آج کی بات (پوسٹ نمبر 1543)
شہر سے لے کر ملک تک اور ملک سے لے کر عالمی پیمانے تک اندھی عقیدت کا زور ہے۔ ہر پارٹی ہر طبقے اور ہر شعبے میں اندھ بھکت پائے جاتے ہیں۔ اس لئے اس مضمون کو کوئی اپنے اوپر یا کسی مخصوص پارٹی یا سماج کے اوپر محمول نہ کرے۔ مضمون کا مقصد بس یہ ہے کہ ہر بات میں اعتدال کا رویہ اپنایا جائے اور حمایت و مخالفت کا بھی ایک معیار ہو جو ایک باوقار اور صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاست ہو یا کاروبار یا کوئی اور شعبہ اگر آپ نے کسی بھی فیلڈ میں اپنی محنت سے یا بائی چانس ایک مقام حاصل کرلیا ہے تو آپ کے چند اندھ بھکت ہونے ضروری ہیں۔ بھکتوں کے بڑے فائدے ہیں۔ یہ ہماری ایسی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ جن کا ہم کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔ بعض مرتبہ یہ اندھ بھکت اپنے آئیڈیل کے فضلے کو بھی اس انداز میں بہترین حلوہ بتا کر پیش کرتے ہیں کہ اگر آئیڈیل سن لے تو بیساختہ اس کو بھی خود کھانے کا من ہونے لگے۔ یہ اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ مخالفین کی بریانی کو بھی باسی کھچڑی ثابت کروا کر پھینکوا دیں۔ آج ہر طرف اندھ بھکتوں کا دور دورہ ہے۔ ایسے عالم میں میرا بس اتنا ہی کہنا ہے کہ ذرا سا دماغ سے کام لیں۔ کسی کو چاہنا برا نہیں۔ کسی کی تعریف کرنا یا اس کا ساتھ دینا اور کسی کی خراب باتوں کی مخالفت کرنا بھی برا نہیں۔ جتنا دل کرے اپنے والے کی تعریف کریں یا سامنے والے کی مخالفت کریں مگر ایسی کہ وہ سچائی کے قریب ہو۔ بیجا حمایت یا بیجا مخالفت آپ کو کسی کا ہمدرد یا ساتھی نہیں بلکہ موقع پرست اور چند روپیوں کے لئے پھدکنے والا ثابت کرتی ہے۔ اس لئے بھکتی کریں مگر ایسی کہ بعد میں آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
(شکیل حنیف)