جمعہ، 8 مئی، 2015

Saahil E Ishq : by Shahroz Khaawar

👥ساحلِ عشق👤
جیسے جیسے موجوں کی اچھال سے سورج مات کھا رہا تھا اسی تناسب سے راہل کے حوصلے بلند ہوتے  جارہے تھے. انگلی سے گالوں پر کھیلتی زلفوں کو ہٹانا، بازو پر طے شدہ نیت کے ساتھ انگلی کو اوپر سے نیچے کھینچتے ہوئے خط بنانا، یہی عمل پشت پر کرنا ......یہاں تک تو ٹھیک تھا. انجلی نے یہ تمام حرکتیں ایسے در گزر کردیں جیسے اسے کچھ کچھ سمجھ میں آرہا ہو لیکن وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہو. وہ پہلی بار اپنے پاپا کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ ساحل پر آئی تھی. ڈر لگ رہ  تھا لیکن جوانی کے احساس نے جہاں محبت پر اکسایا تھا وہیں کچھ ہمت بھی عطا کردی تھی. ابھی وہ مچلتی لہروں میں الجھی ہوئی تھی کہ راہل نے اس کی گردن کو پیچھے سے پکڑ کر
چہرے کو اپنی طرف گھمایا اور پھر ہونٹوں سے جو حرکت کرنی چاہی اس پر انجلی ہر بڑا گئی اور جھٹکے سے راہل کو پیچھے کی طرف ڈھکیل دیا. راہل کے چہرے پر جھنجلاہٹ کی لکیریں ابھر تے ہی انجلی نے سوری کہتے ہوئے کہا "راہل یہ کیا کرنے جارہے تھے تم؟" راہل نے لمبی لمبی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے کہا" انجلی انجان مت بنو.......دیکھو تو ذرا .......یہاں سے وہاں تک لوگ ساحل پر کیا کر رہے ہیں؟ " انجلی نے داہنے طرف دیکھا ....پھر بائیں جانب ہچکچاتے ہوئے سر گھمایا. اور سر نیچے کرتے ہوئے کراہیت سے کہا " چھی " راہل انجلی کے اس عمل پر حیرت ذدہ تھا. جھنجلاہٹ کو دبا کر سمجھا نے کے انداز میں بولا" انجلی ہر شام یہاں پیار کرنے والے آتے ہیں اور سورج کے ڈوبنے کا انتظار کرتے ہیں.........تم تو ایسے بھولی.." راہل کی بات کاٹتے ہوئے انجلی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا " اب میں سمجھی" راہل آہستہ سے کھڑا ہوا " کیا.......کیا سمجھیں " .....انجلی لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی اور جیسے راہل کا چہرہ دیکھنا اسے گوارا نہیں تھا......" یہی کہ پاپا مجھے یہاں اکثر لاتے تھے ......ل...لیکن سورج ڈوبتے ہی عجیب عجیب بہانے بنا کر گھر جانے کی جلدی کیوں کرتے تھے ....یہ آج سمجھ میں آیا." اتنا کہتے ہوئے انجلی ایسے آگے بڑھ گئی جیسے وہ اکیلے ساحل کی سیر کرنے آئی ہو...........
👞👠 شہروز خاور
مالیگاؤں
+919270022934