ہفتہ، 18 مئی، 2019

نامہ نگاروں سے گذارش

Ⓜ *شکیل نامہ* ♓

*آج کی بات*
*پوسٹ نمبر 1270*

*ایک گذارش*

بیرونی یا قومی سطح کے اخبارات میں رپورٹنگ کرنے والے معزز نامہ نگاروں سے میں بڑے ہی ادب سے التماس کرنا چاہوں گا کہ خبر بناتے وقت اس بات کا دھیان رکھا کریں کہ آپ کی تحریر صرف شہریان نہیں پورا ملک پڑھتا ہے۔ ایسے میں
جب آپ یہاں کے چند افراد کے کرتوت نمک مرچ لگا کر پیش کرتے ہیں تو دوسرے شہر کے لوگوں کے ذہن میں اس دینی شہر کی انتہائی قبیح تصویر بنتی ہے اور ان کو لگنا ہے کہ یہاں کا ہر لڑکا اور لڑکی آوارہ اور بدچلن ہیں۔ یہ بات ہوا میں نہیں کہہ رہا۔ آج ہی ممبئی (جہاں کی چوپاٹی کے حالات سب کوپتہ ہیں) کے ایک  دوست کا میسیج آیا کہ *کیا سر تمہارے یہاں کی لڑکیاں اتنی آوارہ ہیں ؟ آج اخبار میں پڑھا۔*
میں تو دنگ رہ گیا۔ کیا بولوں ان کو ؟
میں نے جب قومی سطح کے اس اخبار کو پڑھا تو ایک ایک واقعے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا یہاں کی پوری آبادی دن رات گناہوں میں ملوث ہے۔ میں کسی کی حمایت نہیں کر رہا لیکن کچھ لوگوں کے کرتوت ایسے آل انڈیا لیول پر پیش کرنے پر دوسرے شہر والے ہمارے پورے شہر کو ہی ویسا سمجھیں گے۔ 
یاد رہے ایسے واقعات کو چھپایا بالکل نہ جائے بلکہ نام اور تصویر کے ساتھ شائع کئے جائیں لیکن صرف مقامی سطح کے اخبارات میں تاکہ ہم اپنی اصلاح کریں۔ نا کہ ملکی سطح کے اخبارات میں چھپوا کر شہر کی عزت اتاریں۔  اس ضمن میں ایوبی عالیشان میں لکھی ایک تحریر کا ترجمہ یاد آرہا ہے کہ *اگر آپ ہماری خدمات سے مطمئن ہیں تو دوسروں سے کہیں لیکن اگر نہیں ہیں تو ہم سے کہیں*
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مقامی اخبارات تو ایسے معاملات گول کرجاتے ہیں یا اشارے کنایے میں چھاپتے ہیں اور قومی اخبارات میں شہر کی عزت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے الٹا ہونا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ خبر ہی نہ دیں۔ دیں مگر خبر جیسی۔ نمک مرچ لگانے کی کیا ضرورت ہے ؟
امید کہ نامہ نگار حضرات قومی سطح پر شہر کا مثبت چہرہ پیش کریں گے اور اصلاح کا کام مقامی سطح پر ہوگا۔

✍🏻 *شکیل حنیف*
*ہمارا مالیگاؤں*