اتوار، 12 نومبر، 2017

Shauque Malegaonvi شوق مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 6 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*شؔـــــــوق مالیـــــــــگانوی*
نام محمّد صدّیق ۔ تخلّص شؔـــــــوق خلفِ اصغر میاں جی جان محمّد تاریخِ ولادت 12 مئی 1898 ء ہے۔
چار سال کی عمر میں والدین کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ ایک بیوہ بہن نے پرورش کی اور محترمہ خالہ جان سے جو محسنِ قوم حکیم محمّد حسن کی والدہ محترمہ تھیں سرپرستی فرمائی۔ ہمشیرہ کی کوشش سے میں نے پہلے مدسہ بیت العلوم مالیگاؤں میں کلامِ مجید ناظرہ ختم کیا۔ پھر 1908ء میں مونسپلٹی کے اردو مدرسہ میں داخل ہوکر 1914ء میں ورنا کیولر کا امتحان کامیاب کیا۔ بعد دو سال دھولیہ کے ٹریننگ اسکول میں تعلیم حاصل کر کے 1918ء میں مدرّسی شروع کردی۔ اور 1922ء ٹریننگ کی آخری منزل احمد آباد میں طئے کی۔ 1912ء سے 1915ء تک مالیگاؤں شبینہ مدرسہ چراغ العلوم میں فارسی کی تعلیم جناب مولانا محمّد یوسف صاحب عزیؔز مالیگانوی مدظلہ سے حاصل کرتا رہا۔ 1915ء میں شاعری کا چرچہ تھا متعدد مشاعرے منعقد ہوتے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بھی شوق ہوا اور فارسی کے استاد مولانا موصوف ہی سے مشورہ لیتا رہا۔ چنانچہ آج تک مولانا ہی کے مشورے سے فیضیاب ہوتا رہا ہوں۔ اوائلِ شاعری میں اپنے چند نوجوان احباب کی معیت میں ایک انجمن گلستانِ سخن قائم کر کے اسکے ما تحت ماہوار اور سالانہ مشاعرے خود منعقد کرتا رہا۔ جسکو امتیازی درجہ حاصل تھا۔ تعلیم کی غرض سے دھولیہ چلے جانے سے یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ پھر 1923ء میں مولانا نے تمام شاگردوں کو اکھٹّا کر کے مالیگاؤں میں بزمِ عزیزی کی بنیاد ڈالی اور اسی کے زیرِ اہتمام ایک گلدستہ بنام "بہار" جاری کیا۔جسکی مقبولیت نہایت حوصلہ افزاء تھی۔ لیکن شہر میں پریس نہ ہونے کے باعث تین ہی سال بعد اس گلدستہ کو بند کردینا پڑا۔
          محمّد صدّیق حسن شؔـــــــوق
                 یکم جولائی 1945ء
* غـــــــــــــزل *
وہ شعلہ بیانی ہوتی ہے جو ان کی زبانی ہوتی ہے
جو میری زبانی ہوتی ہے وہ سوز بیانی ہوتی ہے
جب دنیا ساری سوتی ہے فرقت کی کہانی ہوتی ہے
اور شبنم شب بھر روتی ہے فطرت بھی پانی ہوتی ہے
جب قصۂ حسن سناتا ہوں تو ان کو مخاطب پاتا ہوں
جب حرفِ تمنّا لاتا ہوں تو آنا کانی ہوتی ہے
سننے کو وہ کچھ تیّار نہیں اشعار سے تو انکار نہیں
اشعار میرے اشعار نہیں الفت کی کہانی ہوتی ہے
ہر ساز شکشتہ ہوتا ہے ہر نغمہ نوحہ ہوتا ہے
ہر نوحہ فغاں سا ہوتا ہے جب دل پہ گرانی ہوتی ہے
امید کا دامن چھوٹ گیا ہر چھالا جگر کا پھوٹ گیا
ہر ٹانکا زخم کا ٹوٹ گیا اب خون فشانی ہوتی ہے
جب اٹھ اٹھ آنسو روتے ہیں چمکیلے موتی کھوتے ہیں
کچھ بیج اثر کا بوتے ہیں تو آہ رسانی ہوتی ہے
پیغام اَجل کا آیا ہے اور نزع کا عالم چھَایا ہے
تشریف کوئی اب لایا ہے جب ختم کہانی ہوتی ہے
اِسکو چھوڑا اُسکو پکڑا شؔـــــوق اس میں کہاں الفت کا مزا
ہوتا ہے اسی میں کچھ نشّہ جو مئے کی پرانی ہوتی ہے
_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ*