Sunday, December 10, 2017

Alquds القدس

Ⓜ    *القدس*  ♓

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا

غیروں کا کسی حال میں ہونے نہیں دیں گے

دشمن کی ہر اک چال کو ناکام کریں گے

القدس تو کیا ایک بھی ذرہ نہیں دیں گے

کہتا ہے اگر کوئی کسی اور کا اس کو

کہنے دو کہ ان کی کوئی اوقات نہیں ہے

بس آج نہیں صدیوں سے یہ کھیل ہے جاری

دشمن کی اس القدس پہ ناپاک نظر ہے

سوبار لٹا ہے یہ سوبار چھنا ہے

سوبار اسے ہم نے بھی آزاد کیا ہے

اس بار بھی دشمن نے نئی چال چلی ہے

چلنے دو ہر اک چال کو ناکام کریں گے

وہ چال چلیں لاکھ مگر حکم خدا سے

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا

القدس ہمارا تھا ہمارا ہی رہے گا

✍🏻 *شکیل حنیف, مالیگاؤں, انڈیا*

Sunday, November 12, 2017

Sharar Malegaonvi شرر مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 18 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯شرؔر مالیگانوی🕯*

  میں 1906ء بمقام مالیگاؤں میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحر العلوم محلّہ قلعہ میں قبلہ حضرت مولوی عبد المجید صاحب وحیؔد سے حاصل کی۔ کچھ دنوں مدرسہ شبینہ عین العلوم محلّہ بیل باغ میں بھی حصولِ علم کرتا رہا۔ مدرسہ بحر العلوم قلعہ کے بند ہوجانے پر مدرسہ بیت العلوم میں کچھ دنوں فارسی تعلیم حاصل کی۔ والدین کے انتقال کرجانے کے بعد سلسلۂ تعلیم منقطع ہوگیا۔

    ابتدا ہی سے مجھے شاعری کا شوق تھا۔ دوستوں میں کبھی کبھی بیت بازی بھی ہوتی تھی۔ آپس میں شعر و شاعری کے تذکرے نے شعر کہنے پر محبور کیا۔ چنانچہ 1932ء میں پہلی نظم "نوائے شرؔر" کے عنواں سے 27 ستمبر 1932ء کے روزنامہ ہلال بمبئی میں شائع ہوئی۔ جسے دیکھ کر حضرتِ ادیؔب مالیگانوی نے مبارک باد دی اور شعر و شاعری سے متعلق معلومات و مشورہ دینے کا وعدہ بھی فرمایا۔ جس سے میرے ذوقِ شعر گوئی میں بہت اضافہ ہوا۔ اکثر صاحبِ موصوف ہی کی ہدایت سے مشورہ سے بہرا اندوز ہوتا رہا ہوں۔ قبلہ حضرت سہیؔل مالیگانوی سے بھی فیضِ اصلاح حاصل کرتا رہا ہوں۔

      قصر الادب مالیگاؤں کا رکن رہ چکا ہوں۔ اب تنویرِ ادب مالیگاؤں سے منسلک ہوں۔۔۔

شرؔر مالیگانوی                 28 جولائی 1945          

              
*💢 غزل💢*

ترے جلوؤں کی تابش چار سُو معلوم ہوتی ہے
نظر اب کامیابِ جستجو معلوم ہوتی ہے

تمہارے التفاتِ خاص نے وہ تازگی بخشی
جوانی پر مری ہر آرزو معلوم ہوتی ہے

جب انجامِ بہارِ گلستاں پر غور کرتا ہوں
یہ دنیا اک فریبِ رنگ و بُو معلوم ہوتی ہے

نہیں میں ہی اکیلا شاد فیضِ عام ساقی سے
خدائی کی خدائی سرخرو معلوم ہوتی ہے

سمٹتی جارہی ہیں ظلمتیں بھی نارمرادی کی
فروزاں آج شمعِ آرزو معلوم ہوتی ہے

اجازت ہو تو میں لب بند کرلوں صورتِ غنچہ
اگر بے کیف میری گفتگو معلوم ہوتی ہے

پگھل کر سوزِ غم سے دل بھی اب بہنے لگا شاید
شرؔر ہر بوند اشکوں کی لہو معلوم ہوتی ہے

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Aabid Malegaon عابد انصاری مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 17 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯عابؔد انصاری🕯*

پیدائش 4 ستمبر 1919ء ۔
تعلیم معمولی اردو ۔ وی ایف

1937ء میں شادی ہوئی۔ نو سال کے بعد شریکِ زندگی نے مجھے تنہا چھوڑ دیا۔ شاعری زمانۂ طالبِ علمی میں مضامین لکھنے کا شوق ہوا۔ ابتداء میں اصلاحی افسانے علمی مضامین لکھتا رہا۔ 1939ء میں شاعری شروع کی ۔ قبلہ حضرتِ مسلؔم کا شاگرد ہوں۔

بلیک مارکیٹ ۔ دعوتِ نظارہ

وغیرہ مشہور نظموں میں ھے۔

عابؔد انصاری                 14 مئی 1944          

              
*💢 عروسِ نو💢*

ہجر کی راتوں میں جب روتا ہے دل بے اختیار

کروٹیں لیتا ہے سینے میں کسی کا انتظار

اس طرح جیسے "عروسِ نو" کا دوشیزہ شباب

شرم کی لذّت سےکھائے دل ہی دل میں پیچ و تاب

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Ahsan Malegaonvi احسن مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 16 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯احسؔن مالیگانوی🕯*

نام محمّد حسن تخلّص احسؔن مالیگانوی ۔ والدِ بزرگوار کا نام شیر محمّد سردار ۔ سنِ ولادت 25 مارچ 1897ء جائے پیدائش مالیگاؤں ۔ آبائی وطن خانجہان پور ضلع الہ آباد

          1914ء میں ورنا کیولر امتحان کامیاب کرنے کے بعد فاسی اور شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ فارسی مدرسہ چراغ العلوم جناب مولانا محمّد یوسف صاحب عزیؔز مالیگانوی مدظلہُ سے پڑھی۔ اور صلاحِ کلام بھی مولانا سے ہی لیتا رہا۔ چونکہ بچپن ہی میں والدین کا سایہ سَر سے اُٹھ چکا تھا۔ اسلئے ٹریننگ کالج جا نہ سکا۔ مجبورًا مونسپل اردو صیبان نمبر 1 اسکول میں بحیثیت مدرّس کام کرنے لگا۔ اور فنون شاعری حاصل کرنے کیلئے مطالعۂ سخن میں مصروف ہوگیا۔ اور اپنے خواجۂ تاش حضرت شوقؔ کی معیت میں ایک ادبی انجمن گلستانِ سخن کی بنیاد ڈالی۔ بعد میں یہی بزمِ عزیزؔی کی صورت میں تبدیل ہوگئی۔ میں رکنِ خاص کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ اسوقت کے شعراء رنگِ قدیم میں غزل کہتے تھے۔ اس لئے میں بھی رنگِ قدیم میں طبع آزمائی کرتا اور بڑے تپاک سے مشاعروں میں شریک ہوتا۔ لیکن گھر کا تمام بار میرے دوشِ ناتواں پر آنے سے اور فرزندِ کلاں مختارالدّین بی ۔ اے  آنرز کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات نے مجھے ایسا پریشان کیا کہ میں بارہ سال تک دنیائے شاعری سے کوسوں دور رہا۔

                         احسؔن مالیگانوی

              
*💢 غزل💢*

وہ دُھن تھی منزلِ مقصود کی شوقِ فراواں کو
کہ ہم صبحِ وطن سمجھا کئے شامِ غریباں کو

نوائے غم سے کیفِ دل میں ہیجاں بھی ہوا پیدا
اگر مضرابِ الفت چھیڑ دے تارِ رگِ جاں کو

وہ کہتے ہیں شرارے ہیں یہ میرے حسنِ تاباں کے
فضا میں دیکھ کر اڑتی ہوئی خاکِ شہیداں کو

مری موہوم ہستی خون کے آنسو رلاتی ہے
چمن میں دیکھ لیتا ہوں اگر گلہائے خنداں کو

گناہوں سے پشیماں دیکھ کر ائے داورِ محشر
تری رحمت نے دھو ڈالا میرے دامن سے عصیاں کو

عدم آباد کی بستی بھی کیا بستی ائے احسؔن
نہ آیا کوئی واپس چھوڑ کر شہرِ خموشاں کو

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Nazar Malegaonvi نظر مایگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 15 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯نظؔر مالیگانوی🕯*

نام محمّد بشیر تخلّص نظؔر والد کا نام حافظ شمش الدّین تھا۔ نسبًا انصاری ہوں۔ 1900ء میں بمقام ٹانڈہ ضلع فیض آباد میں پیدا ہوا۔ والدِ مرحوم جس وقت وہاں سے سلسلۂ تجارت مالیگاؤں آئے اسوقت میری عمر صرف چھ ماہ تھی۔ اردو کی تعلیم مالیگاؤں میں مکان ہی پر مولوی عبدالمجید صاحب وحیؔد سے حاصل کی اور معمولی سی عربی بھی انہیں سے سیکھی۔ اردو فارسی کی تعلیم منشی عبادُ اللہ صاحب صفدؔر مالیگانوی سے حاصل کی چونکہ اسوقت مالیگاؤں کی سماجی اور معاشی زندگی پر مراٹھی زبان کا زیادہ اثر تھا۔ اسلئے لازمًا پرائمری اسکول میں داخل ہوکر یہ زبان سیکھنی پڑی۔ 1920ء میں جب سنِ شعور کو پہنچا تو مالیگاؤں میں ادبی مجلسوں کا خاصہ چرچا تھا۔ جس میں اکثر و بیشتر میں بھی شرکت کیا کرتا تھا۔ اس چیز نے میری زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ اور یہیں سے میرے ذوق کی ابتداء ہوئی۔  اس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کرنے میں جو شخصیت پیش پیش تھی وہ منشی نجیب اللہ صاحب ہنؔر مالیگانوی ہیں انہیں کے مشورے سے میں نے حضرت مولانا تجمّل صاحب جلال پوری کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا۔ لیکن چونکہ مولانا کا قیام بمبئی میں تھا۔ اسلئے صلاح کا سلسلہ زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکا۔ اور اسکے بعد میں اپنی غزلوں اور نظموں پر خود نظر ثانی کر لیا کرتا تھا۔ ابھی چند ہی سال گزرے ہونگے کہ والدِ مرحوم نے کاروبار سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ اور تمام بوجھ میرے کاندھوں پر آپڑا۔ ظاہر ہے ایسی حالت کے یکا یک رونما ہونے سے جسکے لئے انسان پہلے ہی سے تیار نہ ہو اسکو دوسری چیزوں سے بے نیاز کردیتا ہے اور پھر وہ اسی کو ہموار کرنیکی تگ و دَو میں لگ جاتا ہے۔ اسی باعث اور اسکے علاوہ دوسرے حادثات کی وجہ سے میں نے مجبورًا شعر و سخن سے ہی کنارہ کشی اختیار کرلی۔

                         نظؔر مالیگانوی

              
*💢 غزل💢*

سحر سے پہلے پہلے یوں کوئی بالائے بام آیا
کہ شوقِ دید تک بھی خود فراموشی کے کام آیا

اجَل آئی ہے پیغامِ حیاتِ جاوداں لے کر
مصیبت ایک ہی تھی دوسری کا بھی پیام آیا

نشانِ جادہ بن کر رہ گیا تو غَم نہیں اسکا
میں اس حالت میں بھی ہر رہرو منزل کے کام آیا

وہاں کی زندگی بھی تنگ ہے اپنے لئے ائے دل
فنا کے ما تحت ہوکر جہاں کا ہر نظام آیا

یہ ہے منصور کی لغزش کا مرکز با خبر رہنا
جہاں انساں خدا بنتا ہے ائے دل وہ مقام آیا

نظؔر ہے فکر دنیا صرف ساقی کے نہ ہونے تک
کہاں پھر گردشِ ایّام جب گردش میں جام آیا

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Aqueel Rahmani Malegaonvi عقیل رحمانی مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 14 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯عقیؔل رحمانی مالیگانوی🕯*

میں 1322ھ میں مالیگاؤں کے محلہ موتی پورہ میں پیدا ہوا۔ بفضل خدا ابتک یہیں ایّامِ زندگی گزار رہا ہوں۔ نام دین محمّد ہے والد عبدالرّحمٰن دادا شیخ مولانا حسام الدّین مرحوم جو قصبۂ پھولپور ضلع اعظم گڑھ کے ایک جیّد عالمِ دین اور مولانا شاہ کرامت علی جونپوری مرحوم کے مرید تھے۔ والد صاحب بہ تلاشِ معاش 1898ء میں مالیگاؤں آئے۔ اور 1940ء میں انتقال کر گئے۔ میں نے 1930ء میں حافظ عبدالرّحمٰن سے ختمِ قرآن کیا۔ اور مسجدِ نگینہ میں سنایا بھی جب بدقسمتی سے یہ سلسلہ ختم ہوگیا تو مدرسہ بحرالعلوم اور چشمۂ بقاء میں حضرت مولانا عبدالحمید صاحب وحیؔد مدظلہُ سے میں نے بتدریج اردو فارسی اور عربی کا علم حاصل کیا۔ زمانۂ تعلیم ہی میں شاعری کا شوق ہوا۔ چندے مشقِ سخن کے بعد 1925ء میں بذریعۂ خط و کتابت حضرت تجمّؔل صاحب جلال پوری مرحوم کا شاگرد ہوگیا۔ پہلے غریبؔ تخلّص کیا لیکن استاد نے عقیؔل کردیا۔

      استادِ محترم کی نگرانی میں میری غزلوں اور نظموں کا مجموعہ بنام گلدستۂ عقیؔل شائع ہوا۔ استاد مرحوم کے بعد تکمیلِ فن کے لئے علّامہ سیمؔاب اکبر آبادی صاحب کا شاگرد ہوگیا۔ اب چند وجوہات کی بناء پر تقریبًا دو سال سے خط و کتابت کا سلسلہ بند ہے۔ میں 17 اکتوبر 1933ء میں حضرت علّامہ حافظ عبدالرّحمٰن شائقؔ حسانِ روم بھوپالی رحمت اللہ علیہ کا مرید ہوگیا۔ اسی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ عقیؔل رحمانی لکھتا ہوں۔

                عقیؔل رحمانی مالیگانوی

              
*💢 غزل💢*

تونے یہ کیا کردیا تاثیرِ ایمانی مجھے
کوئی دیتا ہے نویدِ عیش روحانی مجھے

جب مقدر ہوچکی برگشتہ سامانی مجھے
چھوڑ کر جاتے کہاں پھر خانہ ویرانی مجھے

جب کبھی ہوتی ہے تنہائی میں مونس کی تلاش
میں پریشانی کو روتا ہوں پریشانی مجھے

کاوشِ فکرِ عمل اندیشۂ انجام کار
اک بَلائے جاں ہوئی یہ ہستیٔ فانی مجھے

کل تھا چاکِ جامۂ گل پر تبسّم ریز میں
آج رسوا کُن ہے میری چاک دامنی مجھے

سَیر کو گلشن میں جاتا ہوں مگر رُکتا ہے دل
ڈر ہے شرمندہ نہ کردے تنگ دامانی مجھے

کاتبِ تقدیر نے قسمت کیا تھا رنج و غم
عمر بھر بے سود تھی فکرِ تن آسانی مجھے

مصرعِ غالب ہے تفسیرِ خیالاتِ عقیؔل
پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Habeeb Malegaonvi حبیب مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 13 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯حبیؔب مالیگانوی🕯*

مالیگاؤں جہاں کی ادبی فضا میں بہت سے درخشدہ ستارے جگمگا رہے ہیں وہاں میری حقیقت ایک ذرّۂ بے نور کے سوا کچھ بھی نہیں لیکن بعض دوستوں کے اصرار پر مجھے بھی اپنا نام پانچوں سواروں میں لکھنا پڑا۔

      نام محمّد یوسف تخلّص حبیؔب ہے۔ والدِ بزرگوار کا نام محمّد سلیمان ہے۔ میں 1910ء میں پیدا ہوا۔ آبائی وطن الہ آباد ہے۔ تعلیم اتنی حاصل کی کہ نہ لوگ مجھے جاہل سمجھتے ہیں اور نہ میں اپنے آپ کو تعلیم یافتہ۔ حضرتِ ادیبؔ مالیگانوی کا ممنون ہوں کہ 1929ء میں میرے ذوقِ شاعری کو بیدار کیا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ آج تک جو بھی مجھے حاصل ہوا وہ آپ ہی کی عنایت ہے۔ غالبًا 1930ء میں ہنؔر مالیگانوی کی رہبری سے حضرت مولانا تجمؔل جلال پوری سے تلمّذ حاصل ہوا۔ حضرتِ ہنؔر مالیگانوی کی نوازشوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ مولانا محترم حضرت قبلہ تجمؔل صاحب کے انتقال کے بعد ذاتی طور پر اپنی علمی استطاعت کو بڑھاتا رہا۔ 1939ء میں ذوق کی فراوانی سے مجبور ہوکر قبلہ استاذی حضرت مولانا سیمؔاب اکبر آبادی مدظلہُ العالی کی خدمتِ اقدس میں درخواستِ شاگردی روانہ کی۔ مولانا محترم نے استدعا کو قبول فرماتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کی اور میرا نام دفترِ تلامذہ میں درج کرلیا۔ اور آج تک میں آپ ہی سے مستفیض ہورہا ہوں۔

             حبیؔب

              
*💢 غزل💢*

کارِ فرماں ہے مذاقِ درد پنہاں آج بھی
کر رہا ہوں ذرّے ذرّے کو میں حیراں آج بھی

وہ تجلّی جو نگاہِ دَیر و کعبہ سے ہے دور
میری دنیائے تصوّر میں ہے رقصاں آج بھی

بے حقیقت ہے وہ آنسو جس میں خونِ دل نہ ہو
یوں تو اشکوں سے اُٹھا سکتا ہوں طوفاں آج بھی

ہوچکی ہے کب سے دنیائے سکوں زیر و زبر
دیکھتا ہوں میں وہی خوابِ پریشاں آج بھی

سامنے آنکھوں کے ہے اب تک تری بزمِ جمال
ہر نگاہِ شوق ہے گلشن بداماں آج بھی

نا مکمّل ہے ابھی تک میری رودادِ حیات
پھر رہا ہوں مثلِ بوئے گُل پریشاں آج بھی

اس جہانِ رنگ و بُو کو لوگ جو چاہے کہیں
میں تو پاتا ہوں تمہیں ہر شئے میں پنہاں آج بھی

چاہیئے حسنِ نظر میں وسعتِ نظّارگی!
ذرّے ذرّے میں ہے پوشیدہ بیاباں آج بھی

ہے وہی طوفان نغماتِ محبّت کا حبیؔب
چھیڑ کر دیکھے کوئی سازِ رگِ جاں آج بھی

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Auj Malegaonvi اوج مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 12 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯اوؔج مالیگانوی🕯*

*منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی*
*اپنا بیانِ حسنِ طبیعت نہیں مجھے*

محمّد نظیر نام تخلّص اوؔج ہے۔ مالیگاؤں میں پیدا ہوا اور یہیں پروان چڑھا غریبی میں پَلا اور ہمیشہ خوش و خرم رہا۔ والد کا صحیح نام علیم الدّین تھا۔ لیکن بزرگوں کے جذبۂ محبّت نے بابو کے نام سے مشہور کردیا۔ دفتروں میں یہی نام درج ہوکر رہ گیا۔ آبائی وطن مئو (اعظم گڑھ) ہے۔

       جدّ بزرگوار سرکاری فوج میں ملازم تھے اسی مناسبت سے آپ رشتہ داروں میں امیرالدّین گھوڑے سوار کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ 1857ء کی تاریخ جس کا دوسرا نام غدر ہے۔ اپنے ساتھ تباہ کاری کے ایسے سامان لائی کہ اونچے گھرانے والوں کو سَر چھُپانا مشکل ہوگیا۔ چنانچہ جدّ بزرگوار بھی ترکِ وطن پر مجبور ہوئے۔ آپ کے چھوٹے بھائی حاجی سراج الدّین نے بنارس کو اپنا وطن سمجھا۔ اور خود جدّ بزرگوار مع اہل و عیال ہند کی خاک چھانتے ہوئے مہاراشٹر میں مالیگاؤں کو پسند فرما لیا۔
 
    میری تاریخ پیدائش اسکولوں کے دفتر میں 2 جنوری 1896ء درج ہے۔ ابتدائی تعلیم سرکاری مدرسے میں پائی 1913ء میں ورنا کیولر فائنل کا امتحان دیکر چند سال ساہو کاری ملازمت کی۔ تعلیم کا شوق دل میں تھا ملازمت سے الگ ہوکر دھولیہ ٹریننگ کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ دو سال کی جدّ و جہد کے بعد 1917ء میں سیکنڈ ایئر کی سند ہاتھ آئی۔ اس وقت سے مدرّسی پیشہ بن گیا۔

     حضرت عارجؔ مدظلہُ شاگرد نواب فصاحتِ جنگ حضرت جلیؔل کے عروج کا زمانہ تھا۔ بسلسلۂ ملازمت مجھے آپ کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوگیا۔

             اوؔج مالیگانوی

              
*💢 غزل💢*

ہے جو خاموش ہمارا دلِ ناکام ابھی
یہ جو چاہے تو بدل دے صحر و شام ابھی

شیوۂ آذری افسوس کہ ہے عام ابھی
آستینوں میں نظر آتے ہیں اصنام ابھی

پھر مجھے عشق نے رسوا سرِ بازار کیا
دور ہونے بھی نہ پایا تھا یہ الزام ابھی

دیکھنے کیلئے پیدا تو کرے آنکھ کوئی
جلوۂ حسن نمایاں ہے لبِ بام ابھی

فاقہ مستی میں بھی مستی کا وہی عالم ہے
مئے سے لبریز ہی رہتا ہے مرا جام ابھی

رازِ امروز سمجھنے کا مجھے شوق کہاں
ہے نگاہوں میں شبِ عیش کا انجام ابھی

کس طرح رِند پہ اسرار خودی کے کھُلتے
بزم میں آیا نہیں بادۂ گلفام ابھی

کوئی دیکھے تو ذرا شورشِ مستی دل کی
میرے ساغر میں ہے باقی مئے خیّام ابھی

اوؔج سے رِند بلا نوش کی تسکیں کیا ہو !!
تیرے پیمانے کی ساقی ہے یہ مئے خام ابھی

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Wahshi Akbrabadi Malegaonvi وحشی اکبرآبادی مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 11 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯وحشؔی اکبر آبادی مقیم مالیـگاؤں🕯*

نام عبدالمجید خان تخلص وحشؔی ۔ وطن اکبر آباد سنِ ولادت 1904ء آباء و اجداد افغانستان سے نادر شاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے۔
پَر دادا 1857ء میں غدر کے زمانے میں کانپور کے واقعات کے سلسلے میں گورنمنٹ کے ہاتھوں پھانسی پر چڑھائے گئے۔ نانا اور دادا بھاگ کر آگرہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ والد ریاستِ بھوپال میں انجینئر تھے۔ اب پینشن پاکر وہیں مقیم ہیں۔ تعلیم ایف اے تک ہے۔ اسکے بعد طبیہ کالج مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے طبّی اور ڈاکٹری کی سند حاصل کی۔ شاعری کا شوق عنفوان شباب سے پیدا ہوا۔ مگر طبیعت ظرافت پسند زیادہ تھی اسلیئے اوّل اوّل مزاحیہ شعر اکبرؔ الہ آبادی کے رنگ میں کہنا شروع کیا وہ شعر نمونتًا درج ہے؎

*ہر اک کالا اگر انگلینڈ سے گوری لے آئیگا*
*تو نبھے گی بھلا ہندوستاں کی کالیاں کب تک*

*سنا ہے شیو کرنے لیڈیاں پیرس سے آئی ہیں*
*ذرا دیکھیں بچائینگے یہ واعظ داڑھیاں کب تک*

1928ء میں شادی ہوئی۔ دس ماہ بعد ہی رفیقۂ حیات نے داغِ مفارقت دیدیا۔ اس صدمۂ جانکاہ نے دو سال تک دنیا و مافیہا سے بے خبر کرکے ویرانوں اور جنگلوں میں متعدد درویشوں کے ساتھ خاک چھنوائی۔ لیکن 1930ء میں وحشت پسند طبیعت نے یہ کہہ کر واپسی لی؎

*میں اپنے ہوش میں آتا ہوں اب خبر لیجے*
*جگائے دیتی ہے آواز زندگی مجھ کو*

             وحشؔی اکبر آبادی

              
*💢 غزل💢*

سزا نہ پائی تو کس کام کی خطا میری
قضا نہ آئی تو کس کام کی سزا میری

نہ کام آئی دعا کچھ نہ التجا میری
نہ ہوسکی وہ نظر دردِ آشنا میری

کچھ ایسی بھائی چمن والوں کو ادائے جنوں
ہر ایک گُل نے کہا چاک ہو قبا میری

ابھی سے آپ نے کیسے بدل لئے تیور
ابھی تو لب پہ بھی آئی نہ التجا میری

تمہیں سے مانگ رہا ہوں تمہیں ارے توبہ
نئی خطا ہے نئی ہو کوئی سزا میری

شبِ فراق کی ویرانیاں مکمّل ہوں
قضا بھی آج ہی آجائے ائے خدا میری

خلافِ دردِ محبّت کبھی نہ ہاتھ اُٹھے
وفا پرست ہمیشہ رہی دعا میری

وہ اُن کا حشر میں آنا بصد پشیمانی
مرا تڑپ کے یہ کہنا کہ ہے خطا میری

لئے ہیں دشت میں کانٹوں نے یوں قدم وحشؔی
کہ تار تار ہوئی جاتی ہے قبا میری

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Qamar Malegaonvi قمر مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 10 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯قمؔر مالیـگانوی🕯*

نام قمر الدین عرف چاند تخلّص قمؔر ۔ ولادت 1898ء مقام مالیگاؤں ابتدائی تعلیم مراٹھی اردو میں ہوئی۔ 1914ء میں ورنا کیولر کا امتحان پاس کیا۔ اور مدرسی کا پیشہ اختیار کیا۔ اپنے بڑے بھائی حضرتِ جوہؔر سے شعر و شاعری کا شوق ہوا۔ 1921ء میں پونہ ٹریننگ کالج سے فرسٹ ایئر کی سند حاصل کی۔ حضرت مولانا محمّد یوسف صاحب عزؔیز مالیگانوی سے فارسی کی کچھ کتابیں پڑھیں۔ جناب حضرت نؔوح ناروی سے فخرِ تلمّذ حاصل ہے۔

      موسیقی ۔ فریٹ ورک ۔ سکّے ۔ ڈاک خانے کے ٹکٹ ۔ مطالعہ محبوب مشاغل ہیں۔ فی الحال مدرسہ اردو سمکسیر میں صدرِ مدرس ہوں ملازمت کے پورے تیس سال گزر چکے ہیں۔اولاد میں تین لڑکے چار لڑکیاں حیات ہیں پیہمِ افکار سے خرابئ صحت کی شکایت ہے۔

              قمؔر مالیگانوی   

              
*💢 غزل💢*

نہ لطف سجدے میں اب ہے باقی نہ کیف قائم نماز میں ہے
تڑپ مگر سنگِ در کی پھر بھی مری جبینِ نیاز میں ہے

خدا سمجھتا ہے دل کی وقعت بشر کی ادارک سے ہے باہر
کہ جوہرِ اصل آئینے کا نگاہِ آئینہ ساز میں ہے

ہم ایسے جینے کو کیا بتائیں اگر ہو بے لطفیوں میں جینا
خضر بتاؤ تو کیف بھی کچھ تمہاری عمرِ دراز میں ہے

ملے اگر دو جہاں کی نعمت تو اس کو ٹھکرا دوں بے تامّل
کچھ ایسی ہی شانِ بے نیازی مرے دلِ بے نیاز میں ہے

چھُپائے رکھتا ہوں مثلِ غنچہ کہ بوئے الفت کا رتبہ داں ہوں
جو لطف اخفائے راز میں ہے کہاں وہ افشائے راز میں ہے

دل و نظر میں ہے دھندلی دھندلی ازل کے سجدوں کی یاد ابتک
مٹا مٹا سا نشان جسکا مری جبینِ نیاز میں ہے

قمؔر کو آج آسماں بھی اپنا سمجھ رہا ہے جگر کا ٹکڑا
عطائے حق سے وہ سر بلندی ہمارے عجز و نیاز میں ہے

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*

Aazad Ansari Malegaonvi آزاد انصاری مالیگاؤنوی

*⚪ تعارف:: شعرائے مالیگاؤں ⚪*
*🔹پیشکش نمبر :::::: 9 :::::::🔹*
..................................................................

*"اپنــــــــــی مٹّـــــــــی ســــــــونا ھـــــــے"*

..................................................................

*🕯آزاؔد انصاری مالیـگانوی🕯*

4 جنوری 1931ء کو رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہؔر ساری ملتِ اسلامیہ کو ہمیشہ کے لیئے داغِ مفارقت دے گئے۔ ایک انگریز شاعر کے قول کے مطابق جو یہ کہتا ہے کہ "شاعر کا دل ایک ساز کے مانند ہے۔ اس ساز پر واردتِ  روز و شب کی مضراب جب ضرب لگاتی ہے تو چند مربوط نغمے فضائے عالم میں گونجتے ہیں۔ اگر وہ نغمے موزوں ہیں تو نظم یا شعر کہا جاسکتا ہے۔" میں نے اسی 4 جنوری کے 1931ء کے دن سب سے پہلے نظم کہی۔ اسکے بعد آج تک نظم کہتا چلا آیا ہوں۔ اور نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سلسلہ کب اور کہاں جاکر ختم ہوگا۔ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی جب تک قید تنفس میں ہے اس وقت تک سازِ دل سے مربوط نغمے فضائے عالم میں بلند ہوتے رہینگے۔ مجھے اپنے ان نغموں کی اثر آفرینی پر سو فیصدی اعتماد ہے۔

       میری پیدائش 24 ستمبر 1913ء کی ہے۔ اس حساب سے آج میری عمر 32 سال کی ہے۔ اور میری شاعری کی عمر تقریبًا چودہ برس ہے۔ اس چودہ برس کے عرصے میں جس میں ، میں نے شعر و شاعری ہی نہیں کی بلکہ میری آنکھوں نے ہزاروں انقلابات دیکھے۔ مجھے نشیب و فراز زندگی سے کئی بار دو چار ہونا پڑا ہے۔ لیکن خدا کا شکر ہے میں نے آج تک زندگی کی تمام جدّ و جہد میں سو فیصدی کامیاب ہوں۔

*شدہ است سینہ ظہوری پر از محبت یار*
*برائے کینۂ اغیار درد و الم جانیست*

آزاؔد انصاری مالیگانوی     18 جولائی 1945ء

              
*💢 تعمیرِ خودی💢*

پھر وہ آپہنچا پیامِ زندگی میرے لئے
منتظر ہے پھر حیاتِ سرمدی میرے لئے

چل رہی ہے میرے گلشن میں نسیمِ صبحِ دم
ساتھ لے کر روح افزا تازگی میرے لئے

سازِ دل پر آج پھر پڑنے لگی مضرابِ شوق
جس نے اک دنیا بسادی ہے نئی میرے لئے

میں نے اپنی ذات کے جلوؤں کو دیکھا بے حجاب
باعثِ تسکیں ہے یہ خود آگہی میرے لئے

کر رہا ہوں آج کل میں اپنی تکمیلِ حیات
ہر نفس میرا ہے شرحِ زندگی میرے لئے

قطرے قطرے سے ہے طوفان و تلاطم کی نمود
ذرّے ذرّے سے نہاں تابندگی میرے لئے

مٹ رہی ہے رفتہ رفتہ ظلمتِ قسمت مری
مہر و مہ سے آرہی ہے روشنی میرے لئے

میری خاطر ہونے والا ہے زمانہ سازگار
چرخِ بدلیگا لباسِ دوستی میرے لئے

پہلے فرطِ غم سے میری زندگی دشوار تھی
اب ہے جینے میں ہزاروں دلکشی میرے لئے

بے حقیقت ہے غمِ فردا و فکرِ روزِ شب
حال ہے آئینہ دارِ سر خوشی میرے لئے

کوئی دن مَیں دیکھنا آباد ہوجاؤنگا میں
قید جور و ظلم سے آزاؔد ہوجاؤنگا میں

_________*★ :: پیشکش:: ★*_________
*💥بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ💥*