*محبتوں کے لطیف رشتے کچھ اس طرح ہم نبھا رہے ہیں*
*تمہاری محفل کے دل شکستہ ہماری محفل میں آرہے ہیں*
لہو کی قسطیں چکا چکا کر غریب ماں باپ نے سنوارا
پڑھے لکھے وہ گنوار بچے انہیں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں
*ہزار کوشش کے بعد بھی جب مرے برابر نہ آسکے تو*
*سنا ہے میں نے مرے مقابل مرے رفیقوں کو لا رہے ہیں*
مرا وطن تھا سنہری چڑیا سبھی نے مل جل کر اس کو لوٹا
سمجھ کے خوش ذائقہ نوالہ مزے مزے سے چبا رہے ہیں
*بہت سی غزلیں سنی ہیں تم نے جو میر و غالب کے دور کی ہیں*
*نئے زمانے کی تازہ غزلیں شکیل تم کو سنا رہے ہیں*
( *شکیل حنیف*)