(طارق اسلم) آج 3 مارچ ...اردو کے مایہ ناز شاعر فراق گورکھپوری صاحب کا یوم وفات
اردو کے عظیم شاعرفراق گورکھپوری 28 اگست 1896ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ ان کے والد منشی گورکھ پرشاد عبرت اردو اور فارسی کے عالم، ماہر
قانون اور اچھے شاعر تھے۔ فراق گورکھپوری نے انگریزی زبان میں ایم اے کرنے کے بعدسول سروسز کا امتحان پاس کیا مگراس ملازمت کا چارج لینے سے قبل ہی خود کو تدریس کے پیشے کے لیے زیادہ موضع پایا اور پھر تمام عمر اسی پیشے سے وابستہ رہے۔ فراق گورکھپوری اردو اور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ اردو کے ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں اردو غزل کو ایک نیا رنگ اور آہنگ عطا کیا۔ان کے متعدد شاعری مجموعے شائع ہوئے جن میں روح کائنات، شبنمستان، رمز و کنایات، غزلستان، روپ، مشعل اور گل نغمہ کے نام سرفہرست ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن اور گیان پیٹھ کے اعزازات عطا کیے تھے۔فراق صاحب کے کچھ منتخب اشعار آپ احباب کی خدمت میں پیش ہیں....
*انتخاب و پیشکش...طارق اسلم*
*میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں*
*جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا*
---------------------------------------
*طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں*
*میں*
*ہم ایسے میں تری یادوں کے چادر تان لیتے ہیں*
---------------------------------------
*ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں*
*اور ہم بھول گئے ہوں تجھے،ایسا بھی نہیں ہے*
---------------------------------------
*غرض کہ کاٹ دیۓ زندگی کے دن اے دوست*
*وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں*
---------------------------------------
*اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں*
*ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات*
---------------------------------------
*جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی*
*چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا*
---------------------------------------
*اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی*
*یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں*
---------------------------------------
*ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست!*
*ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی*
---------------------------------------
*اس دور میں زندگی بشر کی*
*بیمار کی رات ہو گئی*
---------------------------------------
*کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اٹھا*
*کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی*
---------------------------------------
*سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔ*
*قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا*
---------------------------------------
*اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا*
*میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی*
---------------------------------------
*بہت حسین ہے دوشیزگیٔ حسن مگر*
*اب آ گئے ہو تو آؤ تمہیں خراب کریں*