وہ چھ رمضان اور 29 و 30 اپریل کی درمیانی شب تھی جب ہمارے سرپرست حاجی محمد حنیف صابر ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ آج چالیس دن ہوگئے ہیں لیکن ایک پل کیلئے بھی دل و دماغ سے ان کا خیال محو نہیں ہوتا۔ غم و اندوہ کی
اس گھڑی میں ان کے اور ہمارے دوست احباب ۔ متعلقین ۔ رشتہ داروں ۔ اہلیان محلہ۔ مدارس اور اسکولوں کے اساتذہ۔ مختلف اداروں کے اراکین وغیرہ نے ہماری ڈھارس بندھائی۔ بہت سارے افراد نے مل کر تو بعض نے تعزیتی پیغامات ۔ کال۔ میسیج وغیرہ کے ذریعے اظہار تعزیت کیا۔ ہم اہل خانہ آپ تمام کے مشکور و ممنون ہیں۔اللہ آپ کو بہترین جزائے خیر دے۔
اس گھڑی میں ان کے اور ہمارے دوست احباب ۔ متعلقین ۔ رشتہ داروں ۔ اہلیان محلہ۔ مدارس اور اسکولوں کے اساتذہ۔ مختلف اداروں کے اراکین وغیرہ نے ہماری ڈھارس بندھائی۔ بہت سارے افراد نے مل کر تو بعض نے تعزیتی پیغامات ۔ کال۔ میسیج وغیرہ کے ذریعے اظہار تعزیت کیا۔ ہم اہل خانہ آپ تمام کے مشکور و ممنون ہیں۔اللہ آپ کو بہترین جزائے خیر دے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں وہ لاک ڈاؤن کی سختی کا دور تھا۔ بیشتر ہاسپٹلس بند تھے۔ ایسے عالم میں دواخانوں اور ڈاکٹرس تک رسائی میں تعاؤن کرنے والے احباب کے بھی ہم ممنون ہیں۔
مرحوم کے بیشتر احباب اہل خانہ کا حال دریافت کرتے رہے۔ ہماری دادرسی کی۔ ہم ان کے بھی مشکور ہیں۔
اسی طرح ہمارے سرپرست کے بغیر امسال ہماری پہلی عید تھی۔ ایسے میں احساس محرومی و تنہائی اور بڑھ جاتا ہے۔ اس موقع پر بھی بہت سارے احباب نے گھر آکر ملاقات کی اور اپنی خوشیوں میں ہمیں شریک کیا۔ یقینا مرحوم کی کمی تو کوئی پوری نہیں کر سکتا لیکن اپنائیت کے چند بول صحرا میں نخلستان کا کام کرتے ہیں۔ من تھوڑا ہلکا ہوجاتا ہے۔
ہم ایک بار پھر آپ تمام کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ مرحوم کی طرح ہی آپ سب سے بہترین تعلقات رکھنے کی کوشش کریں گے۔ مرحوم میں حق گوئی ۔ بیباکی ۔ خلوص ۔ سخاوت ۔ ملنساری ۔ قناعت پسندی ۔ ایمانداری ۔ انصاف پسندی ۔ وسیع القلبی ۔ نفاست پسندی ۔ خوش اخلاقی جیسی ان گنت خوبیاں تھیں۔ ہم ان کو اپنانے کی حتی المقدور کوشش کریں گے۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ ان کے سیات کو حسنات سے مبدل فرمائے۔ عذاب قبر و عذاب آخرت سے محفوظ رکھے اور ہم تمام پسماندگان اور متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔
فقط : اہل خانہ حاجی محمد حنیف صابر۔