صدر راج اور عبوری حکومت کے تعلق سے اہم معلومات (بشکریہ چندرکانت شندے)
حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اگر سرکار نہیں بنتی ہے تو گورنر کو یہ اختیار ہے کہ وہ نئی حکومت بننے تک عبوری حکومت تشکیل کی تشکیل کر سکتا ہے
اگر کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے کا دعویٰ نہیں کرتی ہے تو گورنر
سب سے پہلے سب سے بڑی پارٹی کو سرکار بنانے کا موقع دے گا...اگر سب سے بڑی پارٹی انکارکردیتی ہے تو دو نمبر کی پارٹی کو موقع دیا جائے گا اگر وہ بھی انکار کردیتی ہے تو تیسری بڑی پارٹی کو موقع دیا جائے گا اور اس کے بعد چوتھے نمبر کی پارٹی کو موقع دیا جائے گا
اگر سبھی نے انکار کردیا تو صدر راج نافذ کیا جاسکتا ہے جس کے لئے 8 سے دن لگے گا
*صدر راج کی مدت کتنی ہوسکتی ہے؟*
پہلے 6 مہینے کے لئے صدر راج نافذ کیا جاسکتا ہے اس کے چھ چھ مہینہ بڑھایا جاسکتا ہے
زیادہ سے زیادہ 3 سال تک صدر راج نافذ کیا جاسکتا ہے
صدر راج کے دوران اگر کوئی پارٹی اکثریت کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے کیونکہ اسمبلی معطل رہتی ہے رد نہیں ہوتی
*نئی اسمبلی اگر وجود میں نہیں آتی ہے تو نو منتخب ایم ایل ایز کی حلف برداری ہوسکتی ہے؟*
ہاں حلف برداری ہوسکتی ہے- نئی سرکار(عبوری) منتری منڈل کی میٹینگ بلاکر اس میں اجلاس لینے کا فیصلہ کرے گی اور اس سے گورنر کو آگاہ کرے گی اس کے بعد گورنر اجلاس کی تاریخ طئے کرے گا اور نئے ایم ایل ایز کو حلف دلائے گا
عبوری وزیر حکومت اور وزیر اعلیٰ کی کوئی مدت طئے نہیں رہے گی یہ سب گورنر کے اوپر منحصر رہتا ہے کہ وہ کب تک عبوری حکومت چلائے ہاں یہ کوئی بڑے فیصلے(پالیسی ساز فیصلے) نہیں لے سکتے روزانہ کے کام کاج کے تعلق سے فیصلے لے سکتے ہیں
نئی اسمبلی کے وجود میں آنے تک نو منتخب ایم ایل ایز ہی اپنے حلقہ کی نمائندگی کریں گے
سابق ایم ایل ایز کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا کیونکہ ان کی مدت ختم ہوچکی ہے
عبوری حکومت کے وزراء نئی حکومت بننے تک وزارت کے عہدے سنبھال سکتے ہیں اگر عبوری حکومت کا کوئی وزیر ایم ایل اے الیکشن ہار گیا ہو تب بھی وہ وزارت سنبھال سکتا ہے
*(چندرکانت شندے)*