ہر شہر کی ایک بڑی اور مشہور روڈ ہوتی ہے جو اس کی ناک کی حیثیت رکھتی ہے۔ دوسرے شہر کے بیشتر لوگ صرف اس روڈ سے گزرتے ہیں اور ان کے ذہن میں اس شہر کی ترقی یا تنزلی کا خاکہ اس کے مدنظر تشکیل پاتا ہے۔ مثال کے طور پر
ہم اورنگ آباد جائیں تو جالنہ روڈ کی خوبصورتی و وسعت اور دھولیہ جائیں تو 80 فٹ روڈ کی وسعت سے وہاں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔بالکل اسی طرح آگرہ روڈ مالیگاؤں کی ناک ہے۔ اس پر سے ہزاروں لوگ گزرتے ہیں اور اپنے ذہن میں ہمیشہ کیلئے مالیگاؤں کی بدترین تصویر بسا لیتے ہیں۔
اب تک کس نے یہ روڈ بنوائی۔ کتنی بار بنی۔ کتنا کھایا گیا۔
ان سب سے ہمیں کوئی مطلب نہیں۔ ایک بار اس روڈ کو اچھی طرح بنوا دیا جائے۔
اخبارات میں موجودہ اور سابق دونوں ایم ایل ایز کے بارے میں خبر پڑھی کہ دونوں صاحبان نے حال ہی میں کوشش کی ہے۔ دونوں کے چاہنے والے اپنے لیڈر کا نام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان سب کو مبارکباد۔ 🌹
کام کوئی بھی کرے ایک بار مکمل کروا دو یار 🙏🏻
دوسرے کے کام میں رخنہ نہ ڈالتے ہوئے دونوں اپنی اپنی پوزیشن اور تعلق کے حساب سے کوشش کریں۔
کام مکمل ہونے پر شیواجی پتلا اور مطلب پمپ دونوں جگہ ایک ساتھ افتتاحی تقریب رکھنا۔ ایک جگہ موجودہ تو دوسری طرف سابق ایم ایل اے کے ہاتھوں افتتاح ہوگا۔
مگر کام پورا کروائیں پلیز۔ 🙏🏻