بسم اللہ....
*٣ کیفیات*
3 Emotions
______________________________________
’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چار کلمات بہت پسند ہیں:
(۱) سبحان اللہ (۲) الحمد للہ (۳) لا الہ الا اللہ (۴) اللہ اکبر.....‘‘
( أخرجہ مسلم في کتاب الآداب، باب: بیان ما یستحب من الأسماء، رقم: ۵۶۰۱ )
_____________________________________
اللہ تعالیٰ ہم سے کس قدر
محبت کرتا ہے کہ قلیل عمل پر اجر کثیر سے نوازتا ہے ۔
احادیث میں کہیں ان میں سے ہر کلمے پر جنت میں ایک درخت کی بشارت ملتی ہے تو کہیں تمام گناہوں (صغیرہ) کی معافی کا علان ہوتا ہے خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں -
مزکورہ کلمات......
(سبحان اللہ،الحمد للہ،لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر)
......جو اللہ تعالیٰ کو خوب عزیز ہیں اور آپ ﷺ نے ان کلمات کے ورد کیلیےء قیمتی اوقات کی نشاندہی فرمائی (یعنی بعدِ نمازِ فرض ، چڑھتے اترتے وقت وغیرہ....) جنھیں اپنے وقت پہ ادا کر کے ہم یقیناً خوش نودیِ رحمٰن اور بشارتِ فردوس حاصل کر سکتے ہیں -
پر زرا غور کیجیےء ہم میں سے اس اہلِ ایمان پر اللہ کس قدر مہربان ہوگا جس کی ساری زندگی فرائض ، سنن و لازمی نوافل کے ساتھ ان کلمات سے بھی بھری ہوئی ہو...!!!
لیکن کسی کی ساری زندگی ان کلموں سے کیسے بھری ہوسکتی ہے ؟ ساری زندگی ورد کرتے رہنا کتنا دشوار معلوم ہوتا ہے ....؟؟؟
اگر غور کیا جائے تو ہر انسان کی ساری زندگی صرف تین قسم کی کیفیات ( Emotions ) سے بھری ہوتی ہے....
(١) خوشی - Joy or Happiness
(٢) غم - Sorrow or sadness
(٣) سکون - Peace or tranquility
(کہ جس وقت نہ خوشی ہو نہ غم ہو )
اگر انسان یہ عادت بنا لے کہ جیسے ہی کوئی خوشی ہو *الحمدللہ* کہے اور اس وقت تک کہتا رہے جب تک خوشی قائم رہے (اور خوشی کے عالم میں اس کا شکر ادا کرنا لازمی و فطری بھی ہے جس نے خوشی عطا کی ہے) اور جیسے ہی کوئی غم ہو *اللہ اکبر* کہے (کلمہء اِنَّالِلّٰہِ...... کے بعد) اور کہتا رہے جب تک کیفیتِ غم موجود رہے ( غم کے وقت اللہ اکبر کہنا مفہوماً بھی درست ہوا کہ صدمے کے وقت اللہ کو اس نام سے پکارا جائے جس میں اسکے بڑے ہونے کی صفت کا ذکر ہے کہ تو ہی سب سے بڑا ہے ، تو نے ہی غم دیا ہے ، اور تو ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ غموں سے نجات بخشے ) اور پھر اگر کسی وقت کسی لمحے میں خوشی بھی نہ ہو غم بھی نہ ہو تو ایک ہی کیفیت ہو سکتی ہے جسے سکون ، امن یا قرار کہیں گے.... تو اس وقت *سبحان اللہ* کہا جائے اور اس وقت تک کہا جائے جب تک قرار برقرار رہے (سبحان اللہ یعنی اللہ پاک ہے ، اور میں اللہ کو پاکی کیساتھ یاد کرتا ہوں) اور *کلمہء طیبہ* کے ورد کیلیےء بھی عمدہ وقت امن و سکون کا ہی ہوگا (عموماً سکون کا وقفہ خوشی اور غم سے طویل ہی ہوا کرتا ہے) کہ سکونِ قلب اور اطمنانِ ذہن کے ساتھ کلمہ ء توحید کو دہرا دہرا کر تجدیدِ ایمان کیجائے اور اللہ کی پاکی کے بیان سے لب و زبان کو عادی کر لیا جائے......
( نوٹ : ہرعبادت کےساتھ *درودشریف* لازم ہےکہ وِردِ درود محبوبیتِ نبیِ اقدس ﷺ کی علامت اور محبوبیتِ نبی ﷺ علامتِ معبودیتِ ربِ عالمین ہے )
محمد عمران