی آبادی 74 ہزار ہوچکی تھی۔ اس وقت کارپوریشن الیکشن چار سال پر ہوا کرتے تھے۔ نئی باڈی کیلئے الیکشن ہوئے جس میں نہال صاحب پہلی بار چن کرآئے۔ دوسرے اہم لیڈرس میں عباس علی قاضی ۔ ڈاکٹر شیخ سلیم ۔ ہارون احمد انصاری وغیرہم بھی اس باڈی میں منتخب ہوئے۔ ہارون احمد انصاری صدربلدیہ بنے۔ اس سال بھی صابر ستار ایم ایل اے اور گووند دیشپانڈے ایم پی رہے۔ اسی سال شہر کی پہلی اینگلو اردو ہائی اسکول انجمن ترقی تعلیم کے زیرانصرام آئی اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول کہلائی۔

*ریاستی حالات*
ریاست بمبئی کے وزیراعلی مرارجی دیسائی ہی تھے۔ زبان کی بنیاد پر آندھرا پردیش کی تشکیل کے بعد بمبئی میں بھی مراٹھی اور گجراتی زبان کیلئے الگ ریاستوں کے بارے میں ماحول بننے لگا تھا۔ 

*قومی حالات*
1954 میں بھی پنڈت نہرو اور ڈاکٹر راجندرپرساد بالترتیب وزیر اعظم اور صدرجمہوریہ رہے۔  اسی سال دادرا اورنگرحویلی پرتگیزوں کے قبضے سے آزاد ہوئے جو  1961 میں  بھارت کا حصہ بنے۔ 1955 میں ہی فلم فیئر ایوارڈ اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ شروع ہوئے۔ اسی سال پہلی بار بھارت رتن دیا گیا۔ راج گوپال اچاریہ ۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن اور سی وی رمن پہلے ایوارڈ یافتگان تھے۔ 

*عالمی حالات*
اسی سال انڈوچائنا جنگ کا خاتمہ ہوا۔ یہ جنگ فرانس اور ویت نام کے درمیان جاری تھی جس میں ویت نام کو فتح ملی اور ویت نام کمبوڈیا اور لاؤس یہ تین ممالک فرانس سے آزاد ہوئے۔ ان تین ممالک پر مشتمل علاقہ انڈوچائنا کہلاتا تھا۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط ۔ سن 1955)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
(ہمارا مالیگاؤں)
8087003917

جمعہ، 14 مارچ، 2025

*قسط نمبر 8 ۔ سن 1953 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ

1953 میں مندی کے بعد مالیگاؤں دھیرے دھیرے اپنی ڈگر پر واپس آرہا تھا۔ رنگین چلانے والے بہت سارے بنکروں نے سفید کپڑوں کی طرف توجہ مرکوز کرلی تھی۔ حاجی حنیف صابر کے گھر پر بھی نیچے پاورلوم پر رنگین کپڑے بنے جاتے تھے۔ آپ کے والد محمد صابر پہلوان اور چچا محمد عمر  نے رنگین کپڑوں کو ہی ترجیح دی۔ حاجی صاحب چونابھٹی پر پرائمری اسکول میں زیرتعلیم تھے۔ یہاں آپ کی ایک نمایاں اور قابل تقلید خوبی کا ذکر بیجا نہ ہوگا۔ بچپن میں اسکول میں آپ کی دوستی ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب سے ہوئی۔ اسی طرح محلے میں حاجی مرتضی حسن ۔ اقبال احمد ۔ برکت اللہ استاد وغیرہ کئی احباب سے آپ کی دوستی ہوئی۔ عمر کے ابتدائی ایام کے ان دوستوں کا ساتھ آپ نے کبھی نہیں چھوڑا۔ ان تمام کے ساتھ ہمیشہ آپ کے دیرینہ تعلقات رہے۔ حالانکہ بعد میں آپ کی دوستی دوسرے بہت سارے افراد سے ہوئی جن کا ذکر اگلی اقساط میں آئے گا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نئے دوست بننے یا ذرا سا کامیاب ہونے کے بعد لوگ پرانے دوستوں کو بھول جاتے ہیں مگر حاجی صاحب نے نئے پرانے تمام دوستوں کے ساتھ رشتے قائم رکھے۔ 

*1953 کا مالیگاؤں*
1953 میں مالیگاؤں کی آبادی 66 ہزار ہوچکی تھی۔ سفید کے کارخانے بننا شروع ہوچکے تھے مگر زیادہ تر کارخانوں میں رنگین ہی جاری تھا ۔ اکثر گھروں کے نیچے چار یا چھ لوم چلا کرتے تھے اور اوپر رہائش ہوتی تھی۔ اس سال آزاد انصاری کی جگہ ڈاکٹر شیخ سلیم صدربلدیہ بنے مگر کچھ مہینوں بعد آزاد انصاری دوبارہ صدربلدیہ بن گئے۔ اس دور میں  عدم اعتماد لانا عام بات تھی۔ اس سال بھی صابر ستار مالیگاؤں کے ایم ایل اے جبکہ گوند ہری دیشپانڈے ایم پی رہے۔

*ریاستی حالات*
ریاست بمبئی میں حسب سابق کانگریس کی حکومت تھی اور اس سال بھی مرارجی دیسائی بامبے اسٹیٹ کے وزیراعلی تھے۔ 

*قومی حالات*
1953 میں پہلی بار زبان کی بنیاد پر کسی ریاست کی تشکیل عمل میں آئی۔ وہ ریاست تھی آندھرا پردیش جو ریاست حیدرآباد  ریاست میسور اور ریاست مدراس کے کچھ علاقوں پر مشتمل تھی۔ اس وقت جواہر لال نہرو وزیراعظم جبکہ ڈاکٹر راجندرپرساد صدرجمہوریہ تھے۔ 

*عالمی حالات*
1953 وہ سال تھا جب دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو پہلی بارسر کیا گیا۔ نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہیلری اور مقامی شیرپا تینزنگ نارگے وہاں پہنچنے والے معلوم تاریخ کے پہلے انسان تھے۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط نمبر 9 ۔ سن 1954)

✍🏻  *شکیل حنیف صابر*
(ہمارا مالیگاؤں)

*قسط نمبر 7 ۔ سن 1952 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ

 1952 ہمارے ملک کے پہلے انتخابات کا سال تھا۔ اسی دوران چھ سال کی عمر میں حاجی حنیف صابر کا داخلہ چونا بھٹی پر اسکول نمبر 4 میں  کروایا گیا۔ جماعت اول سے ہی آپ کو مشہور مورخ  ادیب اور شاعر ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب جیسے دوستوں کا ساتھ ملا۔ ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب بتاتے تھے کہ پرائمری اسکول میں ان کے ایک ٹیچر ناصر جناب نے بچوں میں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا کرنے کی غرض سے کلاس کے تمام طلبہ کا ایک تخلص رکھا تھا۔ اس طرح الیاس صدیقی صاحب کو ناصح اور حنیف صابر صاحب کو ہلچل تخلص ملا تھا۔ صدیقی صاحب نے مذاقا کہا کہ یہ تخلص کا ہی اثر تھا کہ میں زندگی بھر نصیحت کرتا رہا اور حنیف نے ہلچل مچائے رکھی۔ حاجی صاحب اس زمانے کے فائنل پاس تھے۔ آپ نے اکثر فائنل پاس بزرگوں کو دیکھا ہوگا کہ وہ آج کے دسویں بارہویں پاس طلبہ سے کہیں بہتر تعلیمی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی حال حاجی صاحب کا بھی تھا۔ آپ اردو کے ساتھ ہندی اور مراٹھی بھی جانتے تھے۔ حساب میں خاص مہارت حاصل تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ ہم کسی چیز کا حساب جوڑتے ہی رہتے اور وہ جواب بتادیتے۔ 

*1952 کا مالیگاؤں*
1952 میں شہر مندی کی شدید لپیٹ میں آگیا۔ لوگ کام کی تلاش میں کھیتوں میں جانے لگے۔ کوئی پھلی توڑتا تو کوئی گنا توڑ کر کچھ پیسے کما لیتا۔ حکومت کی جانب سے بطور امداد لوگوں سے کھڈا کھودوانے کا کام  شروع کیا گیا۔ اسی دوران شہر میں پہلی بار سفید کپڑوں کی تیاری شروع ہوئی اور بہت سارے لوگ اس نئے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ 1952 میں منگل داس بھاؤسار کی جگہ آزاد انصاری صدربلدیہ بنے۔ 1952 میں آزادی کے بعد اسمبلی کے پہلے انتخابات ہوئے۔ آج کی طرح اس وقت بھی مالیگاؤں کے دو حلقہ اسمبلی تھے مگر نام اور حدبندی تھوڑا الگ تھی۔ ایک حلقے کا نام شمالی مالیگاؤں جبکہ دوسرے کا جنوبی مالیگاؤں + شمالی ناندگاؤں تھا۔ گویا جنوبی مالیگاؤں کے دیہات ناندگاؤں کے ساتھ شامل تھے۔ شمالی مالیگاؤں سے محمدصابر عبدالستار المعروف صابر ستار نے ہارون انصاری کو شکست دی اور ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس طرح آپ نے آزادی کے بعد شہر کے پہلے ایم ایل اے ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اسی طرح جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں نامی حلقہ اسمبلی سے بھاؤ صاحب ہیرے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ 26 مارچ 1952 کو اسمبلی الیکشن کے ساتھ ساتھ پارلیمانی الیکشن بھی منعقد ہوئے۔ شہر مالیگاؤں ناسک حلقہ پارلیمان کا حصہ تھا۔ پہلے الیکشن میں کانگریس کے دیشپانڈے گوند ہری نے کامیابی حاصل کی اور ناسک حلقے کے پہلے ایم پی بنے۔ اس وقت شہر مالیگاؤں کی آبادی 61 ہزار ہوچکی تھی۔

*ریاستی حالات*
آزادی کے بعد پہلی بار بامبے اسٹیٹ کے اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ کانگریس نے 315 میں سے 270 سیٹیں حاصل کیں اور مرار جی دیسائی ریاست بمبئی کے وزیراعلی بنے۔ 

*قومی حالات*
1951 کے اواخرسے ملک میں پارلیمانی انتخابات شروع ہوچکے تھے جو 1952 میں بھی جاری رہے۔ کانگریس نے 499 میں سے 364 سیٹیں حاصل کیں۔  پنڈت جواہر لال نہرو ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئے۔ نیا دستور بننے کے بعد 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد بھارت کے پہلے صدر جمہوریہ منتخب ہوئے تھے لیکن 1952 میں پہلی بار صدارتی انتخاب ہوا جس میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے کے ٹی شاہ کو شکست دی اور دوسری بار صدر جمہوریہ منتخب ہوئے۔ اسی طرح ڈاکٹر رادھا کرشنن بلامقابلہ نائب صدر منتخب کئے گئے۔ 

*عالمی حالات*
اس سال بھی شمالی و جنوبی کوریا ایک دوسرے سے برسرپیکار رہے۔ اسی طرح گزشتہ کی طرح امریکہ اور روس میں سرد جنگ جاری رہی۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط ۔ سن1953) 

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
ہمارا مالیگاؤں

اتوار، 9 مارچ، 2025

قسط نمبر 6 ۔ سن 1951 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی قومی و عالمی تاریخ

محترم قارئین ابھی آپ حاجی صاحب کے بچپن کے بارے میں پڑھ رہے ہیں۔ ان شاء اللہ آگے کی اقساط میں آپ کی حیات کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی ذکر آئے گا۔ 1951 میں آپ پانچ سال کے ہوچکے تھے مگر اس وقت آج کی طرح نرسری یا کے جی میں داخلہ نہیں ہوتا تھا بلکہ چھ سال کی عمر کے بعد ہی پہلی جماعت میں بچوں کو داخل کیا جاتا تھا۔ گویا بچوں کو اپنا بچپن بے فکری سے جینے کا موقع ملتا تھا۔ ناظرہ قران ختم کرنے کیلئے حاجی صاحب کا داخلہ خانقاہ اشرفیہ میں جاری مدرسے میں کرایا گیا۔ قران کی بہت ساری سورتیں آپ کو زبانی یاد تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں ہم بچے سبق یاد کرتے ہوئے کوئی غلطی کرتے اور آپ سن لیتے تو فورا اصلاح کیا کرتے تھے۔ میری پھوپھی بتاتی ہیں کہ حاجی صاحب بچپن سے ہی علماء کی صحبت میں رہا کرتے تھے اور آپ کا بیشتر وقت مسجد خانقاہ اشرفیہ میں ہی گزرتا تھا۔ 

*1951 کا مالیگاؤں*
اس سال مالیگاؤں کی آبادی 56 ہزار ہوچکی تھی۔ منگل داس بھاوسار صدربلدیہ تھے۔ اسی طرح خان صاحب عبدالرحیم آزادی سے قبل سے بطور ایم ایل اے نمائندگی کررہے تھے۔ یہ ان کی مدت کا چودہواں اور آخری سال تھا۔ پاورلوم پر رنگین ساڑی بننا شہر کا اہم پیشہ تھا مگر اس سال اس پر مندی کی شروعات ہوچکی تھی۔ 

*ریاستی حالات*
ریاست ممبئی کے وزیراعلی  بالا صاحب کھیر کی مدت کار کا بھی یہ آخری سال تھا۔ ریاست میں انڈین نیشنل کانگریس کی حکومت تھی جبکہ سوشلسٹ پارٹی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھر رہی تھی۔ 

*قومی حالات*
قومی سیاست میں بھی کانگریس کا دبدبہ تھا۔ 1951 کے اواخر میں پہلے پارلیمانی الیکشن کا آغاز ہو چکا تھا مگر بیشتر حلقوں میں پولنگ 1952 کی شروعات میں ہوئی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر راجندر پرساد صدرجمہوریہ اور پنڈت نہرو وزیراعظم تھے۔ اسی سال دہلی میں پہلے ایشین گیمس منعقد ہوئے تھے۔

*عالمی حالات*
عالمی منظرنامے پر امریکہ کے ساتھ ساتھ روس بھی دوسرے سپرپاور کے طور پر ابھر چکا  تھا اور دونوں کے درمیان سرد جنگ جاری تھی۔ دنیا دو خانے میں بٹ چکی تھی۔ کچھ ممالک امریکہ تو کچھ روس کے ساتھ تھے۔ آگے چل کر بہت سارے ممالک نے دونوں کی لڑائی سے خود کو لاتعلق بتاتے ہوئے ہوئے ناوابستہ تحریک شروع کی۔ اس تحریک کو شروع کرنے میں  ہمارے ملک کے وزیراعظم جواہر لال نہرو پیش پیش تھے۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط نمبر 7 ۔ سن 1952)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
(ہمارا مالیگاؤں)

قسط نمبر 5 ۔ سن 1950 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی قومی اور عالمی تاریخ

ہندوستان آزاد تو ہوچکا تھا مگر ہندوستانی دستور 26 جنوری 1950 سے نافذ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی وطن عزیز ایک سیکولر جمہوری ملک بن گیا۔ یہ ہندوستانی تاریخ کا اہم موڑ تھا۔ اس وقت حاجی حنیف صابر چار برس کے تھے۔ حاجی صاحب اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ بھائیوں میں نہال احمد ۔ اقبال احمد پہلوان ۔ سراج احمد اور ماسٹر اخلاق احمد شامل ہیں۔ اسی طرح بہنوں میں مریم بانو ۔ آمنہ بانو ۔ زلیخہ بانو ۔ شاہدہ بانو اور رضیہ بانو شامل ہیں۔ آپ نے تاعمر بڑے بھائی کا فرض بہترین انداز میں نبھایا۔ اسی طرح آپ کے بھائی اور بہنیں بھی آپ کا ویسا ہی احترام کرتے تھے۔

*1950 کا مالیگاؤں*
آزادی کے بعد پہلے میونسپل الیکشن 1950 میں ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی شہری سیاست نے نئی کروٹ لی۔ خان صاحب اور مولوی صاحب کی جگہ صابر ستار ۔ ہارون انصاری ۔ آزاد انصاری ۔ ڈاکٹر شیخ سلیم ۔ عباس علی قاضی جیسے نئے لیڈرس لینے لگے۔ دسمبر 1950 تک مولوی عبدالرزاق صدربلدیہ رہے۔ 1950 کے الیکشن کے بعد دسمبر 1950 سے 1952 تک منگل داس بھاؤسار شہر کے صدربلدیہ رہے۔ 1950 میں خان صاحب عبدالرحیم ہی ایم ایل اے رہے۔ 1950 میں ہی مستقبل کے عظیم لیڈر اور حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد نے سیاست میں قدم رکھا۔ 1950 میں آپ نے پہلا میونسپل الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے باوجود آپ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت و لگن سے وہ کامیابی حاصل کی کہ تقریبا نصف صدی تک نہ صرف اس شہر پر آپ چھائے رہے بلکہ ملگ گیر شہرت حاصل کی۔ 1950 میں مالیگاؤں کی آبادی 54000 نفوس پر مشتمل تھی۔ 

 *ریاستی حالات*
آزادی کے بعد پہلے پارلیمانی و ریاستی الیکشن 1952 میں ہوئے تھے۔ 1950 میں بھی بالاصاحب کھیر بامبے اسٹیٹ کے وزیراعلی رہے۔ ہمارا مالیگاؤں بامبے اسٹیٹ میں ہی شامل تھا۔ ریاست کی راجدھانی بامبے شہر تھا جو اب ممبئی کہلاتا ہے۔ بامبے شہر کی بھی دلچسپ تاریخ ہے۔ یہ پہلے پرتگیزوں کے قبضے میں تھا۔ 1662 میں شہزادہ چارلس دوم کی شادی پرتگیز شہزادی کیتھرائن سے ہوئی۔ اس وقت بامبے شہر بطور جہیز شہزادہ چارلس کو دے دیا گیا۔ اس طرح بامبے شہر انگریزوں کے زیرنگیں آیا۔ 

*قومی حالات*
آزادی ملنے کے ڈھائی سال بعد 1950 میں ہمارے ملک کو خود کا دستور اور نظام حکومت مل چکا تھا۔ پہلے الیکشن کی تیاریاں جاری تھیں۔ گورنر جنرل کی جگہ صدرجمہوریہ نے لے لی تھی۔ ڈاکٹر راجندر پرساد ملک کے پہلے صدرجمہوریہ بنائے گئے۔ اس سال بھی جواہر لال نہرو وزیراعظم رہے۔ اسی سال سپریم کورٹ آف انڈیا شروع ہوئی۔ 

*عالمی حالات*
1950 میں شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔ اسی سال عالمی آبادی پہلی بار تین ارب کے پار ہوئی۔
(جاری ۔ اگلی قسط ۔ سن 1951)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
(ہمارا مالیگاؤں)

بدھ، 5 مارچ، 2025

قسط نمبر 4 ۔ سن 1949 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ

1949 میں حاجی حنیف صابر تین سال کے ہوچکے تھے۔ آپ کے والد محمد صابر پہلوان آپ کے چچا محمد عمر اور دادا رحمت اللہ گھر میں ہی پاورلوم پر رنگین کپڑے تیار کیا کرتے تھے۔ اس زمانے کے بیشتر گھر لکڑی اور مٹی کی چھت والے ہوا کرتے تھے۔ اوپر رہائش تھی اور نیچے کارخانہ چلتا تھا۔ مسجد خانقاہ اشرفیہ اور اشرفیہ چوک والی گلی میں حاجی صاحب کا بچپن گزرا۔ 

*1949 کا مالیگاؤں*
پہلے تقسیم ہند اور پھر 1948 کے خراب شہری حالات کے بعد 1949 میں مالیگاؤں کے حالات معمول پر آچکے تھے۔ خان صاحب ایم ایل اے اور مولوی صاحب ہی صدربلدیہ تھے مگر شہری سیاست میں  صابر عبدالستار ۔  ہارون احمد انصاری ۔ عباس علی قاضی ۔ آزاد انصاری جیسے لیڈرس داخل ہوچکے تھے۔ نیاپورہ کی گلیوں میں مستقبل کا ایک بڑا لیڈر پروان چڑھ رہا تھا۔ میری مراد حاجی حنیف صابر کے سیاسی استاد اور بہترین رفیق ساتھی نہال احمد سے ہے جو نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔ اس وقت مالیگاؤں کی آبادی پچاس ہزار کے آس پاس تھی۔  

*ریاستی حالات*
گزشتہ کی طرح 1949 میں بھی بالاصاحب گنگادھر کھیر مہاراشٹر کے وزیراعلی بنے ہوئے تھے۔ مرارجی دیسائی بھی ریاست کی سیاست میں سرگرم عمل تھے۔ 

*1949 کا بھارت*
26 نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی نے بھارت کے دستور کو منظوری دی جو 26 جنوری 1950 سے نافذ ہوا۔ دستور کی رو سے ہمارا ملک ایک سیکولر جمہوری ملک قراردیا گیا جس میں سربراہ مملکت صدرجمہوریہ ہوں گے اور ان کی رہنمائی میں تمام انتظامی امور وزیراعظم اور ان کی کابینہ سنبھالے گی۔ نئے دستور کے مطابق الیکشن کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ 1950 میں صدارتی الیکشن تک راج گوپال اچاریہ ملک کے گورنر جنرل بنے رہے۔ اسی طرح پنڈت نہرو بھی 1952 کے الیکشن تک وزیراعظم بنے رہے۔ اسی سال بابری مسجد میں مورتی نمودار ہونے کا کہہ کر اس میں تالہ لگا دیا گیا۔ 

*عالمی حالات*
1949 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے پہلی ہندپاک جنگ ختم ہوئی اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول وجود میں آئی۔ اسی سال ناٹو کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں ہی چین عوامی جمہوریہ بنا۔ 

(جاری ۔ اگلی قسط ۔ سن 1950)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
ہمارا مالیگاؤں

منگل، 4 مارچ، 2025

قسط نمبر 3 ۔ سن 1948۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ

1948 میں بہت سارے اہم واقعات پیش آئے جن کا ذکر آگے آئے گا۔ اس سال حاجی حنیف صابر دو سال کے تھے۔ آپ کے پردادا محمد اسحاق کے دو بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے رحمت اللہ اور چھوٹے محمد رمضان۔ دونوں بیٹوں نے آبائی پیشے کو اپنایا اور ساڑی بننے میں والد کی مدد کرنے لگے۔ رحمت اللہ یہ حاجی حنیف صابر کے دادا تھے۔ رحمت اللہ کی شادی سلیمہ بانو سے ہوئی۔ ان کی چھ اولادیں ہوئیں۔ دوبیٹے اور چار بیٹیاں۔ بڑے بیٹے کا نام محمد صابر اور چھوٹے کا نام محمد عمر ہے۔ زیب النساء بی بی عائشہ خدیجہ اور فاطمہ بیٹیوں کے نام ہیں۔  1921 میں محمد صابر کی پیدائش ہوئی۔ آپ کو پہلوانی کا شوق تھا اور مالیگاؤں قلعہ میں ہونے والے دنگلوں میں زور و شور سے حصہ لیتے تھے۔ 1943 کے آس پاس محمد صابر کی شادی موتی پورہ کے مشہور ڈومن خانوادے کی رابعہ بنت محمد اسماعیل ڈومن سے ہوئی۔ 

*1948 کا مالیگاؤں*
اس سال بھی مالیگاؤں کے صدربلدیہ مولوی عبدالرزاق اور ایم ایل اے خان صاحب عبدالرحیم ہی تھے۔ 1948 میں قربانی کے سوال پر مالیگاؤں کے حالات خراب ہوگئے تھے۔ میری دادی بتاتی تھیں کہ اس وقت فوج کی سکھ بٹالین شہر میں وارد ہوئی تھی۔ ہمارے بزرگ اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔

*ملک کے حالات*
 ابھی ہم تقسیم کے درد کو جھیل ہی رہے تھے کہ 1948 میں ناتھورام گوڈسے نے تحریک آزادی کے قائد مہاتما گاندھی کو گولی ماردی۔ 1948 میں بھی پنڈت نہرو ملک کے وزیراعظم تھے۔ ۔ اس وقت بھارت کا دستور نہیں بنا تھا اور صدرجمہوریہ کا عہدہ تخلیق نہیں ہوا تھا۔ اس لئے دستور بننے تک صدر مملکت کی ذمہ داریاں گورنر جنرل کے پاس تھیں۔ ماؤنٹ بیٹن 1947 سے گورنر جنرل کی ذمہ داریاں نبھارہے تھے۔ 1948 میں راج گوپال اچاریہ پہلے ہندوستانی گورنر جنرل بنے اور 1950 میں پہلے صدر جمہوریہ کے انتخاب تک آپ نے ذمہ داریاں نبھائیں۔دونوں طرف کی بیشتر نوابی ریاستیں یا رجواڑے ہند یا پاک میں شامل ہوچکی تھیں۔ حیدرآباد کسی طرف شامل نہیں ہوا تھا۔ وہاں نظام میر عثمان علی کی حکومت تھی۔ حیدرآباد سے اورنگ آباد تک دکن کا ایک بڑا علاقہ نظام اسٹیٹ میں شامل تھا۔ حاجی حنیف صابر کے ایک ساتھی محمد ڈانگے صاحب نے ایک بار بتایا تھا کہ ہم لوگ جب اورنگ آباد خلدآباد جاتے تھے تو باقائدہ بارڈر پار کرکے جانا پڑتا تھا۔ 1948 میں حیدرآباد میں پولیس ایکشن ہوا۔ جس کے بعد حیدرآباد بھارت میں شامل ہوگیا۔ اس واقع کو سقوط حیدرآباد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس وقت دکن سے بہت سارے لوگ ہجرت کرکے مالیگاؤں آئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ 

*ریاستی حالات*
 اس وقت بالاصاحب کھیر ہی  ریاست ممبئی یعنی بامبے اسٹیٹ کے وزیراعلی تھے۔ 

*عالمی حالات*
کشمیر کے موضوع پر 1947 میں شروع ہونے والی پہلی ہندپاک جنگ 1948 میں بھی جاری رہی۔ اسی سال پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں بہت سارے فلسطینیوں کو اپنی زمین سے ہجرت کرنی پڑی۔ بعد میں اس پر اسرائیل نے اپنی کالونیاں تعمیر کرلیں۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط ۔ سن 1949)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
(ہمارا مالیگاؤں)

پیر، 3 مارچ، 2025

قسط نمبر 2 . سن 1947 ۔ سوانح حاجی حنیف صابر*مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ

1947 ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے یادگار سال تھا کیونکہ اسی سال ہمیں انگریزوں کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اس وقت حاجی حنیف صابر صرف ایک سال کے تھے۔ حاجی حنیف صابر کا پورا نام محمد حنیف ابن محمد صابر ابن رحمت اللہ ابن محمد اسحاق ابن عبداللہ ہے۔ ان کے دادا کے دادا عبداللہ اتر پردیش کے مہو شہر کے ایک متمول شخص تھے۔ 1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بعد جب انگریزوں کا ظلم وستم حد سے بڑھ گیا تو اتر پردیش کے مسلمانوں نے اپنی قیمتی زمینوں اور بسا بسایا گھر سنسار چھوڑ کر جنوب کی راہ لی۔ کوئی اندور میں رک گیا تو کوئی برہانپور ۔ دھولیہ اور  مالیگاؤں میں رکا۔  کوئی اور آگے جاتے ہوئے بھیونڈی اور ممبئی تک پہنچ گیا۔  ان ہی خانماں برباد لوگوں میں حاجی حنیف صابر کے پردادا عبداللہ اور ان کا خاندان بھی شامل تھا۔ آپ لوگوں نے موسم اور گرنا کے سنگم پر آباد مالیگاؤں کو اپنا مسکن بنایا۔ گھر میں ہی دستی کرگھے پر رنگین ساڑی بننے کی شروعات کی۔ تب سے محمد اسحاق ابن عبداللہ خانوادہ خوش آمدپورہ میں سکونت پذیر ہے۔

*1947 کا بھارت*
15 اگست 1947 کو  وطن عزیز کو آزادی کا پروانہ مل گیا۔  جیسے ہی گھڑی کی سوئیوں نے رات بارہ بجنے کا اعلان کیا اور 15 اگست 1947 کی تاریخ شروع ہوئی پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا۔ دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ترنگا پرچم لہرایا اور اس طرح ہمارا ملک ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس خوشی کے موقع پر بھی جاتے جاتے انگریزوں نے ہمیں دکھ دینے کا کام کیا۔ آزادی کے ساتھ ہی وطن عزیز کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ شمالی  مرکزی اور جنوبی ہند جہاں ہندو اکثریت تھی اسے ہندوستان کا نام دیا گیا اور مشرقی و مغربی ہند کے وہ علاقے جہاں مسلم اکثریت تھی انہیں پاکستان کا نام دیا گیا۔ ان کے علاوہ دونوں طرف مختلف راجے مہاراجے اور نوابوں کی  بہت ساری چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر دونوں طرف کی تمام ریاستیں نئے وجود میں آئے دونوں ممالک میں ضم ہوگئیں۔  کچھ عرصہ بعد بقیہ ریاستیں بھی ضم ہوگئیں۔ اس کی ایک الگ تاریخ ہے۔ آزادی کے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھارت کے وائسرائے تھے۔ وہ انگریزی حکومت کے آخری گورنر جنرل تھے۔ آزادی کے بعد اقتدار کی مکمل منتقلی تک وہ بھارت کے گورنر جنرل رہے۔ آزادی کے وقت کنگ جارج ششم برطانیہ کے بادشاہ تھے اور ہم نے ان سے ہی آزادی حاصل کی تھی۔ عبوری حکومت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے۔ اسی طرح لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم جبکہ محمد علی جناح وہاں کے پہلے گورنر جنرل بنے۔  تقسیم ہند کے ساتھ ہی ایک کربناک دور شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلمان پاکستان کی طرف تو پاکستان کے ہندو ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اس مشکل دور میں بھی بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنی مٹی کو چھوڑ کر جانا گوارا نہ کیا۔ شہر مالیگاؤں میں بھی ایسے لوگوں کی اکثریت تھی۔ 

*1947 کا مالیگاؤں*
یہ مٹی کی محبت ہی تھی کہ اس شہر کے تقریبا تمام لوگوں نے یہیں پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ حاجی حنیف صابر صاحب کے دادا رحمت اللہ ۔ والد صابر پہلوان اور چچا محمد عمر نے بھی وطن کی مٹی کو تھامے رکھا۔ حاجی حنیف صابر کے رفیق سحر حاجی محمد ابن احمد قربان بتاتے تھے کہ جس دن آزادی ملی ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ حاجی محمد صاحب پرائمری میں زیر تعلیم تھے۔ اسکولوں میں بچوں کو شیرینی اور ایک ایک بلہ تقسیم کیا گیا تھا۔ چوک چوراہوں پر لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ الغرض ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ آزادی کے وقت مولوی عبدالرزاق مالیگاؤں کے صدربلدیہ جبکہ خان صاحب عبدالرحیم ایم ایل اے تھے۔ اس وقت ہارون احمد انصاری اور عباس علی قاضی جیسے لیڈرس بھی میونسپل کونسلر تھے۔ 

*ریاستی حالات*
آزادی کے وقت مالیگاؤں بامبے پریسیڈینسی میں تھا۔ آزادی کے ساتھ ہی بہت ساری نوابی ریاستیں بھارت میں شامل ہوئیں۔ جن میں کولہاپور بڑودہ اور ڈانگ جیسی ریاستیں بھی تھیں۔ ان تینوں ریاستوں کو بامبے پریسیڈینسی میں شامل کرکے اسے بامبے اسٹیٹ کا نام دیا گیا۔ آگے چل کرسوراشٹر مراٹھواڑہ اور ودربھ بھی اس کا حصہ بنے۔ 1947 میں بالاصاحب کھیر بامبے کے وزیراعلی تھے۔

*عالمی حالات*
1947 کے آس پاس بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا کے بہت سارے ممالک نے برطانیہ فرانس اور دیگر سامراجی ممالک سے آزادی حاصل کی۔ 1947 میں ہی انگریزوں نے فلسطین کو آزاد تو کیا لیکن اسے تقسیم کرتے ہوئے عرب کے قلب میں اسرائیل نامی ملک بناگئے جو فلسطینیوں کی زمین پر مسلسل قبضہ کررہا ہے۔ 1947 میں ہی کشمیر کو لے کر پہلی ہند و پاک جنگ ہوئی تھی۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط نمبر 3 ۔ 1948)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
(ہمارا مالیگاؤں)
8087003917

ہفتہ، 1 مارچ، 2025

قسط نمبر ایک ۔ سوانح حاجی حنیف صابر ۔ مع مقامی ریاستی ملکی و عالمی تاریخ

ابھی ہندوستان آزاد نہیں ہوا تھا۔ 1946 کی پہلی سہ ماہی تھی۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوچکی تھی۔ امریکہ نام کا نیا سپر پاور وجود میں آچکا تھا۔ برطانیہ جنگ میں فتح کے باوجود معاشی طور پر قلاش ہوچکا تھا۔ یکے بعد دیگرے ممالک اس کے تسلط سے آزاد ہوئے جارہے تھے۔ ایسے ماحول میں یکم مارچ 1946 کو خوش آمد پورہ کے ایک متوسط گھرانے میں محمد صابر پہلوان اور رابعہ بانو کے یہاں پہلے بچے کا جنم ہوا جس کا نام دادا رحمت اللہ نے بڑے پیار سے محمد حنیف رکھا۔ آگے چل کر یہی بچہ حاجی محمد حنیف صابر اور حنیف لیڈر کے نام سے پورے شہر میں مشہور ہوا۔ 

*1946 کا مالیگاؤں*
اس وقت شہر مالیگاؤں میں کانگریس کے مولوی عبدالرزاق عبدالمجید میونسپلٹی کے صدربلدیہ تھے تو مسلم لیگ کے خان صاحب عبدالرحیم بطور ایم ایل اے بامبے اسمبلی میں شہر کی نمائندگی کررہے تھے۔ آپ انگریزی دور میں 1937 میں پہلی بار اور 1946 میں دوسری بار ایم ایل اے بنے تھے اور 1952 کے آزاد ہندوستان کے پہلے الیکشن تک ایم ایل اے رہے۔ مالیگاؤں میں اس زمانے میں پارٹی سے زیادہ مولوی عبدالرزاق گروپ اور خان صاحب گروپ مشہور تھے۔ مولوی صاحب اور خان صاحب کے درمیان سیاست عروج پر تھی۔ مگر دونوں نے کبھی بھی مخالف کی پگڑی نہیں اچھالی۔ تعمیری سیاست کو فوقیت دی۔  تین قندیل اور آس پاس کا علاقہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا۔ شہر میں بھی آزادی کے متوالے سرگرم عمل رہتے تھے۔ 1935 میں مالیگاؤں میں پاورلوم آچکا تھا۔ پاور لوم آنے کے بعد محمد صابر پہلوان اور ان کے بھائی محمد عمر نے گھر کے نیچے دستی کرگھے کی جگہ پاورلوم لگوایا جس پر دونوں رنگین ساڑی بنا کرتے تھے۔ اس وقت صرف دن میں پاورلوم جاری رہتے تھے اور شام ڈھلے لوگ گھر پہنچ جاتے۔ ان کے پاس بیوی بچوں اور دوست یار کیلئے بھرپور وقت ہوتا۔ گاؤں چھوٹا تھا مگر سب ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیوں میں برابر شریک ہوا کرتے تھے۔

*ریاستی حالات*
 اس وقت مہاراشٹر اور گجرات ریاستیں نہیں بنی تھیں اور ان کے بیشتر علاقے بامبے اسٹیٹ کا حصہ تھے۔ 1960 میں میں بامبے اسٹیٹ ختم ہوکر مہاراشٹر اور گجرات ریاستیں بنیں۔  1946 میں انگریزی حکومت کے ماتحت بامبے اسٹیٹ کے الیکشن ہوئے تھے اور بالا صاحب کھیر وزیراعلی بنے تھے جو آزادی کے بعد 1952 تک وزیراعلی رہے۔

*ملکی حالات*
ہمارا ملک آزاد تو نہیں ہوا تھا مگر 1946 میں الیکشن کے بعد جواہر لال نہرو کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوچکی تھی اور آزادی کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ اس وقت لارڈ واویل بھارت کے گورنر جنرل تھے۔ ڈاکٹر راجندر پرساد دستور ساز اسمبلی کے صدر جبکہ جواہرلال نہرو عبوری وزیراعظم تھے۔ 

*عالمی حالات*
  دوسری عالمی جنگ ختم ہوچکی تھی۔ جاپان جرمنی ایک طرف تو برطانیہ امریکہ دوسری طرف تھے۔ دنیا دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ عالمی جنگ میں ہندوستانی سپاہی بھی برطانیہ کی جانب سے جنگ میں شامل تھے۔ 1945 میں قائم ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی میٹنگ جنوری 1946 میں ہوئی تھی۔ اس سال اردن فلپائن جیسے کئی ممالک نے آزادی حاصل کی تھی۔ 
(جاری ۔ اگلی قسط ۔ سن 1947)

✍🏻 *شکیل حنیف صابر*
(ہمارا مالیگاؤں)
8087003917

سوانح اور سال بہ سال تاریخ منفرد انداز میں

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو کہا گیا
سورج ہیں زندگی کی رمق چھوڑ جائیں گے
تادیر جگمگائیں گی ان کی نشانیاں
وہ ڈوب بھی گئے تو شفق چھوڑ جائیں گے

قارئین ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا حاجی محمد حنیف صابر۔ آپ کا 74 سالہ عرصہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ تعلیمی سماجی دینی سیاسی صنعتی تقریبا ہر شعبے میں آپ نے اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ حاجی صاحب کی زندگی کے *ہر سال* کے اہم واقعات اور نکات مرحلہ وار پیش کئے جائیں گے۔ اس میں روایت سے ہٹ کر منفرد انداز اختیار کیا جائے گا تاکہ یہ صرف سوانح حیات نہ ہو بلکہ اس پورے عرصے کی ایک تاریخی دستاویز بنے۔ اس کیلئے حاجی صاحب کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 1946 سے اب تک ہر سال کے شہر ریاست ملک اور دنیا کے اہم واقعات بھی سلسلہ وار اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ساتھ ہی ان کے دوست احباب اور متعلقین ٰ اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے ابواب بھی شامل ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔

(شکیل حنیف صابر)
ہمارا مالیگاؤں

جمعہ، 4 فروری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

 1945 سے 1970 پچیس سالوں کی مالیگاؤں اور دنیا کی تاریخ سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی *اب تک کی تمام سات قسطیں ایک ساتھ*


*باب اول : دیباچہ*


کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو کہا گیا

سورج ہیں زندگی کی رمق چھوڑ جائیں گے

تادیر جگمگائیں گی ان کی نشانیاں

وہ ڈوب بھی گئے تو شفق چھوڑ جائیں گے۔


قارئین ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا حاجی محمد حنیف صابر۔ آپ کا 74 سالہ عرصہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ تعلیمی سماجی دینی سیاسی صنعتی

ہفتہ، 29 جنوری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں ۔ باب ہفتم

 1965 سے 1970 تک کے شہری قومی اور عالمی واقعات اور اس دور کے حالات کو پیش کرتی سوانح حاجی حنیف صابر کی ساتویں قسط ۔ باب ہفتم

حاجی حنیف صابر کے والد محترم محمد صابر پہلوان نہایت نرم دل اور شفیق طبیعت کے مالک تھے۔ آپ شروع سے ہی گھر کے معاملات میں حاجی صاحب کی آراء کو کافی اہمیت دیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شادی بیاہ ہو یا موت میت شروع سے ہی حاجی صاحب تمام کاموں میں قائدانہ کردار ادا کیا کرتے تھے۔ 1965 میں مالیگاؤں کی آبادی ایک لاکھ اڑتالیس ہزار ہوچکی تھی۔ اس وقت پاورلوم صرف

جمعہ، 21 جنوری، 2022

باب ششم ۔ سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

 1960 سے 1965 ان پانچ سالوں کی مختصر شہری ۔ ریاستی ۔ ملکی اور عالمی تاریخ سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی چھٹی قسط (باب ششم)

ساٹھ کی دہائی آتے آتے 1950 میں 54 ہزار کی آبادی رکھنے والا مالیگاؤں ایک لاکھ کا ہندسہ پار کرتے ہوئے 1960 میں ایک لاکھ پندرہ ہزار کی آبادی والا شہر بن چکا تھا۔ حاجی حنیف صابر لڑکپن سے نوجوانی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فائنل پاس کرنے کے بعد

جمعرات، 13 جنوری، 2022

باب پنجم ۔ سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

 1955 سے 1960 تک کے شہر ملک اور دنیا کے حالات و واقعات اور حاجی حنیف صابر کے حالات زندگی پر مشتمل سوانح حاجی حنیف صابر کی پانچویں قسط

پچاس کی دہائی میں دنیا میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ دنیا کے بیشتر غلام ممالک یکے بعد دیگرے برطانیہ اور فرانس جیسی سامراجی طاقتوں سے آزادی حاصل کرتے گئے۔ وہ برطانیہ جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اپنی مقامی سرحدوں تک سکڑ گیا تھا۔ 1955 میں مالیگاؤں کی آبادی 78 ہزار تھی۔ اس وقت صدر بلدیہ کی میعاد ایک سال ہوتی تھی۔  مئی 1955 میں ڈاکٹر شیخ سلیم صدربلدیہ بنے اور ایک سال بعد 1956 میں عباس علی قاضی اس عہدے پر براجمان ہوئے۔ 1956 میں ہی مرارجی دیسائی کی جگہ  یشونت راؤ چوہان بامبے اسٹیٹ کے وزیراعلی بنے۔ آپ کو بامبے کا آخری اور مہاراشٹر کا پہلا وزیراعلی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس دوران حاجی حنیف صابر پرائمری میں زیرتعلیم تھے۔ اسکول کے بعد آپ گھر کے کاموں میں بھی  والدین کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ گھر کا پاورلوم تھا اس لئے جب بھی موقع ملتا لوم چلانے کی مشق کیا کرتے تھے۔  1956 میں دوسری عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔  مشہور زمانہ نہر سوئز مصر کے زیر انصرام آئی۔  اوپیک ۔ ناسا ۔ جیسے کئی عالمی اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ 

1957 میں مالیگاؤں حلقہ پارلیمان وجود میں آیا۔ اس سال بھارت کے پارلیمانی حلقوں کی ازسر نو تشکیل ہوئی تھی اور ناسک حلقہ پارلیمان کے بیشتر حصوں پر مشتمل ایک نیا حلقہ پارلیمان مالیگاؤں کے نام سے بنا تھا۔ اس طرح ملک کے دوسرے پارلیمانی الیکشن میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے یادو نارائن جادھو مالیگاؤں کے پہلے ایم پی منتخب ہوئے۔ آپ نے کانگریس کے ملہار بیڑکر کو شکست دی۔ پنڈت نہرو ایک بار پھر وزیراعظم بنائے گئے۔ 1957 کے صدارتی انتخاب میں ایک بار پھر ڈاکٹر راجندر پرساد صدرجمہوریہ اور ڈاکٹر رادھا کرشنن نائب صدر منتخب ہوئے۔ اسی سال 25 فروری 1957 کو بامبے اسمبلی کے بھی الیکشن ہوئے جس میں شمالی مالیگاؤں حلقے سے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ہارون احمد انصاری ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ انہوں نے مالیگاؤں کے اولین اور کانگریس کے سیٹنگ ایم ایل اے صابر ستار کو شکست دی اور پچھلے الیکشن کی ہار کا بدلہ لیا۔ اس وقت آج کے مالیگاؤں آؤٹر کے بیشتر علاقے شمالی ناندگاؤں و جنوبی مالیگاؤں نامی حلقہ اسمبلی میں شامل تھے۔ وہاں سے بھاؤ صاحب ہیرے لگاتار دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ یشونت راؤ چوہان بامبے کے وزیراعلی بنے۔ مالیگاؤں کے ایم پی اور ایم ایل اے دونوں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے تھے۔ شہر میں کانگریس کے ساتھ ساتھ سوشلسٹ پارٹی کا زور تھا۔ مئی 1957 میں میونسپل کونسلر اور ایم ایل اے ہارون احمدانصاری مالیگاؤں کے صدربلدیہ بھی بنائے گئے۔ یہ وہ سال تھا جب روس نے اسپوتنک نامی زمین کے گرد گردش کرنے والا پہلا مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجا۔ حاجی حنیف صابر بچپن سے لڑکپن کی جانب رواں دواں تھے۔ اسکول کے ساتھ ساتھ مسجد خانقاہ اشرفیہ اور دارالعلوم اہلسنت اشرفیہ آپ کی دلچسپی اور سرگرمیوں کا مرکز تھے۔ جب بھی اسکول اور گھریلو مصروفیات سے فرصت ملتی مسجد و مدرسے کو وقت دیتے اور اکثر علماء کی محفلوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ 

1958 میں میونسپل الیکشن ہوئے۔ ساتھی نہال احمد لگاتار دوسری بار کونسلر منتخب ہوئے۔  وٹھل گنپت کاڑھے صدربلدیہ بنے۔ اسی چناؤ میں قلعہ سے عبدالحمید عظیم اللہ المعروف حمید ممبر پہلی بار کونسلر بنے۔ آگے چل کر آپ حاجی حنیف صابر کے خسر بنے۔ جس کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔ 1958 میں ہی مشہور مسلم رہنما مولانا آزاد کا انتقال ہوا۔ 

1959 میں حاجی حنیف صابر نے ساتویں جماعت کامیاب کی۔ اس زمانے میں ساتویں پاس کرنا فائنل پاس کرنا کہلاتا تھا اور اس کی کافی اہمیت تھی۔ آپ آگے پڑھنا چاہتے تھے۔ آپ کے اساتذہ اور ساتھیوں نے بھی کافی کوشش کی کہ آپ تھوڑا اور پڑھ کر ٹیچر بن جائیں مگر آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لئے آگے کی پڑھائی ترک کرکے پاورلوم کے آبائی پیشے سے منسلک ہوگئے اور گھر کی ذمہ داریوں میں والد کا ہاتھ بٹانے لگے۔ گو کہ آپ نے صرف ساتویں تک تعلیم حاصل کی تھی مگر آپ کا دماغ کمپیوٹر کی طرح چلتا تھا۔ اکثر جب کوئی حساب کتاب کا معاملہ ہوتا یا کوئی تحریر لکھنی ہوتی آپ اتنی تیزی سے حساب کرتے یا جملوں کی ڈرافٹنگ کرتے کہ مجھ جیسے کئی ڈگری یافتہ عش عش کرتے رہ جاتے۔ 1959 میں ڈاکٹر شیخ سلیم اور 1960 میں رگھونندن پاٹل شہر کے صدربلدیہ رہے۔ 1959 میں ہی روس کی جانب سے پہلا غیر انسانی راکٹ چاند پر پہنچا۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی دو بندروں کے ساتھ کسی جاندار پر مشتمل پہلا راکٹ خلاء میں روانہ کیا۔ 1960 آتے آتے مالیگاؤں کی آبادی ایک لاکھ پندرہ ہزار ہوچکی تھی۔  یکم مئی 1960 کو بامبے اسٹیٹ تقسیم کرکے گجرات اور مہاراشٹر دو نئی ریاستیں بنائی گئیں۔ اس کا تفصیلی ذکر اگلے باب میں آئے گا۔

پیر، 10 جنوری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخ مالیگاؤں

باب چہارم : 1950 سے 1955 تک کے شہری قومی اور عالمی واقعات و حالات سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر کی چوتھی قسط


 26 جنوری 1950 کو دستور کے نفاذ کے ساتھ ہی ہندوستان ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس وقت حاجی حنیف صابر چار سال کے تھے۔ 1950 میں مالیگاؤں کی آبادی 54000 تھی۔  سیاست میں خانصاحب اور مولوی عبدالرزاق کی جگہ صابر ستار ۔ ہارون انصاری ۔ آزاد انصاری ۔ ڈاکٹر شیخ سلیم ۔ عباس علی قاضی جیسے نئے لیڈرس لینے لگے تھے۔ حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد بھی سیاست میں داخل ہوچکے تھے۔ دسمبر 1950 تک مولوی عبدالرزاق صدربلدیہ رہے۔ 1950 میں میونسپل الیکشن ہوئے اور دسمبر 1950 سے 1952 تک منگل داس بھاؤسار شہر کے صدربلدیہ رہے۔ ملکی حالات پر نظر ڈالیں تو 1950 میں نئے دستور کے مطابق ملک میں نئی حکومت کیلئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ 1951 کے اواخر اور 1952 کے شروع میں آزاد ہندوستان میں لوک سبھا کے پہلے انتخابات ہوئے۔ مالیگاؤں اس وقت بامبے اسٹیٹ میں تھا۔ آگے چل کر یکم مئی 1960 میں بامبے اسٹیٹ کی تقسیم ہوئی اور گجرات اور مہاراشٹر دو نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ تب مالیگاؤں مہارشٹر کے حصے میں آیا۔ آزادی سے قبل بامبے اسٹیٹ بامبے پریسیڈینسی کہلاتی تھی جس کا ہیڈکوارٹر بامبے شہر تھا۔ بامبے شہر کی بھی دلچسپ تاریخ ہے۔ یہ پہلے پرتگیزوں کے قبضے میں تھا۔ 1662 میں شہزادہ چارلس دوم کی شادی پرتگیز شہزادی کیتھرائن سے ہوئی۔ اس وقت بامبے شہر بطور جہیز شہزادہ چارلس کو دے دیا گیا۔ بالاصاحب گنگادھر کھیر بامبے اسٹیٹ کے پہلے وزیراعلی تھے۔ آپ 1952 تک بامبے کے وزیراعلی رہے۔  آزادی کے بعد 1952 میں پہلے پارلیمانی الیکشن ہوئے۔ شہر مالیگاؤں ناسک حلقہ پارلیمان کا حصہ تھا۔ 27 مارچ 1952 کو الیکشن ہوا جس میں کانگریس کے دیشپانڈے گوند ہری نے کامیابی حاصل کی اور ناسک حلقے کے پہلے ایم پی بنے۔ پنڈت جواہر لال نہرو ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پارلیمانی الیکشن کے ساتھ 1952 میں ہی بامبے اسٹیٹ کی اسمبلی کے بھی انتخابات ہوئے۔ آج کی طرح اس وقت بھی شمالی مالیگاؤں اور جنوبی مالیگاؤں + شمالی ناندگاؤں اس طرح دو حلقہ اسمبلی تھے مگر حدبندی تھوڑا الگ تھی۔  شمالی مالیگاؤں سے محمد صابر عبدالستار المعروف صابر ستار نے ہارون انصاری کو شکست دی اور ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس طرح آپ نے آزادی کے بعد شہر کے پہلے ایم ایل اے ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اسی طرح جنوبی مالیگاؤں + ناندگاؤں نامی حلقہ اسمبلی سے بھاؤ صاحب ہیرے پہلے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ اس الیکشن کے بعد مرار جی دیسائی بامبے کے وزیراعلی منتخب ہوئے۔ نیا دستور بننے کے بعد 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد بھارت کے پہلے صدر جمہوریہ منتخب ہوئے تھے لیکن 1952 میں پہلی بار صدارتی انتخاب ہوا جس میں ڈاکٹر راجندر پرساد نے کے ٹی شاہ کو شکست دی اور دوسری بار صدر جمہوریہ منتخب ہوئے۔ اسی طرح ڈاکٹر رادھا کرشنن بلامقابلہ نائب صدر منتخب کئے گئے۔ عالمی منظر نامے پر شمالی و جنوبی کوریا ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے۔ روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔

اسی دوران 1952 میں چھ سال کی عمر میں حاجی حنیف صابر کا داخلہ چونا بھٹی پر اسکول نمبر 4 میں  کروایا گیا۔ جماعت اول سے ہی آپ کو مشہور مورخ ٰ ادیب اور شاعر ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب جیسے دوستوں کا ساتھ ملا۔ 

ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب بتاتے ہیں کہ پرائمری اسکول میں ان کے ایک ٹیچر ناصر جناب نے بچوں میں شعر و شاعری سے دلچسپی پیدا کرنے کی غرض سے کلاس کے تمام طلبہ کا ایک تخلص رکھا تھا۔ اس طرح الیاس صدیقی صاحب کو ناصح اور حنیف صابر صاحب کو ہلچل تخلص ملا تھا۔ صدیقی صاحب نے مذاقا کہا کہ یہ تخلص کا ہی اثر تھا کہ میں زندگی بھر نصیحت کرتا رہا اور حنیف نے ہلچل مچائے رکھی۔ دینی تعلیم آپ نے خانقاہ اشرفیہ سے حاصل کی اور ناظرہ قرآن پاک ختم کیا۔ آپ حفظ تو نہ کرسکے لیکن قرآن کی اکثر سورتیں زبانی یاد تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں تلاوت کے وقت کسی سے غلطی ہوجائے تو فورا اصلاح کیا کرتے تھے۔  

حاجی صاحب شروع سے ہی کافی ذہین تھے۔ میری پھوپھی بتاتی ہیں کہ آپ کو دین سے اتنا لگاؤ تھا کہ بچپن میں زیادہ تر وقت مسجد میں علماء کی صحبت میں ہی گزرتا تھا۔ 

1952 میں شہر مندی کی شدید لپیٹ میں آگیا۔ لوگ کام کی تلاش میں کھیتوں میں جانے لگے۔ کوئی پھلی توڑتا تو کوئی گنا توڑ کر کچھ پیسے کما لیتا۔ حکومت کی جانب سے بطور امداد لوگوں سے کھڈا کھودوانے کا کام  شروع کیا گیا۔ اسی دوران شہر میں پہلی بار سفید کپڑوں کی تیاری شروع ہوئی اور بہت سارے لوگ اس نئے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ 1952 میں آزاد انصاری صدربلدیہ بنے۔ 1953 میں ڈاکٹر شیخ سلیم کو یہ عہدہ ملا لیکن اسی سال پھر سے آزاد انصاری صدربلدیہ بن گئے۔ 1954 میں شہر کی پہلی اردو ہائی اسکول اینگلو اردو ہائی اسکول انجمن ترقی تعلیم کے زیر انصرام آئی اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول بنی۔  1954 میں میونسپل انتخابات ہوئے۔ اس باڈی میں ہارون احمد انصاری صدربلدیہ منتخب ہوئے۔ اسی باڈی میں حاجی حنیف صابر کے سیاسی استاد ۔ خیرخواہ ۔ ساتھی اور رہنما ساتھی نہال احمد بھی پہلی بار کونسلر منتخب ہوئے۔ آپ کا اور حاجی حنیف صابر کا ساتھ مرتے دم تک قائم رہا۔ حاجی حنیف صابر نے سیاست میں کب اور کس طرح قدم رکھا اس کا تفصیلی ذکر آگے کے ابواب میں آئے گا۔

بدھ، 5 جنوری، 2022

تاریخ مالیگاؤں سے مزین سوانح حاجی حنیف صابر

 باب سوم ۔ 1946 سے 1950 تک کے حالات (قسط نمبر 3)

حاجی حنیف صابر ابھی ایک برس کے ہی تھے کہ وطن عزیز کو آزادی کا پروانہ مل گیا۔  جیسے ہی گھڑی کی سوئیوں نے رات بارہ بجنے کا اعلان کیا اور 15 اگست 1947 کی تاریخ شروع ہوئی پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا۔ دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ترنگا پرچم لہرایا اور اس طرح ہمارا ملک ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس خوشی کے موقع پر بھی جاتے جاتے انگریزوں نے ہمیں دکھ دینے کا کام کیا۔ آزادی کے ساتھ ہی وطن عزیز کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ شمالی ٰ  مرکزی اور جنوبی ہند جہاں ہندو اکثریت تھی اسے ہندوستان کا نام دیا گیا اور مشرقی و مغربی ہند کے وہ علاقے جہاں مسلم اکثریت تھی انہیں پاکستان کا نام دیا گیا۔ ان کے علاوہ دونوں طرف مختلف راجے مہاراجے اور نوابوں کی  بہت ساری چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر دونوں طرف کی تمام ریاستیں نئے وجود میں آئے ممالک میں ضم ہوگئیں۔  کچھ عرصہ بعد بقیہ ریاستیں بھی ضم ہوگئیں۔ اس کی ایک الگ تاریخ ہے۔ تقسیم ہند کے ساتھ ہی ایک کربناک دور شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلم پاکستان کی طرف تو پاکستان کے ہندو ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اس مشکل دور میں بھی بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنی مٹی کو چھوڑ کر جانا گوارا نہ کیا۔ شہر مالیگاؤں میں بھی ایسے لوگوں کی اکثریت تھی۔ 

یہ مٹی کی محبت ہی تھی کہ اس شہر کے لوگوں نے یہیں پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ حاجی حنیف صابر کے رفیق سحر حاجی محمد ابن احمد قربان بتاتے ہیں کہ جس دن آزادی ملی ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ حاجی محمد صاحب پرائمری میں زیر تعلیم تھے۔ اسکولوں میں بچوں کو شیرینی اور ایک ایک بلہ تقسیم کیا گیا تھا۔ چوک چوراہوں پر لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ الغرض ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ 

حاجی حنیف صابر صاحب کے دادا رحمت اللہ ۔ والد صابر پہلوان اور چچا محمد عمر نے بھی وطن کی مٹی کو تھامے رکھا۔ خوش آمدپورہ کی کشادہ گلیوں میں حاجی حنیف صابر پروان چڑھے۔ آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لئے دادا دادی اور خاندان میں سب کے لاڈلے تھے۔ آپ کے بچپن میں (1946 سے 1950) آزادی وطن کے علاوہ شہر  , ملک اور دنیا میں اور بھی بہت سارے اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ 1945 سے 1950 کی میونسپل باڈی میں مولوی عبدالرزاق ہی بدستور صدربلدیہ رہے۔ آپ 1942 میں صدربلدیہ بنے تھے۔ اس باڈی میں ہارون انصاری اور عباس علی قاضی جیسے لیڈرس بھی کونسلر تھے۔ اسی طرح اس عرصے میں خانصاحب عبدالرحبم شہر کے ایم ایل اے رہے۔ آپ 1937 میں پہلی بار ایم ایل اے بنے تھے جبکہ دوسری بار 1946 سے 1952 یعنی آزاد ہندوستان کے پہلے الیکشن تک آپ شہر کے ایم ایل اے رہے۔ چالیس کی دہائی کے آخر میں ہی مستقبل کے عظیم لیڈر اور حاجی حنیف صابر کے سیاسی رہنما ساتھی نہال احمد نے سیاست میں قدم رکھا۔ 1950 میں آپ نے پہلا میونسپل الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے باوجود آپ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت و لگن سے وہ کامیابی حاصل کی کہ تقریبا نصف صدی تک نہ صرف اس شہر پر آپ چھائے رہے بلکہ ملگ گیر شہرت حاصل کی۔ 

آزادی وطن کے علاوہ اہم شہری واقعات پر نظر ڈالیں تو 1948 میں قربانی کے سوال پر مالیگاؤں کے حالات خراب ہوگئے تھے۔ میری دادی بتاتی تھیں کہ اس وقت فوج کی سکھ بٹالین شہر میں وارد ہوئی تھی۔ ہمارے بزرگ اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔

1947 میں آزادی اور تقسیم ہند کے بعد جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے۔ اس وقت بھارت کا دستور نہیں بنا تھا اور صدرجمہوریہ کا عہدہ تخلیق نہیں ہوا تھا۔ اس لئے دستور بننے تک صدر مملکت کی ذمہ داریاں گورنر جنرل کے پاس تھیں۔ ماؤنٹ بیٹن آخری انگریز گورنر جنرل تھے۔ انہوں نے ہی آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 1948 میں راج گوپال اچاریہ گورنر جنرل بنے اور 1950 میں پہلے صدر جمہوریہ کے انتخاب تک آپ نے ذمہ داریاں نبھائیں۔ اسی طرح 1947 میں کشمیر کو لے کر ہند و پاک کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔  1948 میں حیدرآباد پولیس ایکشن ہوا۔ جس کے بعد حیدرآباد بھارت میں شامل ہوگیا۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو  میں ہی امریکہ کی ایماء پر 1948 میں اقوام متحدہ کی ایک قراداد کے ذریعے فلسطین کی زمین پر اسرائیل نامی ملک کا قیام عمل میں آیا اور عربوں کو ایک طویل جنگ میں جھونک دیا گیا۔ اس دوران 26 جنوری 1950 کو بھارت کا دستور نافذ ہوا۔ جس کی رو سے ہمارا ملک ایک سیکولر جمہوری ملک قرار دیا گیا۔ ایسا طرز حکومت اختیار کیا گیا جس میں صدر اور وزیراعظم دونوں کا اپنا ایک مقام ہو۔ جمہوری ملک بننے کے بعد گورنر جنرل کی جگہ  پریسیڈنٹ آف انڈیا یعنی صدر جمہوریہ نے لے لی۔ اس طرح 1950 میں ڈاکٹر راجندر پرساد ملک کے پہلے صدرجمہوریہ منتخب ہوئے۔

پیر، 3 جنوری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر مع تاریخِ دورِ حیات (تاریخِ مالیگاؤں و عالم)

قسط نمبر 2 :  پیدائش کے وفت کے شہری و ملکی حالات

ابھی ہندوستان آزاد نہیں ہوا تھا۔ 1946 کی پہلی سہ ماہی تھی۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوچکی تھی۔ امریکہ نام کا نیا سپر پاور وجود میں آچکا تھا۔ برطانیہ جنگ میں فتح کے باوجود معاشی طور پر قلاش ہوچکا تھا۔ یکے بعد دیگرے ممالک اس کے تسلط سے آزاد ہوئے جارہے تھے۔ شہر مالیگاؤں میں کانگریس کے مولوی عبدالرزاق عبدالمجید میونسپلٹی کے صدربلدیہ تھے تو مسلم لیگ کے خان صاحب عبدالرحیم بطور ایم ایل اے شہر کی نمائندگی کررہے تھے۔  بزرگ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں پارٹی سے زیادہ مولوی عبدالرزاق گروپ اور خان صاحب گروپ مشہور تھے۔ 

مولوی صاحب اور خان صاحب کے درمیان سیاست عروج پر تھی۔ مگر دونوں نے کبھی بھی مخالف کی پگڑی نہیں اچھالی۔ تعمیری سیاست کو فوقیت دی۔  تین قندیل اور آس پاس کا علاقہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا۔ شہر میں بھی آزادی کے متوالے سرگرم عمل رہتے تھے۔ ایسے ماحول میں یکم مارچ 1946 کو خوش آمد پورہ کے ایک متوسط گھرانے میں محمد صابر پہلوان اور رابعہ بانو کے یہاں پہلے بچے کا جنم ہوا جس کا نام دادا رحمت اللہ نے بڑے پیار سے محمد حنیف رکھا۔ آگے چل کر یہی بچہ حاجی محمد حنیف صابر اور حنیف لیڈر کے نام سے پورے شہر میں مشہور ہوا۔ 
   حاجی حنیف صابر کا پورا نام محمد حنیف ابن محمد صابر ابن رحمت اللہ ابن محمد اسحاق ابن عبداللہ ہے۔ محمد اسحاق عبداللہ اتر پردیش کے مہو شہر کے ایک متمول شخص تھے۔ 1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بعد جب انگریزوں کا ظلم وستم حد سے بڑھ گیا تو اتر پردیش کے مسلمانوں نے اپنی قیمتی زمینوں اور بسا بسایا گھر سنسار چھوڑ کر جنوب کی راہ لی۔ کوئی اندور میں رک گیا تو کوئی برہانپور ۔ دھولیہ اور  مالیگاؤں میں رکا۔  کوئی اور آگے جاتے ہوئے بھیونڈی اور ممبئی تک پہنچ گیا۔  ان ہی خانماں برباد لوگوں میں رحمت اللہ اور محمد اسحاق بھی شامل تھے۔ آپ لوگوں نے موسم اور گرنا کے سنگم پر آباد مالیگاؤں کو اپنا مسکن بنایا۔ گھر میں ہی دستی کرگھے پر رنگین ساڑی بننے کی شروعات کی۔ محمد اسحاق کے دو بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے رحمت اللہ اور چھوٹے محمد رمضان۔ دونوں بیٹوں نے آبائی پیشے کو اپنایا اور ساڑی بننے میں والد کی مدد کرنے لگے۔ رحمت اللہ یہ حاجی حنیف صابر کے دادا تھے۔ رحمت اللہ کی شادی سلیمہ بانو سے ہوئی۔ ان کی چھ اولادیں ہوئیں۔ دوبیٹے اور چار بیٹیاں۔ بڑے بیٹے کا نام محمد صابر اور چھوٹے کا نام محمد عمر تھا۔ 1921 میں محمد صابر کی پیدائش ہوئی۔ آپ کو پہلوانی کا شوق تھا اور مالیگاؤں قلعہ میں ہونے والے دنگلوں میں زور و شور سے حصہ لیتے تھے۔ 1943 کے آس پاس محمد صابر کی شادی موتی پورہ کے مشہور ڈومن خانوادے کی رابعہ بنت محمد اسماعیل ڈومن سے ہوئی۔ یہ دوسری عالمی جنگ کا دور تھا۔ جاپان جرمنی ایک طرف تو برطانیہ امریکہ دوسری طرف تھے۔ دنیا دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ ہندوستانی سپاہی بھی برطانیہ کی جانب سے جنگ میں شامل تھے۔ 17 اگست 1944 کو مالیگاؤں میں بڑا سیلاب آیا۔ موسم ندی پورے عروج پر تھی۔ گاؤں میں پانی داخل ہوچکا تھا۔ قلعہ ۔ موتی پورہ جیسے علاقوں میں پانی بھر گیا تھا۔ میری دادی اکثر اس وافعے کا ذکر کرتی تھی کہ کس طرح موتی پورہ سے چندن پوری گیٹ تک رسے باندھے گئے تھے اور ان رسوں کو پکڑ کر دادی کے تمام میکے والے خوش آمد پورہ میں واقع ہمارے گھر پر آئے تھے اور پانی اترنے تک قیام کیا تھا۔ خوش آمد پورہ اور بیلباغ نسبتا اونچائی پر واقع ہیں۔ اس وجہ سے جتنے بھی سیلاب آئے یہ علاقے محفوظ رہے۔ 
پاور لوم آنے کے بعد محمد صابر پہلوان اور ان کے بھائی محمد عمر نے گھر کے نیچے دستی کرگھے کی جگہ پاورلوم لگوایا جس پر دونوں رنگین ساڑی بنا کرتے تھے۔ اس وقت صرف دن میں پاورلوم جاری رہتے تھے اور شام ڈھلے لوگ گھر پہنچ جاتے۔ ان کے پاس بیوی بچوں اور دوست یار کیلئے بھرپور وقت ہوتا۔ گاؤں چھوٹا تھا مگر سب ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیوں میں برابر شریک ہوا کرتے تھے۔ (جاری)

ہفتہ، 1 جنوری، 2022

سوانح حاجی حنیف صابر اور تاریخ مالیگاؤں کا ایک صفحہ


 کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو کہا گیا

سورج ہیں زندگی کی رمق چھوڑ جائیں گے

تادیر جگمگائیں گی ان کی نشانیاں

وہ ڈوب بھی گئے تو شفق چھوڑ جائیں گے

قارئین ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا حاجی محمد حنیف صابر۔ آپ کا 74 سالہ عرصہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ تعلیمی سماجی دینی سیاسی صنعتی تقریبا ہر شعبے میں آپ نے اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ حاجی صاحب کی زندگی کے اہم واقعات اور نکات ویب سائٹ   پر مرحلہ وار پیش کئے جائیں گے۔ آپ اپنے موبائل پر دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی اسے پڑھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ اسے پی ڈی ایف اور تصویری شکل میں بھی پیش کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کرسکیں۔  یہ صرف سوانح حیات نہ ہو بلکہ اس پورے عرصے کی ایک تاریخی دستاویز بنے۔ اس کیلئے حاجی صاحب کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 1946 سے اب تک کے شہر ملک اور دنیا کے اہم واقعات بھی سلسلہ وار اس میں شامل کرنے کی کوشش کروں گا۔ ساتھ ہی ان کے دوست احباب اور متعلقین ٰ اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے ابواب بھی شامل ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔

(شکیل حنیف صابر)