جمعہ، 19 جون، 2020

عجیب شخص تھا بیٹھا تھا خواب میں خاموش (غزل : فرحان دل)

عجیب شخص تھا بیٹھا تھا خواب میں خاموش
سو میں بھی ہوگیا اس کے جواب میں خاموش

بھٹکتی رہتی ہیں اب اسکرین پر نظریں
جہاں کا علم پڑا ہے کتاب میں خاموش

تمام جسم کے پردے کا فائدہ کیا ہے
رکھا کر اپنی نظر کو نقاب میں خاموش

ہر ایک بات کا اب کے جواب دینا ہے
میں رہ چکا ہوں وفا کے حساب میں خاموش

اک اہلِ علم نے چپ سادھ لی ہے محفل میں
پڑی ہے روشنی اک آفتاب میں خاموش

میں اس ضمیر کو زندہ کہوں تو کیسے کہوں
جو ہو تمیزِ گناہ و ثواب میں خاموش

ابھی تلک تو غموں سے نبھاتا آیا ہوں
مرا نصیب ہے خوشیوں کے باب میں خاموش

جہاں پہ کھل کے رہے گا ترا ہنر اے دل
نہ رہنے پائے گی خوشبو گلاب میں خاموش

🖋️ فرحان دِل. مالیگاؤں.
📞 9226169933