پیر، 2 مئی، 2016

Mera Shaher

میری ایک تازہ نظم

02-05-2016

Ⓜ  میرا شھر  ♓

یہ میرا شھر ھے یارو
یہاں دل والے بستے ھیں
یہاں کے علم کے موتی
جہاں بھر میں چمکتے ھیں
یہاں لڑکوں کی آنکھوں میں
امنگ ھے کامیابی کی
یہاں کی لڑکیاں بھی علم کی اونچائیوں پر ھیں
یہاں تہذیب زندہ ھے
یہاں انسان بستے ھیں
سبھی کے درد کو سمجھیں
یہاں وہ لوگ رھتے ھیں
یہاں کی مسجدوں سے ذکر کی آواز آتی ھے
یہاں کے مدرسوں سے علم کی  میراث بٹتی ھے
یہاں سب ٹھیک ھے لیکن
مجھے اک بات کَھلتی ھے
برا جب وقت آتا ھے
سبھی مل جل کے رھتے ھیں
ھر اک ظلم و ستم کا سامنا
مل جل کے کرتے ھیں
مگر جب جیت جاتے ھیں
تو پھر آپس میں لڑتے ھیں
یہ میرا شھر ھے یارو
یہاں انسان بستے ھیں

✍شکیل حنیف,
ھمارا مالیگاؤں

www.hamaramalegaon.blogspot.com