آج میں جو بھی ہوں اپنے اساتذہ کی مرہونِ منت ہوں* پرنسپال ڈاکٹر شیخ مجیب
*ہمشیرہ کی کامیابی کی بدولت آج زندگی میں پہلی بارادباء کی مجلس میں اسٹیج سے بول رہا ہوں* سید انجم (ہلا گلا فرم)
*ادارہ نثری ادب کی کامیاب ماہانہ ادبی نشست میں ڈاکٹر شیخ مجیب و زرین ناز کا اعزاز و استقبال*
ہم تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ماضی میں کئی انقلابات فکشن و ناول نگاری کی بدولت آئے کئی ادبی تخلیقات انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اقبال برکی نے ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست میں خطبہ صدارت میں کیا جو کہ 23 فروری کی شب دس بجے اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں منعقد ہوئ، موصوف نے ادباء و قلمکاروں کے درمیان سے دانشوری کی معدوم ہوتی روایت پر بهی افسوس ظاہرکیا اور قلمکاران سے درخواست کی کہ وہ سماجی مسائل پر بیباکی سے اظہار کریں -
صاحب اعزاز پرنسپال ڈاکٹر شیخ مجیب شیخ ضمیر نے اپنے اساتذہ کو یاد کرتے ہوئے بتلایا کہ کسطرح اساتذہ نے انکی حوصلہ افزائی و رہنمائ کے زریعے انکی ناکامیوں کو کامیابیوں سے بدلنے میں انکی مدد کی، موصوف کا ماننا ہے کہ "انعام سے بڑا اعزاز" ہوتا ہے اور ادارہ نثری ادب نے مجهے جو اعزاز بخشا ہے وہ یقیناً میرے اساتذہ کو جاتا ہے - صاحب اعزاز محترمہ زرین ناز، جنہوں نے انگریزی زبان و ادب میں لگاتار دو مرتبہ نیٹ کامیاب کیا انکے برادراکبر محترم سید انجم نے کہا کہ آج زندگی میں پہلی بار اپنی ہمشیرہ کی کامیابی کی بدولت ادباء کی مجلس میں اسٹیج پر مائک سے کچھ بول رہا ہوں اسکا کریڈٹ بهی زرین ناز کو ہی جاتا ہے - قبل اسکے صاحبان اعزاز کی خدمت میں شال گل اور قلم کا نذرانہ خلوص ادارہ کے صدر محترم اسحق خضر کے دست مبارک سے پیش کیا گیا ساتھ ہی ادارہ فیضان ربانی کی جانب سے بهی صاحبانِ اعزاز کو ایک ایک قلم اور برکتی مصطفیٰ سر کی جانب سے ایک قلم و ہار پہول پیش کیا گیا - بعدازاں نشست میں عبدالمجید ماسٹر نے "خدا کا سایہ" (کہانی) پیش کی، نئے ابھرتے ہوئے قلمکار عبدالرحیم نیازی نے"نئ صبح" (افسانہ)پیش کیا، قدسی فیصل سعود نے "برقی نامہ"(مضمون) پیش کیا جس پر ڈاکٹر الیاس صدیقی، حمید شیخ، نور الدین نور، عتیق شعبان، ظہیر قدسی و رضوان ربانی نے سیر حاصل تنقید و تبصرے کئے حمید شیخ، ڈاکٹرالیاس صدیقی،ڈاکٹر اقبال برکی و ظہیر ابن قدسی نے عبدالرحیم نیازی کے افسانے کی نیاز فتح پوری و عبدالستار قاضی جیسے ادباء کے حوالے سے سراہنا و خوب حوصلہ افزائی فرمائ، نشست میں محمد امین سر، محمد ساجد سر، شیخ رفیق سر،رحمانی عبدالرشید سر، شیخ آصف سر(سٹانہ) مسعود رمضان (پینٹر) آصف سبحانی، صالح ابن تابش، افضال انصاری سر، طارق اسلم سر، عزیز اعجاز سر، ساجد نعیم انصاری سر، حفظ الرحمن سر (شہروز خاور) مرتضیٰ اقبال، محمد ہاشم انصاری، عطاء الرحمن، واحد علی، محمد سالک، حاجی شاہد انجم (ثناء یوٹیوب چینل)، مومن وسیم (سٹی بکڈپو) وغیرہم از اول تا آخیر شریک رہے نظامت رضوان ربانی جبکہ شکریہ عتیق شعبان سر نے ادا کیا -
صاحب اعزاز پرنسپال ڈاکٹر شیخ مجیب شیخ ضمیر نے اپنے اساتذہ کو یاد کرتے ہوئے بتلایا کہ کسطرح اساتذہ نے انکی حوصلہ افزائی و رہنمائ کے زریعے انکی ناکامیوں کو کامیابیوں سے بدلنے میں انکی مدد کی، موصوف کا ماننا ہے کہ "انعام سے بڑا اعزاز" ہوتا ہے اور ادارہ نثری ادب نے مجهے جو اعزاز بخشا ہے وہ یقیناً میرے اساتذہ کو جاتا ہے - صاحب اعزاز محترمہ زرین ناز، جنہوں نے انگریزی زبان و ادب میں لگاتار دو مرتبہ نیٹ کامیاب کیا انکے برادراکبر محترم سید انجم نے کہا کہ آج زندگی میں پہلی بار اپنی ہمشیرہ کی کامیابی کی بدولت ادباء کی مجلس میں اسٹیج پر مائک سے کچھ بول رہا ہوں اسکا کریڈٹ بهی زرین ناز کو ہی جاتا ہے - قبل اسکے صاحبان اعزاز کی خدمت میں شال گل اور قلم کا نذرانہ خلوص ادارہ کے صدر محترم اسحق خضر کے دست مبارک سے پیش کیا گیا ساتھ ہی ادارہ فیضان ربانی کی جانب سے بهی صاحبانِ اعزاز کو ایک ایک قلم اور برکتی مصطفیٰ سر کی جانب سے ایک قلم و ہار پہول پیش کیا گیا - بعدازاں نشست میں عبدالمجید ماسٹر نے "خدا کا سایہ" (کہانی) پیش کی، نئے ابھرتے ہوئے قلمکار عبدالرحیم نیازی نے"نئ صبح" (افسانہ)پیش کیا، قدسی فیصل سعود نے "برقی نامہ"(مضمون) پیش کیا جس پر ڈاکٹر الیاس صدیقی، حمید شیخ، نور الدین نور، عتیق شعبان، ظہیر قدسی و رضوان ربانی نے سیر حاصل تنقید و تبصرے کئے حمید شیخ، ڈاکٹرالیاس صدیقی،ڈاکٹر اقبال برکی و ظہیر ابن قدسی نے عبدالرحیم نیازی کے افسانے کی نیاز فتح پوری و عبدالستار قاضی جیسے ادباء کے حوالے سے سراہنا و خوب حوصلہ افزائی فرمائ، نشست میں محمد امین سر، محمد ساجد سر، شیخ رفیق سر،رحمانی عبدالرشید سر، شیخ آصف سر(سٹانہ) مسعود رمضان (پینٹر) آصف سبحانی، صالح ابن تابش، افضال انصاری سر، طارق اسلم سر، عزیز اعجاز سر، ساجد نعیم انصاری سر، حفظ الرحمن سر (شہروز خاور) مرتضیٰ اقبال، محمد ہاشم انصاری، عطاء الرحمن، واحد علی، محمد سالک، حاجی شاہد انجم (ثناء یوٹیوب چینل)، مومن وسیم (سٹی بکڈپو) وغیرہم از اول تا آخیر شریک رہے نظامت رضوان ربانی جبکہ شکریہ عتیق شعبان سر نے ادا کیا -
