جمعرات، 12 نومبر، 2020

ووٹ پھوڑنے کا الزام : کتنا سچ کتنا جھوٹ

(پوسٹ نمبر 1500)

بہار الیکشن میں مہا گٹھ بندھن کو چند سیٹوں کے فرق سے  ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی بعض حلقوں کی جانب سے ایم آئی ایم کو ہار کا ذمہ دار قرار دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ وہیں اویسی حامی مختلف مثالوں اور حوالوں سے اس الزام کو غلط ثابت کر رہے ہیں۔ 

آئیے غیرجانبدارانہ طور پر اس معاملے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 

1️⃣ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جہاں جہاں سیکولر امیدواروں کو ہار کا سامنا ہوا کیا ہر جگہ ایم آئی ایم کے امیدوار

تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایم آئی ایم کے صرف 20 امیدوار تھے اور وہ تمام مسلم اکثریتی حلقوں میں تھے اور ایسے زیادہ تر حلقوں میں یا تو ایم آئی ایم کامیاب ہوئی یا گٹھ بندن۔ صرف چند ایک حلقوں میں ووٹ تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ہوا۔ اس طرح اویسی پر امیدوارکھڑے کرکے ووٹ پھوڑنے کا الزام صحیح نہیں ہے۔

2️⃣ ہاں ایک بات قابل غور ہے کہ کم امیدوار اور مخصوص حلقے ہونے کے باوجود ایم آئی ایم کے الیکشن میں حصہ لینے اور لیڈرس کی تقاریر کے چرچے ریاست گیر پیمانے پر ہوتے ہیں۔  دوسرے حلقوں میں جب یہ خبر جاتی ہے یا پھیلائی جاتی ہے کہ مخصوص طبقہ ایک ہوگیا ہے تو وہاں ووٹرس کا دماغ بدلنا فطری بات ہے اور اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوتا ہے۔ 

اس طرح بطور مسلم پارٹی ایم آئی ایم کچھ حد تک مخالف ووٹوں کے پولرائزیشن کا سبب بنتی ہے۔ 

3️⃣ اب تک نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی آئی ہیں۔ اس لئے اکثر مسلمان ایم آئی ایم کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایم آئی ایم یکے بعد دیگرے ریاستوں میں اپنے قدم جما رہی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ صرف ووٹوں کی تقسیم کے ڈر سے ایم آئی ایم انتخابات میں حصہ کیوں نہ لے ؟ کیونکہ ہر پارٹی کو ہر جگہ انتخابات میں حصہ لینے کا پورا حق ہے۔ تقسیم روکنے کیلئے دوسری پارٹیاں بھی تو قربانی دے سکتی ہیں۔ 

4️⃣ ایم آئی ایم کے حامیوں سے معذرت کے ساتھ ایک بات کہنا چاہوں گا کہ موجودہ حالات میں ایم آئی ایم کو اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا۔ اسے صرف مسلم ووٹوں پر تکیہ نہ کرتے ہوئے ہر طبقے تک پہنچنا ہوگا۔ اسی طرح ممکن ہوتو جس ریاست میں الیکشن میں حصہ لے وہاں کی کسی مضبوط سیکولر علاقائی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن لڑے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ تمام امیدوار اور لیڈرس کوشش کریں کہ کوئی ایسی تقریر یا بیان نہ دیا جائے جس سے پولرائزیشن کا خطرہ ہو۔

♓Ⓜ