*مجبور حسرت* چودھویں کی شب تھی چاند کی سبز مدھم روشنی نے رات کو انتہائی رومانی بنا دیا تھا مگر یہ ماحول اور یہ روشنی اس بڑھیا کے کسی کام کی نہیں تھی سوائے اس کے کہ وہ گلی میں قطار بنائے مکانوں کے بند دروازے گن سکے.. اس کے اپنے مکان کا دروازہ بند تھا ۔ اس بند دروازے کے پیچھے واقع اکلوتے کمرے میں اس کی بیٹی اپنے شوہر کا دل خوش کرنے میں مصروف تھی ۔
،، تم جلدی کر لو ناں ،،آج سردی بہت ہے اور بوڑھی ماں باہر گلی میں بیٹھی ہے ،، بڑھیا نے تصور میں اپنی بیٹی کی سرگوشی سنی اور مسکرائے بغیر نہ رہ سکی ۔
یقینا وہ یہی کہہ رہی ہو گی ،، اس نے خود سے کہا ،، دنیا میں میرا خیال
کرنے والا کوئی بچا ہے تو یہی ایک بیٹی ہے ، بیٹے تو سارے شادی کر کے رخصت ہو گئے اور جاتے جاتے اس کا بڑا سا گھر بھی بیچ گئے۔۔۔
اماں تو اتنے بڑے گھر میں کیا کرے گی ، تیرے لیے تو ایک کمرا ہی کافی ہے ، گھر بیچنے سے ابا کی روح کو کچھ نہیں ہو گا تو ایسے ہی فضول باتیں کرتی ہے ،، لڑکے اسے جھڑک دیتے... آخر کار گھر بک گیا ۔۔ بیٹے ایک چھوٹا سا کمرہ اس کے لیے چھوڑ گئے ۔۔۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ آسمان سے آتی چاند کی سبز مدھم روشنی میں بڑھیا کے لیے کوئی رومانس نہیں تھا مگر اندر کمرے میں دو جوان جسم ہم آغوش تھے ۔۔۔
،، تمہاری نوکری بہت بری ہے ، کئی کئی ہفتے تم گھر نہیں آتے ، گڑیا اور منا کتنا یاد کرتے ہیں تمہیں ،، عورت نے اپنا آپ حوالے کر دینے کے بعد شکووں کا پٹارا کھول دیا ۔۔
مرد بولا ،، اچھا ہے کہ میں گھر سے دور رہتا ہوں ، یہ ایک ہی کمرا ہے جس میں تم اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی ہو ، میرے آنے سے انہیں پریشانی ہوتی ہے ، دیکھ لو اتنی سردی میں بھی وہ باہر گلی میں بیٹھنے پر مجبور ہیں ،،
تو کیا ہوا ،، ابھی تھوڑی دیر بعد ہم انہیں اندر بلا لیں گے ،، عورت نےکروٹ بدلتے ہوے جواب دیا ،، کیا کریں مجبوری ہے ،، جب تک قرض ادا نہیں ہو جاتا ہمیں اسی طرح گزارا کرنا پڑے گا ،،
اس وقت قرضے کی یاد مت دلاو ،، مرد نے ناگواری سے کہا اور عورت کو بھینچ لیا ۔
۔۔۔ آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور بڑھیا سردی سے کانپ رہی تھی ، آج وہ سوئٹر پہنا بھول گئی تھی وہی سوئٹر جوکئی برس پہلے اس کے شوہرنے تحفہ کہہ کر اسے پیش کیا تھا ،،، اکلوتا تحفہ ۔۔ مگر پھر بھی اس تحفے کو پانے کے بعد اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا ۔ یوں جیسے اس کے جینے کا کوئی مقصد تھا تو وہ اس مقصد میں کامیاب ہو چکی تھی ۔۔ وہ تحفہ ۔۔ ایک اعتراف تھا ۔۔۔ ایک دلی اعتراف اس کی خدمات کے عوض ۔۔۔ وہ تحفہ بتا رہا تھا کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہے ۔
ان دونوں نے اچھی یا بری جیسی بھی زندگی گزاری تھی مگر بہر حال آ خری عمر میں ایک دوسرے سے خوش تھے اور یہ سب سے اچھی بات تھی ۔۔
چاند چمک رہا تھا مگر اس کی چاندنی بڑھیا کے لیے اب کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔۔ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد پتہ نہیں میں کیوں زندہ ہوں ،، وہ اداسی سے بڑبڑائی.. سہاگ رات سے اب تک کے سارے مناطرو واقعات ترتیب وار اس کے ذہن کے پردوں پر رقصاں ہو گئے ۔۔۔
۔۔۔ کمرے کی کچی دیواریں یخ بستہ ہواوں کے سامنے سینہ تانے کھڑی تھیں یہی وجہ تھی کہ اندر دو جسم بے لباس ہونے کے باوجود بے فکر تھے انہیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں تھا کہ یہ سردیوں کی انتہائی سرد رات ہے...
"قرض ادا ہوتے ہی ہم کم از کم تین کمروں کا گھر کرائے پر لیں گے "،، مرد نے مستقبل کے سنہرے خواب دیکھتے ہوئے کہا.,
"کیوں ؟ تین کمرے کیوں ؟" عورت نے حیرانی سے پوچھا
"ایک کمرے میں ہم سوئیں گے دوسرے میں بچے اور تیسرے کمرے میں تمہاری بوڑھی ماں ۔۔"مرد نے اس کی پیشانی کو سہلاتے ہوئے کہا
"کیا تم واقعی ایسا سوچ رہے ہو ؟" عورت نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
"ہاں ،، مجھے ترس آتا ہے ان پر... کتنی محنت و مشقت سے انہوں نے اپنی اولاد کو پال پوس کر بڑا کیا مگر آج ان کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں سوچو اگر ہماری اولاد نے بھی ایسا کیا تو کیا ہو گا ۔۔۔۔
اچانک کمرے کا رومانی ماحول تفکرات سے اٹ گیا ۔۔ اس کی بیوی نے بے چین ہو کر شوہر کے سینے سے سر اٹھایا اور تب اسے کھونٹی سے لٹکا ہوا ماں کا سوئٹر نظر آیا ۔۔
ہائے اللہ ؛ وہ چونکی ،، یہ کیا ،، اماں سوئٹر کے بغیر ہی باہر بیٹھی ہے ، وہ بڑبڑائی ۔۔۔
اس کے شوہر نے بھی سوئٹر کی طرف دیکھا اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
ماں کو جلدی سے اندر بلاو ،، اس نے کپڑے پہنتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر بعد دزدیدہ نگاہوں کے ساتھ عورت نے دروازہ کھولا
"ماں اندر آجاؤ .... تم نے سوئٹر کیوں نہیں پہنا" اس نے پکار کر کہا
بڑھیا نے جواب نہ دیا تو وہ آگے بڑھی
"ماں چلو".....اس نے بڑھیاکا کاندھا ہلایا
بڑھیا ایک طرف لڑھک گئی ۔۔۔۔۔ وہ مر چکی تھی۔ ✏از قلم-طارق اسلم مالیگاؤں 9421060538
،، تم جلدی کر لو ناں ،،آج سردی بہت ہے اور بوڑھی ماں باہر گلی میں بیٹھی ہے ،، بڑھیا نے تصور میں اپنی بیٹی کی سرگوشی سنی اور مسکرائے بغیر نہ رہ سکی ۔
یقینا وہ یہی کہہ رہی ہو گی ،، اس نے خود سے کہا ،، دنیا میں میرا خیال
کرنے والا کوئی بچا ہے تو یہی ایک بیٹی ہے ، بیٹے تو سارے شادی کر کے رخصت ہو گئے اور جاتے جاتے اس کا بڑا سا گھر بھی بیچ گئے۔۔۔
اماں تو اتنے بڑے گھر میں کیا کرے گی ، تیرے لیے تو ایک کمرا ہی کافی ہے ، گھر بیچنے سے ابا کی روح کو کچھ نہیں ہو گا تو ایسے ہی فضول باتیں کرتی ہے ،، لڑکے اسے جھڑک دیتے... آخر کار گھر بک گیا ۔۔ بیٹے ایک چھوٹا سا کمرہ اس کے لیے چھوڑ گئے ۔۔۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ آسمان سے آتی چاند کی سبز مدھم روشنی میں بڑھیا کے لیے کوئی رومانس نہیں تھا مگر اندر کمرے میں دو جوان جسم ہم آغوش تھے ۔۔۔
،، تمہاری نوکری بہت بری ہے ، کئی کئی ہفتے تم گھر نہیں آتے ، گڑیا اور منا کتنا یاد کرتے ہیں تمہیں ،، عورت نے اپنا آپ حوالے کر دینے کے بعد شکووں کا پٹارا کھول دیا ۔۔
مرد بولا ،، اچھا ہے کہ میں گھر سے دور رہتا ہوں ، یہ ایک ہی کمرا ہے جس میں تم اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی ہو ، میرے آنے سے انہیں پریشانی ہوتی ہے ، دیکھ لو اتنی سردی میں بھی وہ باہر گلی میں بیٹھنے پر مجبور ہیں ،،
تو کیا ہوا ،، ابھی تھوڑی دیر بعد ہم انہیں اندر بلا لیں گے ،، عورت نےکروٹ بدلتے ہوے جواب دیا ،، کیا کریں مجبوری ہے ،، جب تک قرض ادا نہیں ہو جاتا ہمیں اسی طرح گزارا کرنا پڑے گا ،،
اس وقت قرضے کی یاد مت دلاو ،، مرد نے ناگواری سے کہا اور عورت کو بھینچ لیا ۔
۔۔۔ آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور بڑھیا سردی سے کانپ رہی تھی ، آج وہ سوئٹر پہنا بھول گئی تھی وہی سوئٹر جوکئی برس پہلے اس کے شوہرنے تحفہ کہہ کر اسے پیش کیا تھا ،،، اکلوتا تحفہ ۔۔ مگر پھر بھی اس تحفے کو پانے کے بعد اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا ۔ یوں جیسے اس کے جینے کا کوئی مقصد تھا تو وہ اس مقصد میں کامیاب ہو چکی تھی ۔۔ وہ تحفہ ۔۔ ایک اعتراف تھا ۔۔۔ ایک دلی اعتراف اس کی خدمات کے عوض ۔۔۔ وہ تحفہ بتا رہا تھا کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہے ۔
ان دونوں نے اچھی یا بری جیسی بھی زندگی گزاری تھی مگر بہر حال آ خری عمر میں ایک دوسرے سے خوش تھے اور یہ سب سے اچھی بات تھی ۔۔
چاند چمک رہا تھا مگر اس کی چاندنی بڑھیا کے لیے اب کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔۔ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد پتہ نہیں میں کیوں زندہ ہوں ،، وہ اداسی سے بڑبڑائی.. سہاگ رات سے اب تک کے سارے مناطرو واقعات ترتیب وار اس کے ذہن کے پردوں پر رقصاں ہو گئے ۔۔۔
۔۔۔ کمرے کی کچی دیواریں یخ بستہ ہواوں کے سامنے سینہ تانے کھڑی تھیں یہی وجہ تھی کہ اندر دو جسم بے لباس ہونے کے باوجود بے فکر تھے انہیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں تھا کہ یہ سردیوں کی انتہائی سرد رات ہے...
"قرض ادا ہوتے ہی ہم کم از کم تین کمروں کا گھر کرائے پر لیں گے "،، مرد نے مستقبل کے سنہرے خواب دیکھتے ہوئے کہا.,
"کیوں ؟ تین کمرے کیوں ؟" عورت نے حیرانی سے پوچھا
"ایک کمرے میں ہم سوئیں گے دوسرے میں بچے اور تیسرے کمرے میں تمہاری بوڑھی ماں ۔۔"مرد نے اس کی پیشانی کو سہلاتے ہوئے کہا
"کیا تم واقعی ایسا سوچ رہے ہو ؟" عورت نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
"ہاں ،، مجھے ترس آتا ہے ان پر... کتنی محنت و مشقت سے انہوں نے اپنی اولاد کو پال پوس کر بڑا کیا مگر آج ان کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں سوچو اگر ہماری اولاد نے بھی ایسا کیا تو کیا ہو گا ۔۔۔۔
اچانک کمرے کا رومانی ماحول تفکرات سے اٹ گیا ۔۔ اس کی بیوی نے بے چین ہو کر شوہر کے سینے سے سر اٹھایا اور تب اسے کھونٹی سے لٹکا ہوا ماں کا سوئٹر نظر آیا ۔۔
ہائے اللہ ؛ وہ چونکی ،، یہ کیا ،، اماں سوئٹر کے بغیر ہی باہر بیٹھی ہے ، وہ بڑبڑائی ۔۔۔
اس کے شوہر نے بھی سوئٹر کی طرف دیکھا اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
ماں کو جلدی سے اندر بلاو ،، اس نے کپڑے پہنتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر بعد دزدیدہ نگاہوں کے ساتھ عورت نے دروازہ کھولا
"ماں اندر آجاؤ .... تم نے سوئٹر کیوں نہیں پہنا" اس نے پکار کر کہا
بڑھیا نے جواب نہ دیا تو وہ آگے بڑھی
"ماں چلو".....اس نے بڑھیاکا کاندھا ہلایا
بڑھیا ایک طرف لڑھک گئی ۔۔۔۔۔ وہ مر چکی تھی۔ ✏از قلم-طارق اسلم مالیگاؤں 9421060538