*📍ALL YOU NEED TO KNOW📍*
*تحریر : ایڈوکیٹ مومن مصدق احمد*
*ایڈوکیٹ : ممبئی ہائی کورٹ*
*PERSONAL OPINION*
سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے مورخہ 8 مارچ ٢٠١٩ کے اپنے حکم کے ذریعے ایودھیا - بابری مسجد کیس ثالثی پینل کے سپرد کردیا ہے. سپریم کورٹ نے ثالثی پینل ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج ایف ایم خلیف اللہ کی سربراہی میں تشکیل دیا ہے جس میں شری شری روی شنکر اور چینئ کے سینئر وکیل شری رام پانچو (ایکسپرٹ انٹر نیشنل ثالث) بطور پینل ممبر شامل ہیں.
*اول* یہ بات ذہن نشین ہو
کہ سپریم کورٹ نے معاملہ ثالثی پینل کے سپرد کرتے ہوئے پانچ رکنی آئینی بنچ تحلیل نہیں کردی ہے. معاملہ اب بھی سپریم کورٹ میں التواء ہے.
*دوم* ماضی میں ثالثی کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں ہیں وہ قانونی حیثیت نہیں رکھتی اور اگر وہ کوششیں کامیاب بھی ہوتی تو وہ سپریم کورٹ کے لئے مانع نہیں اور نا ہی قابلِ قبول ہوتی. کیونکہ ثالثی کیس کےتمام اصل مدعیان کے درمیان نہیں تھیں.
*سوم* سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے اپنی گذشتہ سماعتوں بتاریخ ٢٦ فروری اور ٦ مارچ میں یہ بات واضح کردی تھی کہ چونکہ معاملہ کی سماعت کے لئے تمام کاغذات اور ترجمے کورٹ کے پاس تیار نہیں ہیں. اسلئے تمام فریقین کو کاغذات اور ترجمے سے متعلق جو مسائل ہیں انہیں حل کئے جائیں. اس مقصد کے لئے سپریم کورٹ نے آٹھ ہفتوں کا وقت متعین کیا.
اس دوران معزز ججوں نے معاملہ ثالثی پینل کے سپرد کرنے پر غور کیا اور آج فیصلے کے ذریعے معاملہ ثالثی پینل کو سپرد کیا اور ثالثی پینل کو انھیں آٹھ ہفتوں کا وقت دیا جو وقت کاغذات اور ترجمے کی جانچ اور تیاری کے لئے فریقین کو دیا ہے. اس طرح سپریم کورٹ نے اس وقت کا استعمال ثالثی میں مناسب سمجھا.
*میڈئیشن(ثالثی) کیا ہے ؟ اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ثالثی کا اقدام فریقین پر کس طرح اثر انداز ہوگا؟*
لاء کمیشن آف انڈیا نے اپنی ١٢٩ ویں رپورٹ کے ذریعے حکومت کو سفارش پیش کی تھی کہ عدالتی بوجھ کم کرنے، وقت بچانے اور Settlement Out of Court کے لئے Alternate Dispute Resolution System کو فروغ دیا جائے اور سول پروسیجر کوڈ میں ترمیم کرتے ہوئے اسے عدالتی اختیارات میں شامل کیا جائے. اسطرح ٢٠٠٢ سے سیکشن ٨٩ سول پروسیجر کوڈ میں نافذ کیا گیا.
اس سیکشن کے Statement of Objects and Reasons میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ صرف *ایسے معاملات جن میں عدالت کو اس بات کا احساس ہو کہ اس معاملے میں فریقین کی رضامندی سے کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے* انھیں اس سیکشن کے تحت بھیجا جائے.
اس کے لئے کوئی مخصوص وقت متعین نہیں. جس وقت بھی عدالت مناسب سمجھے معاملہ آپسی رضامندی کے لئے بھیج سکتی ہے.
Mediation is the process by which someone *tries* to end a disagreement by *helping* the sides to talk about and *agree* on solution.
سول پروسیجر کوڈ ١٩٠٨ کے سیکشن ٨٩ کے تحت عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ عدالت کوئی زیر سماعت معاملے( جسمیں ججوں کا خیال ہو کہ معاملہ عدالت کے باہر آپسی رضامندی سے طے ہوسکتا ہے) میں رضامندی کی باتیں خود طے کردے یا عدالت کے باہر آربٹریشن Arbitration, کانسیلئشن Conciliation, جوڈیشل سیٹلمینٹ Judicial Settlement یامیڈئیشن Mediation کے سپرد کردے.
مندرجہ بالا چار طریقے Alternate Dispute Resolution کہلاتے ہیں. اہم بات یہ ہے کہ میڈئیشن Mediation کے علاوہ بقیہ تین طریقوں میں Settlement کی *کاروائی شروع ہونے سے پہلے تمام فریقین کی رضامندی ضروری ہے* اور اسی لئے حاصل شدہ فیصلہ فریقین پر لاگو ہوتا ہے اور کوئی اس سے انحراف نہیں کرسکتا.
میڈئیشن Mediation یعنی ثالثی سسٹم بقیہ طریقوں سے مختلف ہے. عدالت کے لئے معاملہ ثالث کے سپرد کرنے کے لئے تمام فریقین کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی. کیونکہ یہ ایک کوشش ہوتی ہے کہ بات کے ذریعے سے تمام فریقین کسی بات پر راضی ہوجائیں. اگر ہوگئے تو معاملہ ختم اور نا ہوئے تو معاملہ واپس عدالت کے سپرد. بقیہ تین طریقوں کی طرح ثالثی میں سختی اور مخصوص ایکٹ مثلاً Arbitration and Conciliation Act وغیرہ کی پابندی نہیں ہوتی.
ثالثی میں عدالت کے ذریعے کوئی ممکنہ Settlement terms نہیں بتائی جاتی بلکہ ایک فری ٹاک سسٹم ہوتا ہے جسمیں فریقین اپنے مطابق ع موافق نتیجے پر آمادہ ہوسکتے ہیں.
ثالثی نظام میں ثالث کا کام ہوتا ہے کہ
ایک منظم طرز پر فریقین کو آپس میں ملانا.
ان کی باتیں سننا. ان کے مطالبات کو سمجھنا.
جن معاملات پر آپسی اتفاق ہوں انھیں اسی صورت میں قبول کرنا.
جن پر نا اتفاقی ہو اس میں فریقین کو کسی قابل قبول متفقہ فیصلہ تک لانا.
ان تمام کاروائیوں کے لئے ثالثی پینل کو عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کے اصل کاغذات نھیں بھیجے جاتے.
*جب کوئی معاملہ ثالثی پینل کے سپرد کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد فریقین کی ہار جیت کا فیصلہ مقصود نہیں ہوتا. بلکہ ثالثی معاملہ میں ایسے نتیجے کی تلاش کی جاتی ہے جس میں ہر فریق کی جیت ہو اور ہر فریق فیصلے سے راضی ہو. یعنی کسی فریق کو مکمل دستبردار نہیں کیا جاتا نا کسی فریق کو مکمل تمام چیزوں کا حقدار قرار دیا جاتا ہے. اور یہ بات ثالثی Mediation کی تعریف Definition بغور پڑھنے پر بالکل واضح ہوجاتی ہے.*
اس کی. مزید توثیق سول. پروسیجر کوڈ کے آرڈر ١٠ رول ١ سے ہوجاتی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر فریقین کسی نتیجے پر راضی نا ہوں تو معاملہ واپس عدالت میں رجوع کردیا جاتا ہے.
اگر فریقین ثالثی پینل کی مدد سےمتفقہ نتائج طے کرلیتے ہیں تو عدالت انھیں قدروں کو عدالتی فیصلے کی شکل دے دیتی ہے. (مصدق مومن)