جمعرات، 12 نومبر، 2020

شکیب جلالی کا یوم وفات

(طارق اسلم) اصل نام۔ سید حسن رضوی۔ یکم اکتوبر 1934ء کو اتر پردیش کے علی گڑھ کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنے شعور کی آنکھیں بدایوں میں کھولیں جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ لیکن والدہ کی حادثاتی موت نے سید حسن رضوی کے

ذہن پر کچھ ایسا اثر ڈالا کہ وہ شکیب جلالی بن گئے۔ انہوں نے 15 یا 16 سال کی عمر میں شاعری شروع کر دی اور شاعری بھی ایسی جو لو دیتی تھی جس میں آتش کدے کی تپش تھی۔ شکیب جلالی پہلے راولپنڈی اور پھر لاہور آ گئے یہاں سے انہوں نے ایک رسالہ ” جاوید “ نکالا۔ لیکن چند شماروں کے بعد ہی یہ رسالہ بند ہو گیا۔ پھر ”مغربی پاکستان“ نام کے سرکاری رسالے سے وابستہ ہوئے۔ مغربی پاکستان چھوڑ کر کسی اور اخبار سے وابستہ ہو گئے۔

شکیب کے باپ کی ذہنی بیماری کے باعث شکیب کی ماں نے ٹرین کے نیچے آ کر خود کشی کرلی۔ 10 سالہ شکیب نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ یہ منظر دیکھا۔اس منظر نے ساری زندگی اُن کا پیچھا نہ چھوڑا

تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور 12 نومبر 1966 کو محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا تھا


*تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں*

*آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ*


شکیب جلالی کے  کچھ منتخب اشعار احباب کے تسکین ذوق کی خاطر پیش کر رہا ہوں


*انتخاب و پیشکش...طارق اسلم*


*آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے*

*جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے*


آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے

تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر


*عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر*

*دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ*


*بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا*

*ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا*


بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے

مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت


*دل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ*

*جب بکے گا تو یہ بے دام ہی بک جائے گا*


*ایک اپنا دیا جلانے کو*

*تم نے لاکھوں دیے بجھائے ہیں*


*فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں*

*حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی*


*گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا*

*ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا*


ہم سفر رہ گئے بہت پیچھے

آؤ کچھ دیر کو ٹھہر جائیں


*اس شور تلاطم میں کوئی کس کو پکارے*

*کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی*


جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے

زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے


*جو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا*

*تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت*


کہتا ہے آفتاب ذرا دیکھنا کہ ہم

ڈوبے تھے گہری رات میں کالے ہوئے نہیں


کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید

آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں


*لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو*

*زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا*


لوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیبؔ

کام جس مہربان سے نکلا


*ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے*

*چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر*


مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا


*رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا*

*پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں*


*سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح*

*دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں*


اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا

زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی


*وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت*

*میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت*


یوں تو سارا چمن ہمارا ہے

پھول جتنے بھی ہیں پرائے ہیں


*ابھی ارمان کچھ باقی ہیں دل میں*

*مجھے پھر آزمایا جا رہا ہے*


*جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے*

*مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے*