1885 میں ڈیملر نے پہلی موٹر سائیکل بنائی۔ مگر اس میں مسئلہ یہ تھا کہ موٹر آواز بہت کرتی تھی۔ وقت گزرتا گیا۔ سائنسداں محنت کرتے گئے۔ سائلنسر کی ایجاد ہوئی۔ آواز کم ہوئی۔
نئی طرز کی کم آواز اور زیادہ ایوریج والی بائک عمدہ مانی جاتی اور جس کے پاس پرانی پھٹ پھٹ کرنے والی بائک ہوتی اسے پھٹ پھٹی کہا جاتا۔ اس وقت لوگ غریب تھے مگر عقل سے
پیدل نہیں تھے۔ آگے کچھ اور ترقی ہوئی اور آواز کم سے کم ہوتی گئی۔ پہلے پٹرول زیادہ لگتا تھا اب بہترین ایوربج دینے والی گاڑیاں آنے لگیں۔ اب سائنسداں اس کوشش میں تھے کہ موٹر سائیکل سے آواز بالکل باہر نہ آئے۔مگر پھر زمانہ بدلا اور انتہائی عجیب و غریب ذہنیت رکھنے والے کچھ لوگ پیدا ہوئے۔ جن کے پاس اڑانے کیلئے ماں باپ کی محنت کی کمائی ہوتی ہے۔
مہنگی اور کم سے کم ایوریج دینے والی اور انتہائی بھیانک اور بے تکی آوازیں کرنے والی گاڑیاں شان سمجھی جانے لگیں۔ ان کے نزدیک جس کی گاڑی جتنی زیادہ آواز کرے گی وہ اتنا بڑا طرم خاں۔
واہ کیا ترقی ہوئی ہے۔
حالانکہ یہ تعداد میں کم ہیں اور آج بھی سنجیدہ لوگوں کی اکثریت ہے مگر ان مٹھی بھر لوگوں سے ماحول کی جو پراگندگی ہوتی ہے وہ قابل توجہ ہے۔
♓Ⓜ