Ⓜ♓ وہاٹس ایپ ٹرینڈ سے متاثر ہوکر ایک تازہ نظم
✍ *شکیل حنیف*
مجھے پہچانتے ہو نا
بتاؤ جانتے ہو نا
شہر کی شاہراہ ہوں میں
سبھی سڑکوں کی ماں ہوں میں
کئی صدیوں پرانی ہوں
بڑی ہی ناگہانی ہوں
کروڑوں گاڑیاں دیکھیں
ہزاروں حادثے جھیلے
سبھی مجھ سے گزرتے ہیں
مگر مجھ سے ہی جلتے ہیں
سیاستدان ہیں جتنے
سبھی کی جیب بھرتی ہوں
کہ ٹھیکیدار ہیں جتنے
سبھی کا پیٹ بھرتی ہوں
سبھی نے مل کے نوچا ہے
سبھی نے مل کے لوٹا ہے
سبھی نے حسن کو میرے
کچل ڈالا مسل ڈالا
مسلسل رو رہی ہوں میں
صبر اب کھو رہی ہوں میں
مری فریاد سن لو تم
مری اک بات سن لو تم
مرے اوپر سے گاڑی پر
یا پیدل بھی گزرتے ہو
گزرنا ہے گزر جاؤ
*مگر اب تم سدھر جاؤ*
مجھے اک روڈ کہتے ہیں
پرانی روڈ کہتے ہیں
بتاؤ جانتے ہو نا
شہر کی شاہراہ ہوں میں
سبھی سڑکوں کی ماں ہوں میں
کئی صدیوں پرانی ہوں
بڑی ہی ناگہانی ہوں
کروڑوں گاڑیاں دیکھیں
ہزاروں حادثے جھیلے
سبھی مجھ سے گزرتے ہیں
مگر مجھ سے ہی جلتے ہیں
سیاستدان ہیں جتنے
سبھی کی جیب بھرتی ہوں
کہ ٹھیکیدار ہیں جتنے
سبھی کا پیٹ بھرتی ہوں
سبھی نے مل کے نوچا ہے
سبھی نے مل کے لوٹا ہے
سبھی نے حسن کو میرے
کچل ڈالا مسل ڈالا
مسلسل رو رہی ہوں میں
صبر اب کھو رہی ہوں میں
مری فریاد سن لو تم
مری اک بات سن لو تم
مرے اوپر سے گاڑی پر
یا پیدل بھی گزرتے ہو
گزرنا ہے گزر جاؤ
*مگر اب تم سدھر جاؤ*
مجھے اک روڈ کہتے ہیں
پرانی روڈ کہتے ہیں
✍ *شکیل حنیف ٰ ہمارا مالیگاؤں*
نوٹ : نام ہٹا کر ادبی خیانت نہ کریں۔