غزلیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
غزلیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 14 جنوری، 2025

کیسا بھی ہو دور بدلتے دیکھا ہے (غزل ۔ شکیل حنیف)

کیسا بھی ہو دَور بدلتے دیکھا ہے
ہر ظالم کا جَور بدلتے دیکھا ہے

سایہ اپنے سر سے پدر کا اٹھتے ہی
لوگوں کو فی الفور بدلتے دیکھا ہے

مجھ سے بہتر علم تو تم سب کو ہوگا 
کیا کیا تم نے اور بدلتے دیکھا ہے

دنیا موسم دور زمانہ جو بھی ہو
کرلو اس پرغور بدلتے دیکھا ہے

آقا کے پرنور قدم کی برکت سے
بختِ غارِ ثَور بدلتے دیکھا ہے

جن کی خاطر درد شکیل احمد جھیلے 
ایسوں کا بھی طَور بدلتے دیکھا ہے

*(شکیل حنیف)*

بحر متقارب مسدس مضاعف
(فعلن فعلن فعْل فعولن فعلن فع)

( مجموعہ کلام : عکس دل )

مجھے بھی عاشق بناسکو گر تبھی تو اصلی کمال ہوگا (غزل ۔ شکیل حنیف)

مجھے بھی عاشق بنا سکو گر تبھی تو اصلی کمال ہوگا
جو نیند میری چرا سکو گرتبھی تو اصلی کمال ہوگا

لگا کے چغلی کسی کے رشتے خراب کرنا بہت ہے آساں
جو دو دلوں کو ملا سکو گر تبھی تو اصلی کمال ہوگا

خراب رستہ ہوا مخالف نہ کوئی ساتھی نہ ہی سہارا
کہ پھر بھی منزل کو پا سکو گرتبھی تو اصلی کمال ہوگا

بہت ملیں گے ستانے والے بلندیوں سے گرانے والے
گرے ہوئے کو اٹھا سکو گرتبھی تو اصلی کمال ہوگا

منافقت بھی عروج پر ہو تمہارے اپنے بھی ہوں مخالف 
جو پھر بھی رشتے نبھا سکو گرتبھی تو اصلی کمال ہوگا

ہزار تحفے لٹا چکے ہو حسین چہروں کی اک ادا پر
کہ ماں کو بھی کچھ دلا سکو گرتبھی تو اصلی کمال ہوگا

شکیل کتنی بھی بندشیں ہوں ہزار مصروف زندگی ہو
جو پھر بھی غزلیں سنا سکو گرتبھی تو اصلی کمال ہوگا

*(شکیل حنیف)*

(بحر جمیل مثمن سالم)
مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن

(مجموعہ کلام ۔ عکس دل)

مشکلوں کے درمیاں رہ کر بھی ہم دلشاد ہیں ( غزل ۔ شکیل حنیف)

مشکلوں کے درمیاں رہ کر بھی ہم دلشاد ہیں
جو فنا کرنے چلے تھے وہ بھلے برباد ہیں

ظلم اتنا سہہ چکے اب ڈر نہیں لگتا ہمیں
ہوگا جو دیکھیں گے اب ہر خوف سے آزاد ہیں

طاقت و دولت کے آگے خم ہوا کرتے ہیں سر
ساتھ دیں جو سچ کا ایسے چند ہی افراد ہیں

تاج سا دلکش عجوبہ اور ہزاروں شاہکار
دے گئے جو ہند کو وہ سب مرے اجداد ہیں

ایک مدت سے کیا کرتے تھے باتیں وصل کی
آج ہم تم ساتھ ہیں پھر کیوں بھلا ناشاد ہیں

اک جھلک پانے کو جن کی سب ترستے ہیں شکیل
ان پری چہروں کے دل میں کب سے ہم آباد ہیں

*(شکیل حنیف)*

(بحر رمل مثمن محذوف)
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن

(مجموعہ کلام ۔ عکس دل)

ایک خود کو ہی وہ ذیشان سمجھ بیٹھے ہیں ( غزل ۔ شکیل حنیف )

ایک خود کو ہی وہ ذیشان سمجھ بیٹھے ہیں
باقی ہر ایک کو نادان سمجھ بیٹھے ہیں

دوسرے شخص کے حصے کی ملائی کھا کر 
خود کو اس دور کا دھنوان سمجھ بیٹھے ہیں

سارے ہی کاموں میں بس اپنی چلاتے جانا
خود کو اس شہر کا سلطان سمجھ بیٹھے ہیں

لفظ بننے کی بھی اوقات نہیں ہے جن کی
خود کو مضمون کا عنوان سمجھ بیٹھے ہیں

صرف تنقید نہیں کچھ تو سنادیں اپنا
شاعری کو بہت آسان سمجھ بیٹھے ہیں

درد سہ پاؤں شکیل اس لئے  لب کھولے تھے
وہ اسے چہرے کی مسکان سمجھ بیٹھے ہیں

*(شکیل حنیف)*

بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
(فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن)

(مجموعہ کلام ۔ عکس دل )

انجان راستوں پہ بھی چلنا پڑا مجھے (غزل ۔ شکیل حنیف)

انجان راستوں پہ بھی چلنا پڑا مجھے
نا چاہتے ہوئے بھی بدلنا پڑا مجھے

کچھ اس طرح سے اس نے محبت سے بات کی
انکار کرتے کرتے پگھلنا پڑا مجھے

باہر رواں ہے موت کا سیلاب  , تھا پتہ
بچوں کی بھوک دیکھ  , نکلنا پڑا مجھے

دل تو نہیں تھا پھر بھی نزاکت تھی وقت کی
موجِ بلا کے ساتھ اچھلنا پڑا مجھے

ہاں خون کھولتا تھا مگر پھر بھی چپ رہا 
اپنے لہو کی آگ میں جلنا پڑا مجھے

جو دل میں تھا شکیل وہ لب پر بھی آگیا
رازِ وصالِ یار اگلنا پڑا مجھے

*(شکیل حنیف)*

بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
(مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن)

( مجموعہ کلام ۔ عکس دل )

اتوار، 20 فروری، 2022

کسی بھی کام کی خاطر تلف آرام کردینا


کسی بھی کام کی خاطر تلف آرام کردینا

ہمیں آتا ہے جب کرنا تو پورا کام کردینا


ہماری قوم کے ہر شخص کی بچپن سے عادت ہے

لہو کے قطرے قطرے کو وطن کے نام کردینا


میں ووٹر ہوں نئے یگ کا بخوبی جانتا ہوں سب

کسے کرسی پہ رکھنا ہے کسے گمنام کردینا


ہمارے شہر کے لوگوں میں یہ خوبی نمایاں ہے

لگا کر خود کی سب محنت کسی کا نام کردینا


ذرا محنت کی عظمت کو پرندوں سے کوئی سیکھے

تلاشِ رزق کی خاطر سحر سے شام کردینا


یہ انسانی جبلت ہے کسی کو دوش کیا دینا

جسے اونچائی پر دیکھو اسے بدنام کردینا


شکیل احمد پہ ایسے بھی خدا کا فضل ہوتا ہے

غزل ہو یا کہ نظمیں ہوں قبولِ عام کردینا


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

جمعہ، 28 جنوری، 2022

اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے ۔ غزل نمبر 10 ۔ عکس دل


اگر جو روٹھ جاتے تم تو سمجھانے کہاں جاتے

تمہاری بزم سے اٹھتے تو ہم جانے کہاں جاتے


تمہارے ساتھ دل خوش ہے تمہارے پاس بہلا ہے

اگر تم ساتھ نا ہوتے تو بہلانے کہاں جاتے


ستائش کی تمنا حسن کو مخمور رکھتی ہے

اگر ایسا نہیں ہوتا تو دیوانے کہاں جاتے


لۓ جو سیلفی سب فیس بک پر ڈال دیتے ہیں

اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اترانے کہاں جاتے 


بہت اچھا ہے کہ شمع سرِ محفل ہی جلتی ہے

وگر نہ دید کی خاطر یہ پروانے کہاں جاتے


شکیل اپنی جو شہرت ہے وہ اردو کی بدولت ہے

وگر نہ ہم زمانے بھر میں پہچانے کہاں جاتے


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم 

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

جمعہ، 21 جنوری، 2022

ہمیں آتیں نہیں ہمدم لب و رخسار کی باتیں ۔ عکس دل ۔ غزل نمبر 9



ہمیں آتیں نہیں ہمدم لب و رخسار کی باتیں  
صنم کی یار کی باتیں دل و دلدار کی باتیں


یہ بیماری کا عالم اور یہ مندی کی تکلیفیں

کریں کیوں ریشمی پازیب کی جھنکار کی باتیں


ہمیں اپنوں سے الفت ہے انہی میں مست رہتے ہیں

بھلا کیونکر کریں ہم اجنبی اغیار کی باتیں


ہمارے حوصلے کو اور بھی دوچند کرتی ہیں

بڑا ہی فائدہ دیتی ہیں یہ اشرار کی باتیں


یقینا وہ حسیں بھی آج کی محفل میں آیا ہے

سبھی جو کر رہے ہیں حسن کے دیدار کی باتیں


غزل کا حسن بھی ہے ساتھ ہی لوگوں کی چاہت بھی

کہاں ورنہ شکیل احمد کہاں یہ پیار کی باتیں


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم

( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن )

بدھ، 12 جنوری، 2022

اگر اپنا نہ ہو تو ہر خزینہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ غزل نمبر 8


(عکس دل سے آٹھویں غزل)


اگر اپنا نہ ہو تو ہر خزینہ چھوڑ دیتے ہیں

زمیں ہو زر ہو یا کوئی حسینہ چھوڑ دیتے ہیں


ہم اک درویش ہیں صاحب ہمیں دولت سے کیا مطلب

ملے کتنی بھی قیمت کا دفینہ چھوڑ دیتے ہیں


کسی کی اصل صورت تو نظر آتی ہے غصے میں

کہ اس میں اچھے اچھے بھی قرینہ چھوڑ دیتے ہیں


برے حالات میں اچھے برے کا علم ہوتا ہے

لگے جب ڈوبنے چوہے سفینہ چھوڑ دیتے ہیں


یہ سچّائی کی طاقت ہے کہ جھوٹے سورما سارے

ہمارا نام سنتے ہی پسینہ چھوڑ دیتے ہیں


پہن کر خاص اک چشمہ شکیل اکثر ادب والے

اٹھا کر کانچ کے ٹکڑے نگینہ چھوڑ دیتے ہیں


(شکیل حنیف)


بحر ہزج مثمن سالم

(مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن)

جمعہ، 7 جنوری، 2022

جیسا جنون سرپھرے بلوائیوں میں تھا ۔ غزل نمبر 7


 جیسا جنون سرپھرے بلوائیوں میں تھا

ویسا ہی صبر امن کے شیدائیوں میں تھا


جس کو میں ڈھونڈتا رہا ہر پل ادھر ادھر

وہ تو مرے وجود کی گہرائیوں میں تھا


بعدِ وصال دل سے یہ اٹھتی رہی صدا

کتنا سکون ہجر کی تنہائیوں میں تھا


جو لطف جو سکون ہے پیپل کی چھاؤں میں 

ویسا مزہ نہ شہر کی رعنائیوں میں تھا


سورج بھی دیکھ کر اسے چپ چاپ ڈھل گیا

کچھ ایسا درد شام کی پرچھائیوں میں تھا


جس کی شکیل سب کو ہی ہوتی ہے آرزو

ویسا ہی پیار میرے سبھی بھائیوں میں تھا


(شکیل حنیف)

بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

(مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)

جمعرات، 6 جنوری، 2022

ہمیں معلوم ہے ہمدم کہ الفت کس کو کہتے ہیں ۔ غزل نمبر 6


 ہمیں معلوم ہے ہمدم کہ الفت کس کو کہتے ہیں

وفا کی پیار کی انمول دولت کس کو کہتے ہیں


نہ چھوڑا آخری سانسوں تلک محبوب کا دامن

کوئی دیکھے ذرا آکر محبت کس کو کہتے ہیں


ذرا دو پل ہمارے ساتھ بھی تم بیٹھ کر دیکھو

پتہ چل جائے گا سچی رفاقت کس کو کہتے ہیں


کسی کے ساتھ نکلو اور کچھ آگے نکل جاؤ

پتہ چل جائے گا تم کو عداوت کس کو کہتے ہیں


کسی نادار کے گھر بھی کبھی مہمان بن جاؤ

پتہ چل جائے گا تم کو سخاوت کس کو کہتے ہیں


نئے انداز کی نظمیں نئے انداز کی غزلیں

شکیل احمد سے تم پوچھو کہ ندرت کس کو کہتے ہیں


(شکیل حنیف)

بحر ہزج مثمن سالم

( مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن )

بدھ، 5 جنوری، 2022

طاری بڑا عجیب سا ہیجان کردیا ۔ غزل نمبر 5


 عکسِ دل سے پانچویں غزل


طاری بڑا عجیب سا ہیجان کر دیا

خوفِ وبا نے دیس کو سنسان کر دیا


شیطان چاہتا تھا کہ ایمان لوٹ لے

مضبوط رب نے اور بھی ایقان کر دیا


جنگل سے ایک شیر کے جانے کی دیر تھی

کتوں نے سارے دشت کو ہلکان کر دیا


جس باغباں پہ ناز تھا ہر پھول کو بہت

اس نے ہی سارے باغ کو ویران کر دیا


اپنی زباں سے اس نے تو کچھ بھی نہیں کہا

اپنے ہنر سے سب کو ہی حیران کر دیا


تجھ پر شکیل رب کا یہ احسان ہی تو ہے

جو مشکلیں تھیں ان کو بھی آسان کر دیا


(شکیل حنیف)


مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

( مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن )

منگل، 4 جنوری، 2022

یہ مانتے ہیں سیخ و کباب والے ہیں ۔ غزل نمر 4



یہ مانتے ہیں کہ سیخ و کباب والے ہیں

مگر ہم ان میں نہیں جو شراب والے ہیں


وہ ظلم کرکے بھی پہچان میں نہیں آتے

ہمارے سارے ستم گر نقاب والے ہیں


بزرگی آگئی لیکن جوان دکھتے ہیں

جو سر کے بال ہیں کالے خضاب والے ہیں


اگرچہ مندی ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے

ہمارے شوق تو سارے نواب والے ہیں


نبی کے صدقے میں جنت کا ہے یقیں ورنہ

ہمارے کام تو سارے عذاب والے ہیں


فدا جواں جو ہیں پروین تیرے شعروں پر

شکیل کے بھی تو شیدا حجاب والے ہیں


(شکیل حنیف)


بحر مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن

( مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن )

پیر، 3 جنوری، 2022

لافنا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں


لافنا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں

یاں سدا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں


ہم اگر انسان ہیں غلطی کا بھی امکان ہے

بے خطا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں


کب سبھی کچھ چھوڑ کر کس کو چلے جانا پڑے

جانتا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں


جس کو دیکھو دوسروں پر ہے فدا کیا کیجیے

بے وفا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں


پاک ہے دامن یہ دعوی کون ہے جو کر سکے

پارسا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں


سن شکیل احمد یہاں ہم سے بھی بہتر لوگ ہیں

انتہا میں بھی نہیں تو بھی نہیں وہ بھی نہیں


*(شکیل حنیف)*


بحر رمل مثمن محذوف

(فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن)

اتوار، 2 جنوری، 2022

کیسا بھی ہو دور بدلتے دیکھا ہے


کیسا بھی ہو دَور بدلتے دیکھا ہے

ہر ظالم کا جَور بدلتے دیکھا ہے


آقا کے پرنور قدم کی برکت سے

بختِ غارِ ثَور بدلتے دیکھا ہے


سایہ اپنے سر سے پدر کا اٹھتے ہی

لوگوں کو فی الفور بدلتے دیکھا ہے


مجھ سے بہتر علم تو تم سب کو ہوگا 

کیا کیا تم نے اور بدلتے دیکھا ہے


دنیا موسم دور زمانہ جو بھی ہو

کرلو اس پرغور بدلتے دیکھا ہے


جن کی خاطر درد شکیل احمد جھیلے 

ایسوں کا بھی طور بدلتے دیکھا ہے


(شکیل حنیف)


بحر متقارب مسدس مضاعف

(فعلن فعلن فعْل فعولن فعلن فع)

ہفتہ، 1 جنوری، 2022

مجھ کو جو سچی داد اے ہمدم کہیں ملی


مجھ کو جو سچی داد اے ہمدم کہیں ملی

اہلِ ادب کی بزم میں یعنی یہیں ملی


اک روز سب ہی چھوڑ کے جانا پڑا مجھے

دنیا بہت پسند تھی وہ بھی نہیں ملی


گرداں رہا زمین کے چکر میں روز و شب

آخر ملی تو مجھ کو بھی دوگز زمیں ملی


پلکیں جھپکنا بھول گیا سانس تھم گئی

کچھ اس ادا سے مجھ سے وہ زہرہ جبیں ملی


یادوں کو میری اس نے رکھا تھا سنبھال کر

چھوڑی تھی جو بھی چیز جہاں وہ وہیں ملی


جو کچھ کہا تھا میں نے وہی سب ہوا شکیل

ہر بات ہی قیاس سے بالکل قریں ملی


*(شکیل حنیف)*


بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف

(مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن)

جمعہ، 31 دسمبر، 2021

سال نو یہ تو بتا


چپکے چپکے سے دبے پاؤں چلا آیا ہے

سالِ نو یہ تو بتا ساتھ میں کیا لایا ہے


پھر فسادات کی خوں ریز کہانی ہے کیا

پھر وباؤں میں وہ پہلی سی روانی ہے کیا

پھر سے بازار میں مندی وہ پرانی ہے کیا

کیا تری شکل وہی اب بھی وہی کایا ہے

سالِ نو یہ تو بتا ساتھ میں کیا لایا ہے


چپکے چپکے سے دبے پاؤں چلا آیا ہے

سالِ نو یہ تو بتا ساتھ میں کیا لایا ہے


پھر غریبوں کو ستانے کا ارادہ ہے ترا

دردمندوں کو رلانے کا ارادہ ہے ترا

آندھیاں پھر سے چلانے کا ارادہ ہے ترا

کیا بتائے گا بھلا کس کو بتا پایا ہے

سالِ نو یہ تو بتا ساتھ میں کیا لایا ہے


چپکے چپکے سے دبے پاؤں چلا آیا ہے

سالِ نو یہ تو بتا ساتھ میں کیا لایا ہے


پھر بھری جھومتی گاتی ہوئی گلیاں لے آ

درد کانٹوں کے سہے دلنشیں کلیاں لے آ

تلخ خواروں کے لئے قند کی ڈلیاں لے آ

تجھ پہ قربان اس انداز سے گر آیا ہے

سالِ نو یہ تو بتا ساتھ میں کیا لایا ہے


چپکے چپکے سے دبے پاؤں چلا آیا ہے

سالِ نو یہ تو بتا ساتھ میں کیا لایا ہے


(شکیل حنیف)


*(شکیل حنیف)*

*بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع*

(فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن)