جمعہ، 17 مئی، 2019

اسلام کے پانچ فرائض اور ان کی خصوصیات : تحریر : محمد عمران

بُنِیَ الاِسلامُ علیٰ خَمسٍ...

ارکانِ خمسہ یعنی مزہبِ اسلام کے پانچوں فرائض ...

      *( توحید ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج )*  

...سے واقفیت بھی ایک نعمت ہوئی ، کہ بنا علم کے عمل کا تو وجود ہی محال ہے -
تحقیقِ علماء کی شہادت کافی ہے ان  فرائض کو فلاحِ عالَم کے لیےء نسخہء کیمیا
ثابت کرنے کے لیےء -
ان ارکان میں ایک خاص بات یہ بھی ہیکہ ہر فرض میں ایک مخصوص خاصیت پوشیدہ ہے ، جو ہر فرض کو دیگر فرائض سے ممتاز کرتی ہے اور ہر فرض کیلیےء اپنی ایک انفرادیت قائم کرتی ہے-
    
*(١) کلمہءطیبہ :*   

مذہبِ اسلام کا سب سے پہلا فرض جو  اسلام میں داخل ہونے کیلیےء شرطِ لازم ہے کہ بِنا اسے ادا کیے ء کوئی شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا - حالانکہ دوسرے تمام فرائض کے مقابلے اس فرض کو ادا کرنا بے حد آسان ہے ، صرف  زباں سے ادا کرنا اور دل سے اقرارِ وحدت و رسالت کرنا - لیکن لبوں کی ایک لرزش زمانے بھر کے مذاہب کا انکار اور ساری دنیا کے تمام  مصنوعی بتوں کے خلاف اعلانِ جنگ کے لیےء کافی ہے - انسان صرف ایک کلمہ کے قبول کرتے ہی سارے جہان کی مخلوق کی معبودیت سے آزاد ہو جاتا ہے - 

*(٢) ستونِ اسلام :*

واقیمُواالصلوٰۃ - نماز قائم کرو (البقرۃ)
الصلوٰۃ معراج المومنین 
الصلوٰۃ عمادالدین 
(احادیثِ نبوی)

نماز مذہب ِاسلام کی واحد ایسی عبادت ہے جو عمرِ بلاغت سے لےکر تا موت ہر مسلمان کو روزانہ بلاناغہ پانچ مرتبہ اپنے متعین وقت پہ ادا کرنا ہی ہوتی ہے - 
یہ مسلمان کو ہر قسم کی برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے- پھر یہ واحد عبادت ہے جسے ادا کرنے سے قبل تمام مسلمانوں کو اس کی دعوت  بآوازِبلند  یعنی اذان دیجاتی ہے -
بخاری و مسلم میں نبی کریم (ص) نے اس کی مثال ایک  *نہر*  سے دی جو ایک شخص کے دروازے کے سامنے جاری ہو اور وہ اسمیں روز غسل کرتا ہے ، بتاؤ کیا اس کے بدن پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا...؟ (مفہومِ حدیث)

*(٣) صیامِ رمضان :*

جنت میں  *" روزہ "*   رکھنے والوں کے لیےء ایک خاص  *" دروازہ "*  ہوگا جس کا نام ریان ہے-   
یہ واحد ایسی عبادت ہے جو عابد اور معبود کے درمیان ایک راز ہوتی ہے یعنی روزہ دار کی بھوک پیاس کی کیفیت و صداقت ، روزہ دار کے علاوہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ، انکے درمیان کوئی تیسرا شریک نہیں ہوتا - ورنہ اس عبادت کے سوا ایسا اور کوئی فرض نہیں جس کی اطلاع دیگر مخلوقات کو نہ ہو - تب ہی روزے کی فضیلت کے بارے میں آپ (ص) نے فرمایا "اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں روزہ میرے لیےء ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا..."  

*(٤) قرضِ حَسَن :* 

    ....واٰتواالزکوٰۃَ وَ اَقرِضُوااللہَ قَرضً حَسَنًا.... 

... اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو اچھی طرح اخلاص سے قرض دو...  (المُزَمّل - آیت ٢٠ )

تمام فرائض میں زکوٰۃ واحد ایسی عبادت ہی جو تمام مسلمانوں پر نہیں بلکہ صرف دولت مند اور صاحبِ نصاب مسلمان پر ہی فرض ہے اسلیےء ذکوٰۃ کو مالی عبادت کہا جاتا ہے - یہ عبادت ایک مالدار کو بخل اور مال کے برے اثرات سے بچا کر اس کے دل میں غریبوں کی محبت انکے حق میں سخاوت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتی ہے - 
لیکن یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ اللہ نے امراء پر ذکوٰۃ کا دینا تو ضرور فرض کیا لیکن کسی غریب پر ذکوٰۃ کا لینا ہرگز لازم قرار نہیں دیا (یعنی غریب کیلیےء  ارکانِ اسلام  صرف چار ہوئے) ، ان کو یہ اختیار دیا کہ یا تو ذکوٰۃ لے کر  *شکرِ* خدا  کریں یا امتحانِ *صبر* سے گزر کر اللہ کا قرب حاصل کر لیں اور یہ وہ اوپشن ہے جو کسی امیر کو نہیں دیا گیا کہ انھیں تو شکر ہی شکر ادا کرنا ہے-  

*(٥) سفرِمکہ :*

بلدِحرام   یعنی  شہرِ مکہ  اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (ص) کو سب شہروں سے زیادہ عزیز ہے -

وَاَتِیمُّوالحَجَ وَالعُمرَۃَ لِلّٰہِ... 
"حج اورعمرہ اللہ تعالیٰ کیلئے مکمل کرو" 

حج اسلام کی سب سے طویل عبادت ہے کہ اگر استطاعت* نہ ہو تو اللہ کی طرف سے عفو ہے- 
(استطاعت نہ ہونے سے مراد صرف روپیوں کی کمی مراد نہیں بلکہ جسمانی کمزوری یا کوئی اور جائز مجبوی کہ جانا چاہتا ہے مگر جا نہیں سکتا لیکن ایسے حال میں بھی ارادہ و نیتِ حج مسمم ہو)
اس عبادت کے وقت طلب  ، محنت طلب اور دشوارطلب ہونے کے باوجود اس کے زریعے سارے عالم کے مسلمانوں کا اجتماع ہر سال بعالمِ مسرت ممکن ہونا بھی کسی معجزے سے کم نہیں ورنہ مزہبِ اسلام کے سوا دنیا کا کوئی بھی مزہب ایسا نہیں کے جن کے ماننے والوں کا ایسا کثیر مجمع ہر سال تو کیا ایک صدی میں بھی کسی ایک جگہ ، کسی ایک مقصد سے اکٹھا ہوا ہو -
 حج واحد ایسی عبادت ہے جو آپ (ص) کے آباواجداد یعنی حضرت ابراہیم ع اور انکے فرزند اسماعیل ع اور اسماعیل ع کی والدہ حضرت ہاجرہ کے اعمال حسنہ پر مشتمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو اتنے پسند آئے کہ انھیں حج کے کامل ہونےکیلیےء لازم قرار دے دیا۔            ( محمد عمران )