پیر، 12 اکتوبر، 2020

غزل

*محبتوں کے لطیف رشتے کچھ اس طرح ہم نبھا رہے ہیں*

*تمہاری محفل کے دل شکستہ ہماری محفل میں آرہے ہیں*


لہو کی قسطیں چکا چکا کر غریب ماں باپ نے سنوارا

پڑھے لکھے وہ گنوار بچے انہیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں


*ہزار کوشش کے بعد بھی جب مرے برابر نہ آسکے تو*

*سنا ہے میں نے مرے مقابل مرے رفیقوں کو لا رہے ہیں*


مرا وطن تھا سنہری چڑیا سبھی نے مل جل کر اس کو لوٹا

سمجھ کے خوش ذائقہ نوالہ مزے مزے سے چبا رہے ہیں


*بہت سی غزلیں سنی ہیں تم نے جو میر و غالب کے دور کی ہیں*

*نئے زمانے کی تازہ غزلیں شکیل تم کو سنا رہے ہیں*


( *شکیل حنیف*)