*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*پیشکش نمبر :::::: 5 :::::::*
..................................................................
*پیشکش نمبر :::::: 5 :::::::*
..................................................................
*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*
..................................................................
*سہیؔــــــــل مالیـــــــــگانوی*
نام عبدالغفور تخلّص سہیؔل اور والد کا نام دین محمّد ہے۔ مقامِ پیدائش محمود آباد "ریاست" اور وطن مالیگاؤں ہے۔ ایک گمنام اور غریب ماں باپ کی ناکام تمناؤں کی یادگار ہوں۔ 5
- 6 برس کی عمر میں یتیم ہوگیا۔ جب میرے خویش و اقارب میں سے کسی کا پتہ نہ ملا تو اس بیچارگی اور کسمپرسی میں درد مندوں نے یتیم خانے میں میری پرورش کی (واللہ لا یضیع اجرالمحسنین) وہیں سے اردو کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اسکے بعد سلسلۂ تعلیم ختم ہوگیا۔ پندرہ برس کی عمر میں اردو اسکول میں ملازم ہوا۔ 18 سال تک ملازمت کے فرائض انجام دیتا رہا۔ مگر اس قلیل مدت میں بوجہ خرابئ صحت پینشن لیکر گوشۂ قناعت میں بیٹھ رہا۔
میں آلام و مصائب کا پہلے سے خوگر ہوں اسی لئے میرے احساسات بچپن سے بیدار ہیں۔ زمانۂ تعلیم سے ہی شعر کہنا شروع کیا۔ مگر نقص تعلیم کے سبب جذبات کی ترجمانی نہ کر سکتا تھا۔برسوں گونگی بولی بولتا رہا۔ آخر جب ضرورت نے مجبور کیا تو ذاتی طور پر اردو فارسی کا مطالعہ شروع کیا۔ فارسی بذاتِ خود حاصل کی۔ اور اس میں اتنی دسترس پیدا کی کہ آسانی سے شعر کہہ لیتا ہوں۔ فارسی خوانی میں برسوں اردو سے بے اعتنائی برتی۔ استادانِ فارس کے کلام کے آگے اردو کی بے رنگی نظر میں نہ جچتی تھی۔
جولائی 1945ء
* غـــــــــــــزل *
میری طرف سے کوششِ ناکام ہوچکی
قسمت ہزار رنگ سے بدنام ہوچکی
قسمت ہزار رنگ سے بدنام ہوچکی
تیری قسم جو اپنی طرف بھی اٹھی ہو آنکھ
لیکن میری نگاہ تو بدنام ہوچکی
لیکن میری نگاہ تو بدنام ہوچکی
تکمیلِ بندگی میں کسر کون سی رہی
جب التجائے مرگ بھی ناکام ہوچکی
جب التجائے مرگ بھی ناکام ہوچکی
صیّاد کی نگاہِ کرم کی کشش نہ پوچھ
ساری فضائے باغ تہِ دام ہوچکی
ساری فضائے باغ تہِ دام ہوچکی
امید دل سے ہونے لگی ہے کنارہ کش
کیا آج ختم گردشِ ایّام ہوچکی
کیا آج ختم گردشِ ایّام ہوچکی
کس کو بتاؤں مستئ خونِ جگر کا راز
محفل رہینِ بادۂ گلفام ہوچکی
محفل رہینِ بادۂ گلفام ہوچکی
تعمیرِ دل کی اہلِ حرم سے امید کیا
ہمّت تمام صرف درد و بام ہوچکی
ہمّت تمام صرف درد و بام ہوچکی
آغوشِ غم میں نیند سی آنے لگی سہؔیل
شاید دیارِ شوق میں اب شام ہوچکی
شاید دیارِ شوق میں اب شام ہوچکی
_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ*
*بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ*