(عمران الحسن) *ہم ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ فلاں شہر میں سرکاری/ پرائیویٹ ٹیچرس نے پگار نہ ملنے، کم ملنے، وقت پر نہ ملنے، پر ہڑتال کردی،*
*سرکاری ڈاکٹروں نے کام کا لوڈ زیادہ ہونے پر، پیمنٹ کم ملنے پر ہڑتال کردی،*
*صفائی ملازمین، کرمچاری، حتیٰ کے ہر چھوٹے بڑے ڈپارٹمنٹس میں ہڑتال کے بارے میں سنتے ہی رھتے ہیں.*
*مگر....*
*کبھی آپ نے سنا ہے کہ
فلاں شہر میں مساجد کے امام صاحبان ہڑتال پر ہیں، تنخواہ کم ہے اس لیے نماز نہیں پڑھائیں گے؟*
فلاں شہر میں مساجد کے امام صاحبان ہڑتال پر ہیں، تنخواہ کم ہے اس لیے نماز نہیں پڑھائیں گے؟*
*مؤذن صاحبان کم تنخواہ، کام زیادہ کے مسائل کو لیکر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں؟*
*مدارس کے اساتذہ(مولوی صاحبان)، دونوں شفٹ کے مسائل اور کم تنخواہ کے باعث روڈ پر آ گئے؟*
*اتنی کم تنخواہ پاکر بھی یہ طبقہ اتنا مطمئین کیوں رہتا ہے؟*
*کیونکہ یہ اللہ کی رضا کے ساتھ زندگی گزارنے کا فن جانتے ہیں.*
*اور اگر ان میں سے کوئی زیادہ محنت کرکے، سائڈ بزنس کرکے ہیرو ہانڈا لے لیوے تو سارے گلی محلے والوں کی آنکھ میں آ جاتے ہیں.*
*کبھی ہوٹلوں پر فیمیلی کو پردہ کے احکامات کے ساتھ کچھ کھلانے پلانے لے کر چلے جائیں تو دیکھنے والے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی آسمانی مخلوق زمین پر آ گئی.!!*
*آج امامت / مؤذن کے فرائض انجام دینا کتنا مشکل ہے، انسان کہیں بھی رہے اسے پانچوں وقت، وقت سے پانچ دس منٹ پہلے مسجد پہنچنا ہی ہے. دو منٹ امام صاحب لیٹ ہو جاتے ہیں مسجد میں کُھسر پُھسر شروع ہو جاتی ہے. پوری مسجد امام صاحب کو تلاش کررہی ہوتی ہے. چٹائی پر تھوڑی بہت مٹی، گھان دکھائی دے، دس روپے چندہ دینے والا مؤذن صاحب کو ٹوک دیتا ہے.*
*مدرسوں میں بچوں کو سات سال پڑھانے والے، انکو دینی تعلیمات سے روشن کرنے والے، حافظ، عالم بنانے والے مدرس کو کبھی ہم گھر بلا کر ایک چائے نہیں پلاتے، مگر ایک ٹیچر جو ہمارے بچے کو اسکول / ٹیوشن پڑھائے اسے فیمیلی کے ساتھ بلا کر شاندار دعوت کرتے ہیں.*
*بچے کی پیدائش سے لیکر بوڑھا ہو کر مرنے تک ہمیں قدم قدم پر امام صاحب، مؤذن صاحب، مولوی صاحب کی ضرورت ہوتی ہے. مگر ہم ان کو انکے کام کا وہ صلہ نہیں دے پاتے جن کے وہ حقدار ہیں.*
*بس، شب قدر کے نام پر چند سو روپے اور ایک جوڑا کپڑا دے کر ہم سمجھتے ہیں کہ بہت ہو گیا.*
*آج ان کی تنخواہیں ایک پاورلوم مزدور سے بھی کم ہوتی ہیں جن میں گزارہ مشکل ہے مگر یہ جیالے اسے ممکن بنائے رکھتے ہیں.*
*شہر کی بہت ساری مساجد میں اب تنخواہ بڑھا دی گئی ہے اور ایسے ٹرسٹیان قابلِ مبارکباد ہیں جنہوں نے دین کے ان علمبرداروں کے حق میں یہ قدم اٹھایا ہے.*
*اللہ پاک سے دعا ہے کہ ان صاحبان کی خدمت کو قبول فرمائے اور ہم سب کو ان کی قدردانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے.*
*دعاگو : عمران الحسن*