ریل کا کھیل
(شکیل حنیف) منماڑ اندور ریلوے لائن کو لے کر شہریان تذبذب کا شکار ہیں۔ الگ الگ طرح کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں میں نے اسٹڈی کی تو مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئے۔
اس ریلوے لائن کے لئے رقم مختص ہو چکی ہے۔ پورا کام چھ سال میں مکمل ہوگا۔ منماڑ کے بعد مالیگاؤں پھر دھولیہ اور آگے نرڈانہ وغیرہ بڑے اسٹیشن ہوں گے۔ درمیان میں کئی چھوٹے اسٹیشن رہیں گے۔ مالیگاؤں کے مشرقی حصے میں مالدہ یا اس سے لگ کر اسٹیشن بنے گا۔ یہ لائن شروع ہونے پر ممبئی سے دہلی کے درمیان کی بیشتر اہم ٹرینیں اس روٹ سے ہی جائیں گی۔ مالیگاؤں مہاراشٹر کا سب سے بڑا لاجسٹک ہب بنے گا۔اہم مال گاڑیاں یہاں سے ہو کر جائیں گی۔ جس سے پاورلوم کے لئے خام مال اور تیار مال کی آمدورفت میں کافی آسانی ہوجائے گی۔ بہت سارے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔
رہ گئی بات صرف دھولیہ سے نرڈانہ تک ریلوے لائن کے افتتاح کی تو وہاٹس ایپ پر دن رات اس کے اس کے میسیج بنا سوچے فارورڈ کر کر کے لوگوں کی
سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زنگ آلود ہو چکی ہےکوئی کچھ بھی کہتا ہے اپنا دماغ لگائے بنا مان لیتے ہیں۔
سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زنگ آلود ہو چکی ہےکوئی کچھ بھی کہتا ہے اپنا دماغ لگائے بنا مان لیتے ہیں۔
جب منماڑ سے اندور تک بجٹ پاس ہوا ہے تو کام پورا ہی ہوگا ناں ؟ پورا کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتا۔ مرحلہ وار ہی ہوگا اور دھولیہ سے نرڈانہ پہلا مرحلہ ہے۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کام کی شروعات یا تو منماڑ سے ہونی تھی یا اندور کی طرف سے۔ مگر چونکہ اس کام میں دلچسپی لینے والا ایم پی دھولیہ کا ہے تو اس نے شروعات اپنے علاقے سے کروائی۔ الیکشن سر پر ہے اتنا تو سمجھنا پڑے گا۔ کارپوریٹر چاہے اپنے گھر کے پاس سے کام شروع کرے یا کنارے سے روڈ تو پورا بنتا ہے۔😇
آخری بات یہ کہ اس پوسٹ کے ذریعے نہ میں کسی پارٹی یا لیڈر کی حمایت کر رہا ہوں نہ کسی کی مخالفت۔ ہمارا برسوں پرانا خواب پورا ہونے کی امید ہے جس سے میرا قلبی لگاؤ ہے۔ اس لئے چند باتیں آپ کے گوش گزار کیں۔
*ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں*